• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تمباکو نوشی کے خلاف رسمی مہمات کافی نہیں

تمباکو نوشی کسی بھی زمانے میں اچھی عادت نہیں سمجھی گئی۔ سگریٹ پینے اور نہ پینے والوں کے درمیان ہمیشہ ایک پردہ حائل رہا ہے۔ اگر کوئی لڑکا سگریٹ پی رہا ہو اور اچانک اُس کے والد یا کوئی بزرگ آ جائیں، تو وہ بعض اوقات سُلگتا سگریٹ بھی جیب میں ڈال لیتا ہے، گو کہ اب اِس طرح ادب، آداب کی ماضی جیسی صُورت تو نہیں رہی، مگر پھر بھی سگریٹ نوشی اچھی نظر سے نہیں دیکھی جاتی۔ طلبہ کی اکثریت آج بھی اپنے اساتذہ اور بزرگوں کے سامنے سگریٹ پینے سے گریز کرتی ہے۔ دنیا میں سگریٹ سازی اور اِس کی خریدوفروخت کا حجم ایک ہزار بلین ڈالرز پر محیط ہے۔

روزانہ سیکڑوں افراد سگریٹ نوشی تَرک کرتے ہوئے اِس عادت سے جان چھڑوا رہے ہیں، تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ ایسے افراد (زیادہ تر نوجوانوں) کی تعداد بھی بڑھ رہی ہے، جو دھویں میں لپٹی اِس دنیا میں قدم رکھتے ہیں اور یہ جانتے بوجھتے ہوئے بھی کہ اِس عادت میں خیر کوئی پہلو نہیں اور سینے میں اُترنے والا دھواں، زہر آلود ہے، اِس کے اسیر ہو جاتے ہیں۔

تمباکو نوشی کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ بعض ماہرین کے نزدیک یہ پانچ ہزار سال قدیم ہے، جب دنیا کی اکثر تہذیبوں میں تمباکو نوشی ثقافتی اور تہذیبی رسومات کا حصّہ تھی۔ البتہ اِس کے پینے کے طریقے مختلف تھے۔ کہا جاتا ہے کہ تمباکو پینے کی ابتدا سب سے پہلے جنوبی امریکا میں ہزاروں سال قبل ہوئی، جس کے بعد یہ دوسرے برّاعظموں میں پھیل گئی۔ 17ویں صدی میں یہ یورپی شہریوں کے ذریعے ایشیا میں آئی۔

تقریباً تمام ادوار میں تمباکو عالمی تجارت کا ایک اہم جزو رہا ہے۔ اِس کے استعمال کے بے شمار طریقے رائج تھے، لیکن جب اسے سگریٹ کی موجودہ شکل ملی، تو اِس کا دھواں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گیا اور دنیا کا شاید ہی کوئی مُلک ایسا ہو، جو تمباکو نوشی سے محفوظ ہو۔ نیز، تمباکو کی کاشت ہمیشہ سے ایک نقد آور فصل رہی ہے۔

گرچہ آج بھی تمباکو نوشی کے درجنوں طریقے رائج ہیں (جیسے سگار، حقّہ، بیڑی وغیرہ) لیکن سگریٹ کی شکل سب سے عام اور ہر شخص کی دسترس میں ہے۔ تمباکو میں نشے اور عادت کا موجب بننے والا سب سے نمایاں کیمائی عُنصر ’’Psychostimulant Drug Nicotine‘‘ ہے۔ جب سگریٹ کا دھواں جسم میں داخل ہوتا ہے، تو یہ پھیپھڑوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔

یہ کیمیائی عُنصر اعصابی خلیوں کو خاص طور پر متاثر کرتا ہے، جب کہ اِس سے دل کی دھڑکن کی رفتار بھی بڑھ سکتی ہے، تاہم اس کے ساتھ Dopamine اور Endorphins جیسے کیمیائی اجزا بھی خارج ہوتے ہیں، جو عارضی راحت و اطمینان کا باعث بنتے ہیں، جس سے سگریٹ نوش بالآخر ان کا عادی اور غلام بن جاتا ہے اور یہ ایک طرح سے نشے کی صُورت اختیار کر لیتا ہے۔

طویل عرصے تک تمباکو نوشی کے(جس کی ایک بڑی صُورت سگریٹ نوشی ہے) مضر اثرات عوام اور ماہرین کی نظروں سے اوجھل رہے۔ پھر جب 17ویں اور 18ویں صدی میں سائنسی تحقیق کے دروازے کُھلنے شروع ہوئے اور تمباکو نوشی کے اجزا پر ریسرچ ہوئی، تو اس کے مضر اثرات منظرِ عام پر آنے لگے۔ اُس وقت تک سگریٹ نوشی سے ہونے والی اموات کا ریکارڈ بھی دست یاب نہ تھا۔

پھر 1920ء میں جرمن سائنس دانوں نے سب سے پہلے سگریٹ نوشی اور پھیپھڑوں کے سرطان کے درمیان تعلق کا واضح ثبوت دریافت کیا اور اس کے ساتھ ہی جدید تاریخ میں پہلی مرتبہ سگریٹ نوشی کے خلاف مہم شروع ہوئی۔ 1950ء میں برطانوی سائنس دانوں نے مزید تجربات کے بعد، سگریٹ نوشی سے پھیپھڑوں کے سرطان کے درمیان تعلق پر مُہرِ تصدیق ثبت کر دی۔ 1960ء میں مزید ثبوت سامنے آئے۔ تمباکو نوشی کے خلاف مہم کے مثبت اثرات ترقّی یافتہ ممالک میں زیادہ دیکھنے میں آئے، جہاں سگریٹ پینے کا رجحان کم ہونے لگا۔

البتہ ترقّی پذیر اور پس ماندہ ممالک میں ایسی مہمّات کا کوئی خاطر خواہ نتیجہ سامنے نہ آیا۔ 2008ء سے 2015ء تک کی سروے رپورٹس کے مطابق، دنیا کے 14ایسے ممالک میں، جہاں عوام کی اوسط آمدنی کم یا درمیانے درجے کی تھی، 15سال سے زائد عُمر کے 49فی صد مَرد اور 11فی صد عورتیں سگریٹ نوشی کی لت میں مبتلا تھیں۔ اِن ممالک میں بنگلا دیش، برازیل، چین، مصر، بھارت، میکسیکو، فلپائن، روس، تھائی لینڈ، تُرکیہ، یوکرین، یوراگوئے اور ویت نام شامل تھے۔

اِن ممالک میں تمباکو کا 80فی صد استعمال سگریٹ نوشی کی صُورت تھا۔ وقت کے ساتھ تمباکو نوشی پر مزید ریسرچ کی گئی۔ اِس دوران سگریٹ نوشی سے متعلق متعدّد سروے کیے گئے۔ لیبارٹریز میں ریسرچ کی گئی اور اس عادت کے ہر پہلو کو تحقیق کی کسوٹی پر پرکھا گیا۔ عالمی ادارۂ صحت کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق، دنیا میں ہر سال 80ملین (8کروڑ) افراد سگریٹ نوشی کے نتیجے میں موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ 2020ء کی ایک تحقیق سے پتا چلا کہ سگریٹ پینے کی عادت بالعموم لڑکپن یا نوجوانی میں پڑتی ہے۔

اِس ضمن میں ساتویں، آٹھویں جماعت کے طلبہ کی اکثریت کا کہنا تھا کہ اُنہیں یہ عادت سگریٹ کے اشتہارات دیکھ کر لگی۔ دیگر وجوہ میں والدین، رشتے داروں اور دوستوں سے متاثر ہونا تھا، جنھیں دیکھ کر اُنھیں بھی سگریٹ پینے کا شوق چرایا۔ اکثر نوجوانوں نے بتایا کہ وہ صرف تجربے، خوشی یا سرور کے لیے سگریٹ پینے لگے، مگر چند سالوں میں یہ عادت اِتنی پختہ ہو گئی کہ اگر چھوڑنا چاہیں، تو بے چینی، سر درد، قے جیسی علامات پیدا ہو جاتی ہیں، جس کے بعد دوبارہ سگریٹ پینے لگتے ہیں۔ ایک طرح سے وہ اِس نشے کے عادی ہو گئے۔ سگریٹ نوشی شروع کرنے کا ایک اور بڑا سبب دوستوں کا ایسا حلقہ تھا، جس میں اکثر یا کئی اِس عادت کا شکار تھے۔

برسوں کی ریسرچ کے بعد ثابت ہو چُکا کہ تمباکو نوشی، خواہ کسی بھی شکل میں ہو، صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔ ایک قابلِ ذکر بات یہ بھی ہے کہ تمباکو نوشی سے مرنے والوں کی اکثریت اِس عادت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی جسمانی اور ذہنی پیچیدگیوں سے مرتی ہے اور لمحۂ فکریہ تو یہ بھی ہے کہ اِن لوگوں کو موت سے بچایا جا سکتا تھا۔ یہ ایسی موت ہے، جو خود بلانے سے آتی ہے۔ ایک حالیہ سروے سے معلوم ہوا کہ سگریٹ پینے والے، سگریٹ نہ پینے والوں کے مقابلے میں 10سال پہلے مر جاتے ہیں۔

عالمی ادارۂ صحت کا کہنا ہے کہ ہر سال 8کروڑ افراد تو براہِ راست سگریٹ نوشی سے مرتے ہیں، لیکن 16لاکھ افراد ایسے بھی ہیں، جو سگریٹ نوشی سے پھیلنے والے دھویں سے، جسے’’Secondhand Smoke‘‘کہا جاتا ہے، مرتے ہیں۔ 20ویں صدی میں مجموعی طور پر 10کروڑ افراد سگریٹ نوشی سے موت کے منہ میں چلے گئے۔ ماہرین کے مطابق، سگریٹ کے دھویں میں 70سے زائد ایسے کیمیائی اجزا ہیں، جنہیں’’ Carcinogens‘‘کہا جاتا ہے اور یہ اجزا مختلف اقسام کے کینسرز کا باعث بن سکتے ہیں۔

اِس فہرست میں نکوٹین بھی شامل ہے، جس کا شمار’’ psychoactive drugs‘‘ میں ہوتا ہے۔ جب نکوٹین، دھویں کے ساتھ جسم کے اندر جاتی ہے، تو آہستہ آہستہ جسم اور ذہن اس کا عادی یا محتاج ہو جاتا ہے اور اگر یہ انسان کو باقاعدگی سے نہ ملے، تو جسم میں درد، الجھن، بے چینی اور سگریٹ کی شدید خواہش پیدا ہونے لگتی ہے۔ اکثر ترقّی پذیر ممالک میں جو سگریٹ فروخت کیے جاتے ہیں، اُن میں فلٹر بھی نہیں ہوتا کہ جو نقصان کی شدّت میں کچھ کمی کر دیتا ہے۔

سگریٹ نوشی سے جو امراض پیدا ہو سکتے ہیں، وہ دل، جگر اور پھیپھڑوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ نمونیا، سانس کی بیماریوں اور اسٹروک سے بھی اس کا تعلق ہے۔ یہ عادت پھیپھڑوں کے علاوہ منہ اور مثانے کے سرطان کا موجب بھی بن سکتی ہے، جب کہ ہائی بلڈ پریشر سے بھی اس کا گہرا تعلق ہے۔ تاہم اِن تمام بیماریوں کا تعلق اِس امر سے ہے کہ کوئی شخص کتنے عرصے سے اور کس مقدار میں سگریٹ پیتا ہے۔

نیز، خواتین کے لیے ایک خطرناک بات یہ بھی ہے کہ سگریٹ نوشی سے حمل گرنے کا خدشہ موجود رہتا ہے، اس کے علاوہ زچگی کے دوران کئی پیچیدہ مسائل کا بھی اِس عادت سے تعلق ثابت ہوا ہے۔ ایسے ہی خطرات کے پیشِ نظر بہت سے ممالک نے سگریٹ نوشی پر قابو پانے کے لیے مختلف نوعیت کے سماجی اور قانونی اقدامات کیے ہیں۔ جیسے سگریٹ کے پیکٹس پر انتباہی کلمات اور پبلک مقامات پر سگریٹ نوشی پر پابندی۔

نیز، اِس عادت کی حوصلہ شکنی کے لیے سگریٹ کے نرخوں میں بھی مسلسل اضافہ کیا جاتا ہے۔ اِنہی اقدامات کے سلسلے میں ہر سال 31مئی کو تمباکو نوشی کے خلاف عالمی دن منایا جاتا ہے۔ اِس موقعے پر عوام النّاس کو اس کے نقصانات سے آگہی فراہم کرنے کے لیے خصوصی مہمّات چلائی جاتی ہیں۔ مختلف اندازوں کے مطابق، اِس وقت دنیا بھر میں ایک ارب سے زائد افراد سگریٹس کے ذریعے تمباکو استعمال کرتے ہیں اور یہ تعداد نظامِ صحت کے لیے کسی سنگین خطرے سے کم نہیں۔

پاکستان میں سگریٹ نوشی

پاکستان میں مختلف نشوں میں مبتلا مرد و خواتین کے اعداد و شمار تو دست یاب ہیں، لیکن سگریٹ نوشی میں مبتلا افراد کی تعداد کا تعیّن بہت مشکل ہے کہ بہت سے کیسز میں یہ عادت کئی پردوں کے پیچھے چُھپی ہوتی ہے۔ تاہم، قدم قدم پر سگریٹ کے کھوکھے اِس عادت کے بڑھتے رجحان کے مظہر ہیں۔ نوجوان لڑکے، والدین اور بزرگوں سے چُھپ کر سگریٹ پیتے ہیں، اِسی لیے لاتعداد افراد کا کوئی ریکارڈ نہیں، تاہم سرکاری سطح پر جو محتاط اندازے لگائے گئے ہیں، اُن کے مطابق پاکستان میں ایک کروڑ 80لاکھ بالغ افراد سگریٹ پیتے ہیں۔

اندازہ ہے کہ پاکستان میں سگریٹ نوشی سے پیدا ہونے والے امراض میں مبتلا ہو کر سالانہ ایک لاکھ 92ہزار افراد مر جاتے ہیں۔ پاکستان میں سگریٹ نوشی پر پابندی نہیں، لیکن پبلک مقامات پر، یعنی سرِعام سگریٹ پینا خلافِ قانون ہے۔ سگریٹ پینے والوں میں 22فی صد مَرد اور 2فی صد خواتین ہیں۔ پنجاب میں سگریٹ نوشی کی شرح سب سے زیادہ ہے۔

نیز، پاکستان میں 37لاکھ افراد حقّہ اور شیشہ پیتے ہیں۔ یہاں اسموکنگ پر جتنی رقم خرچ کی جاتی ہے، وہ مجموعی قومی پیداوار کا 1.6فی صد ہے اور رقم اربوں میں ہے، یعنی 615ارب، جب کہ پوری دنیا میں تمباکو انڈسٹری کا حجم ایک کھرب ڈالر ہے۔

پاکستان میں تمباکو انڈسٹری کا حجم 200ارب روپے سالانہ ہے، جب کہ تمباکو ایک نقد آور فصل ہے، جو زیادہ تر خیبر پختون خوا میں کاشت کی جاتی ہے۔ اِس امر میں شک نہیں کہ پاکستان میں قومی اور صوبائی سطح پر سگریٹ نوشی کے خلاف آگہی مہمّات زور و شور سے چلائی جاتی ہیں، لیکن خالصتاً تمباکو استعمال کرنے کے خلاف عملی طور پر کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی، لہٰذا یہ مہمّات صرف خانہ پُری تک محدود ہیں، جب کہ لاتعداد سگریٹ نوش، ایک قدم آگے بڑھ کر چرس، افیون اور ہیروئن وغیرہ جیسے نشوں کی خطرناک وادیوں میں اُتر گئے۔

اِن میں سے اکثریت کی ابتدا سادہ سگریٹ پینے ہی سے ہوئی تھی۔ درجنوں سرکاری اور غیر سرکاری اداروں کی موجودگی کے باوجود خطرناک نشوں نے جس طرح معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے، یہ امر کسی سے ڈھکا چُھپا نہیں۔ اِس ضمن میں ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے اقدامات کرنے چاہئیں، جن کے نتیجے میں لوگ سگریٹ نوشی کی اگلی سیڑھی پر قدم نہ رکھنے پائیں۔ اخبارات یا الیکٹرانک میڈیا پر سگریٹ نوشی کے اشتہارات پر پابندی اور پیکٹس پر انتباہی کلمات کا اندراج اچھے فیصلے ہیں، لیکن تمباکو نوشی کے خلاف منظّم اور عملی اقدامات آج بھی متعلقہ حکّام کی توجّہ کے منتظر ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اِس سلسلے میں والدین اور اساتذہ پر بھی بھاری ذمّے داریاں عائد ہوتی ہیں۔ سگریٹ نوشی کی عادت بالعموم 14سے 20سال کی عُمر میں شروع ہوتی ہے اور یہی وقت بچّوں کی کڑی نگرانی کا ہوتا ہے۔ بچّوں کے میل جول، دوستوں، روزمرّہ کے معمولات اور موبائل کے استعمال وغیرہ پر نظر رکھنی چاہیے، لیکن بدقسمتی سے بہت سے والدین اپنی مصروفیات کے سبب ایسا نہیں کرپاتے۔

پھر یہ کہ سگریٹ کی قیمتوں میں اضافہ بھی اِس عادت کی حوصلہ شکنی کا باعث بن سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق، اگر سگریٹ کی قیمتوں میں 5فی صد اضافہ کر دیا جائے، تو آگے چل کر سگریٹ نوشی کی شرح میں 11.7فی صد تک کمی واقع ہو سکتی ہے۔ پاکستان میں سگریٹ نوشی سے جو بیماریاں پیدا ہوتی ہیں، اُن کے علاج معالجے سے قومی معیشت پر بوجھ کا اندازہ 615ارب روپے لگایا گیا ہے۔

اِس بُری عادت کے خلاف ہنگامی بنیادوں پر قومی مہم چلانے کی ضرورت ہے تاکہ سگریٹ نوش اپنی زندگیاں دھویں میں تحلیل نہ کریں۔ نوجوانوں کو بتانے کی ضرورت ہے کہ جب وہ سگریٹ پیتے ہیں، تو وہ سگریٹ نہیں پیتے، بلکہ سگریٹ اُنہیں پی رہی ہوتی ہے اور یہ بھی کہ وہ سگریٹ نوشی تَرک کرتے ہیں، تو جسم کے اندر خود بخود شفایابی کا عمل شروع ہو جاتا ہے، لہٰذا، اُنھیں ہمّت اور حوصلے سے یہ عادت چھوڑنے کی کوشش کرنی چاہے۔