• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکی وزیرِخارجہ کی ملالہ یوسفزئی سے ملاقات

نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسف زئی نے امریکی وزیرِ خارجہ انٹونی بلنکن سے ملاقات کی۔

ملالہ نے اس ملاقات کے دوران افغانستان میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد خواتین کے حقوق کی صورتحال کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ’افغانستان اس وقت واحد ملک ہے جہاں لڑکیوں کو ثانوی تعلیم تک رسائی حاصل نہیں ہے اور انہیں پڑھنے سے منع کیا جاتا ہے‘۔

ملالہ نے امریکی وزیرِ خارجہ سے ملاقات کے دوران امریکی صدر بائیڈن کے لیے لکھا گیا ایک افغان لڑکی کا خط بھی پڑھ کر سنایا۔ 

یہ خط سوتودہ نامی 15 سالہ ایک افغان لڑکی نے لکھا تھا۔

اس خط میں لکھا تھا کہ ’یہ اس وقت افغان لڑکیوں کا پیغام ہے: ہم ایک ایسی دنیا دیکھنا چاہتی ہیں جہاں تمام لڑکیوں کو محفوظ اور معیاری تعلیم تک رسائی حاصل ہو‘۔

اس خط میں افغان لڑکیوں کی جانب سے مزید لکھا گیا تھا کہ’ہم امید کرتی ہیں کہ امریکا، اقوام متحدہ کے ساتھ مل کر، اس بات کو یقینی بنانے کے لیے فوری اقدامات کرے گا کہ لڑکیوں کو جلد از جلد ان کے اسکولوں میں واپس جانے کی اجازت دی جائے‘۔

انٹونی بلنکن نے مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹوئٹر پر ملالہ کا شکریہ بھی ادا کیا ہے۔

انہوں نے ملالہ کے ساتھ ہونے والی ملاقات کی ایک تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ’ ان کی ملالہ سے ملاقات ہوئی، جس کی کہانی اور آواز نے ہر جگہ خواتین اور لڑکیوں کو اپنی طاقت اور مقصد میں دلیری سے کھڑے ہونے کی ترغیب دی ہے‘۔ 
















انہوں نے مزید لکھا کہ’ہم نے ایک روشن مستقبل کی تخلیق کے لیے لڑکیوں کی تعلیم کے کردار اور اس سلسلے میں خواتین اور لڑکیوں پر کس طرح سرمایہ کاری کیے جانے کے حوالے سے گفتگو کی‘۔

امریکی وزیرِ خارجہ نے ملالہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے لکھا کہ’ آپ جو کچھ کرتی ہیں اس کے لیےآپ کا شکریہ‘۔

خاص رپورٹ سے مزید