• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ممنوعہ جال نے سندھ کا ساحل بانجھ کردیا اب بلوچستان نشانے پر

گزشتہ دنوں گوادر میں ایک بھرپور عوامی تحریک چلی، ابتدا میں تو اُسے نظرانداز کیا گیا، مگر عوام کی استقامت نے حکّام کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا۔ بڑے بڑے مظاہروں اور جلوسوں کے ساتھ 32 دن تک دھرنا دیا گیا، جو مطالبات کی منظوری کے بعد اپنے اختتام کو پہنچا۔ اِس عوامی تحریک کے روح رواں، مولانا ہدایت الرحمٰن بلوچ تھے، جو جماعتِ اسلامی کے صوبائی جنرل سیکریٹری ہیں۔ وہ پچھلے دنوں کراچی تشریف لائے، تو اُن کے ساتھ ایک خصوصی نشست ہوئی، جس میں اِس عوامی تحریک کے پس منظر، بلوچستان کے مسائل اور اُن کے حل پر سیر حاصل گفتگو ہوئی۔ اِس نشست کا احوال جنگ، سنڈے میگزین کے قارئین کی نذر ہے۔

س: سب سے پہلے تو اپنے خاندان، تعلیم اور سیاسی کیرئیر سے متعلق کچھ بتائیے؟

ج: گوادر کے مشرق میں 13 کلو میٹر کے فاصلے پر سربند کے نام سے ماہی گیروں کی ایک چھوٹی سی بستی ہے، مَیں وہاں پیدا ہوا اور وہیں ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ بعدازاں، مزید تعلیم کے لیے اپنے ننھیال کراچی آگیا اور شہر کے مختلف اداروں میں تعلیم حاصل کرتا رہا۔ ایم اے کے ساتھ دینی تعلیم بھی حاصل کی۔

مدارس کے طلبہ پر مشتمل تنظیم’’ جمعیت طلبہ عریبیہ‘‘ سے وابستہ ہوگیا۔ 2003ء میں تعلیم کی تکمیل پر اپنے گاؤں واپس چلا گیا۔ پھر جماعتِ اسلامی کا حصّہ بنا اور مختلف ذمّے داریاں نبھاتا رہا، اِن دنوں جماعتِ اسلامی کا صوبائی جنرل سیکریٹری ہوں۔ بلدیاتی الیکشن میں حصّہ لیا اور کونسلر منتخب ہوا، جب کہ قومی اور صوبائی اسمبلی کے انتخابات میں بھی حصّہ لیتا رہا ہوں تاکہ عوام تک اپنی بات پہنچائی جا سکے۔

س: گزشتہ دنوں گوادر میں ایک بڑی عوامی تحریک چلی، طویل دھرنا دیا گیا، اس تحریک کے محرّکات کیا تھے؟

ج: بلوچستان ظلم اور محرومی کا شکار ہے۔ وہاں کے باسیوں کو انسان نہ سمجھنا، اُنھیں شک کی نظر سے دیکھنا، کسی دہشت گرد جیسا سلوک کرنا، اُنھیں ’’ را‘‘ کا ایجنٹ تصّور کرنا، قدم قدم پر تذلیل اور اُن کے وسائل کی بدترین لُوٹ مار ایسے مسائل ہیں، جن کے سبب عام آدمی اب خود کو کسی کا محکوم سمجھنے لگا ہے۔ اِس ماحول میں جب مَیں نے عوام کو اپنے حقوق کی خاطر باہر نکلنے کے لیے پکارا، تو وہ سیاسی وابستگیاں بالائے طاق رکھتے ہوئے سڑکوں پر آگئے۔

س: اِس دوران ماہی گیری سے متعلق بھی بہت سی باتیں سُننے کو ملیں، یہ کیا معاملہ ہے؟

ج: ہمارے خطّے کے حوالے سے یہ ایک بہت ہی اہم معاملہ ہے۔بلوچستان کا ساڑھے سات سو کلو میٹر طویل ساحل ہے، جو آبی حیات سے مالا مال ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ساحل پر آباد لوگوں نے کبھی سرکاری ملازمت کے حصول میں دل چسپی نہیں لی۔ نوجوان تعلیم حاصل کرنے کے بعد بھی ماہی گیری ہی کرتے تھے، اِس کی وجہ یہ ہے کہ سرکاری ملازم کی تن خواہ جتنے پیسے وہ ایک دن میں کما لیتے تھے، مگر اب غیر قانونی فشنگ کے باعث حالات بدل گئے ہیں۔دراصل، سندھ کا ساحل آبی حیات کے لحاظ سے بانجھ ہوچُکا ہے اور وہاں اب مچھلی نام کی کوئی چیز نہیں رہی۔

اِس بات کا اعتراف سندھ حکومت بھی کرتی ہے اور کچھ عرصہ قبل سندھ کے چیف سیکریٹری نے بھی ایک اجلاس میں یہی بات کی تھی۔اِس کی وجہ ایک چھوٹے سے جال کا، جسے’’ گجا ‘‘کہتے ہیں، بے دریغ استعمال ہے۔ پوری دنیا میں مچھلی کے شکار کے لیے جال کا ایک سائز مقرّر ہے، اس کا مقصد یہ ہے کہ چھوٹے جال میں مچھلی کے بچّے بھی آجاتے ہیں، جو اُن کی نسل کشی کے مترادف ہے۔

یہ چھوٹا جال سندھ کے فشریز ایکٹ میں منع نہیں ہے، جس کی وجہ سے اِس کا بہت زیادہ استعمال ہوا اور نتیجے میں صوبے کا ساحل بانجھ ہوگیا۔ اس کے برعکس، بلوچستان میں یہ چھوٹا جال قانونی طور پر استعمال نہیں کیا جاسکتا۔ اب ہو یہ رہا ہے کہ سندھ حکومت نے دو، ڈھائی ہزار اجازت نامے جاری کیے ہیں، جن کی بنیاد پر بلوچستان کے ساحل پر ممنوعہ جال کے ساتھ مچھلیوں کا شکار کیا جا رہا ہے۔اِس غیر قانونی سرگرمی کی وجہ سے چند برسوں میں بہت سی مچھلیوں کی نسلیں معدوم ہوگئی ہیں۔

س: دنیا بھر میں ماہی گیری کے لیے جدید طریقے استعمال کیے جا رہے ہیں، کہا یہ جا رہا ہے کہ آپ اس کی مخالفت کر رہے ہیں؟

ج: دیکھیں، سندھ کے جو ٹرالرز وہاں شکار کر رہے ہیں، اُن کے پاس کوئی جدید تیکنیکس نہیں ہیں۔ وہ ایسا جال استعمال کر رہے ہیں، جسے حکومتی ادارے ممنوع قرار دے چُکے ہیں۔ پھر یہ بات بھی اہم ہے کہ اگر بالفرض کوئی ایسا جدید طریقہ ہو بھی، جس سے مچھلیوں کی افزائشِ نسل خطرات سے دوچار ہوجائے، تب بھی اُس کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔اِس معاملے میں جدید و قدیم کی کوئی بحث ہی نہیں ہے اور نہ ہم جدید طریقوں کے مخالف یا اُن سے خائف ہیں۔ 

پہلے ہم عام کشتیوں میں بیٹھ کر شکار کیا کرتے تھے، اب ہمارے پاس جدید کشتیاں ہیں، ہم جدید مواصلاتی نظام بھی استعمال کرتے ہیں، یعنی ہمارا ماہی گیر وقت کے ساتھ جدید ہو رہا ہے، مگر جدّت کے نام پر آبی حیات کی نسل کُشی بہت بڑا ظلم ہے۔یہاں یہ بھی ذہن میں رہے کہ ہمارا سندھ کے ماہی گیروں سے کوئی اختلاف نہیں ہے،اگر چاہیں تو وہ بھی بلوچستان کا ساحل استعمال کرسکتے ہیں، مگر غیر قانونی ماہی گیری اور ممنوعہ جال کسی کے لیے قابلِ قبول نہیں ہے۔

س: سُنا ہے، گوادر میں بہت ترقّی ہو رہی ہے، مقامی باشندوں کو تو اس پر خوش ہونا چاہیے؟

ج: اصل میں ترقّی کچھ زیادہ ہی ہوگئی ہے، جس پر لوگ تشویش میں مبتلا ہیں (قہقہے)۔ دیکھیں، مجھے کئی بار اجلاسوں میں بلایا گیا، تو مَیں نے وہاں موجود حکّام سے یہی گزارش کی کہ آپ 2002ء سے ہمیں انگریزی کا ایک لفظ’’ DEVELOPMENT‘‘ بتا رہے ہیں، لہٰذا ،دنیا کی کسی بھی ڈکشنری سے اِس لفظ کی تعریف ہمیں سمجھا دیں۔ کیا کرکٹ اسٹیڈیم کا نام ڈیویلپمنٹ ہے؟ کیا بجلی کے چند کھمبوں کی تنصیب یا ائیرپورٹ کی تعمیر کو ڈیویلپمنٹ کہا جائے؟کیا اِس لفظ کی تعریف میں انسان شامل نہیں؟

دراصل، گوادر میں کنسٹرکشن پر توجّہ ہے، ڈیویلپمنٹ پر نہیں۔ اگر 20 برسوں میں لوگوں کو پینے کا پانی نہیں دے سکے، وہ بجلی سے محروم ہیں، روزگار کے لیے دھکّے کھا رہے ہیں، تو یہ ترقّی نہیں ہے۔ آپ گوادر کے شہریوں سے پوچھیں کہ پورٹ بننے سے پہلے کی زندگی اچھی تھی یا بعد کی؟ 100 فی صد لوگ یہی کہیں گے کہ پہلے عزّت، خوش حالی اور آزادی زیادہ تھی۔

2002ء کے بعد تو وہ قید خانے میں بند ہوگئے ہیں۔ ہم ترقّی چاہتے ہیں، گوادر پورٹ کے حق میں ہیں، سی پیک کو خوش آمدید کہتے ہیں، دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ گوادر پورے مُلک کو ترقّی دے گا، مگر ہمارا رونا یہ ہے کہ وہاں کے باسیوں کو بھی اہمیت دی جائے، جو پانی، تعلیم اور صحت جیسی بنیادی سہولتوں تک سے محروم ہیں۔

س: تو کیا گوادر ماسٹر پلان میں مقامی افراد سے مشاورت نہیں کی گئی؟

ج: بالکل بھی نہیں۔ گوادر کے منصوبے اسلام آباد میں بیٹھ کر بنائے جاتے ہیں۔ مقامی افراد کو کسی مشاورتی عمل میں شریک نہیں کیا جاتا، جس کے سبب اربوں روپے کا نقصان بھی ہو چکا ہے۔ اگر آپ ماہی گیروں کے لیے کوئی منصوبہ بنا رہے ہیں، تو اُن سے بھی بات کرنے میں کوئی حرج نہیں، وہ تجربہ کار ہیں اور نسلوں سے یہ کام کرتے چلے آ رہے ہیں۔محض ڈگری کی بنیاد پر اسلام آباد میں بیٹھ کر بہتر منصوبہ بندی نہیں کی جاسکتی۔ ایک مثال دیتا ہوں۔

انجنئیرز نے پورٹ میں ایک مقام پر پتھروں کی دیوار بنانا چاہی، تو ماہی گیروں نے اُنھیں ایسا نہ کرنے کا مشورہ دیا۔ اُن کا کہنا تھا کہ اِس مقام پر پتھر سمندری لہروں کے سامنے نہیں ٹھہر سکیں گے، مگر وہ بابو نہیں مانے۔ ایک لہر آئی اور 20 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر ہونے والی دیوار کو ساتھ لے گئی۔ ماہی گیروں کو تو چھوڑیے، وہاں کے منتخب نمایندے بھی یہی شکوہ کرتے ہیں کہ اُنھیں مشاورت میں شامل نہیں کیا جاتا۔ جب ڈاکٹر عبدالمالک وزیرِ اعلیٰ تھے، تو اُن سے کسی نے سی پیک کے رُوٹ سے متعلق سوال کیا، تو اُنھوں نے جواب دیا ’’ مجھے تو کچھ پتا نہیں۔‘‘

س: دنیا میں جہاں بھی بڑے شہر بنے، وہاں باہر سے لوگ آئے۔ یہاں پاکستان میں کراچی کی مثال سامنے ہے، اسلام آباد میں بھی ہر طرف سے لوگ آ رہے ہیں، تو گوادر میں بھی باہر سے آنے والوں پر اعتراض کیوں؟

ج: باہر سے آنے والوں کا کوئی مخالف نہیں۔ ہم اِس بات کو سمجھتے ہیں کہ اگر لوگ نہیں آئیں گے، تو کاروبار کیسے چلے گا۔ اومان میں ترقّی ہوئی، تو یہاں سے بلوچ گئے تھے، دبئی کو بھی باہر سے آنے والوں ہی نے ترقّی دی۔ اعتراض اصل میں اِس بات پر ہے کہ پالیسیز میں باہر والوں کو تو ترجیح دیں اور مقامی افراد کو یک سر نظر انداز کر دیں۔ 

اگر باہر سے آنے والوں کے لیے ٹیکس پر رعایت ہے ،تو مقامی افراد اس سے کیوں محروم ہیں؟ دوسری بات یہ کہ یہاں جو فیکٹری لگتی ہے، اگر اُس میں مزدور بھی باہر سے لائے جائیں اور مقامی افراد روزگار کے لیے مارے مارے پِھرتے رہیں، تب اعتراض ہوگا۔ پاکستان کے ہر حصّے کے لوگ ہمارے بھائی ہیں، اُن سے کوئی نفرت نہیں کرتا اور نہ کسی کے آنے پر کوئی اعتراض ہے، البتہ ،عوام سام راجی اور قبضہ گیری کی سوچ کے مخالف ہیں، لوگوں کو محروم کرنے کی ذہنیت کو کوئی قبول نہیں کرے گا اور اس کے خلاف ردّ ِ عمل بھی سامنے آتا رہتا ہے۔

س: طویل دھرنے کے بعد معاہدہ تو اچھا ہوگیا؟

ج: ہاں، معاہدہ تو اچھا ہوگیا۔ فیصلے تحریری طور پر عوام اور میڈیا کے سامنے ہوئے۔ اب اگر کوئی وعدہ خلافی کرتا ہے، تو عوام دیکھ رہے ہیں اور ہم بھی دوبارہ سڑکوں پر آنے سے گریز نہیں کریں گے۔ہم نے دوبارہ دھرنا دیا، تو پھر صوبائی حکومت سے بات نہیں ہوگی۔ ابتدا میں ٹرالر مافیا پر کچھ سختی نظر آئی، مگر اب ایسا لگ رہا ہے کہ حکومت اس مافیا کے سامنے بے بس ہے۔ لوگ وزارت فشریز اور اُس کے وزیر پر مالی نوعیت کے الزامات لگا رہے ہیں۔البتہ، چیک پوسٹس سے متعلق معاملات میں بہت بہتری آئی ہے اور عوام کی شکایات دُور ہو رہی ہیں۔

س: مظاہروں اور طویل دھرنے کے لیے لوگوں کو کس نے مینیج کیا؟

ج: پہلی بات تو یہ ہے کہ وہ کوئی ہجوم نہیں تھا، بلکہ باشعور اور منظّم شہری تھے، جنھیں اچھی طرح معلوم تھا کہ وہ گھروں سے کیوں نکلے ہیں۔وہ خود خرچ کرتے تھے۔ چار بڑے مظاہرے اور 32 دن کا دھرنا ہوا اور اس کا تمام خرچہ عوام نے اپنی مدد آپ کے تحت برداشت کیا۔ پُرامن اور منظّم احتجاج پر سیاسی جماعتیں بھی حیران تھیں کہ لوگ کسی جھنڈے کے بغیر کیسے باہر آگئے؟

س: لاپتا افراد کا مسئلہ بھی ایک اہم ایشو ہے، اس کا حل کیا ہے؟

ج: قانون اور آئین کی حکم رانی ہی اِس مسئلے کا حل ہے۔ سب کو آئین کا پابند ہونا ہوگا۔ سوال یہ ہے کہ کیا ساری پابندیاں صرف عوام کے لیے ہیں ؟ حکومت اور ادارے کسی قانون کے پابند نہیں؟ اگر کوئی شہری کسی کو قتل کرتا ہے، تو اُس کی مذمّت کی جاتی ہے اور ہونی بھی چاہیے، لیکن اگر کسی شہری کی ویرانے سے لاش ملے، تو کیا اُس کی مذمّت نہیں ہونی چاہیے؟ یہ اختیار صرف عدالت کے پاس ہے کہ وہ کسی کو موت کی سزا دے۔ہم کسی کے جرم کا دفاع نہیں کرتے، مگر ان کا فیصلہ عدالتوں کو کرنے دیا جائے۔ اس طرح اداروں کے خلاف بھی باتیں نہیں ہوں گی۔

س: شہریوں نے بلوچستان کے وسائل سے متعلق بھی بینرز اور کتبے اُٹھا رکھے تھے، عوام کو ان کے حوالے سے کیا خدشات ہیں؟

ج: ہم سمجھتے ہیں کہ ان وسائل کے اصل مالک بلوچستان کے عوام ہیں، لہٰذا ان سے متعلق فیصلے خفیہ نہیں، بلکہ عوام کے سامنے اور اُنھیں اعتماد میں لے کر کیے جائیں۔گزشتہ دنوں صوبائی اسمبلی میں اِن کیمرا بریفنگ ہوئی، جس میں ارکان کو بتایا گیا کہ سابقہ کمپنی ہی کو ریکوڈک کا ٹھیکہ دیا جا رہا ہے، جو 25 فی صد بلوچستان، 25 فی صد وفاق اور 50 فی صد منافع خود رکھے گی۔یہ تو کوئی بات نہ ہوئی کہ ہمارے سونے میں سے ہمیں 25 فی صد اور باقی 75 فی صد لے جائیں۔ 

ہمارا مطالبہ ہے کہ ریکوڈک میں ہونے والی بدعنوانی میں ملوّث افراد کو قانون کی گرفت میں لایا جائے۔اِسی طرح سیندک کا معاملہ بھی ایک اہم ایشو ہے۔لوگ کہہ رہے ہیں کہ صوبے میں حکومت کی تبدیلی کا بھی ان منصوبوں سے کوئی تعلق ہے، مگر اب عوام جاگ چکے ہیں، وہ کوئی سودے بازی نہیں ہونے دیں گے۔ سوئی سے نکلنے والی گیس سے بھی بلوچستان کے عوام محروم چلے آرہے ہیں۔ یہ تمام مسائل عوامی امنگوں، آئین اور قانون کی بنیاد پر حل ہونے ضروری ہیں تاکہ احساسِ محرومی کا ازالہ ہوسکے اور بلوچستان کے عوام بھی ترقّی کے ثمرات سے مستفید ہوسکیں۔

س: اِس عوامی بیداری اور تحریک کا مستقبل کیا ہے؟

ج: ہماری تحریک منظّم، پُرامن، آئینی اور جمہوری ہے۔ ہم نے اپنی امن پسندی کی صلاحیت طویل دھرنے میں دِکھا دی۔ ہم اپنے حقوق چاہتے ہیں، جو آئین اور قانون ہمیں دیتا ہے اور جب تک ہمیں ہمارا حق نہیں ملتا، عوامی تحریک جاری رہے گی۔

32 روزہ دھرنا، عوامی شعور کی بیداری…

ساحلی شہر گوادر سے اِس نوعیت کی آوازیں تو اُٹھتی رہی ہیں، جن میں مقامی افراد کو نظرانداز کیے جانے کا شکوہ ہوتا ہے، تاہم، اِس حوالے سے بات بیانات اور پریس کانفرنسز تک ہی محدود رہی ہے۔ گزشتہ برس نومبر میں یہ خبریں آنا شروع ہوئیں کہ نہ صرف گوادر، بلکہ اطراف کے شہروں اور بستیوں کے لوگ بھی اپنے مطالبات کے حق میں مظاہرے کر رہے ہیں، جن کی قیادت علاقے کے ایک مولانا صاحب کر رہے ہیں۔

اِن مظاہروں کا حکومتی سطح پر کوئی خاص نوٹس نہیں لیا گیا، جس پر شہریوں نے 15 نومبر کو گوادر میں دھرنا دے دیا۔ اِس دھرنےکی ایک خاص بات خواتین کی بہت بڑی تعداد میں شرکت تھی، جب کہ خواتین نے ایک بہت بڑی ریلی بھی نکالی۔دھرنے اور ریلی کے بعد حکومت انگڑائی لے کر اُٹھی اور مذاکرات کا سلسلہ شروع کردیا۔

مظاہرین غیر قانونی ماہی گیری پر پابندی، گوادر، مکران کوسٹل ہائی وے اور دیگر شاہ راہؤں سے غیر ضروری چیک پوسٹس کے خاتمے، شراب خانوں کی بندش، سمندر میں جانے کے لیے خصوصی ٹوکن سسٹم کے خاتمے، گوادر میں یونی ورسٹی کے قیام، محکمۂ تعلیم کی خالی اسامیوں پر تعیّناتی، صاف پانی کی فراہمی، دربیلہ، ایکسپریس وے متاثرین کے ساتھ معاہدے پر عمل درآمد، ایران سرحد سے تجارت میں سہولتوں اور اشیائے خورو نوش کے لیے کلکی پوائنٹ کھولنے جیسے مطالبات کر رہے تھے۔

مولانا ہدایت الرحمٰن بلوچ اور دھرنے کے دیگر قائدین کے ساتھ حکومتی وفود نے مذاکرات کے کئی دور کیے، جو بالآخر نتیجہ خیز ثابت ہوئے۔اِس دوران وزیرِ اعظم، عمران خان نے بھی دھرنے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ اداروں کو مسائل حل کرنے کی ہدایت کی۔ 16 دسمبر کو وزیرِ اعلیٰ بلوچستان، عبدالقدوس بزنجو دیگر حکّام کے ساتھ دھرنے میں پہنچے اور مظاہرین کے نہ صرف تمام مطالبات تسلیم کرنے کا اعلان کیا، بلکہ کئی معاملات پر فوری احکامات بھی جاری کیے۔

وزیرِ اعلیٰ کا دھرنے سے خطاب میں کہنا تھا کہ غیر قانونی ماہی گیری پر مکمل پابندی عاید کردی گئی ہے۔ عوام کے تمام مطالبات جائز ہیں اور بنیادی سہولتوں کی فراہمی ہماری ترجیح ہے، ترقّیاتی منصوبوں کے لیے جلد ٹینڈر طلب کیے جائیں گے۔اِس موقعے پر مولانا ہدایت الرحمٰن نے تحریری معاہدے پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے حکومت کی جانب سے کیے گئے اعلانات پر عمل درآمد کی امید ظاہر کی۔

تجزیہ کاروں نے گوادر کے عوام کی اِس تحریک کو حالیہ دنوں کی ایک بڑی اور مؤثر عوامی تحریک قرار دیا ہے۔ بلوچستان ایک عرصے سے احساسِ محرومی کا شکار ہے، جس کے نتیجے میں امن و امان کے مسائل بھی جنم لیتے ہیں۔ اگر حکومت اِس موقعے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے عوام سے کیے گئے وعدے پورے کردے، تو یہ بلوچستان کے مستقبل کے لیے ایک خوش آیند امر ہوگا۔

سنڈے میگزین سے مزید