• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

نجی بجلی گھروں کی گیس بند، سندھ میں بحران سنگین، سوئی سدرن کو سپلائی کے مسائل، سردیوں میں ہیٹرز اور گیزر کی وجہ سے شارٹ فال ہے، حماد

سردیوں میں ہیٹرز اور گیزر کی وجہ سے شارٹ فال ہے، حماد


کراچی ،لاہور، اسلام آباد ( اسٹاف رپورٹر، جنگ نیوز، خبرایجنسی) نجی بجلی گھروں کی گیس بند ،سندھ میں بحران سنگین، سوئی سدرن کو سپلائی کے مسائل ہیں،وفاقی وزیر توانائی حماد اظہر نے کہا ہے کہ سردیوں میں ہیٹرز اور گیزرکیوجہ سے شارٹ فال ہے، پوری دنیا میں گیس کی قلت،ملک میں بحران کی وجہ دوسرکٹس کا چلنا ہے۔

پاکستان میں 70فیصد صارفین LPG یا متبادل ذرائع استعمال کرتے ہیں، ورچوئل ایل این جی پائپ لائن پر کام اور نئی ٹیکنالوجی کوسلینڈرائزکررہے ہیں، ملکی تاریخ میں ایل این جی کا سب سے کم نرخ پر معاہدہ کیا، 10سال میں کئی سو ارب روپے کا فائدہ ہو گا۔

ادھرسعودیہ سال بھر ماہانہ 10 کروڑ ڈالر کا ادھار تیل 3.8 فیصد مارجن پر دیگا، 3 ارب ڈالر سپورٹ فنڈ پر4 فیصد منافع لے گا، معاہدہ ایک سال کیلئے، بعدمیںبڑھایا بھی جا سکتا، تحریری نوٹس پر72گھنٹے میں قرض واپس بھی لیاجاسکتا، وفاقی کابینہ نے منظوری دیدی۔

تفصیلات کےمطابق سوئی سدرن گیس کمپنی نے گیس کی قلت کے پیش نظر نان ایکسپورٹ جنرل انڈسٹریز کے تمام نجی بجلی گھروں کو گیس سپلائی فوری بند کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

سوئی سدرن گیس کے مطابق سندھ اور بلوچستان کے تمام نان ایکسپورٹ جنرل انڈسٹریز کے نجی بجلی گھروں کو گیس سپلائی فوری بند کردی گئی ہے ، گیس سپلائی معاہدے کے تحت گیس کی فراہمی بند کی جاسکتی ہے۔

کمپنی کے مطابق دسمبر سے فروری تک گیس سپلائی کے مسائل ہوتے ہیں، اس وقت سوئی سدرن گیس کو لائن پیک میں شدید کمی کا سامنا ہے،اس لئےنان ایکسپورٹ نجی بجلی گھروں کو گیس سپلائی اگلے احکامات تک بند رہے گی۔

سوئی سدرن گیس نے مزید بتایا کہ برآمدات کرنے والی صنعتوں کے بجلی گھروں اور فرٹیلائزر سیکٹر کو گیس سپلائی بحال رہے گی۔دوسری جانب وفاقی وزیر توانائی حماد اظہر نےکہاہےکہ سردیوں میں گیس بحران کی وجہ ملک میں اس وقت دو سرکٹ کا چلنا ہے۔

اس وقت پوری دنیا میں گیس شارٹیج ہے، ہم قانونی طورپرلوکل گیس صارفین کسٹمرزسے ایل این جی کی قیمت نہیں لے سکتے اور شارٹ فال کوایل این جی سے مکس کرکے پورا نہیں کرسکتے ورنہ بہت نقصان ہوگا،ہماری حکومت سے پہلے جب سردیوں میں گیس لوڈشیڈنگ ہوتی تھی توایل این جی کا سوال نہیں کیا جاتا تھاآج ہم دگنی ایل این جی آرڈرکررہے ہیں۔

2017میں ایل این جی کےصرف72کارگوآرڈرکیے گئے جبکہ اس سال ہم132کارگوآرڈرکرچکے ،ایل این جی کا ایک کارگوگھریلوصارفین کومنتقل کریں گے تو7ارب40کروڑکا نقصان ہوگا، لوکل گیس میں ہیٹرز،گیزرچلنے کیوجہ سے شارٹ فال آتا ہے ۔

حماد اظہر کا کہنا تھا کہ سوال یہ ہے کہ سردیوں میں گیس بحران آتا کیوں ہے، 30فیصد امپورٹڈ ایل این جی،دوسرا70فیصد لوکل گیس ہوتی ہے، لوکل گیس ہم گھریلوصارفین کوسستی دیتے ہیں۔

وزیر توانائی نے کہا کہ ہم ورچوئل ایل این جی پائپ لائن پرکام کررہے ہیں، ایل این جی کی نئی ٹیکنالوجی کوسلینڈرائزکیا جاتا ہے، یہ ایل پی جی کے سلینڈرسے کافی کم قیمت پردستیاب ہوگی،پاکستان میں لوکل گیس پائپ لائن کا نیٹ ورک بہت پھیلادیا گیا ہے، پاکستان دنیا کا کوئی بہت بڑا ملک نہیں جہاں سے گیس پروڈیوس ہوتی ہے۔

ایران دوسرا بڑا گیس پائپ لائن کا ملک ہے وہاں بھی دیہات میں پائپ گیس کی سہولت نہیں جبکہ پاکستان میں28فیصد گھرانوں کے پاس لوکل گیس کے کنکشن ہیں،سترفیصد صارفین کے پاس لوکل گیس کی سہولت نہیں، سترفیصد صارفین ایل پی جی یا متبادل ذرائع استعمال کرتے ہیں اور اس حوالے سے غلط فہمی کوکلیئرکرنا بہت ضروری ہے۔

ادھر وفاقی کابینہ نے سعودی عرب سے ادھار پر تیل خریداری کا معاہدہ کرنے کی منظوری دے دی،منظوری سرکولیشن سمری کے ذریعے دی گئی،سرکولیشن سمری اکنامک ڈویژن کی جانب سے کابینہ کو بھجوائی گئی،سعودی عرب پاکستان کو ماہانہ 100ملین ڈالرز کا ادھار فیول فراہم کرے گا۔

معاہدے کے متن کے مطابق ادھار پر تیل دینے کا وعدہ وزیراعظم عمران خان کے دورہ سعودی عرب کے دوران ہوا،ذرائع کے مطابق سعودی ولی عہد نے ایک سال تک پاکستان کو ادھار تیل دینے کا وعدہ کیا تھا، پاکستان کو تیل کی ادائیگی کے ساتھ 3اعشاریہ 80فیصد مارجن بھی دینا ہو گا۔ 

معاہدے کے متن کے مطابق معاہدہ ابتدائی طور پر ایک سال کے لیے ہے، جسے بعد میں بڑھایا بھی جا سکتا ہےتاہم سعودی عرب تحریری نوٹس دے کر 72 گھنٹے میں قرض واپس بھی لے سکتا ہے، سعودی عرب 3ارب ڈالر سپورٹ فنڈ پر4 فیصد منافع لے گا۔

وزارت خزانہ،ا سٹیٹ بینک اور ایف بی آر نے پاک سعودی معاہدے کے ڈرافٹ پر اتفاق کیا،اداروں کی جانب سے معاہدے کے ڈرافٹ پر اتفاق ہونے سے سمری منظوری کے لیے کابینہ کو بھجوائی گئی تھی۔ 

اہم خبریں سے مزید