• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

افراط زر کی وجہ سے قیمتوں میں اضافہ، ہر فیملی پر سالانہ 1700 پونڈ کا اضافی بوجھ پڑیگا

لندن(پی اے ) بی بی سی ایک پروگرام میں کی گئی پیشگوئی کے مطابق افراط زر کی وجہ سے قیمتوں میں اضافہ سے اگلے سال ہر فیملی پر سالانہ1,700 پونڈکا اضافی بوجھ پڑے گا،اکنامکسس اور بزنس ریسرچ کے تجزیے کے مطابق کرسمس تک افراط زر میں 4.6 فیصد اضافہ ہوجائے گا۔ اس اضافے کا بنیادی سبب فیول اور انرجی کی قیمتوں میں اضافہ ہے ،تجزیہ کاروں کا کہناہے کہ اشیا کی قیمتوں میںاضافے کا پورے اثرات کاابھی تک پتہ نہیں چلایا جاسکا ہے۔ توقع کی جاتی ہے کہ سپرمارکیٹس کرسمس کے دوران ضروری اشیا کی قیمتوں کو موجودہ سطح پر ہی برقرار رکھنے کی کوشش کریں گی خواہ اس کیلئے انھیں کچھ بوجھ برداشت کرنا پڑے۔تجزیہ کاروں کے مطابق گزشتہ سال دسمبر کے مقابلے میں 2 بچوں والی ایک فیملی کو اب افراط زر کی وجہ سے ہر ہفتے 33.60 پونڈ یعنی سالانہ 1,700 پونڈ زیادہ خر چ کرنا پڑیں گے ،یہ تجزیہ کھانے پینے کی اشیا،ملبوسات اورگھریلو اشیا ،یوٹیلیٹی بلز ،فیول ،بجلی ،ٹرانسپورٹ ،اور تفریحی اخراجات اور قیمتوں کی بنیاد پر کیا گیاہے۔ماہرین کاخیال ہے کہ اگلے سال موسم بہار میں افراط زر میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے جس سے ہر گھر پر دبائو بڑھ جائے گا۔CEBR نے خوراک کی عام اشیا کی رواں سال اور گزشتہ سال کی قیمتوں میں فرق کومدنظر رکھ یہ تجزیہ کیا ہے جس سے ظاہرہوتا ہے کہ ڈیری فارم کی اشیا میں حالیہ مہینوں کے دوران 15 فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔ کرسمس کے موقع پر ابھی تک قیمتوں میں کچھ اضافہ نہیں ہوا ۔ برطانیہ کی سب سے بڑے فوڈ ڈسٹری بیوٹرز بڈ فوڈز کے چیف ایگزیکٹو اینڈریو سیلے کا کہناہے کہ ہم نے اس طرح کی چیلجنگ صورت حال نہیں دیکھی ۔برطانیہ میں زیادہ سبزیاں پیدا کرنے والے ٹی ایچ کلیمنٹس کے کمرشیل ڈائریکٹر رچرڈ مائو برے نے کہا کہ ان کے شعبے کویورپ سے سیزنل ورکرز کی کمی کاسامنا ہے، ہم برطانوی ورکرز کو ترغیب دینے کیلئےورکرز کی اجرت میں اضافہ کررہے ہیں تاہم صرف اجرتوں میں اضافہ ہی قیمتوں میں اضافے کاسبب نہیں بلکہ کھاد،انرجی اور پیکیجنگ کے اخراجات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ حکومت نے سیزنل ورکرز کیلئے 30,000 افراد کوویزے دینے کااعلان کیاہے لیکن فارم مالکان اس کو کافی نہیں قرار دے رہے ہیں ،اسمال بزنس فیڈریشن کے مارٹن مک ٹیگ کا کہنا ہے کہ خریداری کئے بغیر کیش بیک کے حوالے سے یہ اچھی مثال ہے اس کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتاہے کہ ایک شاپنگ کرنے والا آکر کیش نکالتا ہےاور پھر وہیں کھڑے کھڑے غیرضروری خریداریاں کرلیں، جس سے چھوٹے کاروباری لوگوں کو نئے خریدار مل گئےانھوں نے کہا کہ دکانداروں کو کی جانے والی ادائیگیوں میں بینک فیس بھی وصول کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ بینک برانچ بند ہونے کی وجہ سے بینک اس فیس سے محروم رہ جاتے ہیں۔حکومت نے قانون میں تبدیلی کرکے کیش بیک پراجیکٹس کی حمایت کی ہے۔ ایف سی اے کے ایک سروے کے مطابق روزانہ کم وبیش 5 ملین افراد روزانہ کیش پر انحصار کرتے ہیں۔ایف سی اے نے جو مالیاتی اداروں کو ریگولیٹ کرتی ہے متنبہ کیا ہے کہ دیہی علاقوں کے لوگوں کو بلامعاوضہ کیش نکالنے یاجمع کرنے کیلئے کوئی جگہ تلاش کرنے کیلئے زیادہ سفر کرنا پڑے گا۔ ایچ یوکے چیریٹی کاکہنا ہے کہ لوگ بلارکاوٹ کیش تک رسائی چاہتے ہیں۔

یورپ سے سے مزید