• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دنیا بھر میں ہر سال31مئی کو’’ World No Tobacco Day ‘‘منایا جاتا ہے۔ یہ دن صرف ایک تقریب نہیں، بلکہ عالمی الارم ہے، جو ہمیں یاد دِلاتا ہے کہ تمباکو کی وبا ہر سال80 لاکھ سے زائد انسانوں کی جان لے لیتی ہے۔ عالمی ادارۂ صحت نے2026ء کے لیے ’’Unmasking the appeal: countering nicotine and tobacco addiction‘‘ تھیم منتخب کیا ہے۔

تمباکو انڈسٹری اب سگریٹ کے روایتی پیکٹ سے بہت آگے نکل چُکی ہے۔ اب وہ نکوٹین کو رنگین فلیورز، چمکتی ویپ ڈیوائسز، سلم سگریٹ، نکوٹین پاؤچز اور’’کم نقصان دہ‘‘ کے جھوٹے لیبل میں لپیٹ کر پیش کر رہی ہے۔ مقصد صرف ایک ہے، نئی نسل کو اِس لت میں مبتلا کرنا اور یہ تھیم اِسی دھوکے کا پردہ چاک کرنے کی ایک اپیل ہے۔

نوجوان دماغ، تمباکو انڈسٹری کا سب سے بڑا اور آسان ہدف

دنیا بھر میں13 سے15 سال کی عُمر کے تقریباً تین کروڑ70 لاکھ سے زائد بچّے کسی نہ کسی شکل میں تمباکو استعمال کر رہے ہیں، جن میں ایک کروڑ30 لاکھ لڑکیاں ہیں۔ عالمی ادارۂ صحت کےGlobal Youth Tobacco Survey سے پتا چلتا ہے کہ تمباکو انڈسٹری کا ہدف بالکل واضح ہے، یعنی کم عُمر دماغ۔ سائنس کے مطابق، انسانی دماغ 25 سال کی عُمر تک مکمل طور پر نشوونما پاتا ہے۔

اس سے پہلے نکوٹین کا استعمال دماغ کے پِری فرنٹل کارٹیکس کو متاثر کرتا ہے اور یہ وہ حصّہ ہے، جو فیصلہ سازی، خطرے کا اندازہ لگانے، جذباتی کنٹرول اور انعامی نظام چلاتا ہے۔ جب14 سال کا بچّہ پہلی بار ویپ کا کش لگاتا ہے، تو نکوٹین10 سیکنڈ میں دماغ تک پہنچ کر ڈوپامین کا سیلاب لاتی ہے۔

دماغ اِس احساس کو یاد رکھتا ہے اور پھر وہ بار بار اِس کا تقاضا کرتا ہے۔ یہی لت اور Dependancy کی بنیاد ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جو بچّہ18سال سے پہلے تمباکو کا استعمال شروع کرتا ہے، اُس کے بالغ ہونے تک سگریٹ چھوڑنے کے امکانات90 فی صد کم ہو جاتے ہیں۔

سگریٹ سے منشیات تک کا سفر

یہاں یہ کہانی صرف سگریٹ کے استعمال تک نہیں رُکتی۔ اِسے ماہرین’’گیٹ وے ایفیکٹ‘‘ یعنی کسی کم نقصان دہ یا ابتدائی عادت کا آہستہ آہستہ زیادہ خطرناک یا سنگین عادت کی طرف لے جانا کہتے ہیں۔ کم عُمری میں نکوٹین دماغ کے نیورل سرکٹس کو اِس طرح ری وائر کر دیتی ہے کہ وہ دوسری منشیات کے لیے بہت زیادہ حسّاس ہو جاتا ہے۔ جب نکوٹین کا عام اثر معمول بن جاتا ہے، تو دماغ زیادہ تیز اور طاقت وَر ڈوپامین ہٹ مانگتا ہے۔

یہیں سے شیشہ، فلیورڈ ویپ اور پھر ماریجوانا، یعنی چرس کا راستہ کُھلتا ہے۔ نوجوان اسے’’سافٹ ڈرگ‘‘ سمجھ کر شروع کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا، ویب سیریز اور دوستوں کی محفل اسے’’کُول‘‘ بنا کر پیش کرتی ہے، مگر جسم کا ٹالرینس (Tolerance) بڑھتا جاتا ہے۔ جو سکون پہلے چرس کے ایک سگریٹ سے ملتا تھا، اب نہیں ملتا۔ تب دماغ زیادہ طاقت وَر منشیات کی طرف دیکھتا ہے۔

ہیروئن، آئس، یعنی میتھ ایمفیٹامین، کوکین اس کا اگلا ہدف ہوتے ہیں۔ یہ منتقلی ایک دن میں نہیں ہوتی، یہ مہینوں اور سالوں کا سفر ہے، جس کی پہلی سیڑھی اکثر سگریٹ یا ویپ ہوتی ہے۔ اینٹی نارکوٹکس فورس کے بحالی مراکز کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ علاج کے لیے آنے والے80 فی صد سے زائد ہیروئن کے مریضوں نے اپنی زندگی کی پہلی نشہ آور چیز سگریٹ یا چرس بتائی۔

انجیکشن کے استعمال کا خطرناک مرحلہ

اِس لت کا سفر صرف منشیات کی طاقت میں اضافے تک محدود نہیں رہتا، بلکہ استعمال کے طریقوں میں بھی تبدیلی آتی جاتی ہے۔ شروع میں انسان سگریٹ پیتا ہے یا ویپ استعمال کرتا ہے۔ پھر پاڈر(ہیروئن)سونگھنے لگتا ہے اور آخرکار جب جسم ہر چیز کا عادی ہو جاتا ہے، تو انجیکشن، یعنی سرنج کے ذریعے نشے کے استعمال کا مرحلہ آ جاتا ہے۔ انجیکشن اِس لیے بھی خطرناک ہے کہ یہ منشیات کو سیدھا خون میں پہنچا دیتا ہے۔ اثر فوری اور شدید ہوتا ہے، جب کہ اِس کے ساتھ بیماریوں کا دروازہ بھی کُھل جاتا ہے۔

دنیا بَھر میں انجیکشن ڈرگ یوزرز، یعنی PWIDs/IDUs ایچ آئی وی/ایڈز، ہیپاٹائٹس بی، ہیپاٹائٹس سی اور سوزاک کے پھیلاؤ کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں۔ وجہ سادہ ہے، سرنجز کا مشترکہ استعمال۔ جب ایک سرنج5 یا اس سے زیادہ افراد استعمال کرتے ہیں، تو ایک کا خون دوسرے کے خون میں شامل ہو جاتا ہے اور یوں کسی ایک شخص میں موجود بیماریاں دوسرے شخص میں منتقل ہو جاتی ہیں۔

UNAIDS کی رپورٹ کے مطابق، IDUs میں ایچ آئی وی کا خطرہ عام آبادی سے35 گُنا زیادہ ہوتا ہے۔ ہیپاٹائٹس سی کے لیے یہ خطرہ50 گُنا تک چلا جاتا ہے، کیوں کہ HCV کا وائرس خشک خون میں بھی کئی دنوں تک زندہ رہ سکتا ہے۔

پاکستان، تمباکو نوشی اور منشیات کے بحران کا مرکز

پاکستان اِس بحران کے عین مرکز میں کھڑا ہے۔ ہمارے مُلک میں اندازاً تین کروڑ سے زائد افراد تمباکو کسی نہ کسی شکل میں استعمال کرتے ہیں۔ ہر سال تقریباً ایک لاکھ60 ہزار پاکستانی تمباکو سے جُڑی بیماریوں، جیسے دل کے دورے، فالج، پھیپھڑوں کے کینسر، سی او پی ڈی اور منہ کے کینسر سے مر جاتے ہیں۔ یہ روزانہ تقریباً438 اموات بنتی ہیں۔

گلوبل یوتھ ٹوبیکو سروے کے مطابق، پاکستان میں13 سے15 سال کے10.7 فی صد لڑکے اور 6.6فی صد لڑکیاں تمباکو استعمال کر رہے ہیں۔ کراچی، لاہور، اسلام آباد، پشاور اور کوئٹہ کے بڑے اسکولز اور یونی ورسٹیز کے باہر ویپ شاپس کا جال بچھا ہوا ہے۔ ’’زیرو نکوٹین‘‘ کا لیبل لگا کر فروخت ہونے والے فلیورز کی لیبارٹری ٹیسٹنگ ہوئی، تو 70فی صد میں نکوٹین پائی گئی۔ یہ نوجوانوں کے ساتھ صریح دھوکا ہے۔

منشیات، انجیکشن کا استعمال اور مہلک بیماریوں کا گٹھ جوڑ

تمباکو سے شروع ہونے والی یہ زنجیر جب انجیکشن تک پہنچتی ہے، تو بیماریوں کا بوجھ ناقابلِ برداشت ہو جاتا ہے۔ پاکستان میں تقریباً10 لاکھ افراد انجیکشن کے ذریعے منشیات لیتے ہیں۔ نیشنل ایڈز کنٹرول پروگرام کے مطابق ان میں ایچ آئی وی کی شرح21 فی صد سے تجاوز کر چکی ہے۔ یعنی ہر5میں سے ایک انجیکشن استعمال کرنے والا، ایچ آئی وی پازیٹو ہے، جب کہ کراچی میں یہ شرح24 فی صد تک پہنچ چُکی ہے- ہیپاٹائٹس سی کے ضمن میں صُورتِ حال اِس سے بھی بدتر ہے۔

پاکستان کا شمار دنیا کے اُن ممالک میں ہوتا ہے، جہاں ایچ سی وی کا بوجھ سب سے زیادہ ہے۔ ایک کروڑ سے زائد پاکستانی ہیپاٹائٹس سی کے ساتھ زندہ ہیں۔ اور IDUs میں یہ شرح 90فی صد تک ہے۔ یعنی جو نوجوان16 سال کی عُمر میں شوق سے سگریٹ شروع کرتا ہے، وہ25سال کی عُمر تک انجیکشن، ایچ آئی وی اور ہیپاٹائٹس سی کے چنگل میں پھنس سکتا ہے۔

یہ صرف اس کی زندگی ہی نہیں، پورے خاندان کی تباہی ہے کہ Interferon اور Direct Acting Antivirals ہر کسی کی پہنچ میں نہیں۔ نتیجتاً جگر کا فیل ہونا، لیور کینسر اور پھر موت ہی مقدّر بنتی ہے۔

دل کی بیماریاں، کینسر، ذیابطیس اور فالج

تمباکو نوشی’’ Non-Communicable Diseases‘‘ کا سب سے بڑا روکا جا سکنے والا سبب ہے۔ NCDs وہ بیماریاں ہیں، جو ایک انسان سے دوسرے کو نہیں لگتیں، مگر زندگی بَھر ساتھ رہتی ہیں۔ جیسے دل کی بیماریاں، فالج، ذیابطیس، سرطان، سانس کی دائمی بیماریاں وغیرہ۔ عالمی ادارۂ صحت کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں ہونے والی41ملین سالانہ اموات میں سے74فی صد NCDs کی وجہ سے ہوتی ہیں اور تمباکو اِن اموات میں8ملین کا حصّے دار ہے۔

پاکستان میں NCDs تمام اموات کا60فی صد ہیں۔ ہمارے اسپتالوں کے کارڈیالوجی وارڈز میں40سال سے کم عُمر کے ہارٹ اٹیک کے مریضوں میں75فی صد تمباکو نوش ہیں۔ منہ کا سرطان، جو تمباکو نوشی یعنی گٹکے، نسوار اور پان سے ہوتا ہے، پاکستان میں مَردوں میں سب سے عام کینسر ہے۔

شوگر کے مریض اگر سگریٹ پیتے ہیں، تو اُن کے پاؤں کٹنے، اندھے پن اور گُردے فیل ہونے کا خطرہ چار گُنا بڑھ جاتا ہے۔ تمباکو صرف پھیپھڑے نہیں جلاتا، پورے جسم کی شریانیں سخت اور خون گاڑھا کرنے کے ساتھ، ہر عضو کو آکسیجن سے محروم کرتا ہے۔

ڈیپریشن سے جرائم تک

رویّوں کی تبدیلیاں بھی تمباکو اور نکوٹین کی لت کا بڑا نتیجہ ہیں۔نکوٹین ودڈرال (Withdrawal ) میں چڑچڑاپن، ڈیپریشن، توجّہ کی کمی، نیند کی خرابی عام ہیں۔ نوجوان تعلیم چھوڑ دیتے ہیں، جارحیت بڑھ جاتی ہے۔ گھر میں چوری، جھوٹ اور تشدّد کے واقعات جنم لیتے ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق، منشیات کے60فی صد عادی افراد بے روزگار ہو جاتے ہیں۔ وہ معاشرے پر بوجھ بن جاتے ہیں، جرم کی طرف مائل ہوتے ہیں اور یہ سب ایک سگریٹ سے شروع ہونے والی کہانی کا دردناک اور بھیانک انجام ہے۔

ایک روپے کے بدلے چار روپے کی بربادی

معاشی بوجھ کا اندازہ لگائیں، تو پاکستان تمباکو سے سالانہ تقریباً 615 ارب روپے کا نقصان اُٹھاتا ہے۔ اس میں علاج کا خرچ، وقت سے پہلے موت اور پیداواری صلاحیت کا نقصان شامل ہیں۔

اس کے مقابلے میں تمباکو انڈسٹری سے ٹیکس کی مَد میں حکومت کو 150 ارب روپے سے بھی کم ملتے ہیں۔ یعنی ہم ایک روپیا کمانے کے لیے چار روپے کا نقصان کر رہے ہیں۔ یہ کیسی معیشت اور کیسی پالیسی ہے؟

قانون موجود، عمل درآمد کم زور

متعلقہ وزارت اور اداروں نے کئی قوانین بنائے ہیں، جن کے تحت سگریٹ کے ڈبّوں پر 60فی صد تصویری وارننگ لازم ہے۔ عوامی مقامات، تعلیمی اداروں اور پبلک ٹرانسپورٹ میں سگریٹ نوشی پر پابندی ہے۔ 18 سال سے کم عُمر کو یہ فروخت نہیں کی جاسکتی۔ اِی سگریٹ کی درآمد پر پابندی ہے، مگر زمینی حقیقت کیا ہے؟ ہر گلی کے کھوکھے پر کُھلے عام سگریٹ بِک رہے ہیں۔

اسکول کے گیٹ پر ویپ فروخت ہو رہا ہے۔ سوشل میڈیا انفلوئنسرز’’ویپ ٹرکس‘‘ دِکھا کر بچّوں کو متاثر کر رہے ہیں۔ تمباکو انڈسٹری(CSR)کارپوریٹ سوشل ریسپانسبیلٹی کے نام پر میوزک کنسرٹس اور اسپورٹس ایونٹس اسپانسر کرتی ہے۔ یہ سب قانون کی خلاف ورزی ہے، مگر عمل درآمد کم زور ہے۔ جب کہ پاکستان، عالمی ادارۂ صحت کے متعلقہ کنونشن کے آرٹیکل5.3 کا دست خط کنندہ ہونے کے باوجود اس پر مکمل عمل درآمد نہیں کر رہا۔

اِس شِق کے تحت پالیسی سازی کو تمباکو انڈسٹری کے اثر سے محفوظ رکھنا ضروری ہے، مگر عملی طور پر ایسا نظر نہیں آتا۔ تمباکو سے متعلق مالیاتی فیصلوں میں وزارتِ صحت کا کردار محدود ہے اور توجّہ زیادہ تر ریونیو پر دی جاتی ہے۔ یہ رویّہ عوامی صحت پسِ پُشت ڈالنے کے مترادف ہے، جو آرٹیکل 5.3 کی رُوح کے خلاف ہے۔

حل کے چار محاذ

حل کیا ہے؟ حل صرف حکومت کے پاس نہیں۔ یہ ہم سب کی جنگ ہے۔ اِس ضمن میں چار اہم محاذ ہیں۔ (1)گھر سے شروع ہونے والی ذمّے داری: پہلا محاذ ہے، فرد اور گھر۔ والدین کو سمجھنا ہوگا کہ بچّے وہ نہیں کرتے، جو آپ کہتے ہیں، وہ کرتے ہیں، جو آپ کو کرتا دیکھتے ہیں۔ اگر گھر میں باپ سگریٹ پی رہا ہے، تو بیٹے کو روکنا مشکل ہے۔ والدین کو خود تمباکو چھوڑنا ہوگا۔ بچّوں سے روز بات کریں۔ اُن کے دوستوں کو جانیں۔

اُن کے بیگ چیک کریں۔ ویپ ایک پین یا USB جیسی ڈیوائس میں آتی ہے، اُسے پہچانیں۔ اگر بچّہ بیمار ہے، ڈیپریشن کا شکار ہے، تو ڈانٹنے کی بجائے ڈاکٹر کے پاس لے جائیں۔ بیوہ ماؤں کا خاص خیال رکھیں کہ تنہائی اُنھیں تمباکو اور پھر منشیات کی طرف دھکیلتی ہے۔ اُنہیں فیصلوں میں شامل کریں۔ عزّت اور وقت دیں۔(2) اسکول اور کمیونٹی کا کردار: دوسرا محاذ ہے اسکول، کالج اور کمیونٹی کا۔ نصاب میں پانچویں کلاس سے تمباکو اور منشیات کے نقصانات شامل کیے جائیں۔

صرف ڈرانا نہیں، سائنس سمجھانی ہے۔ نکوٹین دماغ کے ساتھ کیا کرتی ہے، یہ بتانا ہے۔ اسکولز میں رینڈم چیکنگ ہو۔ کاؤنسلنگ سینٹرز ہوں۔ اساتذہ کو تربیت دی جائے کہ وہ ابتدائی علامات پہچان سکیں۔ محلّے میں اسپورٹس کلب، لائبریری، اِسکل سینٹرز بنائے جائیں تاکہ نوجوانوں کو مثبت مصروفیت ملے۔

مسجد، امام بارگاہ، چرچ، مندر، ہر مذہبی پلیٹ فارم سے تمباکو کے خلاف بات ہو کہ تمام مذاہب نشے سے منع کرتے ہیں۔(3)ریاستی پالیسی اور قانون سازی: تیسرا محاذ ہے ریاست اور قانون۔ حکومت تمباکو پر ٹیکس GDP کے70 فی صد تک لے جائے۔ عالمی ادارۂ صحت کہتا ہے کہ قیمت میں10 فی صد اضافہ نوجوانوں میں استعمال12فی صد کم کر دیتا ہے۔ سادہ پیکجنگ یعنی Plain Packaging لازم کی جائے۔ آسٹریلیا نے یہ کر کے نوجوانوں میں سگریٹ نوشی25 فی صد کم کر دی۔

اشتہارات پر مکمل پابندی، بشمول ڈیجیٹل اور سرروگیٹ(Surrogate Advertising)، متبادل ایڈورٹائزنگ، ویپ اور نکوٹین پاؤچز پر مکمل پابندی ہونی چاہیے۔خصوصاً خیبر پختون خوا کے مخصوص اضلاع میں تمباکو کاشت کرنے والے کسانوں کی متبادل فصلوں کی طرف منتقلی کے لیے سبسڈی دی جائے۔ جب کہ تَرکِ تمباکو کلینک ہر تعلقے اور ضلعی اسپتال میں بنائے جائیں۔1166 جیسی صحت کی ہیلپ لائن فعال کی جائے، جہاں24 گھنٹے ماہرِ نفسیات اور ڈاکٹر مدد کے لیے موجود ہوں۔(4) سوچ بدلے گی، تو معاشرہ بدلے گا: چوتھا اور سب سے اہم محاذ ہے، ذہنیت اور سوچ کی تبدیلی۔ ہمیں ماننا ہوگا کہ سگریٹ’’کُول‘‘ نہیں ہے۔ وہ ’’اسٹریس ریلیور‘‘ نہیں ہے، اسٹریس پیدا کرتی ہے۔ نکوٹین کا اثر30 منٹ میں ختم ہوتا ہے، پھر ودڈرال شروع ہوتا ہے۔ وہ بے چینی، جسے ہم سگریٹ سے بُجھاتے ہیں، اُسے سگریٹ ہی نے پیدا کیا تھا۔ یہ ایک دائرہ ہے، جسے ہمیں ہر حال میں توڑنا ہوگا۔

ماسک اُتارو، نسل بچاؤ

عالمی یومِ انسدادِ تمباکو2026 ء ہمیں کہہ رہا ہے کہ تمباکو انڈسٹری نے دل کشی کا جو ماسک پہنا ہوا ہے، اُسے اُتار پھینکو۔ اس کے پیچھے کینسر، ایچ آئی وی اور ہیپاٹائٹس ہے۔ ٹوٹے ہوئے خاندان، یتیم بچّے اور قبرستان ہیں۔ اگر ہم نے آج اسے بے نقاب نہ کیا، تو کل ہماری نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔31 مئی کا دن ہمیں یاد دِلاتا ہے کہ تمباکو نوشی ایک عادت نہیں، بیماری ہے، جو نکوٹین کی لت سے شروع ہو کر منشیات، انجیکشن، ایچ آئی وی، ہیپاٹائٹس بی/ سی، دل کے امراض، فالج، سرطان اور وقت سے پہلے موت تک لے جاتی ہے۔

پاکستان میں تین کروڑ سے زائد افراد تمباکو استعمال کرتے ہیں اور سالانہ ایک لاکھ60 ہزار اموات ہوتی ہیں۔ نوجوان ویپ اور فلیورڈ نکوٹین سے لت کا شکار ہوتے ہیں، جو گیٹ وے بن کر اُنہیں چرس، آئس اور ہیروئن تک لے جاتی ہے۔ انجیکشن کے مشترکہ استعمال سے ایچ آئی وی اور ہیپاٹائٹس کی وَبا پھیل رہی ہے۔ اس کا معاشی بوجھ615 ارب روپے سالانہ ہے۔

حل صرف قانون میں نہیں، گھر، اسکول، کمیونٹی اور ذہنیت کی تبدیلی میں ہے۔ والدین وقت دیں، ریاست ٹیکس اور سادہ پیکجنگ لائے، نصاب میں آگاہی ہو اور ہم سب مل کر دِل کشی کے اِس دھوکے کو بے نقاب کریں، کیوں کہ ترکِ تمباکو نوشی کا عمل صرف ایک جان نہیں، پوری نسل بچاتا ہے۔

(مضمون نگار، پبلک ہیلتھ اسپیشلسٹ اور چیف میڈیکل آفیسر، محکمۂ صحت سندھ ہیں)