• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
فکر فرد…راجہ اکبردادخان
تین ہفتوں بعد ایک اور برس اپنی زندگی مکمل کر لے گا جس کے بعد 2022ء یہ مقام سنبھال کر دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے، لے گا۔ کورونا وائرس کی وجہ سے اموات میں مسلسل اضافہ، کیریبین اور امریکہ میں کئی طوفانی بارشوں کی تباہ کاریاں، ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت کا ختم ہونا، اسرائیل اور عرب دنیا کے کئی ممالک کے درمیان بڑھتے سفارتی تعلقات اور افغانستان سے نیٹو افواج کا ہنگامی خروج چند ایسے واقعات ہیں جن کی وجہ سے یہ سال لوگوں کی سوچوں کا مرکز بنا رہے گا۔ کورونا وائرس اپنی دوسری برسی منا چکا ہے ،نصف درجن کے قریب ویکسینز اور چند دوسری روک تھام کرنے والی دوائیوں کے سبب کروڑوں لوگوں کی جانیں بچالی گئی ہیں، مزید تحقیق جاری ہے کہ زیادہ موثر ادویات لوگوں تک پہنچ سکیں، دنیا کے بیشتر حصوں میں اموات کی شرح ناقابل قبول حد تک اونچی ہے اور مغربی یورپ کے اکثر ممالک میں پچھلے کچھ عرصہ سے ویکسی نیشن کے خلاف احتجاج ہو رہے ہیں اور اٹلی، جرمنی اور برطانیہ میں لاکھوں لوگ اس وبا کا شکار ہو کر وفات پاگئے، ان ممالک میں پُرتشدد احتجاج سمجھ سے بالاتر ہیں، برطانیہ میں کچھ عرصہ قبل روزانہ کئی سو اموات ایک معمول بن چکا تھا اور جب سے ویکسینز لگنی شروع ہوئی ہیں اموات کی شرح بہت نیچے آگئی ہے، حکومت یہ تمام شواہد ذرائع ابلاغ کے ذریعے لوگوں تک لمحہ با لمحہ پہنچا رہی ہے تاہم لوگوں کا ایک طبقہ ان شواہد کو سچ ماننے سے انکاری ہے، برطانیہ ایک باخبر معاشرہ ہے جہاں کئی درجن اخبارات اور ٹیلیویژن چینلز بھی اگر لوگوں کو مطمئن نہیں کر پا رہے کہ ویکسی نیشن ضروری ہے تو اس سے حکومت کی خراب کارکردگی ثابت ہوتی ہے کہ کوویڈ 19 پر اس کا بیانیہ لوگوں تک نہیں پہنچ پارہا، یا وزراء سے جڑے اسکینڈلز کی وجہ سے لوگوں نے بورس جانسن کی باتوں پر توجہ دینی کم کردی ہے، معتبر اخبارات بشمول The Times اپنی کئی حالیہ اشاعتوں پر بورس جانسن کی قیادت سے متاثر نہیں دکھائی دے رہے، نئے لیبر لیڈر بھی بورس جانسن کی کامیابی کے دبائو سے نکل چکے ہیں اور شیڈو کابینہ کی حالیہ تقرریوں کے بعد وہ زیادہ پُراعتماد دکھائی دے رہے ہیں، حالیہ پولز میں جماعت کی بہتر ہوتی پوزیشن بھی یہ واضح کر رہی ہے کہ جماعت میں اعتماد بحال ہو چکا ہے اور جماعت پارلیمنٹ اور اس کے باہر اقتدار کیلئے تیار نظر آتی ہے، وقت پر اچھی کعارکردگی دینی اور بہتر ہوتے حالات کو اپنے لئے استعمال کر لینا کامیاب افراد اور جماعتوں کی نشاندہی ہے، کوویڈ 19 پر بات کرنے کیلئے اب دونوں جماعتوں کے پاس مواد موجود ہے جب کہ ماضی قریب تک اس موضوع پر صرف ٹوریز کا قبضہ تھا، نئے اعتماد اور جیت کیلئے کوششوں کے اتحاد نے دارالعوام کا نقشہ ہی بدل دیا ہے اور لیبر فرنٹ بینچ حکومتی وزراء کو ٹف ٹائم دے کر جہاں اپنے اقتدار کی راہیں ہموار کر رہا ہے، وہاں ایسی کارکردگی جمہوریت کو بھی مضبوط کر رہی ہے، ختم ہوتے اس سال کی طرح انسان کے اردگرد دیگر لوازمات نے بھی اپنے وقت پر راہ لینی ہے، باقی صرف مولائے قدوس کی ذات نے رہنا ہے، بڑی تعداد کا کورونا اور دیگر آفات کو قیامت کا پہلا مرحلہ کہہ کر ان حوالوں سے آگے تحقیق اور کارکردگی کو رد کر دینا بھی زندگی کا وہ نیا پہلو ہے جو اس سے پہلے کبھی دیکھنے کو نہیں ملا، روایتی عقل و فہم سے کام لے کر ایسی بیماریوں اور طوفانوں سے بچنا ایک چوائس ہے اور کارکردگی کو رد کر دینا دوسرا آپشن ہے، عقلمندی یہی ہے کہ اکثریت کے ساتھ چلتے ہوئے اپنی نائو موجوں کے حوالے کر دیں، ثبوت یہی ہے کہ سائنس درست فیصلے کر رہی ہے جدھر دیکھو دنیا بھر کے سیاستدان اداروں کو مضبوط کرنے کی باتیں کرتے دکھائی دیتے ہیں مگر اقتدار میں آکر وہی لوگ اداروں کو ماتحت بنانے پر تل جاتے ہیں، صدر ٹرمپ انتخاب ہارنے کے تین ماہ بعد تک صدر رہے، صدر بائیڈن کی تقریب حلف برداری تک ڈونلڈ ٹرمپ نے اداروں کو اپنے حق میں استعمال کرنے کی کوشش کی مگر ادارے آئین اور قانون کے مطابق چلتے رہے اور اقتدار منتقل ہو گیا، حلف برداری والے دن اگر ادارے جھک جاتے یا بک جاتے تو دشواریاں پیدا ہوسکتی تھیں، ایسا نہیں ہوا اور آئین اور قانونی بالادستی کا سکہ ایک بار پھر سے ثابت کر گیا کہ اگر ادارے مضبوط رہیں تو اس سے جمہوریت مضبوط ہوگی اور جہاں ایسا ہو پائے گا وہاں کی ریاستیں مضبوط رہیں گی، احتجاج کی ایک اور وجہ لاک ڈائونز کی بہتات بھی ہو سکتی ہے کیونکہ لوگ ایسے طویل لاک ڈائونز کے سماجی اور ذہنی اثرات سے ناواقف تھے، وقت کے ساتھ یہ واضح ہو رہا ہے کہ یہ اثرات دیرپا اور انتہائی نقصان دہ ہیں، حکومت کو اس حوالے سے جامع تحقیق اور علاج معالجہ کیلئے وسائل مہیا کرنے چاہئیں کیونکہ کئی ماہرین کے مطابق آنے والے وقت میں اگر اس وبا کے ان منفی اثرات سے سنجیدہ انداز میں نہ نمٹا گیا تو صورتحال کنٹرول سے باہر ہو سکتی ہے، لوگوں کی بڑی تعداد کا احتجاج کیلئے نکل پڑنا ایسی ہی ایک ذہنی پریشانی کی اہم وجہ بن پائے گی، یقینی طور پر کئی حوالوں سے کام ہو رہا ہے گزشتہ چند دنوں سے نیا ’’اومی کرون ویرینٹ‘‘ بھی سامنے آچکا ہے اگرچہ پورا نظام معاشرت متاثر ہو چکا ہے تاہم یہ نظام حالات سے نمٹنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے، اس برس کے دور ان نیٹو افواج افغانستان میں 18 برس قیام کے بعد اپنے ممالک میں واپس آگئی ہیں جن میں پانچ ہزار کے لگ بھگ برطانوی فوجی بھی شامل ہیں۔ امریکی اور دیگر فورسز کو اگست کے اختتام تک افغانستان سے پہلے جانا تھا مگر طالبان کی پیش قدمی کے پیش نظر انہیں وقت سے پہلے ملک چھوڑنا پڑا، اس اہم واقعہ سے ثابت ہوا کہ جو اقوام اپنے اہداف کے حصول کیلئے ڈٹ جاتی ہیں انہیں دنیا کی طاقتور تین 29 قوتیں بھی شکست نہیں دے سکتیں، پاکستان اپنی بے پناہ مشکلات کے باوجود افغان قوم کے ساتھ کھڑا رہا ہے، اس سلسلہ میں وزیراعظم عمران خان کا مثالی کردار دنیا نے دیکھا ہے، وہ ہمیشہ سے افغان مسئلہ کے حل کیلئے گفت و شنید پر زور دیتے رہے ہیں یہی نہیں ہے آج کل اخبارات میں امریکن بیک ڈور کشمیر بات چیت کے تذکرے بھی چل رہے ہیں، دیکھتے ہیں کیا نتائج نکلتے ہیں۔ ذرائع ابلاغ ہی وہ پیمانہ ہیں جن سے ماضٰی اور مستقبل میں جو کچھ ہو چکا ہے یا ہونے والا ہے پر قیافے اور تجزیے تحریر کئے جاسکتے ہیں، برطانوی پاکستانی کشمیری کمیونٹیز کو فارغ ہوتے اس سال میں اپنے کئی عزیزو اقارب اور جاننے والوں میں اموات کی وجہ سے گہرے صدمے برداشت کرنے پڑے ہیں تمام پسماندگان کیلئے مولائے قدوس کی بارگاہ میں دعا ہے کہ پروردگار انہیں صبر جمیل عطا فرمائے اور رحلت کر جانے والوں کیلئے اگلی زندگی آسان فرمائے، دعا ہے اگلا برس ہم سب کے لئے مزید بہتریاں لائے۔
یورپ سے سے مزید