گزشتہ برس گیارہویں جماعت کی اُردو کی کتاب منظرِ عام پر آئی۔ پرانی کتاب کے مقابلے میں نئی کتاب کا سائز بڑا اور صفحات رنگین ہیں،اسباق کی تعداد بھی زیادہ ہے۔ خوش آئند امر یہ ہے کہ اس بار نصاب میں افسانے، ڈرامے، مثنوی ، رباعیات، قطعات، قومی نغمےاور آزاد نظموں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ کتاب کا مطالعہ شروع کیا، تو ہمیشہ کی طرح سر سید اور خواجہ الطاف حُسین حالی کے مضامین سامنے تھے۔
سرسید کا مضمون ’’قومی اتفاق ‘‘موجودہ حالات میں نصاب میں شامل کرنا اچھی بات ہے، لیکن یہی سبق کچھ کمی بیشی کے ساتھ بی اے،بی ایس سی، بی کام (سال دوم،کراچی یونی وَرسٹی) کے نصاب میں بھی شامل ہے۔ مولانا الطاف حُسین حالی کا مضمون ’’زبان گویا‘‘زبان اور گفتگو کے معاملے میں احتیاط اور اعتدال سے کام لینے کا درس دیتا ہے۔ یہ مضمون گیارہویں جماعت کے حوالے سے تھوڑا مبہم اور پیچیدہ ہے،جب کہ گزشتہ کتاب میں حالی کا مضمون ’’روزمرّہ اور محاورہ‘‘اخلاقیات کی بجائے لسانیات و قواعد سے تعلق رکھتا تھا۔
کتاب میں شامل تیسرا مضمون ’’فاقے کا روزہ‘‘خواجہ حسن نظامی کا تحریر کردہ ہے۔ مضمون ’’غدر‘‘ کے حالات و واقعات اور شاہی خاندان پر گزرے مصائب و آلام کا احاطہ کرتا ہے۔ متذکرہ مضمون کا گزشتہ کتاب کے مضمون ’’ٹھیلے والا شہزادہ‘‘ سے موازنہ کیا جائے، تو وہ نسبتاً زیادہ پُراثر اور مربوط دِکھائی دیتا تھا کہ مغلیہ خاندان کے عروج و زوال کی داستان، جس پُراثر طریقے سے’’ٹھیلے والا شہزادہ‘‘ میں بیان کی گئی ہے، وہ اس مضمون میں دیکھنے میں نہیں آئی۔
کتاب کا اگلا حصّہ تین افسانوں پر مشتمل ہے۔نصاب میں جہاں افسانوں کی شمولیت خوش آئند ہے، وہیں ان کے انتخاب میں معیار کا خیال نہیں رکھا گیا، جیسے منشی پریم چند کا افسانہ ’’زیور کا ڈبّا‘‘ ایک ایسی کہانی ہے، جسے ایلیمینٹری کلاسز میں شامل کیا جاتا، تو بہتر ہوتا۔
بلاشبہ پریم چند ایک بڑے افسانہ نگار تھے اور ان کے افسانوں میں ’’حجِ اکبر‘‘،’’ کفن‘‘، ’’نمک کا دروغہ‘‘ وغیرہ ایسے افسانے ہیں، اعلیٰ ثانوی جماعتوں کے نصاب میں شامل کیے جاتے، تو بہتر ہوتا۔ افسانوں کے حصّے میں تیسرا افسانہ غلام ربّانی آگرو کا ’’آبِ حیات‘‘ شامل کیا گیا ہے، جس کا اردو ترجمہ ناہید اختر سومرو نے کیا ، جو معیار پر پورا اترتا دِکھائی نہیں دیتا۔ ترجمے میں بےشمار اغلاط ہیں اور بامحاورہ زبان بنانے کی جبری کوشش سے ترجمے کی روانی شدید متاثر ہوئی ہے۔
اس ضمن میں مؤلفین سے بھی عرض ہے کہ اگر تراجم شامل کرنا ناگزیر ہے، تو کم از کم معیارہی ملحوظِ خاطر رکھا جائے۔اے کاش! ادارہ کبھی اتنا خودمختار ہو جائے کہ ’’ولیم شیکسپیئر، حافظ شیرازی، شیخ سعدی، گوئٹے اور میکسم گورکی‘‘ وغیرہ کی تخلیقات کے تراجم بھی نصاب میں شامل کر سکے۔
ڈرامے کے حصّے میں آغا حشر کاشمیری اور امتیاز علی تاج کے ڈراموں کی شمولیت خوش آئند ہے۔ تاہم، سفرناموں کا حصّہ بھرپور توجّہ کا طالب ہے۔ گزشتہ کتاب میں ’’دمشق‘‘ اور ’’میکسیکو ‘‘کے سفر نامے نصاب کا حصّہ تھے، جب کہ موجودہ کتاب میں سفر مختصر ہو کر بس ’’تھر‘‘ تک ہی رہ گیا ہے۔ مستنصر حُسین تارڑ کے سفرنامے ’’سفر سندھ کے‘‘ کا جو حصّہ ’’تھر کی نادیہ کمانچی‘‘ کے نام سے کتاب میں شامل کیا گیا ہے، اس میں کہیں تھر کی ثقافت، روایات، معاشرت، رہن سہن اور پکوان وغیرہ کا ذکر ہی نہیں۔
یہی وجہ ہے کہ یہ سفرنامہ کم اور نادیہ کمانچی کا تذکرہ زیادہ معلوم ہوتا ہے۔ اس کے بعد قمر علی عباسی کے سفرنامے کا جو حصّہ ’’ملکہ بلقیس کا محل‘‘ کے نام سے کتاب میں شامل ہوا، وہ حضرت سلیمانؑ اور ملکہ بلقیس کے قصّے پر مشتمل ہے، جسے سفرنامہ نہیں کہا جا سکتا۔ دونوں سفرناموں کے جو حصّے کتاب میں شامل کیے گئے ہیں، وہ سفری داستان سے زیادہ شخصی داستان معلوم ہوتے ہیں۔ اس طرح کے انتخاب سے طلبہ سفرنامے کا صحیح مفہوم اور ان کی اہمیت و افادیت سے آگاہ نہیں ہو سکیں گے۔
دیگر حصّوں کی طرح طنز و مزاح میں بھی مضامین کا انتخاب معیاری نہیں۔ پطرس بخاری کے مزاحیہ مضمون ’’میبل اور مَیں‘‘ کو اگر’’ نصاب بدر‘‘ کرنا بےحد ضروری تھا، تو اس کی جگہ پطرس ہی کے دوسرے مضامین (سویرے جو کل آنکھ میری کھلی، لاہور کا جغرافیہ ، مَیں ایک میاں ہوں، مرید پور کا پیر،کتّے وغیرہ) شامل کیے جا سکتے تھے۔ ہمارے خیال میں موجودہ کتاب میں شامل طنز و مزاح کے مضامین کسی صُورت بھی ’’میبل اور مَیں‘‘ (پطرس بخاری)، ’’بائیسکل کی تعلیم ‘‘(شوکت تھانوی )اور’’ بردبار اور دانش مند'' (شفیق الرحمٰن) کا متبادل نہیں۔ البتہ ’’ابنِ انشا‘‘ کا مضمون ’’ ایک انار و صد بیمار‘‘ کسی حد تک اس کمی کو ضرور پورا کر رہا ہے۔
حصّہ ’’نظم‘‘ میں میر حسن کی مثنوی کا حصّہ ’’داستان تیاری میں باغ کی‘‘ کم و بیش انہی اشعار کے ساتھ اور رباعیات میں،’’میر انیس‘‘ کی رباعی جامعہ کراچی کے نصاب(بی اے،بی ایس سی،بی کام، سال دوم) کے میں شامل ہے۔ حصّہ ’’غزلیات‘‘ میں داغ دہلوی، منیر نیازی، احمد فراز اور قابل اجمیری کی غزلیات کی شمولیت خوش آئند ہے۔ میر تقی میر کی غزل ’’تھا مستعار حُسن سے اس کا جو نور تھا‘‘ کے تین خوب صُورت اشعار، جو گیارہویں جماعت کے طلبہ کی ذہنی صلاحیت کے مطابق تھے، نہ جانے کیوں انہیں حذف کرکےکچھ مبہم اور پیچیدہ اشعار شامل کرلیے گئے ہیں۔
حصّہ غزل کی آخری نظم پیامِ لطیف (وائی) ہے، نظم میں موجود خیال و زبان پرائمری سطح کے بچّوں کے لیے تو موزوں ہوسکتےہیں،اعلیٰ ثانوی جماعتوں کے لیے نہیں۔اس ضمن میں مؤلفین سے گزارش ہے کہ وہ نصاب مرتّب کرتے ہوئے اخلاقیات، سماجیات، اسلامیات، مطالعۂ پاکستان اور مطالعہ ٔسندھ سے متعلق مضامین کومعیار کی کسوٹی پر ضرور جانچیں اور پرکھیںاور اس حوالے سے کسی مصلحت کا شکار نہ ہوں۔ (مضمون نگار ،جامعہ کراچی کے شعبۂ اردو سے وابستہ ریسرچ اسکالر ہیں)