ٹیکس اہداف... نظرثانی لازمی

September 07, 2019
 

میزبان:محمد اکرم خان

ایڈیٹر، جنگ فورم، کراچی

رپورٹ:طلعت عمران

عکّاسی: اسرائیل انصاری

خالد تواب
سابق سینئر نائب صدر،
ایف پی سی سی آئی

آج صنعت کار جتنے پریشان ہیں، اس سے پہلے کبھی نہیں تھے، 5500ارب کا ٹیکس ہدف حاصل کرنا ممکن نہیں، ٹیکس نیٹ میں اضافہ خوش آئند ہے، ریگولیٹری ڈیوٹی لگانے سے مسابقتی سکت مزید کم ہو گئی، سرمایہ کاری فروغ دینے پر کوئی توجہ نہیں دی گئی، سرمایہ کاروں میں خوف و ہراس پایا جاتا ہے، معیشت کو دستاویز شکل دینے کے لیے باقاعدہ طریقۂ کار اختیار کیا جائے، فکسڈ ٹیکس جائز ہے، ری ٹیلرز کے لیے ہر ماہ سیلز ٹیکس کی ادائیگی ممکن نہیں، سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنے میں تین برس لگ جائیں گے، ملک میں آئی ایم ایف کی پالیسی نافذ العمل ہے، حکومت کو نظر ثانی شدہ بجٹ پیش اور آئی ایم ایف سے از سرِ نو مذاکرات کرنا ہوں گے

خالد تواب

عبدالقادرمیمن
صدر، پاکستان ٹیکس بار
ایسوسی ایشن

55کھرب جمع کرنا ممکن ہے، دستاویزی شکل دینے کی کوششوں کے نتیجے میں معیشت کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، درآمدات اور تجارتی سرگرمیوں میں کمی کے باعث شارٹ فال آیا، نیب کی فعالیت کے باعث ترقیاتی منصوبے شروع نہ ہونے کی وجہ سے بھی ٹیکس نہیں مل رہا، حکومت کے پاس آمدنی بڑھانے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں، فائلر، نان فائلر کا تصور ختم ہو گیا، اِن ڈائریکٹ ٹیکسز میں اضافہ ہوا، احتساب کا خوف پھیلانے کے بہ جائے آٹو میشن پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے، حکومت کو کاروبار دوست ماحول فراہم کرنا ہوگا

عبدالقادرمیمن

ڈاکٹر ایوب مہر
پروفیسر، اقراء یونی ورسٹی/
اکانومسٹ،ایشین ڈیولپمنٹ
بینک انسٹی ٹیوٹ

حکومت نے ٹیکس کلچر بدلنے کی کوشش کی، ٹیکس ٹو جی ڈی پی ریشو کا ایک حد سے بڑھنا معیشت کے لیے نقصان دہ ہوتا ہے، ایکسائز ڈیوٹی کی وجہ سے انڈسٹری کی مسابقتی سکت پر خاصا منفی اثر پڑ رہا ہے، آئی ایم ایف کبھی بھی ٹیکس وصولی کا ہدف مقرر نہیں کرتا، اِن ڈائریکٹ ٹیکسز میں اضافہ کر کے پی ٹی آئی نے اپنے منشور سے انحراف کیا، خوف اور بے یقینی کی صورتِ حال خطرناک ہے، غیر ملکی سرمایہ کاری اور برآمدات پر توجہ دینے کے بہ جائے ٹیکس پالیسی کو چھیڑنے سے مسائل پیدا ہوئے، حکومت پاکستانی تارکینِ وطن کو سرمایہ کاری کی ترغیب دے،ٹیکس ٹو جی ڈی پی ریشوبڑھانے کے بہ جائے جی ڈی پی میں اضافہ کیا جائے

ڈاکٹر ایوب مہر

حکومت نے رواں مالی سال میں ٹیکس حصولی کا ہدف ساڑھے پانچ ہزار ارب سے زاید مختص کیا ہے۔ اس سلسلے میں ایف بی آر نے اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ٹیکس وصولی کے ضمن میں حکومت کو کن مشکلات و مسائل کا سامنا ہے ، اس کے پاکستانی عوام اور معیشت پر کیا اثرات مرتب ہورہے ہیں،نیز کیا ایف بی آر اپنا ہدف حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے گا۔ ان سمیت دیگر سوالات کے جوابات جاننے کے لیے گزشتہ دنوں ’’ ٹیکس اہداف، اقدامات، مشکلات اور اثرات‘‘ کے موضوع پر اقرا ءیونی ورسٹی میں جنگ فورم منعقد کیا گیا، جس میں سابق صوبائی وزیر برائے صنعت و تجارت اور ایف پی سی سی آئی کے سابق سینئر نائب صدر، خالد تواب، پاکستان ٹیکس بار ایسوسی ایشن کے صدر، عبدالقادر میمن اور اقراء یونی ورسٹی کے پروفیسر اور ایشین ڈیولپمنٹ بینک انسٹی ٹیوٹ سے وابستہ اکانومسٹ، ڈاکٹر ایوب مہر نے اظہار خیال کیا۔ اس موقعے پر ہونے والی گفتگو ذیل میں پیش کی جا رہی ہے۔

اقراء یونی ورسٹی میں ’’ ٹیکس اہداف، اقدامات، مشکلات اور اثرات‘‘ کے موضوع پر منعقدہ جنگ فورم کا منظر اور شرکا کا گروپ فوٹو، ایڈیٹر جنگ فورم ، کراچی محمد اکرم خان میزبانی کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں

جنگ :کیا ٹیکس وصولی کا ہدف حاصل کرنے کے لیے ایف بی آر کے اقدامات اطمینان بخش ہیں؟ نیز، اس ضمن میں حکومت کو کن مسائل کا سامنا ہے؟

ڈاکٹر ایوب مہر :پی ٹی آئی کے انتخابی منشور کے دس میں سے سات نکات معیشت پر مشتمل تھے اور اس نے ٹیکس وصولی کا ہدف آئی ایم ایف سے بھی زیادہ رکھا تھا۔ اقتصادیات کی رو سے ٹیکس ٹو جی ڈی پی ریشو کا ایک حد سے زیادہ بڑھنا معیشت کے لیے نقصان دہ ہوتا ہے، جس پر دنیا بھر کے معاشی ماہرین کا اتفاق ہے۔ اگر بجٹ دستاویزات کو دیکھا جائے، تو حکومت نے ٹیکس کلچر تبدیل کرنے کی کوشش کی ہے۔ بنیادی طور پر چار قسم کے ٹیکسز ہوتے ہیں، ایکسائز ڈیوٹی، کسٹم ڈیوٹی، سیلز ٹیکس اور انکم ٹیکس۔ ڈبلیو ٹی او کا حصہ بننے کی وجہ سے ایکسائز ڈیوٹی کا کلچر ختم ہوتا جا رہا تھا۔ تاہم، یہ حکومت ایکسائز ڈیوٹی پر زور دے رہی ہے اور اسے بڑھایا گیا ہے۔ ایکسائز ڈیوٹی بڑھانے کی منطق یہ ہے کہ سیلز ٹیکس اور انکم ٹیکس کا ایک بڑا حصہ این ایف سی ایوارڈ کے ذریعے صوبوں کو مل جاتا ہے، جب کہ ایکسائز ڈیوٹی صرف وفاق کو ملتی ہے۔ یہ ایک دانش مندانہ فیصلہ ہے۔ پھر ایکسائز ڈیوٹی پر توجہ دینے کی وجہ سے معیشت کو دستاویزی شکل دینا بھی آسان ہو جاتا ہے۔ تاہم، اس کی وجہ سے سب سے بڑا نقصان یہ ہو رہا ہے کہ ایکسائز ڈیوٹی مقامی مصنوعات پر عاید کی گئی ہے اور درآمدات پر نہیں لگائی جا سکتی۔ نتیجتاً، انڈسٹری کی مسابقتی سکت بہت بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ دوسری جانب خود گورنر اسٹیٹ بینک کا ماننا ہے کہ اگلے ماہ افراطِ زر کی شرح 13فیصد تک پہنچ جائے گی۔ اس کے سبب بینک کا ڈسکائونٹ ریٹ 15فیصد ہو جائے گا اور قرض دینے کی شرح 21سے 22فیصد تک پہنچ جائے گی۔ یہ صورتِ حال تشویش ناک ہے۔

جنگ :آئی ایم ایف نے پہلی سہہ ماہی میں ٹیکس وصولی کا ہدف 1072ارب مقرر کیا ہے اور اسے حاصل کرنے کے لیے ایف بی آر کو اس مہینے 492ارب روپے جمع کرنا ہوں گے۔ اگر حکومت یہ ہدف حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوتی، تو اس کے کیا نتائج برآمد ہوں گے؟

ڈاکٹر ایوب مہر:آئی ایم ایف کبھی بھی ٹیکس وصولی کا ہدف نہیں دیتا۔ البتہ وہ یہ کہتا ہے کہ اگر خسارہ اتنا ہو گا، تو پھر وصولی اتنی ہونی چاہیے۔ یعنی وہ پہلے وصولی کا ہدف دیتا ہے اور پھر وصولی کا طریقۂ کار دریافت کرتا ہے۔ ہمارے ہاں روایت یہ رہی ہے کہ محصولات میں اضافے کے لیے انکم ٹیکس وصول کرنے کے بہ جائے جنرل سیلز ٹیکس میں اضافہ کر دیا جاتا ہے، کیوں کہ یہ ایک آسان حل ہوتا ہے۔ دنیا بھر میں اِن ڈائریکٹ ٹیکسز کا تناسب ایک تہائی اور ڈائریکٹ ٹیکسز کا دو تہائی ہے، جب کہ ہمارے محصولات میں 60سے 70فیصد حصہ اِن ڈائریکٹ ٹیکسز کا ہوتا ہے۔ اسحٰق ڈار نے اپنے آخری دو بجٹس میں اِن ڈائریکٹ ٹیکسز کم کرنے کا کہا تھا اور پی ٹی آئی کا انتخابی منشور بھی یہی کہتا ہے۔ تاہم، بجٹ دستاویزات سے پتا چلتا ہے کہ انکم ٹیکس میں 25فیصد اور جی ایس ٹی اور ایکسائز ڈیوٹی میں 40فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔ یعنی پی ٹی آئی نے اپنے منشور سے انحراف کیا ہے۔

جنگ:کیا آپ حکومت کی ٹیکس پالیسی سے مطمئن ہیں؟ نیز، کیا ایف بی آر ہدف حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے گا؟

عبدالقادر میمن :اس ملک سے 55.5کھرب سالانہ ٹیکس جمع کیا جا سکتا ہے۔ تاہم، یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ شارٹ فال کی وجوہات کیا ہیں۔ حکومت نے زرِ مبادلہ کے ذخائر میں کمی روکنے کے لیے درآمدات کی حوصلہ شکنی کی۔ نتیجتاً، محصولات میں کمی واقع ہوئی۔ چوں کہ ہماری غیر دستاویزی معیشت کا حجم دستاویزی معیشت کے حجم سے زیادہ ہے، تو جب حکومت نے معیشت کو دستاویزی شکل دینے کی کوشش کی، تو اس کے نتیجے میں مزاحمت ہوئی۔ یاد رہے کہ دنیا میں جہاں کہیں بھی ایسی اصلاحات کرنی کی کوشش کی گئی، تو معیشت کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ پھر روپے کی قدر گرانے سے ہماری درآمداتی لاگت اور قرضوں کی ادائیگی پر آنے والی لاگت بڑھ گئی۔ اسی طرح قرضوں پر چلنے والی کمپنیوں کی کاروباری لاگت میں بھی اضافہ ہوا اور انہیں نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ پھر مہنگائی میں اضافے کی وجہ سے قوتِ خرید میں بھی کمی واقع ہوئی۔ ایسی صورتِ حال میں مالدار افراد نے زیادہ شرحِ منافع کی وجہ سے سیونگ سرٹیفکیٹس خرید لیے۔ پھر قوتِ خرید میں کمی کی وجہ سے آٹو انڈسٹری کے بزنس میں بھی خاصی کمی واقع ہوئی۔ ہمارے ٹیکسز میں بڑا کردار درآمدات اور ترقیاتی منصوبوں کا ہوتا ہے، لیکن نیب کی فعالیت کی وجہ سے اس وقت کوئی بھی معاہدے کرنے پر آمادہ نہیں۔ چناں چہ ترقیاتی منصوبے شروع نہ ہونے کی وجہ سے بھی ٹیکس نہیں مل رہا۔ تاہم، اس کے باوجود بھی 64ارب کا شارٹ فال کوئی زیادہ بڑا شارٹ فال نہیں ہے۔ میں ڈاکٹر ایوب کی اس بات سے اتفاق کرتا ہوں کہ کوئی بھی ڈونر ایجنسی ٹیکس ہدف نہیں دیتی، بلکہ اس کا سروکار صرف اس بات سے ہوتا ہے کہ آپ وصولی کیسے کریں گے۔ ہماری جی ڈی پی میں 51فیصد حصہ تین سیکٹرز کا ہے، جب کہ محصولات میں ان کا حصہ 8سے 9فیصد ہے۔ ان میں ہول سیل اینڈ ریٹیل سیکٹر، ٹرانسپورٹ سیکٹر اور ایگری کلچر سیکٹر شامل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری آمدن بڑھنے سے بھی ہمارا ٹیکس ٹو جی ڈی پی ریشو میں گراوٹ آئے گی۔

جنگ :حکومت کی اس ٹیکس پالیسی کی وجہ سے انڈسٹری کو کن مشکلات کا سامنا ہے؟

خالد تواب :حکومت کا کہنا ہے کہ وہ افراطِ زر پر اپنی مانیٹری پالیسی سے قابو پائے گی، لیکن شرحِ منافع میں اضافے سے افراطِ زر میں مزید اضافہ ہو گا۔ پھر حکومت نے روپے کی قدر میں بھی کمی کی۔ اس کے علاوہ یوٹیلیٹی بلز میں بھی بے تحاشا اضافہ کیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس وقت صنعت کار جتنے پریشان ہیں، اتنے پہلے کبھی نہیں تھے۔ البتہ ٹیکس نیٹ میں 8سے 10لاکھ افراد کا اضافہ اچھا اقدام ہے، کیوں کہ یہ ہمارا دیرینہ مطالبہ تھا۔ اب جہاں تک 5500ارب کا ٹیکس ہدف حاصل کرنے کی بات ہے، تو یہ تقریباً نا ممکن ہے، کیوں کہ حکومت کو تجارتی خسارے پر بھی قابو پانا ہے۔ پھر ریگولیٹری ڈیوٹی لگانے سے مسابقتی سکت بھی مزید کم ہو گئی ہے۔ اسی طرح سرمایہ کاری کو فروغ دینے پر بھی کوئی توجہ نہیں دی گئی، جس کی وجہ سے کاروباری سرگرمیوں میں مزید کمی واقع ہو گی۔

جنگ :مشینری کی درآمد میں 17فیصد کمی واقع ہوئی ہے، جس کی وجہ سے نئی صنعتیں نہیں لگ رہیں۔

خالد تواب :روپے کی قدر میں کمی کی وجہ سے صنعت کار مشینری خریدنے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کر رہے ہیں، کیوں کہ اس سے ان کی لاگت بڑھ جائے گی۔ پھر ملک میں بیرونی سرمایہ کاری بھی نہیں آ رہی۔ اس وقت سرمایہ کاروں میں بھی خاصا خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔ یعنی ملک میں کاروبار دوست ماحول موجود نہیں۔

جنگ :شناختی کارڈ کی شرط عاید کیے جانے کی وجہ سے بھی سرمایہ کار پریشان ہیں؟

خالد تواب :اگر کوئی سگریٹ مینو فیکچرر کسی ری ٹیلر سے شناختی کارڈ مانگتا ہے، تو وہ دینے پر آمادہ نہیں، کیوں کہ 30فیصد اسمگل شدہ سگریٹ فروخت ہوتا ہے۔ ہم معیشت کو دستاویزی شکل دینے کے حق میں ہیں، لیکن اس کا ایک باقاعدہ طریقۂ کار ہونا چاہیے۔ فکسڈ ٹیکسیشن جائز ہے اور چھوٹے دکانداروں کو احتجاج بھی نہیں کرنا چاہیے۔ انہیں یہ سمجھنا چاہیے کہ اس وقت ملک کو پیسوں کی ضرورت ہے۔ اس سے پہلے تک یہ افراد ٹیکس کا پیسہ رشوت پر خرچ کر دیتے تھے، کیوں کہ وہ ٹیکس نیٹ میں شامل نہیں ہونا چاہتے تھے۔ دراصل، وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اگر وہ ایک مرتبہ ٹیکس نیٹ میں شامل ہو گئے، تو پھر ان کی جان چھوٹنی مشکل ہے۔ یہ انکم ٹیکس میں سال میں آپ کو ایک مرتبہ دے دیں گے، لیکن ہر مہینے سیلز ٹیکس کی ادائیگی اور خرید و فروخت کا ریکارڈ جمع کروانا اس کے لیے ممکن نہیں، کیوں کہ ہمارے ہاں شرحِ خواندگی کم ہے اور لوگوں میں ٹیکسیشن کا شعور بھی نہیں ہے۔

جنگ :کاروباری سرگرمیوں میں کمی کے باوجود حکومت پریشانی و تشویش کا شکار نہیں دکھائی دیتی۔

خالد تواب :اس وقت پورے ملک میں یہی صورتِ حال ہے کہ انڈسٹری پروڈکشن تو دے رہی ہے، لیکن سیل نہیں ہو رہی۔ اگر یہی حالت رہی، تو بے روزگاری میں اضافہ ہو گا اور اس کے سبب امن و امان کی صورتِ حال خراب ہو گی۔

جنگ :ایف بی آر پر یہ الزامات عاید کیے جاتے ہیں کہ وہ رشوت خوری میں ملوث ہے اور کاروباری افراد کو ٹیکس نیٹ میں نہیں لانا چاہتی؟

خالد تواب: یہ بات درست ہے، کیوں کہ چھوٹے کاروباری افراد ٹیکس دینے کے بہ جائے ایف بی آر افسران کی جیب گرم کر دیتے ہیں۔ ایف بی آر کا معیشت کو دستاویزی شکل دینے کا فیصلہ بالکل درست ہے، لیکن اس پر عمل درآمد کا طریقۂ کار ٹھیک نہیں۔ ایف بی آر کو یہ کام مختلف مراحل میں تقسیم کرنا چاہیے تھا۔

جنگ:کیا فکسڈ ٹیکس کی تجویز درست نہیں ہے؟

خالد تواب: انکم ٹیکس کی حد تک تو یہ ٹھیک ہے، لیکن ہر ماہ سیلز ٹیکس کی ادائیگی عملیت پسندانہ سوچ نہیں۔

جنگ :ٹیکس پالیسی کے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد پر کیا اثرات مرتب ہو رہے ہیں؟

ڈاکٹر ایوب مہر: اس وقت تو خوف اور بے یقینی کی صورت اثرات نظر آ رہے ہیں، جو خطرناک ہے۔ اس وقت اقتصادی اشاریے منفی ہیں اور ویسے بھی معیشت کی بہتری کے لیے مرحلہ وار اقدامات کیے جاتے ہیں اور ٹیکس پالیسی کو سب سے آخر میں چھیڑا جاتا ہے۔ اس حکومت نے سب سے پہلے اس لیے ٹیکس پالیسی کو چھیڑا کہ اس نے اپنے منشور میں ایک کروڑ نوکریاں دینے اور 50لاکھ گھر تعمیر کرنے کا وعدہ کیا تھا اور اس کے لیے آمدنی کی ضرورت تھی۔ یہ ایک مسلمہ اصول ہے کہ جب بھی ٹیکس وصولی پر توجہ مرکوز کی جاتی ہے، تو جی ڈی پی میں کمی واقع ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ اگر حکومت ٹیکس پالیسی کو نہ چھیڑتی اور جی ڈی پی کا سائز بڑھنے دیتی، تو اس کو ٹیکس بھی ملنا شروع ہو جاتا۔ ایف پی سی سی آئی نے حکومت کو یہ تجاویز دی تھیں کہ برآمدات اور براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ کیا جائے۔ یوں زرِ مبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہو گا اور روپے پر دبائو کم ہو جائے گا۔ جب روپے کی قدر مستحکم ہو جائے گی، تو افراطِ زر بھی خود بہ خود کم ہو جائے گا۔ نتیجتاً، مسابقتی سکت اور روزگار کے مواقع بڑھیں گے، مگر اس کے برعکس حکومت نے سب سے پہلے ٹیکس پالیسی کو چھیڑ دیا، جس کی وجہ سے مسائل پیدا ہوئے۔ اس وقت سب سے زیادہ مشکلات کا شکار عام آدمی ہے اور اسے اس بات سے کوئی سروکار نہیں کہ اقتصادی اشاریے کیا ہیں۔ عام آدمی کی ساری توجہ مہنگائی اور بے روزگاری پر ہے اور حکومت نے اسے ریلیف فراہم کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ ہمیں امید تھی کہ پی ٹی آئی کے برسرِ اقتدار آنے کے بعد ملک میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری بڑھے گی، کیوں کہ تارکینِ وطن پاکستانیوں میں اس کی ساکھ اچھی ہے، لیکن ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاری نہیں آ رہی، جب کہ اس کے برعکس میں بھارت میں بہت تیزی سے غیر ملکی سرمایہ کاری آئی۔ وہاں سنگاپور اور ملائیشیا سے بہت زیادہ سرمایہ آیا اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہاں بھارتی تارکینِ وطن بڑی تعداد میں مقیم ہیں، تو ہمیں بھی پاکستانی تارکینِ وطن کو ملک میں سرمایہ کاری کی ترغیب دینی چاہیے۔

خالد تواب :ہم نے آئی ایم ایف سے تین برس میں 6ارب ڈالرز قرض دینے کا معاہدہ کیا ہے، جب کہ پچھلے 11ماہ میں 50ارب ڈالرز ملک سے باہر جا چکے ہیں۔ ملک میں سرمایہ کاری نہ ہونے کی دو وجوہ ہیں۔ ایک وجہ تو یہ ہے کہ روپے کی قدر میں کمی واقع ہو رہی ہے اور دوسرا سبب یہ ہے کہ ہمارا اسٹاک گرتا جا رہا ہے۔ اس وقت صورتِ حال ناساز گار ہے اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنے میں کم از کم تین برس لگ جائیں گے۔

ڈاکٹر محمد ذکی :اقتصادی مشاورتی کائونسل کے توسط سے حکومت یہ ساری باتیں جانتی ہے۔ کائونسل حکومت کو تجاویز بھی دیتی ہے، لیکن اس کے نتائج وہ برآمد نہیں ہو رہے، جو آپ چاہتے ہیں۔ اس کی کیا وجہ ہے؟

عبدالقادر میمن :تجویز دینے اور اس پر عمل کرنے میں بہت فرق ہے اور عمل درآمد کے مرحلے میں دوسرے اسٹیک ہولڈرز بھی شامل ہو جاتے ہیں۔ اس وقت حکومت کے پاس آمدنی بڑھانے کے علاوہ کوئی دوسرا چارہ نہیں ہے۔ اگر حکومت برآمدات بڑھانے کے لیے مسابقتی قیمت پر ایل این جی فراہم کرنا شروع کر دے، تو اس کے نتیجے میں گردشی قرضے بڑھ جائیں گے۔ اس وقت ہمارے قرضوں کا حجم جی ڈی پی کا 107فیصد ہے، جب کہ دنیا میں کہیں بھی جی ڈی پی کے 60فیصد سے زیادہ قرضہ نہیں لیا جا سکتا۔ ہم سالانہ قرضوں کے سود کی مد میں 3ٹریلین ادا کرتے ہیں۔ صوبوں کو 1.5سے 2ٹریلین ادا کرتے ہیں۔ پھر دفاع کی مد میں 1.5ٹریلین ادا کرتے ہیں۔ 6ٹریلین تو یہ ہو گئے۔ پھر ہم خسارے میں چلنے والے سرکاری اداروں کو کم و بیش 1.5ٹریلین ادا کرتے ہیں۔ یعنی ترقیاتی کاموں کے علاوہ بھی سالانہ 7.5ٹریلین درکار ہوتے ہیں۔ صوبے ملنے والی رقم کو جتنی ایمانداری سے خرچ کرتے ہیں، وہ ہم سب جانتے ہیں۔

خالد تواب :جہاں تک اقتصادی مشاورتی کائونسل کی بات ہے، تو اس نے سابق وزیرِ خزانہ، اسد عمر کو تجاویز دی تھیں، لیکن جب انہیں ہٹا دیا گیا، تو پھر آئی ایم ایف سامنے آ گیا۔ اسد عمر کو ہٹانے کے ساتھ ہی سیکریٹری فنانس کو او ایس ڈی بنا دیا گیا ۔ پھر مشیرِ خزانہ، عبدالحفیظ شیخ نے آئی ایم ایف سے معاہدہ کر لیا، تو اس کے بعد ملک میں آئی ایم ایف کی پالیسیاں نافذ العمل ہیں۔

عبدالقادر میمن :آئی ایم ایف سے مذاکرات کا مرحلہ نہایت صبر آزما ہوتا ہے۔ ڈاکٹر حفیظ پاشا کے جب آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک سے مذاکرات ہو رہے تھے، تو آئی ایم ایف نے زرعی شعبے پر ویلیو ایڈڈ ٹیکس لگانے کی تجویز دی۔ پاشا صاحب نے جواب دیا کہ ہمارے ملک میں یہ نا ممکن ہے۔ پھر آئی ایم ایف نے اتنا دبائو ڈالا کہ انہوں نے معاہدہ کرنے سے انکار کر دیا۔ یعنی قرض دینے والے ادارے آپ کے صبر کا امتحان لیتے ہیں۔ تاہم، اس مرتبہ بد قسمتی سے ان تمام معاملات پر بات چیت نہیں کی گئی، کیوں کہ دونوں جانب آئی ایم ایف تھی۔

خالد تواب :مجھے میڈیا سے بھی شکایت ہے کہ جب وزیرِ خزانہ کے ساتھ سیکریٹری خزانہ کو بھی تبدیل کیا گیا، تو اس معاملے کو اچھالا کیوں نہیں گیا۔ پھر پوری ٹیم بدل دی گئی اور ایسے شخص کو لا کر بٹھا دیا گیا کہ جو آئی ایم ایف کا ملازم ہے۔

جنگ :تاحال فائلر اور نان فائلر کا مسئلہ برقرار ہے۔ جب نان فائلر کے لیے سزا کا قانون موجود ہے، تو اس پر اتنا زور کیوں دیا جا رہا ہے؟

عبدالقادر میمن :در حقیقت، اس سال فائلر اور نان فائلر کا تصور ختم ہو گیا ہے۔ اگر آپ فعال ٹیکس پیئر نہیں ہیں، تو پھر آپ کے ریٹ مختلف ہوں گے۔ اگر حقیقت پر مبنی بات کی جائے، تو یہ کہنا غلط ہے کہ پاکستان میں صرف 20لاکھ ٹیکس دہندگان ہیں، بلکہ یہاں تو ہر شہری ہی اِن ڈاریکٹ ٹیکسز کی شکل میں ٹیکس ادا کر رہا ہے، بلکہ اب تو ان ٹیکسز میں بھی اضافہ ہو گیا ہے۔ البتہ فعال ٹیکس پیئر ہونا اس لیے ضروری ہے کہ اس کی تمام معیشت دستاویزی ہوتی ہے اور ایسی صورت میں پوری معیشت ہی منظم انداز میں کام کرتی ہے۔ دنیا بھر میں لوگ اپنے انکم ٹیکس ریٹرنز بر وقت فائل کرتے ہیں، تو پاکستان میں ایسا کیوں نہیں ہو سکتا۔

محمد مبین :اگر کوئی شخص باقاعدہ ٹیکس فائلر بننا چاہتا ہے اور وہ کسی ٹیکس کنسلٹنٹ کے پاس جاتا ہے، تو وہ یہ مشورہ دیتا ہے کہ تم غلط معلومات ڈال دو، تو تمہارا ٹیکس بچ جائے گا۔ اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ تمام ٹیکس فائلر صحیح ٹیکس ادا نہیں کر رہے۔

عبدالقادر میمن :میں آپ کی اس بات سے اتفاق کرتا ہوں کہ اگر ٹیکس فائلرز کی تعداد 28لاکھ تک پہنچ گئی ہے، تو ضروری نہیں کہ یہ سب اپنے حصے کا ٹیکس ادا کرنا چاہتے ہوں۔ تاہم، اب ایسا ممکن ہی نہیں کہ بینک کے ذریعے لین دین کرتے ہوئے ہم ایک معقول منافعے کی پیشکش نہ کریں اور کوئی ہم سے باز پرس بھی نہیں کرے گا۔ اب نہ صرف مقامی سطح پر بلکہ بین الاقوامی سطح پر بینک بر وقت ایک دوسرے سے معلومات کا تبادلہ کرتے ہیں۔ اگر کوئی کنسلٹنٹ ایسا کرتا ہے، تو یہ نہایت غیر مناسب رویہ ہے اور اسے ذمے داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے، لیکن کوئی اچھی ساکھ کا حامل ٹیکس لائر کبھی یہ مشورہ نہیں دے گا۔

وجے :پاک، بھارت کشیدگی اور خطے میں جاری کشمکش کی وجہ سے ملک میں بیرونی سرمایہ کاری کیسے آسکتی ہے؟

خالد تواب :بنیادی طور پر سرمایہ مائع کی مانند ہوتا ہے۔ جس طرف منافع زیادہ ہو گا، یہ خود بخود اسی طرف بڑھتا جائے گا۔ اگرچہ اس عنصر کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، لیکن اگر اچھا منافع مل رہا ہو، تو لوگ سرمایہ کاری کرتے ہیں۔ یاد رہے کہ جب ہمارے ملک میں دہشت گردی عروج پر تھی، تو اس وقت بھی یہاں بیرونی سرمایہ کاری ہو رہی تھی، حالانکہ وہ زیادہ خطرناک دور تھا۔ اگر معاشی پالیسی درست ہو، تو ملک میں سرمایہ آئے گا۔

عبدالقادر میمن :میں یہاں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ جن ممالک میں عدم تحفظ زیادہ ہوتا ہے، وہاں لوگ زیادہ سرمایہ کاری کرتے ہیں، کیوں کہ وہاں منافع کی شرح زیادہ ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر جب مشرقی پاکستان، بنگلادیش میں تبدیل ہوا، تو لوگوں نے وہاں سرمایہ کاری کی، کیوں کہ وہاں منافع کی شرح زیادہ تھی۔ اگر کسی سرمایہ کار کو غیر محفوظ ماحول میں 12سے 14فیصد زیادہ منافع مل رہا ہو، تو وہ اس کی خاطر رسک مول لے لیتا ہے۔جہاں تک سرحدوں کی صورتِ حال کی بات ہے، تو یہ برقرار رہے گی۔

جنگ :اگر حکومت ٹیکس جمع کرنے کے بہ جائے جی ڈی پی کا حجم بڑھانے کے لیے مراعات دیتی ہے، لیکن پھر بھی ٹیکس نیٹ میں اضافہ نہیں ہوتا، تو پھر اس کی آمدنی کیسے بڑھے گی؟

ڈاکٹر ایوب مہر :پاکستان کی شرحِ نمو 1980ء کی دہائی کے وسط تک 7فیصد رہی۔ پھر 3فیصد کے آس پاس آ گئی۔ اگر ہمارا ٹیکس ٹو جی ڈی پی ریشو 10فیصد ہے، تو میرا ماننا یہ ہے کہ اسے 14فیصد تک بڑھانے کے بہ جائے اتنا ہی رہنے دیا جائے، بلکہ جی ڈی پی کا سائز بڑھایا جائے۔ جب جی ڈی پی کا حجم بڑھے گا، تو پھر خود ہی ٹیکس بڑھنے لگے گا۔ تاہم، میرا کہنے کا ہرگز یہ مقصد نہیں کہ ٹیکس نہ لیا جائے۔ البتہ جی ڈی پی کا سائز بڑھایا جائے اور ٹیکس ٹو جی ڈی پی ریشو وہی رکھا جائے۔

شہزاد محمود:کیا ہمیں آٹومیشن کی طرف نہیں جانا چاہیے؟

عبدالقادر میمن :ہمیں احتساب کا خوف پھیلانے کے بہ جائے آٹومیشن کی طرف آنا چاہیے۔ اس وقت دنیا بھر میں یہی ہو رہا ہے۔ میں آپ کو سوئٹرز لینڈ کی مثال دینا چاہوں گا کہ جہاں سال کے آخر میں ٹیکس دہندگان کو ان کے ٹیکس ریٹرن سمیت دیگر تفصیلات فراہم کر دی جاتی ہیں اور ان سے یہ بھی پوچھا جاتا ہے کہ آیا وہ اس سے متفق ہیں یا نہیں۔ پھر آٹومیشن کی وجہ سے مسائل کم ہو جائیں گے اور بہتری واقع ہو گی۔

خالد تواب :سی این آئی سی طلب کرنے کا مقصد ہی آٹو میشن ہے۔ ہم معیشت کو دستاویزی شکل دینے کے حق میں ہیں، لیکن یہ عمل مرحلہ وار ہونا چاہیے، کیوں کہ کاروباری افراد گھبراہٹ کا شکار ہیں۔ اسی وجہ سے سی این آئی سی کو این ٹی این نمبر قرار دینے کی تجویز بھی دی گئی تھی، لیکن ابھی تک اس پر عمل درآمد نہیں ہوا۔

جنگ :چوں کہ دو ماہ ہی میں 64ارب کا شارٹ فال آ گیا ہے، تو کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ ایف بی آر ٹیکس وصولی کے ہدف کو کم کر دے اور عوام کو پریشان نہ کرے؟

عبدالقادر میمن :ٹیکس وصولی میں سختی کا مقصد زیادہ ٹیکس وصول کرنا نہیں، بلکہ معیشت کو دستاویزی شکل دینا ہے۔ اگر ہماری شرحِ نمو میں اضافہ ہوتا رہے، تو یہ ہدف حاصل کرنا مشکل نہیں۔

جنگ :لیکن اس وقت تو کاروباری سرگرمیاں ٹھپ پڑی ہیں، تو شرحِ نمو میں کیسے اضافہ ہو گا؟

عبدالقادر میمن :اس مقصد کے لیے حکومت کو کاروبار دوست ماحول فراہم کرنا ہو گا۔

خالد تواب :حکومت کو نظر ثانی شدہ بجٹ لانا ہو گا۔ اگر ایف بی آر ہدف حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہوا، تو ہو سکتا ہے کہ ڈونر ایجینسز ہاتھ کھینچ لیں۔ یہ ہدف زیادہ بڑا نہیں ہے اور آئی ایم ایف سے معاہدے کا فائدہ یہ ہوا کہ ورلڈ بینک سمیت دوسری ڈونر ایجینسز نے رقم فراہم کی۔ اگر ہدف حاصل نہ کر سکے، تو پھر اگلی قسط بھی کھٹائی میں پڑ جائے گی اور نئے سرے سے مذاکرات کرنا ہوں گے۔ میری رائے میں حکومت یہ ہدف حاصل نہیں کر سکتی، کیوں کہ پچھلے مالی سال میں 4300ارب کا ہدف بھی حاصل نہیں کیا جا سکا اور اس میں مزید اضافہ کر دیا گیا۔ پھر اس وقت ملک میں کاروباری سرگرمیاں بھی ماند پڑی ہیں۔ لہٰذا، حکومت کو نہ صرف آئی ایم ایف سے نئے سرے سے مذاکرات کرنا ہوں گے، بلکہ اپنی اقتصادی پالیسی پر بھی نظر ثانی کرنا ہو گی۔ اگر معیشت کا پہیہ چلے گا، تو ٹیکس ملے گا۔

جنگ :کیا بے روزگاری میں اضافے کا بھی خدشہ ہے؟

عبدالقادر میمن :جی بالکل۔ اس وقت تقریباً ہر انڈسٹری کو اپنی بقا کا مسئلہ درپیش ہے۔ اگر یہ سلسلہ برقرار رہا، تو پھر لوگوں کو اپنے روزگار سے ہاتھ دھونا پڑیں گے۔ اس وقت نہ حکومت کی کوئی انڈسٹری پالیسی ہے اور نہ ہی انویسٹمنٹ پالیسی۔ وزیرِ اعظم امریکا گئے، تو اس موقع پر انہیں پاکستانی تارکینِ وطن کو ملک میں سرمایہ کاری کی ترغیب دینی چاہیے تھی۔ اگر حکومت انہیں ضمانت اور سہولتیں فراہم کرے، تو وہ ملک میں سرمایہ کاری کی جانب راغب ہوں گے۔

ڈاکٹر ایوب مہر :چیئرمین ایف بی آر کا ماننا ہے کہ دو ماہ میں ہمیں 10سے 20فیصد خسارے کا سامنا ہے۔ اگر پورا سال یہی صورتِ حال برقرار رہتی ہے، تو 600ارب خسارہ بنتا ہے۔ اب یا تو ہدف کم کرنا پڑے گا یا پھر خسارہ پورا کرنے کے لیے بینکوں سے قرضہ لینا ہو گا۔ اگر حکومت بینکوں سے قرضہ لے گی، تو پھر بینک انڈسٹری کو قرضہ دینے کے قابل نہیں رہیں گے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ بیرونی قرضہ لیا جائے ۔ تیسرا طریقہ یہ ہے کہ اخراجات کم کیے جائیں، تو کون سے اخراجات کم کیے جائیں، کیوں کہ وفاقی حکومت کا صحت اور تعلیم کا کل بجٹ بھی 600ارب سے کم ہے۔ لہٰذا، مناسب طریقۂ کار یہ ہے کہ آیندہ دس ماہ کے دوران حکومت ٹیکس وصولی میں اضافہ کرے اور کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دے، کیوں کہ ملکی آمدنی میں 88فیصد حصہ نجی شعبے کا ہے اور اس پر توجہ دینی ہو گی۔

خالد تواب :اگر حکومت یہ اقدامات کرتی بھی ہے، تو مقررہ ٹیکس ہدف حاصل کرنے میں اسے تین ماہ لگیں گے اور تب تک خسارہ بڑھ چکا ہو گا۔ لہٰذا، یہ ہدف کیسے حاصل ہو گا اور یہ صورتِ حال خاصی تشویش ناک ہے۔ اس وقت نجی شعبے کا حال بے حد برا ہے۔ حکومت کو اسے اعتماد دینا ہو گا، تاکہ کاروباری سرگرمیوں میں اضافہ ہو اور حکومت کو ریونیو ملے۔ اس کے علاوہ دکانداروں کے لیے فکسڈ ٹیکس کی پالیسی لائی جائے۔ اس کی وجہ سے خوف و ہراس کی فضا ختم ہو جائے گی اور حکومت کو ٹیکس بھی ملنے لگے گا۔

عبدالقادر میمن :سب سے پہلے حکومت کو کاروبار دوست ماحول فراہم کرنا ہو گا اور سرمایہ کاروں کو سہولتیں فراہم کرنا ہوں گی۔ اس کے ساتھ ہی خوف کی فضا کو ختم کرنا ہو گا۔ اس وقت سیاست اور معیشت دونوں ہی میں عدم استحکام پایا جاتا ہے اور اسے ختم کرنا ہو گا۔ پھر حکومت کو طویل المدت معاشی پالیسی بنانی چاہیے، کیوں کہ کوئی بھی غیر ملکی سرمایہ کار طویل المدت پالیسی ہی کی بنیاد پر ملک میں سرمایہ کاری کرتا ہے۔ حکومت کو کاروباری افراد کو اعتماد دینا ہو گا، تاکہ وہ کسی قسم کے خوف میں مبتلا نہ ہوں۔ یاد رہے کہ ہماری غیر دستاویزی معیشت کا حجم دستاویزی معیشت سے خاصا زیادہ ہے اور غیر دستاویزی معیشت کے حامل افراد اسی وقت ہی سرمایہ کاری کرتے ہیں کہ جب انہیں یہ یقین ہو کہ ان سے کوئی باز پرس نہیں ہو گی۔ پھر ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ اگر کسی سرمایہ کار کو یہاں مواقع نہیں ملیں گے، تو وہ کہیں اور چلا جائے گا۔

جنگ :اس خبر میں کتنی صداقت ہے کہ لوگ بینکوں سے رقم نکلوا رہے ہیں یا نہیں رکھ رہے؟

عبدالقادر میمن :یہ بھی ایک حقیقت ہے۔ تاہم، میں یہاں یہ تجویز دینا چاہتا ہوں کہ اگر حکومت آمدنی میں اضافہ چاہتی ہے، تو وہ کم شرحِ سود پر قرضے فراہم کرے۔ اس وقت اگر کوئی فرد 10لاکھ روپے بھی کما رہا ہے، تو وہ اپنا گھر نہیں بنا سکتا، لیکن اگر اسے 20برس کے لیے کم ریٹ پر قرضے ملیں، تو اس سے نہ صرف وہ اپنا گھر بنا سکے گا، بلکہ اس سے تعمیراتی صنعت کو بھی عروج ملے گا۔ حکومت کو اس طرف توجہ دینے کے ساتھ ایس ایم ای سیکٹر پر بھی توجہ دینی چاہیے۔

خالد تواب:کراچی واحد شہر ہے کہ جہاں ہائی رائز عمارتوں کی تعمیر پر پابندی عاید ہے اور اس کی وجہ سے تعمیراتی صنعت مشکلات کی شکار ہے۔ ملک کے دوسرے شہروں میں حکومت کثیر المنزلہ عمارتوں کی تعمیر کے لیے حوصلہ افزائی کر رہی ہے، جب کہ یہاں پچھلے 8ماہ سے پابندی عاید ہے۔

عبدالقادر میمن :معاشی سرگرمیوں میں تیزی سے ٹیکس خود بہ خود آنے لگے گا، البتہ آٹومیشن اور معیشت کو دستاویزی بنانا بھی ضروری ہے۔

ڈاکٹر ایوب مہر :اسٹیٹ بینک کے اعداد و شمار کے مطابق تجارتی بینکوں کے ذخائر میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ لوگوں نے سرمایہ کاری کرنا چھوڑ دی ہے۔ نتیجتاً، ان کی رقم بینکوں میں محفوظ ہے۔ حکومت کو غیر ملکی سرمایہ کاری اور برآمدات پر توجہ دینی چاہیے۔ اس کی وجہ سے ملک میں سرمایہ آئے گا اور حکومت کو ٹیکس بھی ملنے لگے گا۔