ایک قوم ایک نصاب

November 08, 2019
 

’’ہمیں انگریزوں کے دیئے ہوئے استعماری نظامِ تعلیم سے چھٹکارا پاکر آزاد ملک کی ضرورتوں سے ہم آہنگ نظامِ تعلیم کی طرف قدم بڑھانا ہے، جس میں حصول تعلیم کے مواقع سمیت زندگی کی دوڑ میں آگے بڑھنے کا ذریعہ طبقاتی پس منظر نہیں، انفرادی صلاحیتیںاور کاوشیں ہوں گی۔ انگریزوں نے سوچے سمجھے منصوبے کے تحت مسلمانوں کا تعلیمی نصاب ختم کیا۔ انگریزی نظام تعلیم نے معاشرتی تقسیم پیدا کی، اسی وجہ سے اردو نظام تعلیم کے ذہین طلبہ کی اکثریت اوپر نہ آسکی۔

ہم انگریز کا بنایا گیا طبقاتی نظامِ تعلیم ختم کریں گے۔ ملک بھر میں یکساں نظامِ تعلیم رائج کیا جائے گا۔ ایک ہی ملک میں تین قسم کا تعلیمی نصاب ناانصافی ہے۔ تعلیم سے دوری کی وجہ سے مسلمان تنزلی کا شکار ہوئے۔ یکساں نظام تعلیم ترقی کے لیے ضروری ہےمدارس کے طلباء کو بھی جدید تعلیمکے ذریعے اوپر آنے کا موقع ملے گا۔ تعلیم کا مقصد پیسا بنانا نہیں ہونا چاہیے۔

وزیراعظم نے ’’ایک قوم ایک نصاب‘‘ کا نعرہ بلند کیا ہے۔ انہوں نے طبقاتی تعلیمی نظام ختم کرنے، یکساں تعلیمی نصاب و نظام رائج کرنے، مدارس کے طلبہ کو عصری تعلیم کے ذریعے اعلیٰ مناصب سمیت ترقی کے مواقع فراہم کرنے اور ہر بچے کو محنت و صلاحیت کے بل پر پاکستان کی شناخت کا ذریعہ بنانے کا وژن دیا۔

ڈاکٹر منظور احمد

وزیراعظم نے پاکستانیوں کے سیاسی رول ماڈل قائداعظم محمد علی جناحؒ اور نظریاتی رول ماڈل علامہ اقبالؒ کے افکار کی ہر سطح پر ترویج کی جس خواہش کا اظہار کیا، اس کے لئے نصابی کتابوں سے آگے بڑھ کر عملی زندگی میں بھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔

اسی ضمن میں ہم نے ماہر تعلیم انوار احمد زئی اور ڈاکٹر منظور احمد سے ان کی رائے جاننے کی کوشش کی ہے ہم نے ان سے پوچھا کہ، تعلیم کے شعبے میں طبقاتی فرق کب اور کیسے آیا، اس کے معاشرے پر کیا اثرارت مرتب ہوئے اور اسے کیسے ختم کیا جاسکتا ہے۔ ایک قوم ایک نصاب کے ویزن پر کس طرح عمل ممکن ہے؟

پروفیسر احمد زئی

ضیاء الدین یونیورسٹی امتحانی بورڈ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اور ماہر تعلیم انوار پروفیسر احمد زئی کے مطابق، جب سے تعلیم کے شعبے میں تجارتی عنصر آیا ہے، اسی وقت سے طبقاتی فرق نے جنم لیا، جو وقت کے ساتھ مستحکم ہوتا چلا گیا۔ ایک وقت تھا جب تعلیم کو سمجھنے، سمجھانے اور تربیت کا ذریعہ سمجھا جاتا تھا۔ علم حاصل کرنے کا وسیلہ سمجھا جاتا تھا۔ مگر جب یہ کہا گیا کہ علم حاصل کرنا سرمایہ کاری ہے۔ وہیں سے سرمایہ کاری پر منافع کیا ،ہوگا سوچا جانے لگا۔

پھر یہ سوچ پروان چڑھنے لگی کہ ہم اپنے بیٹے کو تعلیم دلا کر افسر، حاکم بنائیں گے یا پھر انہیں سیاست، تجارت یا صنعتی کاروبار کی جانب لے جائیں گے یا پھر ان ذرائع کا انتخاب کیا جائے گا جہاں سے وافر مقدار میں آمدنی ممکن ہو۔ جب یہ سوچ ہوگی تو تعلیم کو سرمایہ کاری یا کاروبار ہی سمجھا جائے گا۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ہمارا تعلیمی نظام چار حصوں میں تقسیم ہوگیا ہے۔ پہلا نظام فورمل اسکولز کا ہے، جو اردو میڈیم اور سندھ میں سندھی میڈیم ہیں۔ دوسرا طبقہ وہ نام نہاد، برائے نام انگلیش میڈیم اسکولز ہیں، جن کی فیس اردو، سندھی میڈیم کے سرکاری اسکولوں کے مقابلے میں زیادہ ہے۔

سرکاری اسکولوں میں فیس معاف اور کتابیں مفت کر دی گئی ہیں۔ لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ جہاں کتابیں مفت، فیس معاف ہو، وہاں تعلیم بھی ہو یا معیاری تعلیم بھی ہو۔ تعلیم کا ہونا شرط اوّل ہے، جب کہ نام نہاد انگریزی اسکولوں میں فیس اس قدر زیادہ ہے، جو دے سکتے ہیں وہ ہی داخلہ لیتے ہیں، ان اسکولوں میں بھی مختلف فیسوں کی سطح ہیں، جس کی بنیاد پر ان کی درجہ بندی کی جاتی ہے کہ فلاں اسکول اعلیٰ درجے کا ہے اور فلاں کم درجہ کا ہے۔ جن اسکولوں کی تزین و آرائش کی جاتی ہے ان کی فیس بہت زیادہ ہے۔

اس کے بعد تیسرا طبقہ او اور اے لیول کا ہے، جن کی فیس پچیس ہزار ماہانہ سے پچاس ہزار تک ہے، گوکہ ایسے اسکول اساتذہ کو اچھا معافضہ دیتے ہیں۔ اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ ہم نے پیسے کی بنیاد پر طبقاتی فرق کو مدنظر رکھتے ہوئے تعلیم کے حصول کو اس سے مشروط کر دیا۔ قابلیت اور صلاحیت کو نظر انداز کر دیا ہے۔ اگر کسی بچے میں قابلیت و صلاحیت ہے لیکن والدین فیس برداشت نہیں کرسکتے تو وہ او، اے لیول اسکولوں میں اپنے بچوں کو نہیں داخلہ دلا سکتے۔ جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ او، اے لیول اسکول یا پھر اعلیٰ درجے کے اسکول جانے والے بچے ہی معاشرے میں بطور حاکم اپنی جگہ بنانے میں کامیاب ہوجاتے اور دوسرے بچے محکوم ہوکر پیچھے رہ جاتے ہیں۔

چوتھا درجہ مدارس کا آتا ہے، جہاں تعلیم، رہن سہن، کھانا پینا مفت ہے، یونیفارم کی بھی کوئی قید نہیں ہے لیکن ایسے بچے جب فارغ التحصیل ہو کر سماجی زندگی میں لوٹتے ہیں، جن کی تعداد پورے ملک میں کم و بیش 35لاکھ ہے، ان کا مائنڈ سیٹ، سوچنے سمجھنے کا نظریہ بالکل تبدیل ہوجاتا ہے۔ دیگر اسکولوں سے تعلیم حاصل کرنے اور مدرسے سے تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ میں زمین آسمان کا فرق واضح محسوس کیا جاسکتا ہے۔ اب یہ ایک دوسرے کو برداشت کرنے، ایک دوسرے کی سننے کی بجائے ایک دوسرے کے مخالف ہوجاتے ہیں، ایک دوسرے کی رائے اور سوچ کو رد کرتے ہیں۔ یہ جو فرق یا تصادم ہے یہ فکری تصادم ہے۔

یہ بنیاد ہے معاشرتی تفریق اور تمیز کی، جس کے باعث ہمارا تعلیمی نظام مختلف طبقات میں تقسیم ہوگیا ہے۔ یہ تقسیم کو اسی وقت ختم کی جاسکتی ہے جب پولیٹیکل وویل، کموٹیڈ وویل اور سیریس نیس ہو۔ تعلیم کی ایمرجنسی کا اعلان نہ ہو، اس پر عمل ہو۔ اور مدارس میں دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ انگریزی، کمپیوٹر، سائنس، ریاضی کی تعلیم لازمی قرار دی جائے۔ اس کے ساتھ ہی عام اسکولوں، انگلش میڈیم اور او، اے لیول اسکولوں میں بھی دینی، ثقافتی اور تہذیبی تعلیم عملاً دی جائے تاکہ یہ جو خلا ہے وہ پُر ہو سکے، جو ذہنی خلیچ ہے اسے ختم کیا جاسکے، یہ ہی واحد صورت ہے جو طبقاتی نظام کی تنسیخ کے لیے ضروری ہے۔

انوار احمد زئی نے سلسلہ گفتگو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ، طبقاتی فرق کے باعث منفی اثرارت مرتب ہو رہے ہیں۔ ہم فکری اعتبار سے ٹکڑیوں میں تو تقسیم ہو ہی گئے ہیں، لیکن معاشی اعتبار سے بھی ہو رہے ہیں، غریب کا ذہین، قابل بچہ ہے اپنی ذہانت کو پیچھے رکھ کر، محدود وسائل میں تعلیم حاصل کرتا ہے، پھر ملازمت کے لیے در بدر پھرتا ہے اور جب نوکری ملتی ہے تو وہ بھی واجبی سی ہوتی ہے۔

دوسری جانب وہ بچے حاکم ہوجاتے ہیں جو انگریزی اور بڑے اسکول، کالج، یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ دراصل اس حاکم اور محکوم کی جنگ میں ہماری قوم دو حصوں میں بٹ کر رہ گئی ہے۔ ایک دوسرے سے تعاون کرنے کے بجائے، ایک دوسرے کی مخالفت کرنے پر تلی ہوئی ہے۔ جس کے باعث ہمارا قومی اتحاد پارہ پارہ ہوگیا ہے۔ یہ بات حکام کو سمجھنا چاہیے کہ وفاقی وزارت تعلیم 18ویں ترمیم کے بعد فعال نہیں رہا، اب آرٹیکل 25 اے کے تحت فیصلہ سازی کا اختیار صوبوں کو منتقل ہوگیا ہے۔ اب نصاب تعلیم کا فیصلہ کرنا ان کی ذمہ داری ہے۔

اس حوالے سے ترمیم کرنے سے قبل سوچنا چاہئے تھا یا پھر کم از کم اس وقت تک صوبوں کو اختیار دیا جائے جب تک ترمیم کا فیصلہ واپس نہیں لے لیا جاتا، تب تک انہیں نصاب تیار کرنے دیا جائے۔ اب یہ صوبوں کا کام ہے کہ وہ اپنے صوبے میں کون سا نصاب پڑھانا چاہتے ہیں، صوبوں کو آئین کے مطابق اپنا کردار ادا کرنے دینا چاہئے، اچانک سے پہیہ الٹا نہیں چل سکتا۔ پورے ملک میں ایک نصاب 18 ویں ترمیم اور آرٹیکل 25 اے کے رہتے ہوئے یہ ممکن نہیں ہے۔ پورے ملک میں ایک نصاب لانے کے لیے ضروری ہے کہ سب ایک بات پر متفیق ہوں، مشاہدے میں آیا ہے کہ جب بھی تعلیمی وزراء کی کانفرنس ہوتی ہے تو سندھ کے علاوہ تمام صوبوں کے وزراء شرکت کرتے ہیں، جب ان کے درمیان اتفاق نہیں ہے تو پورے ملک میں ایک نصاب کیسے قائم کرسکتے ہیں۔

اس کے لیے حکومت کو پارلیمینٹ کے تعاون سے ہائیر لیول کمیشن تشکیل دینے کی ضرورت ہے، جو پوری قوم کے لیے کام کرے، اس کے تحت نصاب کے حوالے سے فیصلہ کیا جائے۔ شب خون مارنے والی کیفیت برپا کرنے کے بجائے یک جہتی کے ساتھ آگے بڑھنے کی ضرورت ہے، جو ایک نصاب بنے، وہ سب کے لیے قابل قبول ہے۔ لیکن یہ بتادوں کہ، تکنیکی اعتبار سے دنیا بھر میں کہیں بھی ایک نصابی نظام نہیں ہوتا، او، اے لیول میں بھی مختلف آپشن ہیں لیکن یوں سوچ لیجئے پرائمری لیول تک لوکل چیزوں کو پڑھایا جاتا ہے، سیکنڈری لیول پر ٹریشری (Tertiary) بڑھ جاتا ہے اور گریجویشن لیول پر نصاب قوم یا گلوبل لیول کو مدنظر رکھتے ہوئے بنایا جاتا ہے۔ ہمارے یہاں الٹی گنگا بہہ رہی ہے، جب تک آپس میں اتفاق فکر پیدا نہیں ہوگا مجھے نہیں لگتا کہ اتنے بڑے کام کو لے کر آگے بڑھا جاسکتا ہے۔ بہت ساری رکاوٹوں کو پیش نظر رکھنا پڑے گا۔

پروفیسر ڈاکٹر منظور احمد، ہمدرد یونیورسٹی اور عثمان انسٹیٹوٹ آف ٹیکنالوجی کے سابق وائس چانسلر ہیں۔ ہمارے سوال کے جواب میں ان کا کہنا ہے کہ، میں تعلیم کے شعبے میں طبقاتی فرق نہیں بلکہ اس کو عملی فرق کہوں گا، جو کہ ابتدائی تعلیم سے ہی شروع ہوجاتا ہے، جب بچہ سرکاری یا نجی اسکولوں میں جانا شروع کرتا ہے تو یہ اساتذہ کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ انہیں سکھائے، ان کی تربیت کرئے، انہیں اخلاقی اقدار بتائے لیکن ایسا ہوتا نہیں ہے۔ جی اساتذہ ایسا کرتے نہیں ہیں، اُن کے بچے بھی اپنی بھرپور قابلیت کا مظاہرہ نہیں کر پاتے۔

یہ صرف ہمارے فرسودہ تعلیمی نظام کے باعث ہو رہا ہے، آج جو اساتذہ ہیں انہوں نے بھی وہی نصاب پڑھا ہے جو یہ آج پڑھا رہے ہیں لیکن مسئلہ آج کے اساتذہ کی تعلیم و تربیت کے زمانے سے شروع ہوا ہے، چوں کہ اُس دور نظام تعلیم میں طبقاتی فرق اُبھرنا شروع ہوا تھا، اس لیے اس وقت اس کے اثرات بھی زیادہ مرتب ہوئے، جن سے آج کی نسل بھی گزر رہی ہے۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ میٹرک تک سرکاری، نیم سرکاری، چھوٹے بڑے نجی اسکولوں اور مدارس میں یکساں نصاب اور یکساں کتابوں کے استعمال کو یقینی بنائیں۔ انٹر میں بھی مضامین کے اعتبار سے تفرق کی جائے، مثلاً جو سائنسی مضامین میں دلچسپی رکھتے ہیں، ان کا نصاب الگ ہو اور جو آرٹ پڑھنا چاہتے ہیں ان کا نصاب الگ ہو، رفتہ رفتہ یہ تخیصص بڑھتی رہے اور مختلف مضامین کے اعتبار سے نصاب میں بھی فرق آتا رہے۔ ابتداء سے ہی مدارس اور اسکول کا فرق درست نہیں ہے۔

جس کی وجہ سے ہمارے معاشرے میں مختلف طبقاتی فرق جنم لیتے ہیں، مختلف بُرائیاں و جرائم پروان چڑھتے ہیں۔ اس طرح معاشرہ غریب اور امیر میں تقسیم ہو جاتا ہے، جس کی وجہ سے معاشرے میں تین طبقات نے سر اُٹھایا ہے۔ اب اسے ختم ہوجانا چاہئے۔ غریبوں کے لئے سرکاری اسکول یا مدارس، جب کہ امراء کے بچوں کے لیے مہنگے انگریزی میڈیم اسکول کا تصور ہی غلط ہے۔ غیر معیاری اسکولوں کو ختم تو نہیں کیا جاسکتا لیکن نصاب میں بتدریج تبدیلی ممکن ہے۔ مدارس میں پڑھنے والے زیادہ تر بچے گلی محلوں میں قائم مدرسے کی صفائی کرتے کرتے وہاں کے امام بن جاتے ہیں، اس طرح معاشرے میں دو مختلف سوچ پروان چڑھتی ہیں۔ مساجد اور اسکولوں میں بھی ایک ہی نظام تعلیم سے فارغ طلباء خدمات سر انجام دے سکتے ہیں۔

ایسا ہرگز نہیں ہے کہ ایک نصاب کا نعرہ پہلی بار بلند کیا گیا ہو، بلکہ اس سے قبل بھی مختلف حکومتوں کے ادوار میں یہ نعرہ بلند ہوتا رہا ہے۔ لیکن 18ویں ترمیم کے بعد آرٹیکل 25 اے کے تحت تعلیمی نصاب سازی کی ذمہ داری صوبوں کو منتقل ہوگئی ہے، اب دیکھنا یہ ہے کہ اس ترمیم کے بعد کیا وفاق پہلے کی طرح ایک نصاب قائم کرکے طبقاتی تفریق کو ختم کرنے میں کام یاب ہو پائے گی۔