• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اردو کے ممتاز شاعر محسن نقوی نے کہا ہے:

خواب بکھرے ہیں سہانے کیا کیا

لٹ گئے اپنے خزانے کیا کیا

کس سے کہیے کہ تیری چاہت میں

ہم نے سوچے تھے فسانے کیا کیا

اب جب ہم 2022میں داخل ہوچکے ہیں تو گزرے برس کی یادوں پر پڑی چلمن وقفے وقفے سے لہرا کر ہمیں ماضی کے منظر دکھاتی ہے تو اندازہ ہوتا ہے کہ من حیث القوم ہمارے کیسے کیسے خواب بکھر چکے ہیں اور کیسے کیسے خزانے لُٹ چکے ہیں۔ کیسے کیسے وطن کے چاہنے والے تھے اور انہوں نے اس ارضّ پاک کے لیے کیسے کیسے افسانے سوچے ہوئے تھے ،لیکن اے بسا آرزو کہ خاک شُد۔

ہم نے جو بویا تھا وہ کاٹ رہے ہیں ۔لہذا اب مسائل ہیں اور طرح طرح کے چیلنجز۔کورونا کے چیلنجز،سیاسی استحکام کا چیلنج، معیشت کو درپیش چیلنجز، دفاعی چیلنجز، صحت، تعلیم اور روزگار کے شعبے کے چیلنجز ، انصاف،قانون، پارلیمانی امور،امن وامان اور ماحولیات کے شعبے کے چیلنجز ہمارے سامنے منہ کھولے کھڑے ہیں اور ہماری حالت یہ ہے کہ ہم ان کے سامنے منہ کھولے کھڑے ہیں کہ ان سے نمٹیں گے کیسے۔

کورونا کا عفریت اب بھی دنیا بھر میں تباہی مچا رہا ہےاور پاکستان میں ایک بار پھر اس کے حملے تیز اور مہلک ہونے کے خطرات بڑھتے نظر آرہے ہیں۔ خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ فروری میں کورونا کی پانچویں لہرآسکتی ہے۔بعض طبّی ماہرین کے اندازے کے مطابقآنے والے دنوں میں ایسا ممکن ہے کہ یومیہ تین تا چار ہزار نئے مریض سامنے آنے لگیں۔ یاد رہے کہ ملک میں کورونا وائرس کی جنوبی افریقی قسم، اومی کرون کے پچھہتّر کیسز سامنے آنے پر ماہرینِ صحت نے کورونا وائرس کی وبا کی پانچویں لہر کے خدشات ظاہر کیے ہیں۔

وزارتِ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ اومی کرون کے کیسز جس تیزی سے سامنے آ رہے ہیں اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگلے دوہفتوں میں ملک بھر سے اومی کرون کے کیسز رپورٹ ہونے لگیں گے۔اس طرح اگلے برس فروری کے وسط میں کوروناکے یومیہ تین تاچار ہزار نئے کیسز سامنے آ سکتے ہیں۔

طبّی ماہرین کو امید ہے کہ ویکسین لگوانے والے افراد اومی کرون کے باعث بیماری کی شدّت سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔ قومی ادارۂ صحت کے مطابق پاکستان میں تادمِ تحریر سامنے آنے والے اومی کرون کے 75 کیسز میں سے 33 کراچی، 17اسلام آباد،13 لاہور اور 12 بیرونِ ملک سے آنے والے مسافروں سے رپورٹ ہوئےہیں۔ 

دوسری جانب نامیاتی سائنس داں ڈاکٹر عطاء الرحمٰن نےخدشہ ظاہر کیا ہے کہ اومی کرون کے اثرات کووِڈ انیس کے ڈیلٹا ویئرینٹ سے بھی زیادہ ہیں۔ ان کے مطابق اس کے کیسزدو یوم میں تین گنا تک بڑھ سکتے ہیں۔ماہرین کے لیے فکر کا نکتہ یہ ہے کہ کہیں ایسے کیسز سے ہمارے اسپتال بھر نہ جائیں۔ اگر ایسا ہوا تو ہمارا نظامِ صحت شاید یہ بوجھ برداشت نہ کرسکے۔ڈاکٹر عطاء الرحمٰن کا کہنا ہے کہ حکومت اسمارٹ لاک ڈاؤن کی پالیسی پر عمل درآمد کرا کے صورتِ حال پر قابو پا سکتی ہے۔

ماہرینِ طب و صحت کے بعد اقتصادی ماہرین بھی تشویش کا شکار ہیں ۔ان کا کہنا ہے کہ اس وقت پاکستان کی معیشت شدید اندرونی اور بیرونی دباو کا شکا ر ہے۔حکم راں خواہ کیسا ہی راگ الاپتے رہیں ،غریب تو غریب، اب تو امیروں نے بھی کچھ آہ و بکا شروع کردی ہے۔ یاد رہے کہ ملک میں شرحِ غربت اڑتیس سے چالیس فی صد تک جاپہنچی ہے۔وزیر ِ خزانہ کے بہ قول افراطِ زر غربت سے بڑا مسئلہ ہے۔ لیکن عام آدمی تو بس یہ جانتا ہے کہ جب درآمدشدہ پٹرولیم مصنوعات منہگی ہوتی ہیںتو ایندھن سے پیدا ہونے والی بجلی اورپیٹرول، ڈیزل سے چلنے والی ٹرانسپورٹ بھی منہگی ہوجاتی ہے۔ 

چناں چہ پیداواری لاگت بڑھ جاتی ہے اور پھرسامانِ تعیّش سے لے کر روٹی تک ہر شے منہگی ہو جاتی ہے اور اس عمل کے دوران اگر آمدن اورتن خواہ ساتھ نہ دے تو غربت میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ لیکن اگرسرکاری موقف پر اعتبار کر لیا جائے توسب اچھاہے اور راوی چین لکھتا ہے۔ لیکن اگر بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے کنزیومرپرائس انڈیکس کے ریکارڈ کا ہی جائزہ لے لیا جائے تو ہوش و حواس قایم رکھنا مشکل محسوس ہونے لگتا ہے۔ کیوں کہ اگست دو ہزار اٹھارہ سے اکتوبر دو ہزار اکیس کے درمیان کاسٹ آف لیونگ ( زندہ رہنے کی قیمت) اوسطاً پینتیس فی صد بڑھی ہے۔ 

خوراک کے نرخوں میں اڑتیس ماہ میں اڑتالیس فی صد ، صحت اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں بتیس فی صد ، آٹے کی نرخ میں انسٹھ فی صد، چینی کے نرخ میں اُنّاسی فی صد، مرغی کے گوشت کےنرخ میں ایک سو اٹھارہ فی صد، خورنی تیل کے نرخ میں نواسی فی صد ، دالوں کے نرخ میں تراسی فی صد ، انڈوں کےنرخ میں اکہتر فی صد ، تازہ دودھ کے نرخ میں تینتیس فی صد اور سبزیوں کےنرخ میں سو فی صد اضافہ ہوچکا ہے۔

ہمارا جاری کھاتے کا خسارہ خطرنا ک حد تک بہت بڑھ چکا ہے۔درآمدات کے مقابلے میں بر آمدات بہت کم ہیں، کرنسی کی قدر کچھ عرصے میں بہت تیزی سے کم ہوئی ہے اور بہ راہ راست غیر ملکی سرمایہ کار بہت ہی کم ہے۔حالاں کہ ماہرین اقتصادیات کا موقف ہے کہ ملکی ترقی پر مثبت اثرکے لیے پاکستان کو سالانہ چار تا چھہ ارب ڈالر زکی بہ راہ راست غیرملکی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ 

اعداد و شمار کے مطا بق پاکستان میں رواں سال جولائی میں تقریبا نوّے ملین ڈالرز ر ایف ڈی آئی کی مد میں آئے جو پچھلے آٹھ ماہ کی کم ترین سطح تھی۔یہ ان فلو گزشتہ سال جولائی میں 129 ملین ڈالر سے 31 فی صد کم ہے۔ملک میں مجموعی طور پر ایف ڈی آئی کا انفلو عالمی رجحان کے مطابق گزشتہ مالی سال میں کم ہوا۔ 

مالی سال 21 میں پاکستان میں ایف ڈی آئی کی آمد کم ہو کر 1.847 ارب ڈالر رہ گئی جو مالی سال20میں 2.598 ارب ڈالر تھی۔ یہ عالمی سطح پر ایف ڈی آئی کے بہاؤ میں کمی کی وجہ سے ہوا۔ ایشیا میں ایف ڈی آئی کا انفلو 20 میں 535 بلین ڈالر تک پہنچ گیاتھا جو19 میں 516 بلین ڈالر ز تھاجس سے چین اور بھارت دونوں نے بڑی آمدن حاصل کی تھی۔ اسی طرح پاکستان جون 2021 میں ایف ڈی آئی کے ایشیائی انفلو سے فائدہ اٹھانے میں ناکام رہا۔

ماہرین کے مطابق پائے دار معاشی ترقی اور ان کے اثرات دیکھنے کے لیے پاکستان کو اگلے پانچ سالوں میں ہر سال کم از کم چار تا چھہ بلین ڈالر ایف ڈی انفلو کی ضرورت ہے۔اتنے زیادہ ایف ڈی آئی کو ملک میں لانا بہت مشکل امر ہے۔ اس کی وجہ پڑوسی ملک افغانستان کی تازہ ترین سیاسی پیش رفت ہے۔ 

اگست کے وسط میں طالبان کا کابل پر قبضہ خطے میں سیاسی استحکام کے لیے سمجھے جانے والے چیلنجوں کی وجہ سے ممکنہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کو خوف زدہ کر سکتا ہے لیکن پاکستان میں بہ راہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کے راستے میں ایف ڈی آئی واحد راستہ نہیں ہے۔ سیاسی عدم استحکام، پالیسیز کا فقدان اور ان میں عدم تسلسل ، ناقص عمل درآمد اور غیر ملکی سرمایہ کاروں سے نمٹنے کے لیے ریاستی اداروں کا نا مناسب طریقہ سرمایہ کاری کے فروغ میں رکاوٹ ہے۔ظاہر ہے کہ موجودہ صورت حال تسلی بخش نہیں کہی جاسکتی۔ ہمیں دیگر اقدامات کے ساتھ ایسی پالیسیز بھی بنانا ہو ںگی جو دوسرے ممالک سے بڑے پیمانے پر ایف ڈی کے بہاو میں مدد گار ثابت ہوسکیں۔

ماہرین اقتصادیات کے بہ قول ہمارے ہاں چینی ایف ڈی آئی کا حصہ بہت زیادہ ہے۔ پاکستان کو بڑے ایف ڈی آئی فراہم کرنے والوں کی فہرست کو چھ سے بڑھا کردس یا اس سے بھی زیادہ کرنے کی کوشش کرنی چاہیے ۔ایران ، ترکی ، آسٹریلیا ، کینیڈا ، روس اور سنگاپور جیسے ممالک پاکستان میں کار کی تیاری،  زراعت ، توانائی ، اسٹیل اور مالیاتی خدمات میں سرمایہ کاری کے خواہش مند ہیں۔ سرمایہ کاری بورڈ کو اپنی پسند کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے سودوں کو حتمی شکل دینے کے عمل کو تیز کرنا ہوگا۔ 

آنے والے سالوں میں زیادہ سے زیادہ ایف ڈی آئی کو اپنی طرف متوجہ کرنا اس بات پر بہت زیادہ منحصر ہوگا کہ پاکستان کی پوزیشن کتنی اچھی ہے۔ایف ڈی آئی کے حصول کے لیے پاکستان کو فیٹف کی گرے لسٹ سے باہر آنا ہوگا جس کے لیے اسے منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی معاونت کے خلاف بین الاقوامی معیار کے مطابق کاروائی کرنا ہوگی اور بھرپور انداز میں ٹاسک فورس کی جانب سےطے شدہ باقی ماندہ اقدامات اٹھانے ہوں گے۔

مزید یہ کہ سرمایہ کاروں کااعتماد حاصل کرنے کے لیے پاکستان کو یہ یقینی بنانا ہوگا کہ اس کی ٹیکس پالیسی مطابقت کی حامل ہو، ٹیکسوں کا موثر نظام ہو اور ایک مستحکم سیاسی ماحول رکھتا ہو۔ خاص کر ٹیکس پالیسیز کو ایک سے دوسری حکومت کے درمیان زیادہ مطابقت کا حامل ہونا چاہیے۔ انکم اور سیلز ٹیکس میں اضافے کی شکل میں تنخواہ دار طبقے پر مزید بوجھ ڈالنے کے بجائے دولت مند طبقے کو ٹیکس کے جال میں لانے کی ضرورت ہے۔

اس کے علاوہ پاکستان کا زرعی شعبہ جو ملکی معیشت میں اہم حصہ ڈالنے کے باوجود سب سے کم ٹیکس دیتا ہے، اس پر متناسب ٹیکس لاگو کیے جانے چاہییں۔ صنعت و حرفت کے شعبے میں حصہ لینے کے لیے محنت کشوں کی تعلیم و تربیت بھی ایف ڈی آئی کی توجہ اپنی جانب کھینچ سکتی ہے۔ ایسا کرنے کے لیے پاکستان کو اپنی بجٹ کی ترجیحات کا دوبارہ جائزہ لینا ہوگا۔ بجٹ کاسب سے زیادہ حصہ تعلیم و تحقیق کی سہولتوں کی فراہمی پر خرچ ہونا چاہیے اور مستقبل میں ایف ڈی آئی کی خاطر اس کی ترویج کی جانی چاہیے۔

ماہرین سماجیات و سیاسیات کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان کو درست سمت اختیار کرنی ہے، خود کو داخلی اور خارجی،دونوں محاذوںپرایک مہذب اور ذمےدار معاشرے کے طورپر پیش کرناہے اور ترقی اور خوش حالی کی منزل حاصل کرنی ہے تو ہمیں ایک نئے کردار اور فکر کی طرف توجہ دینی ہوگی ۔کیوں کہ موجودہ ریاستی نظام میں کئی سطحوں پر بنیادی نوعیت کی تبدیلیوں کی ضرورت ہے ۔ انقلاب او راصلاحات میں سے جمہوری راستہ اصلاحات کی طرف توجہ دیتا ہے او راسے اگر ہم نے غیر معمولی انداز میں اپنی ترجیحات کا حصہ نہ بنایا تو یہ عمل پہلے سے موجود کم زور ریاستی نظام کومزید کم زور کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔ 

یقینی طور پر ریاست کی سطح پرجو چیلنجز ہیں وہ کسی سیاسی تنہائی میں حل نہیں ہوں گے اس کے لیے ایک وسیع مشاورت اور اتفاق رائے پر مبنی سیاست کو آگے بڑھانا ہوگا ۔لیکن یوں محسوس ہورہا ہے کہ موجودہ حکومت خود کو اور حالات کو بند گلی میں لے جارہی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہماری سیاست، جمہوریت، حکم رانی کانظام ، ادارہ جاتی عمل او رانتظامی ڈھانچا اپنے اندر بہتری کے تناظر میں بڑی تبدیلی کو ناگزیر سمجھتا ہے۔ لیکن اس تبدیلی کے لیے تمام فریق کس حد تک تیار ہیں اور خود سے وہ کیا عمل کرنا چاہتے ہیں جو ریاستی نظام میں پہلے سے موجود خرابیوں کو کسی بہتری کی شکل دے سکے ؟یہ اہم سال ہے۔

ایک مسئلہ ریاستی فہم و فراست، ادراک اور تدبر سمیت سمجھ بوجھ کا ہے کہ ہم کس حد تک اپنی سطح پر اپنے مرض کی درست تشخیص کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور ہمیں اپنی ترجیحات کا تعین کرنا آتا ہے یا نہیں۔ ریاستی نظام میں ٹکراؤ یا ایک دوسرے پر عدم اعتماد یا بھروسے کی کمی کا جومسئلہ ہے وہ خود مسائل کے حل میں ایک بڑی رکاوٹ بن گیا ہے ۔

پاکستان کی خارجہ پالیسی کو بہت سے مسائل کا سامنا رہا ہے۔خطے کی بدلتی ہوئی صورت حال اور دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ، چین پاکستان اقتصادی راہ داری، کشمیراور فلسطین کے معاملات پاکستان کی خارجہ پالیسی میں بنیادی اہمیت کے حامل رہے ہیں۔ہم سایہ ممالک کی طرف سے پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت بھی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔چندبرسوں سے مشرقی اور مغربی سرحدوں پر معاملات نے صورت حال کو مزید گھمبیر بنائے رکھا۔اب ہمیں افغانستان کی صورت میں ایک نئے اضطراب کا سامنا ہے جو بہت مختلف نوعیت کا ہے۔

موجودہ وقت میں ہمیں افغانستان کی صورت میں بیرونی محاذ پرجس بہت بڑے مسئلے کا سامنا ہے اس سے پاکستان کاچوں کہ قریبی تعلق ہےلہذا ہمارے چیلنجز بھی بڑے ہیں۔وہاں اس وقت ایک خلا موجود ہے جسے پُر کرنا مشکل کام ہے۔ دوسری جانب آج بے شک ملک کی سلامتی کو امریکا، بھارت گٹھ جوڑ کی وجہ سے پہلے سے بھی زیادہ سنگین چیلنجز درپیش ہیں جن میں سب سے بڑا چیلنج ملک کے اندرونی استحکام کا ہے۔ اس کے لیے آئین و قانون کی حدود میں رہتے ہوئے ادارہ جاتی ہم آہنگی اورنظام کے استحکام کی زیادہ ضرورت ہے جس کے لیے فضا سازگار بنانے کی اشدضرورت ہے۔

ہماری قومی سیاست پر بدقسمتی سے اب تک بلیم گیم کا کلچر غالب ہے جس میں محاذآرائی کی فضا گرما کر سیاسی کشیدگی کو ذاتی دشمنی تک پہنچا دیا جاتا ہے اور قومی ریاستی اداروں کو بھی الزام تراشی کی زد میں لانے سے گریز نہیں کیا جاتا۔ ہماری سیاست میں موجود اس ذہنی فرسودگی نے ہی سسٹم کو مستحکم نہیں ہونے دیا اور اپنے مخالفین کی حکومت گرانے کے لیےماورائے آئین اقدام اٹھانے والوں کو اپنے کندھے فراہم کیے جا تے ہیں۔

ہماری سیاست معیشت، سماج ،تعلیم، روزگاراور ماحول کے مسائل مناسب حکمت عملی نہ ہونے یا ان پر عمل درآمد نہ ہونے کی وجہ سے آپس میں گڈ مڈ ہوچکے ہیں ۔ ہماری آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے اور شہری آبادی میں ہر سال تین فی صد اضافہ ہونے کے ساتھ ہی جنوبی ایشیا کے کسی بھی دوسرے ملک کے مقابلے میں پاکستانی شہروں میں تیزی سے آرہے ہیں۔2030تک ، پاکستان کے متوقع 250 ملین شہریوں کے نصف سے زیادہ شہریوں کے شہروں میں رہنے کی توقع ہے۔

ملک میں جہاں ہر ایک منٹ میں دو افراد انتقال کر جاتےہیں وہیں اسی ایک منٹ میں سات بچے پیدا ہوتے ہیں اور یوں ہر منٹ میں ملک کی آبادی میں پانچ افراد کا اضافہ ہوجاتا ہے۔کچھ عرصہ قبل ایک ادارے کے سروے اور اندازے کے مطابق ہر سال پاکستان کی آبادی میں 29 لاکھ افراد کا اضافہ ہوتا ہے ۔ پاکستان کی آبادی بائیس کروڑ سے زاید ہو چکی ہے ان میں سے سوا پانچ کروڑ لوگ اب بھی ان پڑھ ہیں اورچھتیس لاکھ سے زاید بالغ افراد بے روزگار ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق ملک کی آبادی میں سالانہ اضافے کی شرح ایک اعشاریہ نو فی صدہو چکی ہے۔

بڑھتی ہوئی آبادی کے تناسب سے صحت کی سہولتیں بھی محدود ہوتی جارہی ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق ملک میں ہر 400افرادکے لیےایک ڈاکٹر دست یاب ہے، ہر 3261افرادکے لیے ایک نرس موجود ہے اور ہر 1531 افرادکے لیے اسپتال کا ایک بستر دست یاب ہے۔ پانچ کروڑ70لاکھ لوگ ایک کمرے کے مکان میں رہتے ہیں، پانچ کروڑ 60 لاکھ افراد کو پینے کا صاف پانی دست یاب نہیں ہے اور ساڑھے سات کروڑ سے زاید لوگ صحت و صفائی کی سہولتوں سے محروم ہیں ۔پاکستا ن کی آبادی اور اس کے رہن سہن کے حالات کی عکاسی کرنے والے یہ اعداد و شمار ہمیں ایک نہایت پریشان کن تصویر دکھاتے ہیں ۔

بھوک کی صورت حال کے لحاظ سے دنیا کے 117 ملکوں میں پاکستان کا نمبر94ہے یعنی 93ملکوں میں صورت حال پاکستان سے بہتر ہے۔ اس درجہ بندی میں پاکستان کی صورت حال گزشتہ برسوں میں بہتر ہوئی ہے۔انسانی وسائل کی ترقی کی درجہ بندی میں 189 ملکوں میں پاکستان کا نمبر154 ہے یعنی 153ممالک پاکستان سے بہتر ہیں۔ 

بھارت اور بنگلا دیش اس درجہ بندی میں پاکستان سے بہتر ہیں۔عالمی مسابقتی رپورٹ میں 141ممالک کی درجہ بندی میں پاکستان کا نمبر 110ہے یعنی 109ملک پاکستان سے بہتر ہیں۔ بھارت، بنگلا دیش اور سری لنکا اس درجہ بندی میں پاکستان سے آگے ہیں۔ حکومت پاکستان آبادی کی کثرت اور لوگوں میں علاج کی عدم استطاعت کے باوجود صحت کے شعبے پر سالانہ جی ڈی پی کا صرف دوتا تین فی صد خرچ کرتی ہے۔

ان پریشان کن اعداوشمار اور حالات کے ساتھ جب ماحولیاتی مسائل بھی سامنے آتے ہیں تو مستقبل کے بارے میں بہت سے خدشات و خطرات سر اٹھانے لگتے ہیں۔پاکستانی معیشت موسمی تبدیلیوں سے بہت بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ پاکستان کو 1999ء سے 2018 تک ڈیڑھ سوسے زاید شدید موسمی حالات کا سامنا کرنا پڑا ہے جس سے ملکی معیشت کو 3.8 ارب ڈالرز کا نقصان ہوا ہے۔جرمن واچ کے گلوبل کلائمٹ انڈیکس میں آبادی کے لحاظ سے دنیا کے پانچویں بڑے ملک پاکستان کو عالمی تنظیموں کی جانب سے موسمیاتی تبدیلیوں سے متاثر ممالک کی فہرست میں آٹھویں نمبر پر رکھا گیا ہے۔

جرمن واچ نے رپورٹ میں کہا ہےکہ فلپائن اور ہیٹی کے بعد پاکستان دنیا میں موسمی حالات کی وجہ سے آنے والی قدرتی آفات سے سب سے زیادہ اور مستقل طور پر متاثر ہونے والا ملک ہے۔پاکستان کی جی ڈی پی کے ہر یونٹ پر اعشاریہ 52 فی صد نقصان موسمیاتی تبدیلی کے باعث ہو رہا ہے اوراُنّیس برسوں میں پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے173قدرتی آفات آئی ہیں۔ ماحولیاتی اور موسمیاتی تبدیلیوں کے ماہرین پاکستان میں موسمی حالات کے سبب آنے والی قدرتی آفات میں سے سیلاب کو سب سے بڑا خطرہ سمجھتے ہیں۔

یاد رہے کہ 2010میں آنے والاسیلاب جسے ’’پاکستان سپر فلڈ 2010‘ ‘کے نام سے جانا جاتا ہے، میں سیلاب نے بڑے پیمانے پر جانی نقصان کے ساتھ پاکستانی معیشت کو بھی شدید نقصان پہنچایا تھا۔ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث مون سون کی بارشوں میں شدت آتی جا رہی ہے اور 2010 کے بعد تقریباً ہر سال پاکستان کے کسی نہ کسی علاقے میں سیلاب آتا رہا ہے۔