• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کوئی ایک وزیراعظم بھی آئینی مدت پوری نہ کرسکا

اس برس قیامِ پاکستان کو 75 سال مکمل ہوگئے ہیں۔اس پون صدی میں جہاں ہم نے کئی کام یابیاں اپنے نام کیں، وہیں بے شمار غلطیاں بھی کیں، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے ان غلطیوں سے کوئی سبق بھی سیکھا، جس کا جواب کم از کم ہمیں تو نفی ہی میںملتا ہے۔ حکومتوں ہی کی مثال لے لیجیے، کس قدر حیرانی اور افسوس کی بات ہے کہ قیامِ پاکستان سے اب تک یعنی پاکستان کی 75 سالہ تاریخ میں کوئی ایک بھی وزیرِاعظم اپنی آئینی مدّت پوری نہیں کرسکا۔ اب تک جتنے بھی وزرائے اعظم آئے، انہیں کبھی کرپشن کے الزامات پر، تو کبھی مارشل لاءکے نتیجے میں یا پھر جبری طور پر استعفیٰ لینے سمیت کئی بہانوں سے عُہدوں سے برطرف کیاگیا۔

یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ اگر ہماری تاریخ میں کسی وزیر اعظم نے اپنی آئینی مدّت کے سب سے زیادہ دن مکمل کیے، تو وہ مُلک کے پہلے وزیر اعظم، نواب زادہ لیاقت علی خان تھے۔’’پاکستان میں اب تک کتنے افراد وزارتِ عظمیٰ کے عُہدے تک پہنچے، وہ کیا عوامل تھے، جن کی وجہ سے اُنہیں ہٹایا گیا یا وہ مستعفی ہوئےاور آئینی مدّت پوری نہ کر سکے‘‘ اس حوالے سے ذیل میں مختصر اً ایک جائزہ پیش کیا جا رہا ہے (یاد رہے، اس تجزیے میں نگراں وزرائے اعظم کی تفصیل شامل نہیں)۔

لیاقت علی خان: پاکستان کے پہلے وزیر اعظم ،نواب زادہ لیاقت علی خان یکم اکتوبر، 1895ء کو بھارت کے علاقے کرنال میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق کرنال کے ایک نام وَر نواب خاندان سے تھا۔ وہ نواب رستم علی خان کے دوسرے صاحب زادےتھے۔ لیاقت علی خان نے 1918ء میں ایم اے او کالج، علی گڑھ سے گریجویشن کیا اور اعلیٰ تعلیم کے لیے برطانیہ چلے گئے، جہاں سے قانون کی ڈگری حاصل کی۔ بعد ازاں 1922ء میں انگلینڈ بار میں شمولیت اختیار کرلی۔

لیکن جب 1923ء میں ہندوستان واپس آئے، تو مسلمانوں کے حالات دیکھ کر بہت دل برداشتہ ہوئے، یہی وجہ تھی کہ انہوں نے سیاست میں آنے کا فیصلہ کیا اور مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کرلی۔ پھر 1926ء میں یوپی سے قانون ساز اسمبلی کے رُکن اور 1940ء میں مرکزی قانون ساز اسمبلی کے رُکن منتخب ہوئے۔ 1936ء میں انہیں مسلم لیگ کا سیکریٹری جنرل بنایا گیا۔لیاقت علی خان صرف مسلم لیگ کے جاں نثار رہنما ہی نہیں، بانیٔ پاکستان، قائد ِاعظم محمّد علی جناح کے دستِ راست بھی تھے۔

یاد رہے، نواب زادہ لیاقت علی خان نے 15 اگست 1947ء کو پاکستان کے پہلے وزیر اعظم کا حلف اُٹھایا، لیکن بد قسمتی سے پاکستان کے اس مخلص، مہربان رہ نما کو ایک سازش کے تحت 16 اکتوبر 1951 ء کو راول پنڈی کے کمپنی باغ (موجودہ لیاقت باغ) میں جلسۂ عام سے خطاب کے دوران گولی مار کر شہید کردیا گیا۔ اس طرح ایک نو آباد مملکت اپنے قیام کے چار برس بعد 1951ء میں اپنے پہلے وزیرِ اعظم سے محروم ہوگئی۔ ایک طرف پاکستان کا پہلا وزیرِاعظم اپنی طبعی عُمر پوری نہ کر سکا، تو دوسری جانب لیاقت علی خان کے قتل نے پاکستانی سیاست کابھی رُخ تبدیل کرکے رکھ دیا۔

ان کی قبل از وقت موت سے جو سیاسی خلا، عدم استحکام پیدا ہوا،جو نقصان ہوا، پوری قوم اس کا خمیازہ آج تک بھگت رہی ہے۔ حیرانی کی بات تو یہ ہے کہ لیاقت علی خان کے قتل پر ایک تحقیقاتی کمیشن بھی بنایا گیا تھا، جس نے قریباً نو ماہ بعد حتمی رپورٹ تیار کی کہ ’’لیاقت علی خان کا قتل، انفرادی فعل نہیں ہو سکتا۔ اس کے پیچھے کوئی سازش ہے۔‘‘ لیکن وہ سازش کس نے کی تھی،اس میں کون لوگ ملوّث تھے، اس حوالے سے آج تک صرف قیاس آرائیاں ہی کی جا رہی ہیں۔ لیاقت علی خان مجموعی طور پر 4 سال 2 ماہ وزیر اعظم کے عُہدے پر فائز رہے۔

خواجہ ناظم الدّین: لیاقت علی خان کے قتل کے بعد 17اکتوبر 1951ء کو خواجہ ناظم الدّین نے عنانِ اقتدار سنبھالی۔وہ پہلے بنگالی تھے، جو پاکستان کے گورنر جنرل اور بعد ازاں، وزیر اعظم بھی بنے۔وہ ڈھاکا، بنگال (موجودہ بنگلا دیش) میں نواب آف ڈھاکا کے خاندان میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم برطانیہ سے حاصل کرنے کے بعد بھارت میں علی گڑھ مسلم یونی وَرسٹی سے فارغ التّحصیل ہوئے۔

بعد ازاں، برطانیہ کی کیمبرج یونی وَرسٹی سے انگریزی میں ماسٹرز کیا۔خواجہ ناظم الدّین کا شمار اعلیٰ پائے کے بنگالی رہ نماؤں میں ہوتا تھا، وہ بنگال میں وزیرِ تعلیم اور پھر وزیرِ اعلیٰ بھی رہے۔انہیں17 اپریل 1953 ء کو مذہبی فسادات سے درست طور پر نہ نمٹنے کے سبب گورنر جنرل نے اُنہیں عہدے سے برطرف کردیا تھا۔ ان کا دَورِ حکومت ایک سال چھے ماہ پر مشتمل رہا۔

محمّد علی بوگرہ: 1953 سے 1955 ء تک وزارتِ عظمیٰ پر فائز رہنے والے محمّد علی بوگرہ 19 اکتوبر 1909 ء کو مشرقی بنگال کے شہر، بارسل میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ایک متمّول گھرانے سے تھا، جو روایتی طور پر انگریزوں کے بہت قریب تھا۔ یہ خاندان ’’نواب آف بوگرہ‘‘ کے نام سے جانا جاتا تھا۔محمّد علی بوگرہ، بوگرہ میں پلے بڑھے۔ابتدائی تعلیم مقامی ہیسٹنگز ہاؤس میں حاصل کی، بعد ازاں کلکتہ کے مقامی اسلامی مدرسے (روشن خانقاہ) میں داخل ہو گئے۔ 

میٹرک کے بعد، کلکتہ یونی وَرسٹی کے پریذیڈنسی کالج پڑھنے گئے، جہاں سے انہوں نے 1930 ء میں پولیٹیکل سائنس میں بی اے کی ڈگری حاصل کی۔ 1937 میں بنگال اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور خواجہ ناظم الدین کی وزارت میں وزیرِ صحت کی حیثیت سے خدمات سر انجام دیں۔ پاکستان بننے کے بعد خارجہ اُمور میں خدمات سر انجام دینے لگے اور برما، کینیڈا اور امریکا میں پاکستانی سفیر مقرر ہوئے۔ 1953ء میں اُس وقت کے گورنر جنرل غلام محمّد نے انہیں پاکستان کا وزیر اعظم مقرّر کیا، تو انہوں نے بطور وزیر اعظم آئین سازی کے عمل کا آغاز کروایا۔

یاد رہے، ان ہی کے دَورِ حکومت میں سوویت یونین کے مقابلے میں پاک، امریکا تعلقات کی مضبوطی پر زور دیا۔ چین سے تعلقات استوار ہوئے۔ محمّد علی بوگرہ ہی نے وہ مقبول سیاسی فارمولا تجویز کیا ،جس کے تحت 1956 ءمیں پاکستان کے آئین کی بنیاد رکھی گئی۔ لیکن اپنے تمام ترمقبول اقدامات کے باوجود محمّد علی بوگرہ اُس وقت کے قائم مقام گورنر جنرل، اسکندر مرزا کی حمایت سے محروم ہو گئے ۔ یوں ان کا دورِ حکومت 17 اپریل 1953ءسے12 اگست1955 ء پر(2 سال، 117 دن) محیط رہا۔

چوہدری محمّد علی: چوہدری محمّد علی 1955ء سے 1956ء تک پاکستان کے وزیرِ اعظم رہے۔ ان کا تعلق جالندھر کے آرائیں خاندان سے تھا۔انہوں نے پنجاب یونی وَرسٹی سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی اوربرطانوی دَورِحکومت میں ان کا شمار اہم مسلمان سول سرونٹس میں ہوتا تھا۔ پاکستان کے قیام کے بعد چوہدری محمّد علی کو نئی مملکت کا جنرل سیکریٹری اور بعد میں وزیرِ خزانہ بھی بنایا گیا۔ 1955ء میں گورنر جنرل، اسکندر مرزا نے اُنہیں محمّد علی بوگرہ کی جگہ پاکستان کا وزیر اعظم نام زد کیا۔

چوہدری صاحب کی سب سے بڑی کام یابی پاکستان کاپہلا آئین تھی، جو 1956ء میں نافذ ہوا۔ انہوں نے تحریکِ پاکستان کے موضوع پر ’’Emergence of  Pakistan ‘‘کے نام سے ایک کتاب بھی تحریر کی،جس کا ترجمہ بھی’’ظہورِ پاکستان‘‘ کے نام سے شایع ہو چُکا ہے۔ 1956ء میں اُس وقت کے گورنر جنرل سے اختلافات کے باعث چوہدری محمّد علی وزارتِ عظمیٰ کے منصب سے مستعفی ہوگئے۔ ان کا دَورِ حکومت 1 سال 31 دن پر مشتمل تھا۔

حُسین شہید سہروردی: حُسین شہید سہروردی 8 ستمبر1892 ء کو مغربی بنگال میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام جسٹس سر زاہد سہروردی تھا، جو کلکتہ ہائی کورٹ کے معروف جج، جب کہ والدہ، خجستہ اختر اُردو ادب کا مایا ناز نام اور فارسی کی اسکالر تھیں۔1910 ء میں حُسین سہروردی نے سینٹ زیویئرز کالج سے سائنس میں گریجویشن کیا۔ اس کے بعد کلکتہ یورنی وَرسٹی کے شعبٔہ آرٹس میں داخلہ لیااور 1913میں عربی زبان میں ایم اے کرکے اعلیٰ تعلیم کے لیے برطانیہ چلے گئے، جہاں سینٹ کیتھرین سوسائٹی، آکسفورڈ سے سوِل لاء میں گریجویشن کیا۔ 

حُسین شہید سہروردی نے کلکتہ ہائی کورٹ سے اپنے کیریئر کا آغاز کیا۔انہیں پاک، چِین تعلقات کا معمار بھی کہا جاتا ہے کہ مغربی بلاک کے دباؤ کو خاطر میں لائے بغیر 1956ء میں چِین کا دَورہ کیا اور کمیونسٹ چِین کے ساتھ تعلقات قائم کرنے والے پاکستان کے پہلے وزیر اعظم قرار پائے۔ اس ملاقات کے بعد ہی بیجنگ میں پاکستانی سفارت خانہ قائم کیا گیا۔ اسی طرح جب 1957ء میں چو این لائی(اُس وقت کے چینی سربراہِ حکومت) پاکستان آئے، تو کراچی میں ان کا پُرتپاک استقبال کیا گیا۔ 

یہاں یہ ذکر بھی ضروری ہے کہ سہروردی وہ پہلے وزیر اعظم پاکستان ہیں، جنہوں نے جواہر لال نہرو کا نام لے کر ان پر پاکستان میں علیحدگی پسندی کی تحریکوں کی پشت پناہی کا دعویٰ کیا اور کہا کہ ’’نہرو! تقسیمِ ہند کو رول بیک کرنے کی کوشش سے باز آجائیں۔‘‘بدقسمتی سے حُسین شہید سہروردی ایک سال 35 دن ہی وزارتِ عظمیٰ کے عُہدےپر فائز رہ سکے کہ وہ اسکندر مرزا سے اختلافات کے باعث اکتوبر 1957ء میں مستعفی ہوگئے تھے۔

ابراہیم اسماعیل چندریگر: 1897ء میں گودھرا،گجرات میں پیدا ہونے والے ابراہیم اسماعیل چندریگر نے ممبئی یونی وَرسٹی سے قانون کی ڈگری حاصل کرکے احمد آباد میں وکالت شروع کی۔ 1929ء میں احمد آباد میونسپل کارپوریشن کے رکن اور 1937ء میں بمبئی اسمبلی کے رُکن منتخب ہوئے۔1940ء سے 1945ء تک بمبئی مسلم لیگ کے صدر بھی رہے۔ جب مسلم لیگ، ہندوستان کی عارضی حکومت میں شامل ہوئی، تو لیگی نمایندے کی حیثیت سے وزارتِ تجارت کا قلم دان ابراہیم اسماعیل کے سُپرد کیا گیا۔ 

آزادی کے بعد پاکستان کی مرکزی کابینہ میں اگست 1947ء تا مئی 1948ء اور اگست 1955ء تا اگست 1956ء وزیر رہے۔ سہروردی کے بعد اسکندر مرزا نے انہیں وزیر اعظم منتخب کیا، لیکن ابراہیم اسماعیل بھی اس عُہدے سے فقط دو ماہ میں مستعفی ہوگئے۔ اس طرح انہوں نے 17اکتوبر1957ءسے11 دسمبر 1957ء تک وزارتِ عظمیٰ کا قلم دان سنبھالا۔

سر ملک فیروز خان نون: ملک فیروز خان نون 7مئی 1893ء کو ضلع خوشاب کی تحصیل، بھلوال کے گاؤں ہموکہ میں پیدا ہوئے۔ وہ سر محمّد حیات نون کے صاحب زادے تھے۔ ابتدائی تعلیم پبلک اسکول بھیرہ، ضلع سرگودھا سے حاصل کی۔ 1905ء میں ایچی سن کالج، لاہور میں داخلہ لیا اور 1912ء میں اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے انگلستان چلے گئے، جہاں سے 1917ء میں بیرسٹر بن کر ہندوستان لَوٹے۔ جنوری 1918ء میں سرگودھا سے اپنی پریکٹس کا آغاز کیا۔ جنوری 1921ء تا جنوری 1927ء ہائی کورٹ میں پریکٹس کرتے رہے۔ قیامِ پاکستان کے بعد بھی وہ بیوروکرویسی اور سیاست میں سرگرم رہے۔ 

ان کے پاس دفاع و اقتصادیات، دولتِ مشترکہ،سرحدی علاقے، اُمورِ خارجہ کشمیر اور قانون کے محکمے رہے۔ 11دسمبر 1957ء کو جب ابراہیم اسماعیل چندریگر وزارتِ عظمیٰ سے مستعفی ہوئے، تو ملک فیروز خان نون نے بطور وزیراعظم پاکستان حلف اٹھایا۔ وہ پاکستان کے ساتویں وزیر اعظم تھے۔ ان کے دَورِ حکومت میں 8 ستمبر 1958ء کو گوادر کی منتقلی کا مسئلہ حل ہوا اور پاکستان کو دو ہزار چار سو مربع میل کا رقبہ واپس ملا۔7 اکتوبر 1958ء کو صدرِ پاکستان، میجر جنرل اسکندر مرزا کے اسمبلیاں، مرکزی پارلیمان، مرکزی اور صوبائی کابینہ توڑنے کے بعدانہیں برطرف کر دیا گیا۔ اس کے بعد 7اکتوبر 1958ء سے 7دسمبر 1971ءتک یہ عُہدہ (وزارتِ عظمیٰ) معطّل رہا۔

نورالامین: نورالامین کو یحییٰ خان نے آٹھویں وزیر اعظم کے طور پر منتخب کیا ، وہ پاکستان کے پہلے اور واحد نائب صدر تھے، جو اس عُہدے پر فائزرہے۔ان کا دورِ وزارتِ عظمیٰ 7 دسمبر 1971ء سے 20 دسمبر 1971ء پر محیط ہے۔ ان کا تعلق مشرقی پاکستان (موجودہ بنگلا دیش) سے تھا۔ وہ بنیادی طور پر قانون دان تھے۔ نور الامین پاکستان مسلم لیگ، مشرقی پاکستان کے رہنما تھے۔

انہی کے دَورِ حکومت میں1971 ء میں پاک، بھارت جنگ ہوئی ، جس کے نتیجے میں پاکستان کا ایک دھڑ مشرقی پاکستان علیحدہ ہوا۔ نور الامین کو مشرقی پاکستان کے حالات کابے حد دُکھ تھا اور وہ چاہتے تھے کہ پاکستان متّحد رہے۔ ان کی حبّ الوطنی کا ثبوت یہ ہے کہ گرچہ ان کا تعلق مشرقی پاکستان سے تھا، لیکن بنگلا دیش بننے کے بعد بھی وہ پاکستان ہی میں رہے۔ اُن کی وفات 1974ء میں ہوئی۔

ذوالفقار علی بھٹو: پاکستان کے نویں وزیرِ اعظم لاڑکانہ، سندھ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد سر شاہ نواز بھٹوحکومتِ بمبئی میں وزیر تھےاور جوناگڑھ کی ریاست میں دیوان تھے۔ ذوالفقار بھٹو کو پاکستان کی تاریخ کا مقبول ترین وزیر اعظم بھی کہا جاتا ہے۔ انہوں نے1950 ء میں برکلے یونی وَرسٹی، کیلی فورنیا سے سیاسیات میں گریجویشن اور 1952ء میں آکسفورڈ یونی وَرسٹی سے اصولِ قانون میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔ پھر اسی سال لندن سے بیرسٹری کا امتحان پاس کیا۔ بھٹو پہلے ایشیائی تھے، جنہیں انگلستان کی ساؤ تھمپٹن یونی وَرسٹی(Southamton University) میں انٹرنیشنل لاء کا استاد مقرّر کیا گیا۔ 

نیز، وہ کچھ عرصہ مسلم لاء کالج، کراچی میں دستوری قانون کے لیکچرار بھی رہے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے 1953ء میں سندھ ہائی کورٹ سے وکالت شروع کی۔ وہ جمہوری حکومت میں وزیر اعظم فیروز خان نون کی کابینہ میں وزیرِ تجارت بھی رہے۔1958ء تا 1960ء صدر ایوب خان کی کابینہ میں وزیرِ تجارت، 1960ء تا 1962ء وزیر اقلیتی امور، قومی تعمیرِ نو اور اطلاعات، 1962ء تا 1965ء وزیرِ صنعت و قدرتی وسائل اور اُمورِ کشمیر اور جون 1963ء تا جون 1966ء وزیرِ خارجہ رہے۔ بعد ازاں، دسمبر 1967ء میں ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی ۔ 

واضح رہے، 1970ء کے عام انتخابات میں پیپلز پارٹی نے مغربی پاکستان میں نمایاں کام یابی حاصل کی۔ دسمبر 1971ء میں جنرل یحیٰی خان نے پاکستان کا عِنانِ اقتدارذوالفقار علی بھٹو کو سونپ دیا۔ اس طرح وہ دسمبر 1971ء تا 13 اگست 1973 ء صدرِ مملکت کے عُہدے پر فائز رہے۔ یاد رہے، بھٹو نے 1973ء کے آئین کی منظوری کے بعد وزیرِ اعظم کے عُہدے کے لیے صدارت سے استعفیٰ دیا تھا، جس کے تحت مُلک کو پارلیمانی ریاست قرار دیا گیا،بعد ازاں، 14 اگست 1973ء کوانہوں نے نئے آئین کے تحت وزیراعظم کا حلف اُٹھایا۔

1977ء کے عام انتخابات میں دھاندلی کے سبب مُلک میں خانہ جنگی کی سی کیفیت پیدا ہوئی، تو 5 جولائی 1977ء کو جنرل محمّد ضیا الحق نے مارشل لاء نافذ کرکے بھٹو کو اقتدار سے الگ کردیا۔ یہی نہیں، ستمبر 1977ء میں انہیں نواب محمّد احمد خان کے قتل کے الزام میں گرفتار بھی کر لیاگیا اور اسی کیس میں سزائے موت بھی سنا دی گئی۔ بعدازاں، 4 اپریل 1979ء کو انہیں راول پنڈی جیل میں پھانسی دی گئی۔

محمّد خان جونیجو: محمّد خان جونیجو پاکستان کے دسویں وزیراعظم تھے، جو 18 اگست 1932ء کو سندھ کے علاقے سندھڑی میں پیدا ہوئے۔ برطانیہ سے زراعت میں ڈپلوما کرنے کے بعد سیاسی زندگی کا آغاز 21 سال کی عُمر میں کیا۔ انہیں 1962ء میں مغربی پاکستان سے صوبائی اسمبلی کا رُکن منتحب کیا گیا۔ 1985ء کے غیر جماعتی انتخابات میں محمّد خان جونیجو نے کام یابی حاصل کی، جس کے بعد جنرل ضیاء الحق نے انہیں وزیرِ اعظم نام زد کر دیا، اس طرح وہ قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرکے وزیر اعظم بن گئے۔

ان کا شمار محبّ وطن، ایمان دار سیاست دانوں میں ہوتا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ بطور وزیرِ اعظم کئی نکات پر ان کی جنرل ضیاء الحق سے بحث و کشیدگی ہوئی۔ بعد ازاں اوجڑی کیمپ سانحے کے بعد جنرل ضیاء الحق نے آئین کی آٹھویں ترمیم کے تحت جونیجو حکومت برطرف کردی۔ جونیجو دَور کی خاص بات یہ ہے کہ ُان سے پہلے ذوالفقار علی بھٹو وزیر اعظم تھے اور ان کے بعد بھٹو کی بیٹی، بےنظیر بھٹو کی حکومت قائم ہوئی۔

بے نظیر بھٹو: پاکستان کی پہلی خاتون وزیر اعظم،بے نظیربھٹو 21 جون، 1953ء کو سندھ کے مشہور سیاسی خاندان میں پیدا ہوئیں۔ذوالفقار علی بھٹو کی بڑی بیٹی بےنظیر نے ابتدائی تعلیم لیڈی جیننگز نرسری اسکول اور کانوینٹ آف جیزز اینڈ میری کراچی سے حاصل کی۔ اس کے بعد دو سال راول پنڈی پریزنٹیشن کانوینٹ میں بھی تعلیم حاصل کی، بعدازاں مَری کے جیزز اینڈ میری میں داخلہ دلوایا گیا۔ 

انھوں نے 15 سال کی عُمر میں او لیول کا امتحان پاس کیا اور 1973ء میں ہاروَرڈ یونی وَرسٹی سے پولیٹیکل سائنس میں گریجویشن کرکے آکسفورڈ یونی وَرسٹی میں داخلہ لے لیا، جہاں سے فلسفے، معاشیات اور سیاسیات میں ایم اے کیا۔ وہ آکسفورڈ یونی وَرسٹی کے طلبہ میں کافی مقبول تھیں۔بی بی برطانیہ سے تعلیم حاصل کر کے مُلک کے خارجہ اُمور میں خدمات سر انجام دینے کے ارادے سے وطن واپس لَوٹی تھیں، لیکن قسمت کو کچھ اور ہی منظورتھا۔ ان کے پاکستان پہنچنے کے دوہی ہفتے بعدمُلکی سیاست کا منظر نامہ بالکل بدل گیا۔ 

جنرل ضیاءالحق نے ذوالفقار علی بھٹو کو جیل بھیج کرمُلک میں مارشل لاء نافذ کر دیا، یہی نہیں بے نظیر بھٹو اور ان کی والدہ کو بھی نظر بند کر دیا گیا۔ بعدازاں، اپنے بابا کی پنکی نے سیاست میں قدم رکھا اور کیا خُوب قدم جمائے کہ پاکستان اور مسلم دنیا کی پہلی سربراہِ مملکت ہونے کے علاوہ یہ اعزاز بھی حاصل کیا کہ دو مرتبہ پاکستان کی وزیرِ اعظم رہیں۔ پہلی بار 1988ء میں وزیرِ اعظم بنیں، لیکن صرف 20ماہ بعد صدرِ مملکت غلام اسحاق خان نے اُن پر بدعنوانی کا الزام لگا کر اپنے خصوصی اختیارت استعمال کرتے ہوئے اسمبلی برخاست کردی۔ بے نظیر بھٹو دوسری بار 1993ء میں وزارتِ عظمیٰ کے عُہدے پر فائز ہوئیں، مگر بدقسمتی سے دونوں ہی بار ان کی حکومت قبل از وقت ختم کردی گئی۔

میاں محمّد نواز شریف: 25  دسمبر 1949ء کو لاہور میں پیدا ہونے والے میاں محمّد نواز شریف پاکستان کی دوسری بڑی سیاسی جماعت، پاکستان مسلم لیگ (نون) کےسربراہ ہیں۔ نواز شریف تین بار (1990ء تا 1993ء، 1997ء تا 1999ء اور آخری بار 2013ء تا 2017ء) وزیر اعظم پاکستان کے عُہدے پر فائز رہے۔نواز شریف نے گورنمنٹ کالج یونی وَرسٹی، لاہور سے تجارت اور پنجاب یونی وَرسٹی لاء کالج سے قانون کی ڈگری حاصل کی۔ 1981ء میں ضیاء الحق کی فوجی حکومت کے دوران پنجاب کے وزیرِ خزانہ بنے۔

بعدازاں، ضیا دَور ہی میں، وزیر اعلیٰ پنجاب منتخب ہوئے۔1990ء میں اسلامی جمہوری اتحاد کی سربراہی کی اور انتخابات میں کام یابی حاصل کرکے وزیرِ اعظم پاکستان کا عُہدہ سنبھالا۔ ان کی حکومت کو بھی بد عنوانی کے الزام کے تحت برطرف کیا گیا۔ جس پر انہوں نے عدالتِ عظمیٰ سے رجوع کیا۔ نتیجتاً15 جون 1993ء کو اُنہیں منصب پر بحال کر دیا گیا، مگر نواز شریف نے جولائی 1993ء میں حکومت سے خود استعفیٰ دے دیا۔ 

بعد ازاں، انتخابات میںدوبارہ بھاری اکثریت حاصل کرکے وزیراعظم منتخب ہوئے۔ تاہم، اکتوبر 1999ء میں جنرل (ر) پرویز مشرف کی فوجی بغاوت کے نتیجے میں ایک بار پھر عُہدےسے ہٹا دیا گیا۔اس کے بعد 2013ء میں تیسری بار وزیر اعظم منتخب ہوئے، مگر عدالتی فیصلے کے نتیجے میں 2017ء میں ایک بار پھر اقتدار سے محروم ہونا پڑا۔

میر ظفراللہ خان جمالی: جنوری 1944میں بلوچستان کے ضلع، نصیر آباد کے گاؤں، روجھان جمالی میں پیدا ہونے والے میر ظفر اللہ خان جمالی بلوچستان سے تعلق رکھنے والے پاکستان کے پہلے وزیرِاعظم تھے۔ انہیں انگریزی، اُردو، سندھی، بلوچی، پنجابی اور پشتو زبانوں پر عبور حاصل تھا۔میر صاحب نے ابتدائی تعلیم روجھان جمالی ہی میں حاصل کی۔

بعدازاں گورنمنٹ کالج، لاہور سے بیچلرز اور 1965ء میں پنجاب یونی ورسٹی سے سیاسیات میں ماسٹرز کیا۔ میرظفراللہ خان جمالی نے مشرّف دَور میں21 نومبر 2002ء کو بطور وزیر اعظم اپنی ذمّے داریاں سنبھالیں، لیکن صدرِ مملکت سے اختلافات کے باعث جون 2004ء میں مستعفی ہوگئے، یوں ان کا دَورِ حکومت ایک سال کچھ دن پر محیط رہا۔

چوہدری شجاعت حُسین: چوہدری شجاعت حُسین کا شمار پاکستان کے اہم ترین سیاست دانوں میں ہوتا ہے۔ وہ پاکستان کے وزیرِ داخلہ بھی رہ چُکے ہیں۔

شجاعت حُسین نے والد کی وفات کے بعد سیاست میں قدم رکھا اور مجلسِ شوریٰ کے رکن بھی رہے۔ 1985 ءکے انتخابات میں پہلی بار قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور وزیرِ اعظم محمّد خان جونیجو کی کابینہ میں وزیرِ صنعت رہے۔ ظفراللہ خان جمالی کے سبک دوش ہونے کے بعد عارضی طور پرچوہدری صاحب کو وزارتِ عظمیٰ کا عُہدہ ملا، جس پر وہ قریباً 54 دن فائز رہے۔

شوکت عزیز: پاکستان کے سابق وزیر اور معروف بیوروکریٹ، عزیز احمد کے فرزند شوکت عزیز سابق وزیرِ خزانہ اور ماہرِ مالیات ہیں۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم سینٹ پیٹرکس ہائی اسکول ، کراچی اور ایبٹ آباد پبلک اسکول، ایبٹ آباد سے حاصل کی۔ 

بعد ازاں، 1967 ءمیں گورڈن کالج، راول پنڈی سے گریجویشن اور 1969ء میں انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن (آئی بی اے) سے ایم بی اے کیا۔ 2001ء میں شوکت عزیز کو دو بین الاقو امی جرائد نےپوری دنیا کا بہترین وزیرِ خزانہ قرار دیا۔

میر ظفر اللہ خان جمالی کے مستعفی ہونے کے بعد مسلم لیگ (ق )کی طرف سے شوکت عزیز کا نام وزارتِ عظمیٰ کے لیے پیش کیا گیا، اس دوران وزارتِ عظمیٰ کا قلم دان چوہدری شجاعت حُسین کے پاس رہا، جب کہ شوکت عزیز وزیر اعظم کے عُہدے کی قانونی شقیں پوری کرنے کی غرض سےضمنی انتخابی مہم میں حصّہ لیتے رہے۔ نتیجتاً تھرپاکر (سندھ)اور اٹک سے قومی اسمبلی کا رکنیت حاصل کرکےوزارتِ عظمیٰ کاعُہدہ سنبھالا۔ شوکت عزیز 2004ء میں وزیر اعظم مقرر ہوئے، تو پارلیمانی میعاد پوری کرنے والے پہلے پاکستانی وزیرِ اعظم تو بن گئے،لیکن ان کے اقتدار کی مدّت محض تین سال ہی رہی۔

یوسف رضا گیلانی: یوسف رضا گیلانی 9 جون 1952 ءکو پنجاب کے ضلع، ملتان کے ایک بااثر جاگیردار، پیر گھرانے میں پیدا ہوئے ۔ ملتان کی درگاہ حضرت موسیٰ پاک کا گدّی نشین ہونے کے سبب ان کا خاندان مریدین اورروحانی پیروکاروں کا بھی وسیع حلقہ رکھتا ہے۔ 

یوسف رضا گیلانی نے 1970ءمیں گریجویشن اور 1976ء میں جامعہ پنجاب سے صحافت میں ماسٹرز کیا۔ فروری 2008 ءکے انتخابات میں ملتان سے پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر پانچویں مرتبہ رکنِ اسمبلی منتخب ہوئے۔ وہ پاکستان کےاٹھارویں وزیر اعظم منتخب ہوئے اور 25 مارچ 2008 ء سے 26 اپریل 2012ء تک وزارتِ عظمیٰ کے عُہدے پر فائز رہے۔ 19 جون 2012ء کو توہینِ عدالت کےجرم میں انہیں وزارتِ عظمیٰ سے برطرف کردیا گیا، ساتھ ہی ان کی قومی اسمبلی کی رکنیت بھی معطل ہوگئی ۔

راجا پرویز اشرف: پاکستان پیپلز پارٹی کے سرکردہ رہنما،راجا پرویز اشرف 26 دسمبر 1950ء کو پیدا ہوئے۔ 

وہ مارچ 2008 ءسے فروری 2011ء تک وفاقی وزیرِ آب و بجلی رہے۔اُن کی اس وفاقی وزارت کے دَور میں بجلی کا بحران شدّت اختیار کر گیاتھا۔ بہرحال، انہوں نے22جون 2012ءکو وزارتِ عظمیٰ کا قلم دان سنبھالااور مارچ 2013ء تک اس عُہدے پر فائز رہے۔

شاہد خاقان عباسی: 27 دسمبر 1958 ءکو کراچی میں پیدا ہونے والےشاہد خاقان عباسی نے 1988ء میں اپنے والد کی وفات کے بعد سیاست میں قدم رکھا اور پہلے ہی انتخابات میں قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوگئے ۔ 2013ء تا 2017ء وزیرِ پیٹرولیم اورگیلانی وزارت میں وزیرِ تجارت رہے۔ 

شاہد خاقان عباسی اب تک چھے بار رکن ِاسمبلی منتخب ہو چُکے ہیں۔نیز، 1997ء تا 1999ء نواز شریف کی وزارت میں پی آئی اے کے چیئرمین بھی رہے۔نیز، یکم اگست 2017ءسے 31 مئی 2018 ءتک پاکستان کے وزیرِ اعظم رہے۔

عمران خان: معروف کرکٹر، پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان ، پاکستان تحریکِ انصاف کے سربراہ اور سابق وزیرِ اعظم،عمران خان نےسیاست میں قدم رکھنے سے قبل نے دو دہائیوں تک بین الاقوامی کرکٹ کھیلی اور بعد میں خدمتِ خلق کے کاموں میں مصروف ہو گئے۔ عمران خان کے والد انجینئر اکرام اللہ خان نیازی تھے، عمران خان نے ابتدائی تعلیم ایچی سن کالج، لاہور ،پھر رائل گرائمر اسکول وورکیسٹر اسکول، انگلینڈ اور بعد میں کیبل کالج آکسفورڈ سے حاصل کی۔ انہوں نے 13 سال کی عُمر میں کرکٹ کھیلنا شروع کی تھی۔

بعدازاں، آکسفورڈ سے گریجویشن کے بعد 1976ء میں پاکستان میں کرکٹ کھیلنے کا آغاز کیا۔انہی کی کپتانی میں1992ء میں پاکستان پہلی بار کرکٹ کا عالمی چیمپئن بنا۔1996ء میں عمران خان نے ’’پاکستان تحریکِ انصاف‘‘ کی بنیاد رکھی۔ اگست 2018ء میں عمران خان 176 ووٹ حاصل کر کےمُلک کے بائیسویں وزیرِ اعظم پاکستان بنے، لیکن انہیں بھی 10اپریل 2022ءکو قومی اسمبلی سے عدم اعتماد کےنتیجےمیں اقتدار سے محروم ہونا پڑا۔ یاد رہے، وہ پہلے پاکستانی وزیرِاعظم ہیں، جنہیں پارلیمان کی جانب سے عدم اعتماد کے نتیجے میں وزارتِ عظمیٰ سے برطرف کیا گیا۔

سنڈے میگزین سے مزید