برطانوی معاشرے میں بچوں کا جنسی استحصال

April 17, 2013
 

بچوں کی مسکراہٹ اور ہنسی سے بڑھ کر دنیا کی کوئی شے خوبصورت نہیں ہوسکتی۔ بچوں کی معصومیت اور ہنسی ہمارے آس پاس کی فضا میں امن ومحبت کی روشنی بھردیتی ہے۔ یہ ننھے منے فرشتے اس کائنات کے لئے خدا کا بہترین تحفہ ہیں لیکن یہی بچے جو ہمارا مستقبل ہیں اگر ان کی فلاح اور تحفظ کا مسئلہ ایک سنگین سوال بن کر کھڑا ہوجائے تو معاشرے کے ہر فرد کی ذمہ داری ہے کہ ایسے تاریک سوالوں کو اندھیرے میں رکھ کر نظر انداز نہ کیاجائے بلکہ روشنی میں لاکر ان کا فوری تدارک کرنے کی کوشش کی جائے۔ آج بچوں پر جنسی تشدد کا مسئلہ حتمی اور مصدقہ شواہد کے ساتھ سامنے آچکا ہے آج برطانیہ سمیت دنیا بھر میں بچوں کو جنسی تشدد اور استحصال کا نشانہ بنایاجارہا ہے۔ چلڈرن کمشنر فارانگلینڈ کی ایک رپورٹ کے مطابق2010ء سے 2011ء تک کے عرصے میں صرف ایک سال کے عرصہ میں 16500بچے برطانیہ میں جنسی استحصال کے مبینہ خطرے یا امکان سے دوچار رہے ہیں اور اسی مدت میں 2409بچے جنسی استحصال کا شکار ہوچکے ہیں۔ جنسی تشدد یا استحصال کا شکار ہونے والے بچے جسمانی ذہنی اور جذباتی اعتبار سے زخم خوردہ اور پامال شخصیت کے حامل ہوتے ہیں۔ اس قسم کے واقعات ان کی شخصیت پر ڈر، خوف اور عدم اعتمادی کی وہ چھاپ چھوڑ جاتے ہیں جن کا تدارک اور تلافی معاشرے کیلئے بھی ایک چیلنج سے کم نہیں۔ ڈاکٹر میگی ایٹکنسن نے جو کہ 2010ء سے برطانیہ کی چلڈرن کمشنر کی حیثیت سے کام کررہی ہیں۔ اس مسئلہ کو پوری برطانوی سوسائٹی کیلئے ایک لمحہ فکریہ قراردیا ہے۔ ڈاکٹر میگی کا کہنا ہے کہ ہمیں اس مسئلہ چلڈرنز کمشنر ڈپٹیSue Bere Lowizکا کہنا ہے کہ ہر سال ہزاروں بچے ریپ ہورہے ہیں۔ بچوں کے ساتھ یہ غیر انسانی اور غیر اخلاقی سلوک ان کی شخصیت اور زندگی کو پامال اور تباہ کردینے کے مترادف ہے۔ جنسی تشدد کی خاطر بچوں کو اغوا بھی کیاجاتا ہے انہیں ڈرایا، دھمکایا اور مارا پیٹا بھی جاتا ہے۔ کبھی انہیں پیار سے اور کبھی خوفزدہ اور ہراساں کرکے جال میں پھنسا دیاجاتا ہے۔ اس قسم کے جرائم میں ملوث زیادہ تر مرد ہوتے ہیں۔ اب تک گروہوں اور گروپوں کی شکل میں بھی موجود ان جرائم پیشہ عناصر کی حقیقت کھل کر سامنے آچکی ہے جن میں نوجوانوں سے لے کر بری عمر تک کے لوگ شامل ہیں۔ یہ حقیقت بھی سامنے آچکی ہے کہ یہ لوگ مختلف نسلی گروہوں سے تعلق رکھتے ہیں اور اسی طرح ان کا شکار معصوم بچے بھی مختلف نسلی اور ثقافتی پس منظر سے تعلق رکھتے ہیں۔ لیکن خود پاکستان کمیونٹی کیلئے یہ بات انتہائی قابل تاسف ہے کہ حال ہی میں9پاکستانیوں کو چائلڈ سیکس گرمنگ کے الزامات میں سزائیں سنائی گئی ہیں… اس قسم کے واقعات اور حقائق سوسائٹی کیلئے ایک شرمناک تصویر کی طرح ہیں جن پر معاشرہ کے ہر دی فکر اور ذی حس انسان کو فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ دلخراش حقائق ہمارے اردگرد سوسائٹی میں اپنی موجودگی کا احساس دلاچکے ہیں… اس سلسلے میں اس امر کی فوری ضرورت ہے کہ متعلقہ ایجنسیاں اس مسئلے سے متعلقہ معلومات کو مربوط طریقے سے متاثرہ بچوں کی فلاح وتحفظ کیلئے استعمال کریں تاکہ سوسائٹی میں موجود اس عفریت کا خاتمہ کیاجاسکے۔ ویسے بھی اب بچوں کو جنسی تشدد سے محفوظ رکھنے کی مہم صرف انگلستان کا ہی نہیں بلکہ پوری دنیا اور خصوصی تشدد سے محفوظ رکھنے کی مہم صرف انگلستان کا ہی نہیں بلکہ پوری دنیا اور خصوصی طورپر یورپ کا مسئلہ بھی بن چکی ہے اس لئے کونسل آف یورپ نے بھی اس مہم کو تیز تر کردیا ہے۔ گزشتہ دنوں یورپین کونسل نے فرانس کے شہر اسٹراس برگ میں ماہرین کی مشاورت سے بچوں کو جنسی تشدد سے محفوظ رکھنے کی مہم کے خاص مندرجات اور نکات طے کئے تاکہ اس مہم کو عملی جامہ پہنانے کیلئے موثر اقدامات کیے جاسکیں۔ تحقیق اور مصدقہ رپورٹس سے یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ بچوں کو جنسی تشدد کا نشانہ بنانے والے زیادہ تر قریبی لوگ ہوتے ہیں جیسے قریبی رشتہ دار، قریبی خاندانی دوست، بے بی سٹرز یا محلہ دار اور پڑوسی وغیرہ بچوں پر جنسی تشدد کے ریکارڈ وواقعات سے شواہد ملتے ہیں کہ اس قسم کا تشدد کسی بھی جگہ ہوسکتا ہے جیسے سکول سے گھر واپس جاتے ہوئے گھروں میں یا پھر مقامی پارکوں میں بچوں کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایاجاتا رہا ہے۔NSPCCجو تحفظ اطفال کا ایک قومی ادارہ ہے کے اعداد وشمار کے مطابق برطانیہ میں تقریباً ایک تہائی لوگ اپنے بچپن میں جنسی تشدد کا نشانہ بن چکے ہیں۔ ادارہ کے تحقیق شدہ اعداد وشمار کے مطابق ہر دس میں سے ایک بچہ جنسی تشدد کے اذیت ناک تجربہ سے گزرا ہے۔ بہت سے بچے ایسے بھی ہیں جو اس بارے میں کبھی زبان نہیں کھولتے اور اپنی زندگی کے اس اذیت ناک راز کو ہمیشہ اپنے اندر چھپائے رکھتے ہیں لیکن ان کے لاشعورمیں وہ چیخ ہمیشہ رہتی ہے جسے کوئی کبھی سن نہیں پاتا… بہت سے نفسیات داں اس قسم کے تشدد کا شکار ہونے والے بچوں کیلئے اس قسم کا تجزیاتی خیال پیش کرچکے ہیں۔ بچوں پر جنسی تشدد کے سلسلے میں یہ رپورٹ بھی سامنے آچکی ہے کہ نہ صرف نارمل بلکہ معذور بچے بھی اس غیر انسانی اور بے رحم تشدد کا شکار ہورہے ہیں مگر بے توجہی کا شکار ہیں۔ جبکہ انسانی حقوق کی بنیادوں پر یہ بچے سب سے زیادہ توجہ کے مستحق ہیں لیکن سیاسی پالیسی سازوں کی اولین ترجیحات سے دور ہیں۔ یہ بچے آج بھی معاشرہ کا ایک محروم طبقہ ہیں جن کے مسائل پر بہت زیادہ توجہ نہیں دی جاتی اور ان کے دیگر مسائل کی طرح اس مسئلہ پر بھی زیادہ تحقیق کی ضرورت نہیں سمجھی جاتی۔ یہ بے توجہی ان ہی افسوسناک نتائج میں سے ایک ہے جو یہ بچے اپنی معذوری کی بنیاد پر معاشرے کے امتیازی رویے کی صورت میں تجربہ کرتے ہیں۔ وہ خود اپنے حقوق سے بھی ناواقف ہوتے ہیں اور سوسائٹی بھی انہیں ان کے حقوق کی آگاہی دینے میں متحرک نظر نہیں آتی۔ معاشرہ کا یہ طرز عمل ان بچوں کیلئے ان سروسز تک پہنچنے میں دشواری کا سبب ہوتا ہے جن کے ذریعہ وہ اپنے ساتھ ہونے والی کسی زیادتی کو متعلقہ ادارے تک پہنچاسکیں یا کوئی شکایت کرسکیں۔ مجرم ان بچوں کی خاموشی اور معذوری سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور ایسے مجرموں کی یہ بچے اپنی معذوری کے باعث عدالت کے کٹہرے تک نہیں لاپاتے۔ بچوں کے ساتھ جنسی تشد ایک ایسا مجرمانہ اور غیر اخلاقی فعل ہے جسے کوئی بھی مہذب معاشرہ قبول یا برداشت نہیں کرسکتا۔ تمام حکومت اور غیر حکومتی اداروں ، سول سوسائٹی کی تنظیموں، علاقائی اور مقامی ایجنسیاں کے ساتھ ساتھ تمام ذمہ دار شہریوں کو بھی اس اہم اور سنگین مسئلہ کی طرف توجہ دینا ہوگی اور ایسے گھناؤنے جرائم میں ملوث افراد کی نشاندہی کرنا ہوگی۔


مکمل خبر پڑھیں