• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پولیو ،جسے’’poliomyelitis‘‘بھی کہا جاتا ہے، اعصابی نظام پر حملہ آور ہوکر عُمر بَھر کے لیے معذوری کا سبب بن جاتا ہے۔ یوں تو یہ وائرس ہر عُمر کے افراد کو متاثر کرسکتا ہے، لیکن زیادہ تر پانچ سال سے کم عُمر اور کم زور قوتِ مدافعت کے حامل بچّوں کواپنا نشانہ بناتا ہے۔ اس وائرس کا تعلق "Picornavirus" فیملی سے ہے، جو متاثرہ فرد کے فضلے کے ذریعے پانی میں شامل ہوکر کسی دوسرے فرد کو متاثر کرنے کا سبب بنتا ہے۔عام طور پر پولیو کا وائرس منہ کے ذریعےجسم میں داخل ہو کر نظامِ انہضام اور پھر آنتوں تک رسائی حاصل کرتا ہے۔ 

اِسی بناء پر اسے Enterovirusکا نام دیا گیا ہے۔ یہ وائرس آنتوں میں تیزی سے افزایش پاکر اپنی تعداد میں اضافہ کرتا ہے اور انسانی فضلے میں کئی ہفتوں تک زندہ رہتا ہے۔ پولیو وائرس کا انکیوبیشن پیریڈ 7سے14 دِنوں پر مشتمل ہے، جس کے بعد ہی پولیو کی کسی ایک قسم کی علامات ظاہر ہو نے لگتی ہیں۔ پولیو کی ایک قسم طبّی اصطلاح میںAbsorptive Poliomyelitis کہلاتی ہے، جس میں بخار، تھکاوٹ، متلی، سَر اور گلے میں درد کی علامات ظاہر ہوتی ہیں،جو دو سے تین روزتک برقرار رہتی ہیں۔ 

عام طور پراس قسم سے متاثر مریض صحت یاب ہو جاتے ہیں۔ اگر سَر درد اور بخار کے ساتھ گردن یا جسم کے مختلف حصّوں کے پٹّھوں میں کھنچائو محسوس ہو، تو اِسے Non-Paralytic Poliomyelitis کہا جاتا ہے، جب کہ پولیو کی خطرناک قسمParalytic Poliomyelitis ہے، جس میں وائرس اعصابی نظام کو شدید نقصان پہنچاتا ہے۔

اس ٹائپ کو مزید تین اقسام میں منقسم کیا گیاہے۔پہلی قسم Spinal Poliomyelitis میں ایک ٹانگ کے گوشت میں ڈھیلا پَن پیدا ہوتا ہے، تو دوسری فالج زدہ ہوجاتی ہے اور مریض بغیر سہارے کے چل پِھرنہیں سکتا۔دوسری قسم Bulbar Poliomyelitis کہلاتی ہے، جس میں گردن، زبان اور غذا نگلنے میں مدد دینے والے پٹّھے کم زور ہوجاتے ہیں، جس کی وجہ سے بولنے اور کھانے پینے میں دشواری پیش آتی ہے، جب کہ گردن بھی ایک جانب ڈھلک جاتی ہے۔

تیسری قسم Bulbospinal Poliomyelitis میں ڈایا فرام کام کرنا چھوڑدیتا ہے، نتیجتاً عملِ تنفس کا پورا نظام ہی معطل ہوجاتا ہے اور مریض سانس لینے میں اس قدر دشواری محسوس کرتا ہے کہ جان کی بازی ہار جاتا ہے۔ پولیو کے بعض کیسز میں جسم کا گوشت سوکھ جاتاہے ،جسے پوسٹ پولیو سینڈروم (Post-Polio Syndrome) کہتے ہیں۔ اس سینڈروم سے متاثرہ مریض پھر تاعُمر محتاجی کی زندگی بسرکرتے ہیں۔

پولیو کی تشخیص کے لیے فضلے کا ٹیسٹ تجویز کیا جاتا ہے۔افسوس ناک امر یہ ہے کہ اس مرض کا کوئی علاج موجود نہیں ،البتہ پولیو ویکسین کے ذریعے اس سے محفوظ رہا جا سکتا ہے۔ اس ضمن میں دو طرح کی ویکسینز مستعمل ہیں۔ ایک ویکسین مسلز میں لگائی جاتی ہے، جب کہ دوسری قطروں کی صُورت پلائی جاتی ہے۔ پولیو کے مریض کو وقتی آرام کے لیے فزیو تھراپی تجویز کی جاتی ہے، جب کہ آرتھوپیڈک ڈاکٹرز سے بھی رہنمائی لی جاتی ہے۔

اگر مریض کی حالت تشویش ناک ہو، تو اسے انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں بھی داخل کیا جاسکتا ہے، تاکہ زندگی بچانے کی ہر ممکن کوشش کی جاسکے۔ علاوہ ازیں، بعض کیسز میں "Pocapavir Capsid Inhibitor"کا کورس تجویز کیا جاتا ہے، تاکہ فضلے کے ذریعے پولیو وائرس کے اخراج میں کمی لائی جاسکے۔ اس طرح وائرس کی منتقلی کا عمل رُک جاتا ہے یا پھر اس میں کمی واقع ہوجاتی ہے۔پاکستان سے پولیو کے خاتمے کے لیے ضروری ہے کہ 5 سال سے کم عُمر بچّوں کی پولیو ویکسی نیشن لازماً کروائی جائے۔

حکومتی سطح پر پولیو کے خلاف منفی پروپیگنڈے کے تدارک کے ساتھ ہر سطح تک پولیو ویکسین سے متعلق مکمل معلومات فراہم کی جائیں، ایسے بچّوں کا سراغ لگایا جائے ،جن کی کسی بھی وجہ سے پولیو ویکسی نیشن نہیں ہوسکی، جن کا اسکولز میں نام درج نہیں اور جو گھروں سے باہر رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ افغان فیملیز کو بچّوں کی پولیو ویکسی نیشن کےبعد ہی پاکستان میں داخلے کی اجازت دی جائے۔ اور سب سے اہم، پینے کے صاف پانی کو سیوریج کی آلودگی سے بچایا جائے ،تاکہ یہ خطرناک وائرس کسی صحت مند، تن درست و توانا بچّے کو عُمر بھر کی معذوری کا شکارکر سکے۔ عوام سے التماس ہے کہ ہر قسم کےکسی ڈر و خوف کے بغیر اپنے بچّوں کی پولیو ویکسی نیشن کرواکے انہیں محتاجی سے بچائیں اور ان کا مستقبل محفوظ بنائیں۔

(مضمون نگار، لیاقت یونی ورسٹی اسپتال، حیدرآباد کے شعبہ گیسٹرو انٹرولوجی سے بطور سینئر میڈیکل آفیسر وابستہ ہیں)