| |
Home Page
منگل5؍ جمادی الاوّل 1439ھ 23 ؍ جنوری2018ء
January 12, 2018 | 12:11 pm

فضاؤں کو مسخر کرنے والی پاکستانی خاتون کمرشل پائلٹ

Pakistani Female Comerical Pilot

Pakistani Female Comerical Pilot

پاکستانی معاشرے میں اب خواتین اپنی ہمت کے بَل پر ہر میدان میں آگے آ رہی ہیں، 22سالہ پاکستانی کمرشل پائلٹ ایمن عامر اس کی ایک روشن مثال ہیں، ایمن عامر کا تعلق پاکستان کے شمالی علاقے اسکردو کے ایک چھوٹےسے گاؤں سے ہے۔

ایمن کہتی ہیں کہ جہاں لوگ ایک گاڑی چلانے والی خاتون کو عجیب نظروں سے دیکھتے ہیں وہاں جہاز اڑانے کے خواب کو پایہٴ تکمیل تک پہنچانا آسان نہیں تھا۔ جرمن میڈیا سے گفتگو میں ایمن نے کہا کہ جب بچپن میں اسکول کی طرف سے ایئر فورس بیس کا دورہ کرایا جاتا تھا تو وہ اکثر سوچتی تھیں کہ ایک دن شاید وہ بھی جہاز اڑا سکیں گی، وہیں سے ان کے دل میں فضاؤں کو تسخیر کرنے کی خواہش شدید ہوتی گئی۔

ایمن نے بتایا کہ جیسے جیسے وہ بڑی ہوتی گئیں آسمانوں کو چھونے کی خواہش جنون بنتی گئی، آخر انہوں نے یہ جان لیا کہ وہ مستقبل میں صرف پائلٹ بننا چاہتی ہیں، وہ پاکستان کی ایئر فورس میں بطور فائٹر پائلٹ شامل ہونا چاہتی تھیں لیکن جس سال انہوں نے انٹر میڈیٹ کیا اس سال پاکستانی فضائیہ میں انٹری ٹیسٹ صرف مرد حضرات کیلئے متعارف کرائے گئے تھے۔

ایمن کے بقول اس بات نے انہیں بہت مایوس کیا اور انہیں پہلی بار محسوس ہوا کہ شاید وہ اس لیے جہاز نہیں اڑا پائیں گی کیونکہ وہ ایک لڑکی ہیں، ایمن کی والدہ انہیں ڈاکٹر بنانا چاہتی تھیں۔

ایمن بتاتی ہیں کہ ’’مجھ میں فضاؤں کو تسخیر کرنے کی لگن اتنی زیادہ تھی کہ میں نے اپنے والد سے پوچھا کہ کیا وہ مجھے کمرشل پائلٹ کی ٹریننگ دلوا سکتے ہیں؟ نجی طور پر پائلٹ بننا بہت مہنگا ہوتا ہے اور میں اپنے والدین پر کوئی بوجھ بھی نہیں ڈالنا چاہتی تھی۔‘‘

ایمن کے والد نے اُن کا ساتھ دیا اور وہ اپنا خواب پورا کرنے جون 2ہزار15میں اسلام آباد آ گئیں جہاں انہوں نے اسلام آباد فلائنگ کلب میں داخلہ لے لیا اور آج ایمن ایک کمرشل پائلٹ ہیں۔ وہ گلگت بلتستان کے علاقے سے تعلق رکھنے والی پہلی بلتی خاتون پائلٹ بھی ہیں۔

ایمن کہتی ہیں کہ ان کے علاقے کے لوگوں کیلئے ایک لڑکی کا جہاز اڑانا بہت عجیب بات تھی کیونکہ انہوں نے پہلے کبھی یہ نہیں دیکھا تھا، ایمن کے لیے لوگوں کو یہ سمجھانا ایک بڑا چیلنج تھا کہ فلائنگ کا شعبہ لڑکیوں کے لئے بُرا شعبہ نہیں۔

آغاز میں تو ایمن کے علاقے کے لوگوں نے اُن کے پائلٹ بننے کے فیصلے کو اچھی نظر سے نہیں دیکھا لیکن اب وہ اس بات کو قبول کر رہے ہیں۔