• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

یہ بات وسیع پیمانے پر تسلیم کی جاتی ہے کہ عالمی سطح پر ریئل اسٹیٹ انڈسٹری کو اپنے کام کرنے کے طور طریقوں کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ گزشتہ 50سال کے دوران اس صنعت کی پیداواری صلاحیت میں 19 فیصد کمی آئی ہے جبکہ اس عرصہ میں دیگر تمام صنعتوں کی اوسط پیداوار میں 153 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ 

اس صنعت کی پیداواری صلاحیت میں ایک ایسے دور میں کمی دیکھی گئی ہے، جب اس کی خدمات کی مانگ میں تیزی سے اضافہ ہو ا ہے۔ خاص طور پر، جب زیادہ لوگ دیہی علاقوں سے شہری علاقوں میں منتقل ہو رہے ہیں۔ اندازہ ہے کہ 2050ء تک مزید 2.5ارب افراد کو شہری علاقوں میں رہائش کی ضرورت ہوگی۔ دنیا بھر کے شہروں کو قدرتی ماحول پر شہروں کے اثرات سے تحفظ فراہم کرنے کا انتظام کرتے ہوئے ایسی سستی تعمیرات کرنی ہیں، جو نئے رہائشی یونٹس کی طلب کو پورا کرسکیں۔ شہری منصوبہ سازوں کے لیے یہ ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔

گزشتہ دہائی کے دوران، اس صنعت میں بڑے پیمانے پر دستی، الگ الگ اور پیچیدہ ڈیزائن، پروکیورمنٹ اور تعمیراتی عمل کو خودکار بنا کر پیداواریت اور معیار کو بہتر بنانے کے عزائم کے ساتھ، ڈیجیٹل سلوشنز کی ایک وسیع رینج سامنے آئی ہے۔ تعمیراتی ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری تیزی سے بڑھی ہے۔ اعدادوشمار کے مطابق، 2011ء سے 2017ء کے اوائل تک، تعمیراتی صنعت کے لیے ڈیجیٹل سلوشنز میں 10ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی گئی۔

بلڈنگ انفارمیشن ماڈلنگ (BIM) جیسی ٹیکنالوجیز پوری صنعت میں عالمی سطح پر تیزی سے استعمال ہورہی ہیں۔ ان سلوشنز نے ڈیجیٹل سفر کے آغاز کو فعال کیا ہے، لیکن ماہرین کا خیال ہے کہ تعمیراتی صنعت اس سرمایہ کاری سے مزید بہتر طور پر استفادہ کرسکتی ہے۔ 

دیگر صنعتوں نے لاگت میں کمی لاتے ہوئے، تیزی سے بہتر معیار کی مصنوعات کیسے تیار کی ہیں؟ گاڑی سازی، ہوا بازی اور دیگر صنعتی شعبے کئی دہائیوں سے ڈیجیٹل ٹوئن ٹیکنالوجی کے استعمال سے متاثر کن فوائد حاصل کر رہے ہیں۔ 

تعمیر کے معاملے میں، مثال کے طور پر، ایک عمارت کا ڈیجیٹل ٹوئن اس کے مادی ہم منصب کا ڈیجیٹل ورژن ہے۔ ڈیجیٹل ٹوئن اپنے مادی ٹوئن کے طرزِ عمل اور کارکردگی سے میل کھاتا ہے۔ ڈیجیٹل ٹوئنز میں تعمیراتی مواد اسی طرح برتاؤ کرتا ہے، جس طرح وہ مادی ہم منصب میں کرتا ہے۔ ڈیجیٹل عمارتوں کا مختلف منظرناموں کے تحت تجزیہ کیا جا سکتا ہے اور ان کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ 

بنیادی طور پر عمارت کے ڈیزائن کو مکمل طور پر کسی بھی نقص سے پاک کرنے اور تعمیر ہونے سے پہلے اس کی کارکردگی کو مکمل طور پر جانچنے کے لیے ایک ڈیجیٹل ریہرسل انجام دی جاتی ہے۔ ڈیجیٹل ٹوئن ٹیکنالوجی کو ابتدائی طور پر ایرو اسپیس انڈسٹری میں استعمال کیا گیا اور آہستہ آہستہ اسے دوسرے شعبوں میں اپنایا گیا۔

جنرل الیکٹرک نے ڈیجیٹل ٹوئن ٹیکنالوجی کو اپنی مصنوعات کی ڈیزائننگ، مینوفیکچرنگ اور مینٹیننس کے عمل کو تبدیل کرنے کے لیے استعمال کیا ہے، جس میں انجن، پاور جنریشن، تیل و گیس اور میڈیکل اِمیجنگ آلات شامل ہیں۔ ایسا کرنے سے،کمپنی نے دو سال سے بھی کم عرصے میں صارفین میں اپنی کچھ مصنوعات کے حوالے سے اعتماد میں 93تا 99.49فی صد اضافہ کیا ہے، ایک سال سے بھی کم عرصے میں ری ایکٹیو مینٹیننس میں 40فی صد کمی کی ہے اور پیداواری لاگت میں11ملین ڈالر بچائے ہیں۔ 

مثال کے طور پر، جی ای ٹرانسپورٹیشن (اب Wabtec) نےٹِرپ آپٹمائزر بنایا ہے، جو اس کے ’ایوولیوشن لوکوموٹیو‘ کا ڈیجیٹل ٹوئن ہے۔ ڈیجیٹل ٹوئن موسم کی صورتحال، ٹرین کی پٹریوں کی ٹوپوگرافی اور ٹرین کی آمد کے مقررہ وقت کی بنیاد پر ٹرین کی انتہائی مؤثر رفتار اور تیزی کے پروفائل کی نقالی کرتا ہے۔اس کے نتیجے میں کمپنی کو 17فی صد یا سالانہ 32 ہزار گیلن تک فی انجن ایندھن کی بچت ہوتی ہے۔

حالیہ برسوں میں، ریئل اسٹیٹ اور تعمیرات میں ڈیجیٹل ٹوئن کے استعمال میں اضافہ ہوا ہے، جہاں اس ٹیکنالوجی نے متاثر کن فوائد دیئے ہیں۔ آسٹریلیا کی وَن سڈنی ہاربر کے لیے ایک ڈیجیٹل ٹوئن تیار کیا گیا تھا، ڈیجیٹل ٹوئن کی تیاری میں تعمیر کے لیے حتمی طور پر منظورشدہ ڈیزائن دستاویزات، ماڈل، 2Dڈرائنگز، تصریحات اور پراڈکٹ ٹیک ڈیٹا کا استعمال کیا گیا۔ 

ڈیجیٹل ٹوئن کے ذریعے اس کے ڈیزائن اور مجوزہ تعمیراتی عمل میں نقائص کی اس قدر باریک بینی کے ساتھ نشاندہی کی گئی، جو روایتی طریقہ تعمیر کے ذریعے ممکن نہ ہوتا۔ اس میں وقت کی بھی بچت کی گئی ہے۔ اس طرح استعمال ہونے والی ڈیجیٹل ٹوئن نے تعمیراتی لاگت میں لاکھوں ڈالر کی بچت کی ہے اور تعمیراتی مدت کو مہینوں کم کیا ہے، جب کہ تعمیرشدہ عمارتوں کے معیار میں بھی اضافہ کیا ہے۔

ٹیکنالوجی کی واضح کارکردگی کے علاوہ، اس سے بھی زیادہ اہمیت کی بات یہ ہے کہ ڈیجیٹل ٹوئن، تعمیراتی صنعت کو وسیع پیمانے پر ممکنہ حل تلاش کرنے کی بھی اجازت دیتے ہیں، جن پر روایتی طور پر کبھی غور نہیں کیا گیا، اس سے عمارتوں کے معیار اور کارکردگی میں بتدریج بہتری آئے گی۔ مثال کے طور پر، ڈیجیٹل ٹوئن کی پیش گوئی کرنے کی صلاحیت نئے تعمیراتی مواد کی موزونیت کو جانچنے کے لیے استعمال کی جا سکتی ہے۔

ڈیجیٹل ٹوئن ٹیکنالوجی کا استعمال گزشتہ دو عشروں سے جاری ہے، تاہم ریئل اسٹیٹ اور تعمیرات کے شعبہ میں اس کا استعمال حال ہی میں عمل میں آیا ہے۔ اس کی وجہ برسوں سے اس کی لاگت میں آنے والی کمی اور ٹیکنالوجی میں بتدریج بہتری کے ذریعے حاصل ہونے والے حیران کن نتائج ہیں۔

ماہرین کا خیال ہے کہ ڈیجیٹل ٹوئن ٹیکنالوجی تعمیراتی لاگت میں 20 فی صد کمی لاسکتی ہے، جس کے بڑے پیمانے پر سماجی، معاشی اور پائیداری کے حوالے سے فوائد ہیں۔