سائنسی خبرنامہ !

May 03, 2020

انس مرزا

پیارے بچو! دنیا میں ایندھن کی دو اقسام پائی جاتی ہیں ایک قسم وہ ہوتی ہے، جسے ایک بار استعمال کے بعد دوبارہ استعمال نہیں کیا جاسکتا، اسے ناقابل تجدید توانائی کہا جاتا ہے۔ ایندھن کی دوسری قسم وہ ہوتی ہے ،جسے ایک بار استعمال کے بعد بھی دوبارہ استعمال کیا جاسکتا ہے اسے قابل تجدید توانائی کہتے ہیں۔ آج ہم آپ کو ایسے ایندھنوں کے بارے میں بتارہے ہیں،جنہیں صرف ایک بار ہی استعمال کیا جاسکتاہے، انہیں انگریزی میں non renewable energy source کہا جاتا ہے۔ ان میں کوئلہ، پیٹرولیم، قدرتی گیس اور نیوکلیائی توانائی necular energy شامل ہیں۔

پیٹرولیم

یہ زمین کی گہرائی میں پایا جاتا ہے، جسے کھدائی کرکے پائپوں کے ذریعے نکالا جاتا ہے۔ یہ بھی ان درختوں اور جانوروں کی باقیات سے بنا جو لاکھوں سال قبل کیچڑیا لاوے میں دب کر سڑ گئے تھے۔ کوئلے کی طرح پیٹرولیم ایندھن بھی ایک بہت طویل عرصہ تک زمین کی اندرونی گرمی اور دباؤ کے نتیجے میں وجود میں آیا۔ زمین سے نکالے جانے کے بعد، ریفائنری میں صفائی سے قبل یہ خام یعنی کچی حالت میں ہوتا ہے اور پیٹرولیم کہلاتا ہے۔ صفائی کے بعد پیٹرولیم کو فرنیس آئل، گیسولین اور ڈیزل جیسے ایندھنوں کی شکل میں تبدیل کرلیا جاتا ہے ،جسے پھر گاڑیوں کے انجنوں، کارخانوں کی مشینوں، طیاروں، بحری جہازوں اور گھروں میں توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

کوئلہ

کوئلے میں کاربن کا عنضر نمایا ہوتا ہے جو اس کا 50 فیصد سے زیادہ وزن 70 فیصد سے زیادہ بناتا ہے۔

وہ درخت جو کسی وجہ سے زمین میں دفن ہوجاتے ہیں ہزاروں سال بعد حرارت اور دباو کی وجہ سے کوئلہ بن جاتے ہیں۔کوئلے کے کئی فوائد ہیں، کوئلہ توانائی کے حصول یا صنعتی ایندھن کا سب سے بڑا وسیلہ ہے اور خاص طور پر دیگر ایندھنوں کے مقابلے میں بہت سستا ہے، کوئلے کو بجلی پیدا کرنے کے لئے بھی استعمال کیا جاتا ہے اور آسانی سے ذخیرہ شدہ بھی ہے۔

قدرتی گیس

کوئلہ اور پیٹرولیم کی طرح قدرتی گیس بھی اسی طریقے اور اتنی ہی مدت کے زمینی عمل کے نتیجے میں وجود میں آتی ہے۔ زمین میں لاکھوں سال سے دبی ہوئی جانوروں اور درختوں وغیرہ کی باقیات میں پیدا ہونے والی کیمائی اور مرکباتی تبدیلی کے نتیجے میں کوئلے اور پیٹرولیم بننے کے عمل سے بڑی مقدار میں گیس بھی پیدا ہوتی ہے۔ اس گیس کے بہت بڑے بڑے بلبلے زمین کی گہرائی میں پھنسے ہوتے ہیں جنہیں تلاش کرکے پائپوں کی مدد سے نکالا جاتا ہے۔ قدرتی گیس کو صنعتوں اور گھروں میں توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے علاوہ اب گاڑیوں کے انجنوں میں متبادل ایندھن کے طور پر بھی استعمال کیا جارہا ہے۔

نیوکلئیر توانائی

ایندھن کا یہ ذریعہ سائنس کی مدد سے گزشتہ صدی میں ایجادد کیا گیا۔ اس کا دارومدار "نیوکلئیر فیژن" (necular fission) کہلانے والے ایک سائنسی عمل کے نتیجے میں ایٹم کی علیحدگی سے پیدا ہونے والی زبردست حرارت(heat) پر ہوتا ہے۔ نیوکلئیر فیژن کے دوران "یورنیم 235 " نامی کیمیائی مادے کا مرکز یا نیوکلیس، نیوٹران نامی ایٹمی جزو سے ٹکراتا ہے جس سے یورنیم کا ایٹم ٹوٹ کر الگ ہوجاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں زبردست حرارت پیدا ہوتی ہے، جسے پانی اُبالنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ پانی اُبلنے سے پیدا ہونے والی بھاپ کے ذریعے بڑے بڑے جنریٹر چلائے جاتے ہیں اور ان سے بجلی پیدا کی جاتی ہے۔