• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بی آر آئی کے مقابلے میں امریکا کا بی تھری ڈبلیو منصوبہ آغاز سے قبل ناکام؟

کراچی (نیوز ڈیسک) امریکا نے چین کے بیلٹ اینڈ روڈ اینیشیٹیو (بی آر آئی) کا مقابلہ کرنے کیلئے جی سیون ممالک کے ساتھ مل کر ایک نیا انفرا اسٹرکچر منصوبہ B3W (بلڈ بیک بیٹر ورلڈ) شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ میڈیا کے مطابق، اس پروجیکٹ کا مقصد کورونا کے بعد کی دنیا میں امریکا اپنی دھاک بٹھانا چاہتا ہے۔ 

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ خالصتاً ایک سیاسی چال ہے جس کا مقصد 8؍ سال سے جاری چائنیز منصوبے بی آر آئی کے مقابلے میں ایک نیا بین الاقوامی انفرا اسٹرکچر پروجیکٹ شروع کرنا اور صدر جو بائیڈن کی چال ہے جس کے تحت امریکا ملکی انفرا اسٹرکچر کے اخراجات میں تسلسل لانا چاہتا ہے۔ 

تاہم، اب ماہرین کا کہنا ہے کہ مالی لحاظ سے امریکا کا یہ پروجیکٹ قابل عمل نہیں ہے۔ ماہرین نے امریکی منصوبے کے حوالے سے بتایا ہے کہ اس پروجیکٹ کو مکمل کرنے کیلئے بہت بڑی رقم درکار ہوگی کیونکہ یہ صرف ایک پروجیکٹ نہیں بلکہ اس کے ساتھ امریکا اور اس کی سرپرستی میں جی سیون ممالک کے زائم کی تکمیل بھی جڑی ہے کیونکہ پروجیکٹ کے مقصد چین کا مقابلہ کرنا ہے۔ 

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، دنیا بھر میں جنوری تک امریکا پانچ سے دس بڑے انفرا اسٹرکچر کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کرنا چاہتا ہے۔ اُن میں سے 10؍ پروجیکٹس کی نشاندہی سینیگال اور گھانا میں اُس وقت ہوئی جب صدر جو بائیڈن کے ڈپٹی نیشنل سیکورٹی ایڈوائزر دلیپ سنگھ کی زیر قیادت ایک امریکی وفد نے ان ممالک کا دورہ کیا۔ 

اسی طرح کے ایک اور وفد نے اکتوبر میں ایکواڈور، پاناما اور کولمبیا کا دورہ کیا تھا جبکہ اسی پروجیکٹ کے تحت امریکی حکام کا آئندہ دورہ ایشیائی ممالک کی طرف ہوگا۔ 

اب تک یہ معلوم نہیں ہو پایا کہ بی تھری ڈبلیو کے تحت شروع ہونے والے پروجیکٹس کیلئے ابتدائی طور پر کتنی رقم درکار ہوگی۔ وسیع تر جی سیون پروگرام کے تحت شروع کیے گئے بی تھری ڈبلیو اینیشیٹیو کا مقصد 2035ء تک 40؍ کھرب ڈالرز مالیت سے تیار ہونے والے چائنیز بی آر آئی پروجیکٹ کا گھیرا تنگ کرنا ہے۔ 

چائنیز اکیڈمی آف سوشل سائنسنز بیجنگ کے ماہر گائو لنگیون نے گلوبل ٹائمز کو بتایا کہ امریکا کی زیر قیادت ایسے کسی بھی پروجیکٹ کے نتیجے میں جی سیون کے کئی ممالک کا دیوالیہ نکل جائے گا۔ 

جون میں وائٹ ہائوس کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ بی تھری ڈبلیو پروجیکٹ کے تحت ماحولیات، صحت، ہیلتھ سیکورٹی، ڈیجیٹل سیکورٹی، صنفی مساوات اور مساوات کے شعبوں میں کام کیا جائے گا اور اس مقصد کیلئے نجی شعبے کو متحرک کیا جائے گا جبکہ ترقیاتی مالی اداروں سے بھی رقوم حاصل کی جائیں گی۔ 

جغرافیائی لحاظ سے اس پروجیکٹ میں لاطینی امریکا، کیریبین، افریقہ، انڈو پیسفک ریجن کو شامل کرنے کا ارادہ ظاہر کیا گیا تھا۔ بائیڈن انتظامیہ نے ابتدائی طور پر ان منصوبہ جات کو شروع کرنے کیلئے 1.2؍ کھرب ڈالرز کے انفرا اسٹرکچر بل کا مطالبہ کیا ہے جس پر 8؍ سال میں کام ہوگا۔ بل پر بحث کے دوران یہ بات سامنے آئی تھی کہ منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے 40؍ کھرب ڈالرز درکار ہوں گے اور اتنی بڑی رقم کا حصول فی الحال ممکن نہیں۔ 

چائنیز اکیڈمی آف سوشل سائنسز بیجنگ کے پروفیسر لیو ژیانگ کہتے ہیں کہ عالمی سطح پر کامیاب انفرا اسٹرکچر کنسٹرکشن منصوبے کیلئے تین چیزیں درکار ہیں: پائیدار اور بھاری فنڈنگ، غیر متزلزل عزم اور منصوبے میں شامل ممالک (شراکت داروں) کو مساوی بنیادوں پر شامل کرکے ان کا احترام کرنا۔ امریکا کے پاس یہ تینوں چیزیں نہیں ہیں، امریکا صرف بول سکتا ہے یا پھر اچھی کہانی سنا سکتا ہے۔

اہم خبریں سے مزید