ضروریات اور بھی ہیں

October 18, 2019

تحریر:چوہدری محمد الطاف شاہد۔۔لندن
کسی بھی انسان کی زندگی کیلئے صرف دو وقت کی خوراک ناگزیر نہیں بلکہ اور بھی ضروریات ہیں جو ایک خاندان کیلئے ضروری ہوتی ہیں۔ مانا حکمران نادار و مستحق شہریوں کو اپنے لنگر خانوں پر دو وقت کا کھانا دے دیں گے تو انہیں لباس، چھت، تعلیم اور ادویات کون دے گا۔ ہمارے ملک کو لنگر خانوں کی نہیں کارخانوں کی ضرورت ہے، عوام کو فقیر نہیں بلکہ معاشی طور پر خود کفیل بنایا جائے جس سے وہ اپنے اور اپنے بچوں کی تمام ضروریات کا انتظام کرسکیں۔ حالیہ دنوں میں ایٹمی پاکستان کے وزیراعظم نے سیلانی ٹرسٹ اور احساس پروگرام کے تحت قائم ہونے والے لنگر خانوں کا افتتاح کیا تو مادر وطن سے دور سات سمندر پار بیٹھے ہم پاکستانیوں کے سرشرم سے جھک گئے جو شب و روز انتھک محنت کرتے ہیں۔ دال روٹی سمیت لنگر خانہ پروگرام تو پیروں، فقیروں کے مزارات پر صدیوں سے جاری ہے حتیٰ کے مختلف تہواروں پر گلی محلے کی سطح پر بھی نیاز تقسیم کی جاتی ہے۔ فرق یہ ہے کہ اس پروگرام سے زیادہ تر مفت خور، چور اور کام چور مستفید ہوتے ہیں، وہ بھی جو کاہل، سست الوجود اور نشہ کرتے ہیں جن کو دین و دنیا کا کوئی ہوش نہیں اور نہ ہی خاندان کی بھاری ذمہ داریاں عائد ہیں جن کا بنیادی مقصد ہی درباروں سے لنگر لے کر کھانا اور پھر سستی کی چادر اوڑھ کر سو جانا ہے لیکن چند مفّکرین جو اس کو بہت بڑا پروگرام کہہ رہے تھے ان کے غبارے سے بھی اس وقت ہوا نکل گئی جب باشعور عوام کی بڑی تعدادنے اسے مسترد کر دیا۔ موجودہ حکومت کا یہ سیاسی شو جو مہنگائی اور غربت سے توجہ ہٹانے کے لئے تھا، جلد ہی فلاپ ہو گیا کیونکہ عوام کی تعلیم یافتہ اکثریت اس امر سے بخوبی واقف ہے کہ ہمارے ملک میں غیر ملکی ایجنسیوں اور NGOs نے ہمیں مفت کی کمائی اور لوٹ کے مال کے پیچھے ایسے بھگایا ہے جیسے ایک تند خو جانور کو گھاس کا ایک گٹھا دکھا کر جانور کا مالک رام کر لیتا ہے اور وہ جانور تھوڑی سی گھاس کے لئے نہ صرف اسی وقت اس کے پیچھے چل پڑتا ہے بلکہ اس کو ہر قسم کا فائدہ دینے کے لئے بھی تیار ہو جاتا ہے۔
غربت پس ماندہ اور ترقی پذیر ممالک کا سب سے بڑا مسئلہ ہے پاکستان میں اس وقت بھی 33فیصد سے زیادہ عوام خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اسی غربت کے خاتمے کو بہانہ بناتے ہوئے بڑے ممالک نہ صرف ہماری صفوں میں گھس آتے ہیں بلکہ اپنی من مانی پالیسیوں سے ملک کو چلانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں بلکہ چور دروازے سے حکومت سازی میں بھی شامل ہو جاتے ہیں۔ اس کی بہترین مثال ہمارے ملک میں موجود غیر ملکی فعال تنظیم ہیں جو ہمارے ملک میں نہ صرف مخصوص بیہودہ طبقہ فکر کی نمائندگی کر رہی ہیں بلکہ ہماری نوجوان نسل کے ذہنوں کو بغاوت، خود غرضی اور مادیّت پرستی کی طرف مائل کرنے میں اپنا بھرپور کردار ادا کر رہی ہیں۔ ان تنظیموں کے غیر ملکی آقا ڈالر کی چمک دکھا کر بے روزگار اور ذہین نوجوانوں کو گمراہ کرنے کا فریضہ بخوبی سر انجام دے رہے ہیں۔ اگر یہاں ’’مار نہیں پیار‘‘ اور ’’میرا جسم میری مرضی‘‘ جیسے نوجوان نسل میں مقبول دو نعروں کو ہی لے لیا جائے تو غیر ملکی مقاصد اور ہمارے مغربی آقائوں کی نیّت واضح ہو جاتی ہے کہ وہ کس طرح ہمارے معاشرے کو گھن کی طرح کھانے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں اور ایک ایسا مثالی معاشرہ جس کی بنیاد پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رکھی تھی کو اب لنگر، غربت مکائو پروگرام اور انکم سپورٹ پروگراموں کی مدد سے بھکاری اور لولا لنگڑا بنانے میں ہمارے موجودہ اور سابقہ اہل اقتدار کا بھرپور ساتھ رہا ہے۔ ہم اس نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے امتی ہیں جو شہر علم تھے لیکن اسی علم کو اتنا سستا اور ارزاں کر دیا گیا ہے کہ اب 505میں سے 504نمبر دے کر بچوں کو ذہین و فطین ثابت کرنے کی بھر پور کوشش کی جا رہی ہے۔
اگر بات ہو لنگر خانوں کی تو لنگر خانے کسی انسان کی عزت نفس کو ختم کرنے میں تو اہم کردار ادا کرتے ہی ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس کو کام چور، نا اہل اور سست الوجود بنانے میں بھی ممد و معاون ثابت ہوتے ہیں اور یوں بھی ہمارے ہر پیدا ہونے والے بچے کو کام چوری اور شارٹ کٹ کا راستہ ابتدائے طفولیت سے ہی دکھا دیا جاتا ہے لیکن اس پہ جلتی کے تیل کا کام ہمارے معاشرے کا نظام انصاف کرتا ہے جہاں کبھی بھی حق دار کو اپنا حق نصیب نہیں ہوتا۔ لنگر خانے سے کھانے اور گداگری میں محض الفاظ کا ہی الٹ پھیر ہے اور دنیا کو کوئی بھی مذہب گداگری کی اجازت نہیں، خاص طور دین اسلام میں تو گداگری کی شدید مذمت کی گئی ہے، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد پاک ہے ’’حلال روزی کی تلاش عبادت کے بعد دوسرا فرض ہے۔‘‘ بلکہ اسلام نے تو محنت کر کے کمانے والے کو اللہ کا دوست قرار دیا ہے۔ سورۃ البقرہ میں ہے ’’اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگ آپ سے پوچھتے ہیں کہ خدا کی راہ میں کس طرح کا مال خرچ کرنا، کہہ دو جو چاہو خرچ کرو لیکن جو مال خرچ کرنا چاہو وہ (درجہ بدرجہ اہل استحقاق یعنی) ماں باپ کو اور قریب کے رشتے داروں کو اور یتیموں کو اور مسافروں کو (سب کو دو) اور جو بھلائی تم کرو گے خدا اس کو جانتا ہے‘‘ اگر اسلام کی تاریخ کا مطالعہ کریں تو زکوٰۃ فرض ہونے کے بعد اسلام کے ابتدائی سالوں میں ہی صورت حال یہ ہوگئی کہ زکوٰۃ دینے والے مدینہ منورہ کی گلیوں میں صدا لگاتے پھرتے مگر کوئی زکوٰۃ لینے والا نہ ملتا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سائل اور پیشہ ور بھکاری میں کیا فرق ہے تو ذرا ملاحظہ فرمائیں کہ خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق ؓکے دروازے پر ایک سائل صدا لگاتا ہے اور ایک روٹی کا سوال کرتا ہے جو اسے دی جاتی ہے، پھر حضرت عمرؓ اس کا تعاقب کرتے ہیں، دیکھتے ہیں کہ اس نے بہت سی روٹیاں جمع کر لی ہیں تو اسے روک کر اس کی تمام روٹیاں اپنے اونٹ کے آگے ڈال کر کہتے ہیں کہ تم سائل نہیں، تاجر ہو جو اپنی ضرورت سے زیادہ روٹیاں جمع کر رہے ہو۔ حضرت علی ؓنے یوم عرفہ کو ایک شخص کو لوگوں سے بھیک مانگتے دیکھا تو اسے ایک درّہ مارتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ تیری کتنی بد نصیبی اور بد بختی ہے کہ آج کے دن جو قبولیت اور دعا کا دن ہے تو مقدس اور بابرکت میدان میں خدا سے مانگنے کی بجائے لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتا پھر رہا ہے۔ کیونکہ اسلام بغیر ضرورت و حاجت مانگنے کو حرام قرار دیتا ہے اسلئے سائل کیلئے غربت اور محتاجی کی ایک حد مقرر کی ہے کہ جس شخص کے پاس ایک دن کیلئے غذا اور جسم چھپانے کیلئے کپڑا ہو تو اسے کسی کے آگے دست سوال دراز نہیں کرنا چاہئے۔
اگر بحالی گداگران کی بات کی جائے تو اس کیلئے دور نبوی ؐ کی وہ مثال ہی کافی ہے کہ سرور کونین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک سوالی آیا تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس شخص کے گھر کا سامان فروخت کر کے کلہاڑی خرید کر دی، اپنے دست مبارک سے کلہاڑی کو دستہ لگایا اور فرمایا کہ جنگل میں جاؤ لکڑیاں کاٹو اور بازار میں بیچو، لیکن ہم میں سے کسی نے بھی یہ نہیں سوچا کہ قوم کو گداگر بنانے اور بھیک جیسا قابل نفرت پیشہ اختیار کرنے میں جہاں معاشرے کا خاص کردار ہے وہاں اہل اقتدار اور NGOs نے بھی اپنی ذمہ داری کو بااحسن طریقے سے نہیں نبھایا، جنہوں نے آج تک غربت زدہ چہروں کے فوٹو سیشن، دو وقت کے کھانے اور امداد کے نام پر 1000 روپے ماہانہ سے زیادہ کچھ نہیں کیا اور غربت مکائو پروگرام کے نام پر نہ صرف جائیدادیں بنائی ہیں بلکہ اس بھیک اور زکوٰۃ کے پیسے کو اپنا ذاتی حق سمجھتے ہوئے بے دریغ لٹایا بھی گیا ہے۔ پاکستان میں گداگران کی مردم شماری (ایک اندزے کے مطابق صرف صوبہ پنجاب میں دو لاکھ کے قریب گداگر موجود ہیں)، بحالی اور آباد کاری جیسے اہم مسئلہ پر آج تک کسی بھی حکومت نے توجہ نہیں دی، اس کیلئے صرف محکمہ سوشل ویلفیئر کے ذریعے وقتاً فوقتاً کچھ کاغذی اور فرضی پروگرام تو چلائے جاتے ہیں لیکن ایک مربوط بحالی گداگاران پروگرام ابھی تک شروع نہیں کیا جا سکا۔ میری حکومت وقت سے یہ گزارش ہے کہ لنگر خانوں کی تعمیر و توسیع کی بجائے قوم کے ہاتھ میں ہادی زماں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرح ایک کلہاڑا پکڑائیں اور بنگلہ دیش کے محمد یونس جیسے لوگ پیدا کریں جن کا مقصد پاکستان کے غریبوں کو چھوٹے قرضوں کی مدد سے غریبی سے باہر نکالنا ہو نہ کہ غریبوں کا ان کی مزدوری بھی آدھی دے کر اسکا خون چوسنا ہو۔ موجودہ حکومت ان تیرہ ماہ میں ڈوبتے کو تنکے کا سہارا کے مصداق مرغیوں، کٹوں، نئے گھروں اور نوجوانوں کیلئے ’’کامیاب جوان یوتھ پروگرام‘‘ جیسے نادر و نایاب تیر بہ ہدف نسخے آزمانے میں ناکام ہونے کے بعد لنگر خانوں جیسے پرانے روایتی پروگرام کا افتتاح کرکے نمبر بنانے میں ناکام ثابت ہو چکی ہے لیکن میرے خیال میں واقعی 72سال کے بگڑے نظام کو صرف 13ماہ میں درست کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے مگر موجودہ حکومت اپنی پانچ سال کی حکومت کے قیمتی 13ماہ صرف تجربات میں برباد کر کے عوام کو ہر روز نیا لالی پاپ دے کر چپ کروانے کی ناکام کوشش میں ہے اسلئے ضرورت اس امر کی ہے کہ نئے نظام کی کم از کم مضبوط بنیاد تو ڈالی جائے جس کو دیکھ کر کچھ ناقدین واقعی تعریف کرنے پر مجبور ہو جائیں کیونکہ زبانی جمع خرچ تو ہم گزشتہ 72سال سے کر ہی رہے ہیں جس کو اہل خرد تقریر کانام بھی دے سکتے ہیں۔