• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

غزالہ نے پلے کارڈ پھاڑا، انگلی مروڑی، تھپڑ مارا: شگفتہ جمانی


گزشتہ روز قومی اسمبلی میں احتجاج کے دوران پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن شگفتہ جمانی اور حکمراں جماعت پاکستان تحریکِ انصاف کی رکن غزالہ سیفی کے درمیان ہونے والی جھڑپ کے حوالے سے شگفتہ جمانی کا ایک اور بیان سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے الزام عائد کیا ہے کہ غزالہ سیفی نے پلے کارڈ چھین کر پھاڑا، میری انگلی مروڑی اور تھپڑ مار دیا۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شگفتہ جمانی نے کہا کہ کل دفن ہونے والے آرڈیننس ہاؤس میں لے کر آئے تھے، ہم احتجاج کر رہے تھے، پلے کارڈز ہمارے ہاتھ میں تھے۔

انہوں نے بتایا کہ غزالہ سیفی نے میرے ہاتھ سے پلے کارڈ چھین کر پھاڑ دیا، میں نے کہا کہ غزالہ بدتمیزی نہ کرو، جس پر انہوں نے میری انگلی مروڑ دی، پھر پلٹ کر واپس آئیں اور میرے منہ پر تھپڑ مار دیا۔

شگفتہ جمانی نے کہا کہ سیاست میں زندگی گزر گئی، لیکن یہ حالات نہیں دیکھے کہ عورتیں عورتوں کو ماریں۔

گزشتہ روز قومی اسمبلی میں احتجاج کے دوران شگفتہ جمانی اور غزالہ سیفی کا ایک دوسرے کو مارنے کا معاملہ سامنے آیا تھا۔

غزالہ سیفی نے بھی الزام عائد کیا تھا کہ شگفتہ جمانی نے ان کا ہاتھ مروڑا، جس سے انگلی فریکچر ہو گئی، ان کے خلاف پرچہ درج کرواؤں گی۔

غزالہ سیفی کے الزام کے جواب میں شگفتہ جمانی نے کہا تھا کہ حملہ پہلے غزالہ نے کیا، میں سینئر ہوں، کوئی ہاتھ لگائے گا تو جواب تو دینا پڑے گا۔

شگفتہ جمانی نے یہ بھی کہا تھا کہ پی ٹی آئی کی سفارشوں پر آنے والی چند خواتین کو پارلیمنٹ اور قانون کا کوئی پتہ نہیں، ایسی خواتین صرف فیشن شو کے لیے آئی ہیں۔

اجلاس میں وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات فواد چوہدری بیچ بچاؤ کرانے کے بجائے واقعے کی ویڈیو بناتے رہے۔

واقعے کے بعد سیکریٹریٹ پولیس نے غزالہ سیفی کا پولی کلینک اسپتال سے طبی معائنہ کرایا، انہیں میڈیکو لیگل رپورٹ تو نہ مل سکی تاہم میڈیکو لیگل افسر نے اپنی رائے دے دی اور معاملہ سیکریٹریٹ پولیس نے ویمن تھانے کو بھیج دیا۔

ایس ایچ او ویمن پولیس اسٹیشن مصباح شہباز نے بتایا کہ مقدمے کے اندراج کے لیے قواعد و ضوابط کا جائزہ لیا جا رہا ہے، پراسس مکمل ہونے پر اعلیٰ حکام کی ہدایات کی روشنی میں مقدمے کے اندراج کے بعد پولیس کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے ذریعے ایف آئی آر کی کاپی میڈیا کو دی جائے گی۔

واضح رہے کہ قومی اسمبلی میں پارلیمنٹیرین کے جھگڑے کے معاملے پر پولیس اسپیکر قومی اسمبلی کی ہدایت کے بغیر مقدمہ درج کرنے کی مجاز نہیں اور رات گئے تک اسپیکر نے اس ضمن میں کوئی ہدایت جاری نہیں کی تھی، اس لیے تمام پولیس افسران اس حوالے سے مقدمہ درج کر نے سے گریزاں نظر آئے۔

قومی خبریں سے مزید