• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دنیا کے دوسرے زیادہ آبادی والے ملک بھارت میں شرح پیدائش تشویش ناک حد تک کم ہوگئی

کراچی (نیوز ڈیسک) بھارت میں شرح پیدائش تشویش ناک حد تک کم ہو چکی ہے اور شرح اموات کے مقابلے میں شرح پیدائش 2؍ سے کم ہو چکی ہے۔ تازہ ترین سروے میں بتایا گیا ہے کہ یہ شرح ایک ایسی سطح پر جا پہنچی ہے جہاں اتنے زیادہ بچے پیدا نہیں ہو رہے کہ وہ مرنے والوں کی جگہ (Replacement Level) پر آ سکیں۔ اقوام متحدہ نے دنیا بھر کیلئے ایک شرح مقرر کر رکھی ہے جس کے مطابق شرح پیدائش شرح اموات سے زیادہ یعنی 2.1؍ ہونا چاہئے۔ بھارت کی 28؍ ریاستوں اور 8؍ یونین ٹیریٹریز میں صرف 5؍ ریاستیں ایسی ہیں جہاں شرح پیدائش دو سے زیادہ ہے جس سے آبادی کے مسقبل پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔ بھارت کی شرح پیدائش میں اس تشویش ناک کمی کی وجہ مانع حمل اشیاء کا زیادہ استعمال بتایا گیا ہے۔ پورے بھارت میں 2015-16ء میں مانع حمل ادویات اور اشیاء کا استعمال 54؍ فیصد ہوتا تھا جو 2019 تا 2021ء میں بڑھ کر 67؍ فیصد تک جا پہنچا ہے۔ شرح پیدائش میں زبردست کمی ایک طرف، لیکن نئے پیدا ہونے والے بچوں کی دیکھ بھال کی صورتحال بہتر ہوئی ہے جبکہ ملک کے کچھ حصے ایسے بھی ہیں جہاں حفاظتی ٹیکہ جات لگانے کا عمل 62؍ فیصد سے بڑھ کر 76؍ فیصد تک جا پہنچا ہے۔ حتیٰ کہ کچھ ریاستیں ایسی بھی ہیں جہاں 90؍ فیصد تک لوگ اپنے بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگوا رہے ہیں۔ اسی طرح بھارت میں فیملی پلاننگ سروس بھی بہتر ہوئی ہے۔ ضروریات کا خیال نہ رکھے جانے کے واقعات 13؍ فیصد سے کم ہو کر 9؍ فیصد ہو چکے ہیں۔ فی الوقت بھارت (1.34؍ ارب افراد) دنیا میں چین (1.39؍ ارب افراد) کے بعد دوسرا سب سے زیادہ آبادی والا ملک ہے۔

دنیا بھر سے سے مزید