• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

انتظامیہ برفباری رکنے کا انتظار کرتی رہی، موت نے انتظار نہیں کیا


سیاحتی مقام ملکہ کوہسار مری میں انتظامیہ برفباری رکنے کا انتظار کرتی رہی، موت نے انتظار نہیں کیا، 7 جنوری کی رات کو آنے والے برفانی طوفان نے 22 زندگیاں نگل لیں۔

حکومتی امداد کے منتظر لوگ گاڑیوں میں بیٹھے بیٹھے دم توڑ گئے، ایک گاڑی میں ایک ہی خاندان کے 8 افراد، ایک اور گاڑی میں چار دوست سوار تھے، ديگر گاڑیوں میں بھی سوار افراد کو موت نے گاڑی سے باہر نکلنے کا وقت نہیں دیا۔

 حکومت نے مری کو آفت زدہ قرار دے کر ایمرجنسی نافذ کردی، رات بھر تین سے چار فٹ برف پڑی۔ سڑکیں برف سے اٹ گئیں، گاڑیاں پھنس گئیں، سڑک پر کھڑے لوگوں کو کہیں سے کوئی امداد نہ ملی۔


جھیکا گلی،گلڈہ، میں لوگ اب بھی پھنسے ہوئے ہیں، امداد کے لیے پکار رہے ہیں۔

ہوٹل ایسوسی ایشن کے دعووں کے برعکس، ہوٹل مالکان نے نہ فیملی کا لحاظ کیا نہ بچوں پر ترس کھایا۔ ایک کمرے کے کرائے کہیں 25 اور کہیں 50 ہزار مانگے۔

پورا ملک مری میں ہوئی اموات پر سوگوار ہوگیا۔ وزيراعظم عمران خان نے اعتراف کیا کہ انتظامیہ غیر معمولی صورتِ حال کے لیے تیار نہیں تھی۔

قومی خبریں سے مزید