• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پیٹ کمنز کی زیر قیادت آسٹریلیا کا ٹیسٹ اسکواڈ 3 ٹیسٹ، 3 ون ڈے اور واحد ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچز کھیلنے کے لیے اتوار کو پاکستان پہنچے گا، یہ آسٹریلیا کا 24 برس بعد پاکستان کا پہلا دورہ ہے۔

مجموعی طور پر یہ آسٹریلیا کا پاکستان کا نواں ٹیسٹ دورہ ہوگا جبکہ 2002ء سے 2018ء کے دوران پاکستان نے دونوں ممالک کے مابین کھیلی گئی چار ٹیسٹ سیریز کی میزبانی نیوٹرل مقامات (متحدہ عرب امارات اور انگلینڈ) پر کی۔

اس حوالے سے تمام تر تفصیلات مندرجہ ذیل ہے:

1956-57ء

آسٹریلیا ٹیسٹ میچ کھیلنے پہلی مرتبہ 1956ء میں پاکستان آیا تھا، نیشنل اسٹیڈیم کراچی نے 11 سے 17 اکتوبر تک کھیلے گئے واحد ٹیسٹ کی میزبانی کی، اس میچ میں لیجنڈری فاسٹ بولر فضل محمود نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان کے لیے 13 وکٹیں حاصل کیں، اس میچ میں عبدالکاردار کی زیرقیادت پاکستان نے مہمان ٹیم کو نو وکٹوں سے شکست دی تھی۔

1959-60ء

یہ آسٹریلیا کی پاکستان میں دو یا دو سے زیادہ ٹیسٹ میچز پر مشتمل پہلی سیریز تھی، رچی بینو کی زیرقیادت آسٹریلوی ٹیم نے ڈھاکہ میں پہلا ٹیسٹ آٹھ وکٹوں سے جیتا تھا جبکہ مہمان ٹیم نے لاہور میں کھیلا گیا دوسرا ٹیسٹ میچ بھی سات وکٹوں سے جیت کر سیریز اپنے نام کی تھی، کراچی میں کھیلا گیا سیریز کا تیسرا اور آخری ٹیسٹ ڈرا ہو گیا تھا۔

1964-6

مہمان ٹیم تیسری مرتبہ 1964ء میں پاکستان آئی تھی، دونوں ممالک کے مابین اکتوبر 1964ء میں کراچی میں کھیلے گئے واحد ٹیسٹ میچ میں اسکور تو بہت زیادہ بنا تاہم میچ بغیر نتیجے کے ختم ہوا تھا، پاکستان کے خالد عباد اللّٰہ نے اپنے ڈیبیو پر سنچری اسکور کی جبکہ آسٹریلیا کے لیجنڈری بلے باز بوبی سمپسن نے میچ کی دونوں اننگز میں سنچریاں بنائیں۔

1979-80ء

تین میچز پر مشتمل یہ سیریز 1-0 سے پاکستان نے جیتی تھی، اسپنر اقبال قاسم نے 11 وکٹیں حاصل کیں، اس سیریز میں پاکستان کی قیادت جاوید میانداد نے کی تھی، لاہور اور فیصل آباد میں کھیلے گئے باقی دو ٹیسٹ ڈرا ہوئے تھے۔

1982-8

پاکستان نے 1982-83ء کی سیریز میں 3-0 سے کلین سوئپ کیا تھا، محسن خان اور ظہیر عباس میزبان ٹیم کے بیٹنگ چارٹ میں سرفہرست رہے، لیگ اسپنر عبدالقادر نے سیریز میں 22 وکٹیں حاصل کیں جبکہ کپتان عمران خان نے 13 وکٹیں لیں، اس دوران پاکستان نے کراچی ٹیسٹ نو وکٹوں، فیصل آباد ٹیسٹ ایک اننگز اور تین رنز جبکہ لاہور ٹیسٹ نو وکٹوں سے جیتا تھا۔

1988-8

نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں کھیلے گئے سیریز کے پہلے ٹیسٹ میں پاکستان کے کپتان جاوید میانداد نے یادگار ڈبل سنچری اسکور کی تھی، اس میچ میں پاکستان نے آسٹریلیا کو ایک اننگز اور 188 رنز سے شکست دی تھی، یہ رنز کے اعتبار سے اس وقت کی سب سے بڑی ٹیسٹ فتح تھی جبکہ فیصل آباد اور لاہور ٹیسٹ ڈرا ہوئے تھے۔

199

اس سیریز میں پاکستان نے ٹیسٹ تاریخ کی سب سے سنسنی خیز فتح سمیٹی تھی، میزبان ٹیم نے محض ایک وکٹ سے کراچی ٹیسٹ جیتا تھا، پھر کپتان سلیم ملک نے راولپنڈی میں شاندار ڈبل سنچری اسکور کرکے میچ بچایا تھا۔ انہوں نے لاہور میں پھر سنچری اسکور کی تھی، دونوں ممالک کے مابین ٹیسٹ سیریز 1-0 سے پاکستان کے نام رہی تھی۔

199

پاکستان میں سیریز جیتنے کے لیے آسٹریلیا کا 39 سالہ انتظار 1998ء میں ختم ہوا، مارک ٹیلر کی قیادت میں مہمان ٹیم نے تین میچوں کی سیریز 1-0 سے جیتی تھی، آسٹریلیا نے راولپنڈی میں پہلا ٹیسٹ ایک اننگز کے مارجن سے جیتا تھا، اس کے بعد مارک ٹیلر نے پشاور ٹیسٹ میں یادگار ٹرپل سنچری بنائی تھی۔ پشاور میں ہائی اسکورنگ ڈرا کے بعد، اعجاز احمد کی سنچری نے پاکستان کو کراچی ٹیسٹ ڈرا کرنے میں مدد کی تھی۔

2002-0

متحدہ عرب امارات میں تین میچوں کی سیریز میں پاکستان کی قیادت وقار یونس نے کی، انضمام الحق اور محمد یوسف سے محروم میزبان سائیڈ کو اسٹیو واہ کی زیرقیادت میدان میں اترنے والی مہمان ٹیم نے 3-0 سے کلین سوئپ کیا تھا، شارجہ میں کھیلے گئے دوسرے ٹیسٹ میں پاکستان 59 اور 53 رنز پر ڈھیر ہو گیا، یہ اب تک پاکستان کا ٹیسٹ کرکٹ سب سے کم مجموعہ ہے۔

201

دونوں ٹیموں کے درمیان دو ٹیسٹ میچز پر مشتمل سیریز انگلینڈ میں کھیلی گئی، لارڈز ٹیسٹ میں شکست کے بعد، پاکستان نے آسٹریلیا کے خلاف ہیڈنگلے لیڈز میں تین وکٹوں کی سنسنی خیز جیت کے ساتھ تقریباً 15 سالوں میں آسٹریلیا کے خلاف اپنی پہلی ٹیسٹ جیت درج کی، محمد عامر نے سات وکٹیں حاصل کرکے پاکستان کو تاریخی فتح دلائی۔

201

پاکستان نے دبئی اور ابوظہبی میں دو زبردست فتوحات ریکارڈ کر کے آسٹریلیا کو سیریز میں 2-0 سے کلین سوئپ کیا تھا۔ یونس خان، احمد شہزاد، اظہر علی اور سرفراز احمد نے شاندار بلے بازی کا مظاہر ہ کیا تھا، کپتان مصباح الحق نے ابوظہبی ٹیسٹ میں اس وقت کی مشترکہ تیز ترین ٹیسٹ سنچری اسکور کی تھی۔ لیگ اسپنر یاسر شاہ اور بائیں ہاتھ کے اسپنر ذوالفقار بابر نے مہمان بیٹرز کوسیریز کے دوران مسلسل دباؤ میں رکھا تھا۔

2018ء

پاکستان نے دو میچوں کی سیریز 1-0 سے جیتی تھی۔ سرفراز احمد کی زیرقیادت قومی کرکٹ ٹیم نے دبئی میں کھیلا گیا پہلا ٹیسٹ ڈرا کیا تاہم محمد عباس کی شاندار کارکردگی نے دوسرے ٹیسٹ میں پاکستان کو 373 رنز کی فتح دلائی تھی۔

کھیلوں کی خبریں سے مزید