• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
برطانوی بریسٹ کینسر سرجن، ڈاکٹر لزاوری اورڈن

’’میں بریسٹ کینسر سرجن تھی ،’’تھی ‘‘کا لفظ لکھتے ہوئے میرےجسم کے ساتھ میرا قلم بھی کانپ رہا ہے ۔میرے جاننے والوں کو بہت اچھی طر ح معلوم ہے کہ میں کام یاب سرجن تھی ۔اُمید تھی کہ 20 برس بہ حیثیت سرجن کام کروںگی لیکن صرف دوسال کام کرسکی ۔بریسٹ سے متاثرہ خواتین کو مشورہ دیتے دیتے میں خود اُن مشوروں کو اپنے پر اپلائی کرنے لگی ‘‘یہ میں بر طانیہ کی بریسٹ کینسر سرجن 43سالہ ڈاکٹر لزاوری اورڈن،جو صرف دو سال بہ حیثیت سرجن کا م کرسکیں ،پھر ملازمت کو یوں خیر باد کہنا پڑا کہ خود بریسٹ کینسر سے دو چار ہوگئیں ۔

اپنے بارے میں انہوں نے برطانوی نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ ،میں خواتین کو مشورے دیتی تھی کہ آپ خود اپنا چیک اپ کیسے کرسکتی ہیں۔بریسٹ کینسر کی علامات کیا ہیں ،اگر کوئی بھی علامت محسوس کریں تو فوراً ڈاکٹر سےرجوع کریں ۔بہت سی خواتین کی طر ح ایک دن میں نے بھی اپنے ’’پستان ‘‘چیک کیے تو مجھے گڑ بڑ محسوس ہوئی ۔سوچا ،مجھے تو بریسٹ کینسر نہیں ہو سکتا ،کیوں کہ عموماً کم ڈاکٹروں کو وہ بیماری ہوتی ہے ،جس میں خود اسپیشلائز کرچکے ہوتے ہیں ،لیکن یہ اپنے آپ کو دھوکا دینا تھا ،ایسا ہوگیا تھا ۔ایک دن میں نے محسوس کیا کہ میرے ’’پستان ‘‘ میں کچھ مزید گڑ بڑ ہوگئی ہے۔چیک کیا تو مجھے چند گھٹلیاں محسوس ہوئیں لیکن چیک اپ کے بعد پتہ چلا کہ یہ سسٹ یا جھلیا ں ہیں۔ ،کینسر نہیں ہے ۔

میموگرام میں بھی پستان صحت مند نظر آئے تھے۔لیکن کچھ عرصے بعد جب ایک اور گلٹی بنی تو میری والدہ نےا سکین کرانےپر اصرار کیا،سو میں نےاسکین کرایا، رپورٹ دیکھ کر پتہ چل گیا کہ مجھے کینسر ہوگیا ہے، اب شاید کیمو کی ضرورت پڑے ۔یہ 2015ء کی بات ہے ۔ یہ سوچ کرپہلے تو وہ خوفزدہ ہو گئی اور دماغ میں بہت سے سوالات دوڑنے لگے۔ مثلا ًمیں کتنی (معلومات) اپنے شوہر اور والدین کو بتا سکتی ہوں،صرف مریض بن کر کتنی معلومات روک سکتی ہوں۔ خود مرض میں مبتلا ہونے کا تجربہ کیسا ہوتا ہے۔

اس کا اندازہ اس وقت ہوا ۔مجھے یہ معلوم تھا کہ کسی کو یہ کیسے بتایا جاتا ہے کہ اسے بریسٹ کینسر ہے۔لیکن یہ معلوم نہیں تھا کہ اسے خاموشی سے برداشت کرتے، آنسوؤں کو روکتے، کلینک سے نکل کر اسپتال کے برآمدے سے ہوتے ہوئے کار پارک تک پہنچنا اور زور سے چیخنا کیا ہوتا ہے۔ میرے شوہر جو خود بھی کنسلٹنٹ سرجن ہیں، میں نے اُن سے مشورہ کر کے اپنی بیماری کو ٹوئٹر پر اپنے فولوورز کو بتانے کا فیصلہ کیا، اور پھرسوشل میڈیا میری لائف لائن بن گیا ۔مجھے لوگوں کے پیغامات سے بہت سہارا ملا۔ 

ڈاکٹر ہونے کے باوجودمریضوں سے ہی مجھے پتہ چلا کہ اس بیماری کا مقابلہ کس طرح کرنا ہوتا ہے۔سوشل میڈیا کے ذریعے ہی میرا رابطہ طب کے شعبے سے تعلق رکھنے والے ان افراد سے ہوا جو خود کینسر میں مبتلا ہیں۔ میں نے بیماری میں مبتلا شعبہ طب سے منسلک افراد کے لیے ایک واٹس ایپ گروپ بنایا۔اب ہم سب رابطے میں رہتے ہیں ۔کینسر کے پہلے حملے کے بعد ایک دن میں اُس اسپتال گئی،جہاں میں کام کرتی تھی۔اُس وقت یہ اندازہ نہیں تھا کہ ایسا کرنا جذباتی طور پر کتنا مشکل ہو سکتا ہے۔سوچتی تھیں کہ کینسر کے بعد میں لوگوں کی مختلف طریقے سے مدد کروں گی۔

لیکن یہ میرے ساتھ آج تک ہونے والی سب سے مشکل وقت ثابت ہوا۔جب آپ ایک عورت کو یہ بری خبر سناتے ہیں کہ اسے بریسٹ کینسر ہے، تو یہ عام حالات میں بھی ایک مشکل امرہوتا ہے ۔اُس وقت کتنی بیتابی سے چاہتے ہیں کہ کسی ایسے شخص سے رابطہ کریں جو اس بیماری سے دوچار ہیں لیکن میں ایسا نہیں کر سکی۔ وہ سب میرے مریض تھے۔بہرحال میں نے علاج کرایا ۔سب کچھ ٹھیک ہوگیا کینسر ختم ہوگیا تھا لیکن صرف تین سال بعد یعنی 2018 ءمیں بغل میں کینسر دوبارہ لوٹ آیا، اس کا اس وقت پتہ چلا جب اپنے ری کنسٹریکٹڈ بریسٹ کو ختم کروانے کے لیے اسکین کروانے گئی تھی۔ اس کی وجہ سے کافی تکلیف کا سامنا تھا۔بعدازاں دوسری مرتبہ تھراپی کروانا پڑی، جو کہ بہت کم ہی ہوتا ہے۔ 

مجھے بتایا گیا کہ اس کے بعد شاید میں اپنا بازو صحیح طریقے سے نہ ہلا سکوں، لیکن سرجری نہیں کرواتی تو حالات اس سے بھی برے ہو سکتے تھے۔بہرحال دوسری سرجری کے کچھ عرصہ بعد میں نے فیصلہ کیا کہ اب بطور سرجن میرا کیریئر ختم ہوگیا ہے۔ اب اس پیشے کو ترک کر دوں گی۔سو میں نے کر دیا ۔2015ء سے اسے جھیل رہی ہوں ۔جب تک زندگی ہے ،زندہ دلی کے ساتھ زندہ رہوں گی ۔