بوسٹن کے دہشت گرد ”فرشتے“ اور ہمارے نوجوان

April 25, 2013
 

بوسٹن اور کینیڈا میں پیش آنے والے دہشت گردی کے واقعات میں ملوث نوجوانوں کا بغور جائزہ لیا جائے تو ہمیں آئینے میں برطانیہ و یورپ میں آباد مسلمان کمیونٹی کا چہرہ بھی دکھائی دیتا ہے جو اس طرح کی دہشت گردی کو ختم کرنے میں مدد گار ثابت ہونے کی بجائے گم سم خاموش تماشائی نظر آتی ہے بلکہ یہ کہنا بھی غلط معلوم نہیں ہوتا کہ ہماری کمیونٹی کی اکثریت اپنی خاموشی کی وجہ سے یوں بھی نظر آتی ہے جیسے وہ دہشت گردی کے واقعات کو ایک انٹرٹینمنٹ کے طور پر لے رہی ہے اور کچھ کرنے کو تیار نہیں لیکن جیسے ہی ان کو یہ احساس ہوتا ہے کہ ان کے اپنے بچے بھی دہشت گردی کے آلہ کار بن کر ایک دن اسی طرح کے ہی واقعہ میں ملوث ہو سکتے ہیں تو ایسی پریشانی ان کو تھوڑا سا جھنجھوڑتی ضرور ہے مگر وہ اس سلسلے میں کوئی عملی اقدام کرنے کی بجائے فوراً انہیں اللہ کے بھروسے پر چھوڑ کر اور انہیں فرشتہ قرار دے کر اپنی آنکھیں بند کرکے خواب خرگوش میں واپس لوٹ جاتی ہے۔
بوسٹن کے بم دھماکوں میں چارج ہونے والے دو بھائیوں کے روس میں مقیم والد کا بھی یہی کہنا ہے کہ اس کے بیٹے فرشتہ تھے اور انہوں نے کبھی بم یا اسلحہ کی شکل نہیں دیکھی۔
دیکھئے کہ دھماکے کرنے کے باوجود ان لڑکوں کا باپ ہمارے اکثر روایتی اور سیدھے سادھے والدین کی طرح اپنے بچوں کو فرشتہ سمجھ رہا ہے۔ اگر اتنا بڑا واقعہ بھی اس کی آنکھیں نہیں کھول سکا تو ہم یہ اندازہ اچھی طرح لگا سکتے ہیں کہ جب اس کے بیٹے دہشت گردوں کے ہاتھ چڑھ کر برین واش ہو رہے ہوں گے تو اس وقت یقینا اس کی آنکھیں نہیں کھلی ہوں گی۔ اب وہ بیچارہ باپ اپنے چاند جیسے بچوں کے ضائع ہونے کی ذمہ داری تو کیا لے گا۔ یہی حالت برطانیہ و یورپ میں آباد ہمارے اکثر والدین کی ہے ان کے بعض بچے جب سکول، مساجداور یونیورسٹیوں میں راتوں رات دہشت گرد بنا دیئے جاتے ہیں تو وہ حقیقت پسندی کو اپنا کر ان کے ذہنوں سے نفرت کی کھال اتارنے کی بجائے ان کو فرشتہ ہی سمجھتے رہتے ہیں۔ اور ان کے بیمار ہوتے ہوئے ذہن کو پہچاننے میں ناکام ہو جاتے ہیں اور ان کے ساتھ وہ کچھ نہیں کرتے جو میری ماں نے میرے ساتھ اس وقت کیا تھا جب مجھے بھی یونیورسٹی میں انتہا پسندی اور دہشت گردی کے جن اور چڑیلیں چمٹ گئی تھیں جنہوں نے مجھے سکارف پہنا دیا تھا اور مجھے بھی دہشت گردوں کے ٹریننگ کیمپ جنت نظر آنے لگے تھے۔ میری امی نے یہ جن بھوت اتارنے کیلئے جو کو شش کی اور جو میری حالت کی اگر سب والدین اپنے بچوں پر اسی طریقے سے نظر رکھیں اور ذہنی آلودگی یا بیماری نظر آنے پر ان کی وہی حالت کریں جو میری امی نے میری کی تھی تو بوسٹن بم دھماکوں کے ملزم دونوں نوجوانوں کے باپ کے چاند جیسے فر شتوں کوشیطان بننے سے روکا جا سکتا ہے اگر ہمیں کسی ایسے موقع پر پتہ چلے کہ وہ مکمل شیطان بن چکے ہیں تب ہمیں حکومتی اداروں کو فورا اطلاع کرنی چاہئے اس طرح ان کے لئے ایک مصیبت تو وقتی طور پر کھڑی ہو گی مگر ان کی اور دیگر درجنوں لوگوں کی جان تو بچ جائے گی اور یہ چانس بھی رہے گا کہ وہ میری طرح حوش و حواس میں واپس بھی آسکتے ہیں۔
دہشت گردی کی بیماری کا شکار نوجوانوں کو وقت سے پہلے قابو کرنے کا کام ہم لوگ نہیں کرتے بلکہ میں یہ کہنے میں بھی حرج محسوس نہیں کرتی کہ ایف بی آئی اور دنیا کی دیگر بڑی انٹیلی جنس ایجنسیاں جب اس سلسلے میں بوسٹن کی طرح ناکام اور بے بس نظر آتی ہیں تو ہماری اکثریت ان کی بے بسی کو انجوائے کرتی ہوئی دھائی دیتی ہے اور یہ بھول جاتی ہے کہ اس انجوائمنٹ میں نقصان ہمارا ہی ہو رہا ہے۔ اگر ہم سب ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے کسی بڑے واقعہ کے رونما ہونے سے پہلے ہی اپنے چاند جیسے اور پھولوں جیسے نوجوانوں کی دہشت گردی کی کاروائیوں کی نشاندہی کریں تو ہمارے ان نوجوانوں کی زندگی کے ساتھ ساتھ ہزاروں دوسرے بے گناہوں کی زندگیاں بھی بچ سکتی ہیں۔ یہ ایک خوش آئند بات ہے کہ ایسی مثال ہماری کمیونٹی میں تقریبا پہلی مرتبہ کینڈامیں نظر آئی ہے جس سے دنیا ایک شاید بہت بڑے دہشت گردی کے واقعہ سے بچ گئی ہے۔ بوسٹن کے واقعہ کے فوری بعد کینیڈا کے جن مسلم نوجوانوں کو کینیڈا اور نیویارک کے درمیان چلنے والی ٹرینوں کو تباہ کرنے کی سازش کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے ان کی اطلاع ایک مقامی امام نے دی تھی۔ میری نظر میں وہ امام نہ صرف ہمارے لئے ایک اچھی مثال ہیں بلکہ انتہائی قابل تحسین بھی ہیں ۔ اگر برطانیہ و یورپ میں بھی ایسی مثالیں ہماری کمیونٹی میں سامنے آئیں تو اس سے ہماری غیر انتہا پسند کمیونٹی کا تشخص بہتر ہو سکتا ہے مگر افسوس کہ ہماری کمیونٹی میں تو زیادہ تر اس دور اندیش امام کو ایجنسیوں کا آلہ کار کہہ کر گالی دی جائے گی۔
خدا کا شکر ہے کہ برطانیہ میں طویل عرصے سے کوئی ایسا وقعہ رونما نہیں ہوا ، اولمپکس اور میراتھن جیسی عظیم تقریبات بھی خیریت سے گزر گئیں ۔ آج کل ہماری برطانیہ میں اکثریت اس مسئلے پر کچھ پُر سکون سی دکھائی دے رہی ہے ۔ میری دعا ہے کہ اللہ یہ سکون برقرار رکھے مگر یاد رکھنا چاہئے کہ یہ سکون محض دعاؤں سے زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتا۔ اس سے پہلے کہ کوئی بڑا واقعہ یہاں بھی رونما ہو ہماری کمئونٹی کو اپنا مائنڈ سیٹ تبدیل کرنے کی ضرورت ہے ۔ افسوس کی بات ہے کہ وہ اپنے بچوں کو دہشت گردی اور انتہا پسندی کی دلدل میں گرتا ہوا دیکھتے ہیں تو اسلام کے نام پر ان کی آنکھوں کے آگے کوئی مضبوط پردہ آجاتا ہے اگر کوئی اڑوسی پڑوسی یا کوئی عزیز ان کی توجہ اس جانب مبذول کرانے کی کوشش بھی کرے تو وہ اسے اپنی خفت سجھتے ہوئے یہ کہہ کر پردہ ڈال دیتے ہیں کہ وہ خوش ہیں کہ ان کا بچہ اچھا مسلمان بن گیا ہے۔ وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ ایک نارمل مسلمان نوجوان اور ان میں کتنا فرق ہے۔ اس کی ایک وجہ شاید یہ بھی ہے کہ ہمارے اکثر والدین قدامت پسند ہیں اور بچوں کو نارمل ویسٹرن لائف سے بھی دور رکھنا چاہتے ہیں ۔ بچے اگر پارک میں سیر کرنے کے لئے
جانا چاہتے ہیں تو یہ قدامت پسند والدین کی نظر میں آوارہ گردی ہے۔ اگر ان کے بچے فلم دیکھنے جانا چاہتے ہیں تو یہ ان کے لئے گناہ ہے اگر وہ کسی کنسرٹ میں جانا چاہتے ہیں تو اس کو بے حیائی قرار دیا جاتا ہے اگر وہ پاکستان یا سعودی عرب کے علاوہ کہیں جانا چاہتے ہیں تو اسے فضول خرچی قرار دے کر روک دیا جاتا ہے۔ اگر بچے اپنے 24 گھنٹے مسجد میں روزانہ لگا دیں تو قدامت پسند والدین بہت خوش ہوتے ہیں اور یہ بات بھول جاتے ہیں کہ ایک نارمل مسلان ایسا کرنے کا پابند ہر گز نہیں ۔بوسٹن کے بم دھماکوں میں ملوث بڑا بھائی تامرلن بھی سات جولائی لندن انڈر گراؤنڈ دھماکوں کے ملزم صدیق خان کی طرح شادی شدہ اور بچے کا باپ تھا اس نے داغستان اور چیچنیا کا دورہ کرنے کے بعد اچانک زندگی کی کئی سرگرمیاں چھوڑ دیں اور وہ پڑھائی سمیت سب کچھ چھوڑ کریو ٹیوب پر قائم مبینہ طور پر دہشت گردی اور انتہا پسندی کو ہوا دینے والے مذہبی چینل دیکھنے میں دن رات گزارنے لگا۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ اچانک تبدیلی اس کے گھر والوں کے لئے صدیق خان کے گھر والوں کی طرح پریشانی کا باعث کیوں نہ بنی اس کے والد نے اس وقت خود ڈنڈا اٹھا کراپنے فرشتوں جیسے بیٹے کے اندر کے شیطان کا سر کیوں نہیں توڑا ؟ اس سوال کا ایک ہی جواب ہے کہ جب تک ایسے مسلمان اپنا مائنڈ سیٹ نہیں توڑتے اور اپنے بچوں کو بچانے کے لئے خود آگے نہیں بڑھتے ایف آئی اے سمیت دنیا کی بڑی انٹیلی جنس ایجنسیاں اس سلسلے میں کامیاب نہیں ہوں گی۔ ہم نے اگر ان پر ہنسنے کے سوا کچھ نہ کیا تو یہ ان کی ناکامی نہیں بلکہ یہ ہمارے بچوں کی ناکامی ہو گی، ہماری ناکامی ہو گی۔


مکمل خبر پڑھیں