• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سابق برطانوی فوجی جوئے کی لت کا زیادہ شکارہوتے ہیں

لندن (پی اے) ایک نئی سٹڈی میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سابق برطانوی فوجی جوئے کی لت کا عام لوگوں کے مقابلے میں 11 گنا زیادہ شکار ہوتے ہیں۔ بی ایم جے ملٹری ہیلتھ نامی جریدے میں شائع ہونے والی ریسرچ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ قمار بازی عوامی صحت کا بڑھتاہوا مسئلہ ہے اور یہ ظاہر ہوا ہے کہ سابق فوجیوں کے کرمنل جسٹس سروسز سے زیادہ رابطے ہیں اور وہ زیادہ وقت ضائع کرتے ہیں اور زیادہ فائدہ حاصل کرتے ہیں اور دوسروں کے مقابلے میں زیادہ مقروض رہتے ہیں۔ اس سٹڈی کے دوران 2,185 افراد کو ایک سوالنامہ دیا گیا، ان میں سے 1,037 سابق فوجی اور 1,148 عام آدمی تھے، اس سٹڈی میں شامل افراد کی اکثریت 30 سے 39 تک عمر کے مردوں پر مشتمل تھی، 40-50 فیصد شادی شدہ تھے اور ان میں سے دو تہائی ملازمت کر رہے تھے۔ سوالنامے میں ذہنی صحت، صحت سے ملحق طرز زندگی، ہیلتھ سروس سے استفادہ اور بینی فٹس اور قرض کے حوالے سے سوال تھے۔ اگر کوئی کہتا تھا کہ وہ جوا کھیلتا ہے تو اسے جوئے کی لت کے مسائل کے بارے میں ایک انڈیکس پر کرنا پڑتا تھا، جس میں زیرو کے معنی کوئی مسئلہ نہیں اور 8 یا اس سے زیادہ سکور کے معنی جوئے کے مسائل کا ظاہر ہونا تھا ،مجموعی طورپر بیشتر سابق فوجی یعنی 43 فیصد جوئے کی لت کا شکار ثابت ہوئے جبکہ ان کے مقابلے میں عام لوگوں میں صرف 6.5 فیصد جوئے کی لت کا شکار نکلے۔ اگرچہ 67 فیصد عام افراد بھی جوا کھیلتے تھے لیکن انھیں جوئے کی لت نہیں تھی جبکہ جوئے کی لت کا شکار نہ ہونے والے سابق فوجیوں کی شرح 38 فیصد تھی، سابق فوجی عام طورپر دیگر لوگوں کے مقابلے میں ہیلتھ سروسز سے زیادہ استفادہ کرتے ہیں جس میں ہسپتال میں داخل رہنا، جی پیز سے ملاقاتیں اور سوشل ورکرز سے رابطے شامل ہیں اور انھیں جوئے اور شراب کی لت ترک کرنے اور علاج کی سہولتوں کے غلط استعمال سے گریز کیلئے زیادہ سپورٹ فراہم کی جاتی ہے۔ ریسرچز، جن میں کوئنز یونیورسٹی بلفاسٹ اور سوان سی یونیورسٹی کے لوگ شامل تھے، کا کہنا تھا کہ اب قمار بازی سے متعلق نقصانات کا اندازہ لگانے کیلئے سابق فوجیوں کی اسکریننگ کا ایک اچھا راستہ مل گیا ہے۔
یورپ سے سے مزید