• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بنکوںسے نکالی جانے ولای رقم کا اوسط 80 پونڈ ہوگیا، کیش مشینوں کے استعمال میں کمی

لندن(پی اے ) بنکوں سے نکالی جانے والی رقم کا اوسط بڑھ کر 80پونڈ ہوگیا۔ لوگ اے ٹی ایمز سے زیادہ رقم نکال رہے ہیں اور گذشتہ 2سال کے دوران10پونڈ سے زائد اضافے کے ساتھ اوسط80پونڈ سے کچھ ہی کم ہے۔ تاہم لوگ پہلے کے مقابلے میں کیش مشینیں 40فیصد کم استعمال کررہے ہیں اورایک ماہ سے کم عرصے میں 44پونڈ نکال رہے ہیں کیش مشینیں نیٹ ورک لنک نے کہا ہے کہ 2019 کے مقابلے میں نکالی جانے والی رقم تقریباً100ملین یومیہ کم ہیں، نیٹ ورک کے ہیڈ آف فنانشل انکلوژن نک کوئن کووڈ سےڈجیٹل کو سوئچ کو ٹربو چارجڈ کردیا ہے وبا سے قبل برطانیہ میں ہر بالغ فرد اوسطاً ایک ماہ میں تین مرتبہ کیش مشین جاتا تھا اوراوسط 66اعشاریہ 99پونڈ تھا اور اب یہ 78اعشاریہ 54پونڈ ہوگیا ہے بہرحال کورونا وائرس کے بحران کے آغاز کے بعد کیش مشینوں پر جان ایک ماہ میں دو مرتبہ سے کم ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ہر ماہ اوسط فی فرد 44پونڈ کم ہوکر 200.97سے 157.08پونڈ رہ گیا ہے لنک اے ٹی ایم سے نکالی جانے والی رقم کے مجموعی قدر فی ہفتہ ایک اعشاریہ6بلین پونڈ ہے جو 2019 میں تقریباً2اعشاریہ 2بلین پونڈ تھی۔ دریں اثنا ایک کانٹیکٹ لیس پر جو رقم لوگ خرچ کرسکتے ہیں وہ اس ماہ کے شروع میں بڑھ کر 100پونڈ ہوگئی۔ اپریل 2020 میں یہ بڑھ کر 45پونڈ تک پہنچی تھی نک کوئن نے کہا کہ گرچہ ہم تقریباً100ملین پونڈ یومیہ سے کم رقم نکال رہے ہیں لاکھوں افراد اب بھی کیش پر انحصار کرتے ہیں خاص طور پر ملک کے سب سے محروم علاقوں میں دار و مدار کیش پر ہے اور اس لئے یہ بات اہم ہے کہ ہم ملک بھر میں کیش تک رسائی کو تحفظ دیں۔ فنانشل کنٹرکٹ اتھارٹی کے تازہ ترین فنانشل لائیوز سروے کے مطابق روزانہ5ملین سے زائد افراد کیش پر انحصار کرتے ہیں لنک کے نئے اعداد و شمار کے مطابق ایڈنبرا اور لندن کے دولت مند حصوں میں کیش مشین کے استعمال میں 60فیصد کمی ہوئی ہے تاہم لیورپول ، بریڈ فورڈ اور برمنگھم کیش پر انحصار بدستور زیادہ ہے جہاں اسے ٹی ایم ک استعمال نمایاں طورپر کم ہے لنک نے کہا ہے کہ اس نے اس سال 4 سو سے زائد کمیونٹیز سے سنا ہے کہ وہ کیش تک بہتر رسائی کی خواہشمند ہیں لنک نے ان کی درخواستوں پر ملک بھر میں 70 سے زائد مشینیں لگائی ہیں اور مزید 30ان علاقوں میں لگائی ہیں جہاں کیش تک رسائی کا فقدان ہے۔ اس نے کہا ہے کہ وہ چارج کے بغیر کیش تک رسائی میں مشکل ہونے پر بات کریں یہ بات اہم ہے کہ ہم ملک بھر میں کیش تک رسائی کو تحفظ دینا جاری رکھیں لنک نے کہا ہے کہ کیش کے استعمال پر اے ٹی ایمز کی تعداد میں کمی نہیں آئی ہے وبا کے آغاز سے لے کر اب تک فری ٹویوز اے ٹی امیز کی تعداد میں 9فیصد کمی آئی ہے اور ان کی تعداد45ہزار سے 41ہزار رہ گئی ہے۔ جولائی میں فنانشل کنٹرکٹ اتھارٹی نے وارننگ دی تھی کہ دیہی علاقوں کے لوگ فری آف چارج رقم جمع کرنے اور نکالنے کے لئے مزید سفر کررہے ہیں سٹی واچ ڈوگ نے کہا ہے کہ تقریباً ہر شہری علاقوں کا فرد بنک ، بلڈنگ سوسائٹی، پوسٹ آفس اے ٹی ایم سے اپنے گھر کے دو کلو میٹر کے اندر رسائی رکھتا ہے تاہم دیہی آبادی کا صرف تین چوتھائی حصہ یہ رسائی رکھتا ہے۔ اور وہ نوٹوں اور سکوں پر انحصار کرنے والے لوگوں کے لئے یہ ضمانت فراہم کرنے پر غور کررہے ہیں۔ چیرٹی ایج یوکے نے کہا ہے کہ لوگ بالکل اسی طرح کیش تک رسائی کے خواہشمند ہیں جس طرح وہ پانی ، بجلی اور پوسٹ تک رسائی رکھتے ہیں اس کا کہنا ہے کہ 65سال اور اس سے زائد عمر کے تقریباً2اعشاریہ 4ملین افراد اپنی روز مرہ زندگی میں کیش پر انحصار کرتے ہیں، چیرٹی نے وارننگ دی ہے کہ نوٹوں اور سکوں تک رسائی نہ رکھنے کے باعث بہت سارے لوگ معاشرے سے باہر رہ جائیں گے۔ 
یورپ سے سے مزید