• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اسٹاک مارکیٹ گر گئی، ڈالر مہنگا، ریکارڈ مندی، 2135 پوائنٹس کی کمی، انڈیکس 43234 پر آگیا، سرمایہ کاروں کے 332.27 ارب ڈوب گئے


کراچی، لندن ( اسٹاف رپورٹر، اے ایف پی، مانیٹرنگ نیوز)اسٹاک مارکیٹ گرگئی، ریکارڈ مندی، 2135 پوائنٹس کی کمی، انڈیکس 43234پر آگیا، سرمایہ کاروں کے 332.27ارب ڈوب گئے

انٹربینک میں ڈالر کی قدر 1.2، اوپن مارکیٹ میں 1.3 روپے بڑھ گئی، 177.8 ہوگیا، یورو اور پائونڈ بھی مہنگے، قرضوں میں 23 سو ارب اضافہ ہوگیا،سونا عالمی مارکیٹ میں سستا، پاکستان میں 850 روپے تولہ مہنگا ہوگیا

اومیکرون کے بڑھتے خدشات، تیل کی قیمتیں اور عالمی اسٹاک مارکیٹ گراوٹ کا شکار،عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں 67اعشاریہ59 ڈالرز تک گر کر70ڈالرز فی بیرل پرآئیں،دوسری جانب اوپیک پلس ممالک کا جنوری میں تیل کی پیداوار بڑھانے کا فیصلہ کیاہے۔

تفصیلات کے مطابق ریکارڈ تجارتی خسارے ،افراط زر اور مختلف سیکٹرز کو حاصل سیلز ٹیکس کی چھوٹ ختم کرنے کے ساتھ دیگر منفی خبروں کی وجہ سے جمعرات کو اسٹاک مارکیٹ دن بھر شدید مندی کی لپیٹ میں رہی

مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں نے سرمائے کے انخلاء کے لئے بڑے پیمانے پر فروخت کی جس سے مارکیٹ میں بحران کی کیفیت دیکھنے میں آئی اور ایک موقع پر 100انڈیکس 2282 پوائنٹس کی کمی سے 43087 پوائنٹس تک گر گیا

لیکن اختتام سے پہلے معمولی بہتری سے کے ایس ای100انڈیکس 2134.99 پوائنٹس کی کمی سے 45369.14 پوائنٹس سے کم ہو کر 43234.15 پوائنٹس پر آکر بند ہوا، کے ایس ای 30انڈیکس بھی 877.90پوائنٹس کی کمی سے 17575.86 پوائنٹس سے کم ہو کر 16697.96 پوائنٹس ہو گیا اور آل شیئرز انڈیکس 1324.99 پوائنٹس کی کمی سے 30953.66 پوائنٹس کی کمی سے 29628.67 پوائنٹس پر آگیا

مارکیٹ میں مجموعی طور پر 365 کمپنیوں کے شیئرز کا کاروبار ہوا، 16کمپنیوں کے شیئرز کی قیمت میں اضافہ، 338 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمت میں کمی اور 11کمپنیوں کے شیئرز کی قیمت مستحکم رہی، زبردست مندی سے مارکیٹ کی سرمایہ کاری مالیت 332 ارب 26 کروڑ 74 لاکھ 75ہزار روپے کی کمی سے 7418 ارب 63 کروڑ 11 لاکھ 11ہزار روپے ہو گئی

تاہم فروخت کے دباو کی وجہ سے کاروباری حجم 14 کروڑ 56 لاکھ 83ہزار شیئرز کے اضافے سے 38کروڑ 67 لاکھ 53ہزار شیئرز تک پہنچ گیا ، مارکیٹ میں کاروباری حجم کے لحاظ سے ورلڈ کال،ڈالمین سٹی، بائیکو پیٹرولیم ،یونٹی فوڈ اورجی 3ٹیکنالوجی سر فہرست رہے ، سب سے زیادہ شیئرز کی قیمت یونی لیور فوڈ ، اور شیلڈ کارپوریشن کے شیئرز کی بڑھی جو کہ بالترتیب 1400.00 روپے اور 19.31 روپے فی شیئرز تھی دوسری جانب سب سے زیادہ کمی نیسئلے پاکستان اور رفحان میز کے شیئرز کی قیمت میں ہو ئی جو کہ 171.54 روپے اور 124.00 روپے فی شیئرز تھی۔

دوسری جانب فاریکس ایسوسی ایشن کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق جمعرات کو روپے کے مقابلے پرانٹر بینک میں ڈالر کی قیمت خرید 1.20 روپے کے اضافے سے 175.20 روپے سے بڑھ کر 176.40 روپے اور قیمت فروخت 175.30 روپے سے بڑھ کر 176.50 روپے ہو گئی۔

دوسری جانب اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت خرید 1.30 روپے کے اضافے سے 176.00 روپے سے بڑھ کر 177.30 روپے اور قیمت فروخت 176.50 روپے سے بڑھ کر 177.80 روپے ہو گئی ہے۔

فاریکس رپورٹ کے مطابق یورو کی قیمت خرید ایک روپے کے اضافے سے 197.00 روپے سے بڑھ کر 198.00 روپے اور قیمت فروخت 50پیسے کے اضافے سے 199.50 روپے سے بڑھ کر 200.00 روپے ہو گئی۔

برطانوی پاؤنڈ کی قیمت خرید 1.50 روپے کے اضافے سے 231.50 روپے سے بڑھ کر 233.00 روپے اور قیمت فروخت 2 روپے کے اضافے سے 234.00 روپے سے بڑھ کر 236.00 روپے ہو گئی۔ڈالر بڑھنے سے قرضوں میں 2300ارب کا اضافہ ہوگیا۔

عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت 9ڈالر فی اونس کی کمی سے 1786 ڈالر سے کم ہو کر 1777 ڈالر فی اونس ہو گئی لیکن روپے کے مقابلے پر ڈالر کی قیمت میں اضافے کی وجہ سے مقامی مارکیٹ میں بھی سونے کی قیمت 850 روپے فی تولہ کے اضافے سے ایک لاکھ 23ہزار 650 روپے فی تولہ اور 10گرام سونے کی قیمت 729 روپے کے اضافے سے ایک لاکھ 6ہزار 10 روپے ہو گئی تاہم چاندی کی قیمت 1460 روپے فی تولہ پر مستحکم رہی۔

دوسری جانب اومی کرون کے بڑھتے خدشات کے باعث عالمی تیل مارکیٹ میں غیر یقینی کی صورتحال دیکھی گئی، دن کا آغاز ہوتے ہیں فی بیرل قیمت 67اعشاریہ59 ڈالرز تک گری تاہم بعد میں قیمتیں کچھ سنبھل کر70ڈالرز فی بیرل پرآئیں۔

ادھر عالمی اسٹاک مارکیٹس میں بھی مندی کا رجحان رہا۔ یورو اسٹاکس، لندن، فرانکفرٹ،ٹوکیو، پیرس،شنگھائی کی اسٹاک مارکیٹس مندی کا شکار رہیں۔علاوہ ازیں سعودی عرب سمیت اوپیک پلس ممالک نے جنوری میں تیل کی پیداوار بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ 

اہم خبریں سے مزید