• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

عبدالمطّلب بن ہاشم:ہاشم ایک مرتبہ شام کے سفر پر گئے، راستے میں یثرب میں عمرو بن زید کے گھر قیام کیا اور اُن کی صاحب زادی کی سیرت و کردار سے متاثر ہوکر نکاح کرلیا اور چند دن قیام کے بعد شام چلے گئے۔ غزہ میں اُن کا انتقال ہوگیا۔ مکّہ میں ہاشم کے انتقال کی خبر کے بعد، اُن کے بھائی مُطلب نے ہاشم کے فرائضِ منصبی سنبھال لیے، جب کہ اُن کی شادی کا کسی کو علم نہ ہوسکا۔ کچھ عرصے بعد ہاشم کی اہلیہ سلمیٰ کے گھر ایک بیٹے کی ولادت ہوئی، جس کی پیشانی پر بالوں کی ایک لٹ سفید تھی۔ اسی مناسبت سے بچّے کا نام شیبہ (بوڑھا) رکھا گیا۔ 

مطّلب کو 8؍سال بعد بھائی کی شادی اور مدینہ (یثرب) میں بھتیجے کی موجودگی کا علم ہوا تو وہ مدینہ پہنچے۔ بھابھی سلمیٰ نے انہیں چند دن اپنے پاس مہمان رکھا اور پھر بیٹے کے بہتر مستقبل کی خاطر چچا کے ساتھ مکّہ روانہ کردیا۔ مطلب جب مکّہ میں داخل ہوئے، تو نو عُمر لڑکا اُن کے اونٹ کے پیچھے سوار تھا۔ لوگوں نے خیال کیا کہ شاید مطلب غلام خرید کر لائے ہیں، چنانچہ انہوں نے عبدالمطّلب کہنا شروع کردیا۔ 

مطّلب نے بارہا اعلان کیا کہ یہ میرے بھائی ہاشم کا بیٹا اور میرا بھتیجا ہے، لیکن وہ عبدالمطّلب ہی کے نام سے مشہور ہوئے۔ (طبقات ابنِ سعد، 92/1)۔ مطّلب کے انتقال کے بعد حرم شریف میں سقایہ اور رفادہ کا منصب انہیں ملا۔ عبدالمطّلب طویل القامت، خُوب صُورت و خُوب سیرت انسان تھے۔ اپنا زیادہ تر وقت حطیم میں یا جبلِ حرا پر دینِ ابراہیم ؑ کے مطابق اللہ کی عبادت میں گزارتے۔ ابنِ سعد لکھتے ہیں کہ یہ اتنے ہم درد، سخی و فیّاض تھے کہ قوم انہیں ’’الفیض‘‘ کے نام سے یاد کرتی تھی۔

حضرت عبدالمطّلب کے دَور میں مکّہ کے تین اہم واقعات

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دادا، حضرت عبدالمطّلب کے دَور میں مکّہ معظمہ میں تین اہم واقعات رونما ہوئے۔ (1)چاہِ زم زم کی دریافت (2)ابرہہ کی مکّہ کی جانب پیش قدمی (3)ظہورِ قدسی صلی اللہ علیہ وسلم۔

چاہِ زم زم کا اجراء

حضرت عبدالمطّلب کو تین راتیں متواتر ایک خواب کے ذریعے زم زم کنویں کی نشان دہی کرتے ہوئے اُسے کھودنے اور صاف کرنے کا حکم دیا جاتا رہا۔ چناں چہ حضرت عبدالمطّلب اپنے اکلوتے فرزند حارث کو ساتھ لے کروہاں پہنچے اور اُس جگہ کی کھدائی شروع کردی۔ ابھی تھوڑی ہی کھدائی کی تھی کہ پانی کے آثار اور چُھپا خزانہ ظاہر ہونے لگا۔ یہ دیکھ کر حضرت عبدالمطّلب نے خوشی سے نعرئہ تکبیر بلند کیا، جسے سُن کر قریش کے دیگر لوگ بھی دعوے دار بن کر سامنے آگئے۔ 

یہ وہ وقت تھا کہ جب حضرت عبدالمطّلب نے خود کو تنہا محسوس کیا، صرف ایک بیٹا حارث ہی ساتھ تھا۔ آپ نے اُسی وقت منّت مانی کہ ’’اگر اللہ مجھے دس بیٹے عطا فرمادے اور پانی کا چشمہ بھی نکل آئے، تو میں ایک بیٹے کو اللہ کے نام پر قربان کردوں گا۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے اُن کی دونوں خواہشیں پوری فرمادیں۔ چاہِ زم زم کی دریافت نے حضرت عبدالمطّلب کی عزّت و وقار میں اضافہ کردیا۔ صاحب زادے جب جوان ہوئے، تو اُنھیں قربانی کی فکر ہوئی۔ کعبہ شریف میں قرعہ ڈالا گیا، تو سب سے چھوٹے صاحب زادے کا نام نکلا، جو پورے گھر کا چہیتا اور لاڈلا تھا۔ 

گھر میں کہرام مچ گیا، لیکن منّت پوری کرنی ضروری تھی۔ رئوسائے قریش کے مشورے پر ایک کاہنہ سے رجوع کیا گیا۔ اس نے کہا کہ ’’چوں کہ تمہارے مذہب میں ایک آدمی کا خوں بہا دس اونٹ ہیں، پس تم دس اونٹ نحر کرو اور پھر قرعہ ڈالو، اگر قرعہ پھر بھی عبداللہ کے نام پر آئے، تو یہ عمل اُس وقت تک کرتے رہو، جب تک قرعہ اونٹوں کے نام نہ آجائے۔‘‘ چناں چہ ایسا ہی کیا گیا۔ یہاں تک کہ جب اونٹوں کی تعداد 100؍ہوگئی، تب قرعہ اونٹوں کے نام نکلا اور اس طرح حضرت عبداللہ کی زندگی بچی۔ (سیرت ابنِ اسحاق صفحہ136-137)۔

جب ابرہہ کی فوج عبرت کا نشان بن گئی

یہ سبق آموز واقعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادتِ باسعادت سے پہلے ماہِ محرم 571؍عیسوی میں پیش آیا۔ مُلکِ یمن کے گورنر ابرہہ الاشرم نے صنعاء شہر میں ایک عالی شان کلیسا تیار کیا اور اہلِ عرب کو حکم دیا کہ کعبے کے بجائے اس مندر کے اندر عبادت کیا کریں۔ ابرہہ کا یہ حکم کسی نے نہیں مانا بلکہ بنو کنانہ کے ایک شخص نے رات کی تاریکی میں کلیسا کی دیواروں پر نجاست مل دی۔ ابرہہ جوشِ انتقام میں ایک بہت بڑی فوج کے ساتھ کعبہ شریف کو ڈھانے کے لیے مکّہ مکرّمہ کی سرحد پر جا پہنچا۔ اس کی فوج میں ہاتھی بھی شامل تھے۔ 

ابرہہ نے سرحد پر چَرنے والے حضرت عبدالمطّلب کے دو سو اونٹ پکڑ کر اپنے قبضے میں لے لیے۔ اہلِ مکّہ اتنی بڑی فوج دیکھ کر خوف زدہ ہوگئے تھے۔ چناں چہ حضرت عبدالمطّلب نے ابرہہ کے خیمے میں پہنچ کر اپنے دو سو اونٹوں کی واپسی کا مطالبہ کردیا۔ ابرہہ نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا۔ ’’اے مکّہ کے سردار! میں تو تمہارے خدا کے گھر کو ڈھانے آیا ہوں، لیکن تمہیں اس کے بجائے اپنے اونٹوں کی فکر ہے!‘‘ حضرت عبدالمطّلب نے برجستہ جواب دیا۔ ’’اے یمن کے حکمران! یہ اونٹ میرے ہیں، میں اُن کا مالک ہوں، لیکن اس گھر کا بھی ایک مالک ہےاور وہ اپنے گھر کی حفاظت خود کرے گا۔‘‘ 

ابرہہ نے یہ سُنا تو برہمی سے بولا۔ ’’اے سردار! تمہارے اونٹ تو میں چھوڑتا ہوں، لیکن میں دیکھتا ہوں کہ تمہارا خدا اپنے گھر کو مجھ سے کس طرح بچا سکتا ہے؟‘‘ اس کے بعد ابرہہ سمیت اس کی پوری فوج کو اللہ تعالیٰ نے کس طرح کھائے ہوئے بُھس کی طرح کر ڈالا، قرآن کریم کی سورۃ الفیل میں اللہ تعالیٰ نے خود اس کی تفصیل بیان فرمادی۔ اہلِ قریش نے اس فوج کا نام ’’اصحاب الفیل‘‘ اور اس سال کا نام ’’عام الفیل‘‘ رکھا۔ (تاریخِ اسلام،1/68)

حضرت عبداللہ کا نکاح

حضرت عبدالمطّلب کے سب سے چھوٹے اور چہیتے صاحب زادے، عبداللہ کی عُمر 25؍سال ہوئی، تو والد کو اُن کی شادی کی فکر لاحق ہوئی۔ قبیلہ بنو زہرہ کے سردار وہب بن عبدمناف کی صاحب زادی حضرت آمنہ صُورت اور سیرت میں خاندانِ قریش کی تمام لڑکیوں میں ممتاز حیثیت رکھتی تھیں اور اپنے چچا وہیب بن عبدمناف کے پاس زیرِتربیت تھیں۔ حضرت عبدالمطّلب، جنابِ عبداللہ کی شادی کا پیغام لے کرگئے۔ وہب نے چند دنوں کا وقت مانگا اور پھر دونوں کا نکاح کردیا۔ اس موقعے پر حضرت عبدالمطّلب نے بھی حضرت آمنہ کے چچا، وہیب کی صاحب زادی ہالہ سے نکاح کرلیا، جن کے بطن سے حضرت حمزہ ؓپیدا ہوئے۔ 

قریش کے دستور کے مطابق حضرت عبداللہ تین دن تک اہلیہ کے ساتھ سسرال میں رہے، پھر تجارت کے لیے شام چلے گئے، واپسی پر بیمار ہوگئے اور مدینے میں اپنی ننھیال بنی عدی بن نجار کے پاس ٹھہرگئے۔ وہاں انہوں نے ایک ماہ تک قیام کیا۔ قافلے کے لوگ مکّہ پہنچے، تو انہوں نے حضرت عبدالمطّلب کو حضرت عبداللہ کی بیماری کے متعلق بتایا۔ حضرت عبدالمطّلب نے فوری طور پر بڑے بیٹے حارث کو بھیجا، لیکن حضرت عبداللہ وفات پاچُکے تھے اور ننھیال والوں نے اُنھیں قبیلے کے ایک فرد ’’نابغہ‘‘ کے گھر میں دفن کردیا تھا۔ یہ وہ وقت تھا کہ جب سرکارِ دو عالم، حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم، والدہ محترمہ کی کوکھ میں تھے۔ (طبقات ابن سعد، 1/108)۔

حضرت عبداللہ کا جسدِ مبارک

مسجد نبویؐ کی توسیع کے سلسلے میں کی جانے والی کھدائی کے دوران حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے والدِ محترم حضرت عبداللہ بن عبدالمطّلب کا جسدِ مبارک چودہ سو سال سے زیادہ کا عرصہ گزرجانے کے باوجود بالکل صحیح سالم حالت میں برآمد ہوا۔ حضرت عبداللہ قبیلہ بنی عدی بن نجار میں مدفون تھے۔ جب قبر کو شق کیا گیا تو حضرت عبداللہ کی میّت چودہ سو سال گزر جانے کے باوجود تروتازہ تھی۔ اُن کی قبر کے قریب ہی دو صحابہ کرامؓ کی قبریں بھی محفوظ تھیں۔ ان میتّوں کو جنّت البقیع میں سپردِخاک کردیا گیا۔ جنوری 1978ء میں یہ خبر پاکستانی اخبارات میں شہ سرخیوں کے ساتھ شایع ہوئی تھی۔ (بحوالہ:تاریخ مکّۃ المکرّمہ، محمد عدالمعبود صفحہ202)۔

امام الانبیاء، خاتم النبیّین حضرت محمّدﷺ کا ظہورِ قدسیؐ

مشرق کے گھٹاٹوپ اندھیروں سے نمودار ہوتی موسمِ بہار کی معطّر و معظّم صبحِ صادق کی پُرنور و بابرکت ساعتوں میں جب محسنِ انسانیت، سرورِ کونین، خاتم الانبیاء حضرت محمّد مصطفی ﷺ کی ولادت باسعادت ہوئی،تو دنیا توحید کے نور سے منور ہوئی اور تاریخ کے ایک مثالی دَور کا آغاز ہوا۔ ابنِ خلدون و طبری کے مطابق آفتابِ رسالت کا ظہور 12؍ربیع الاوّل بروز پیر، صبحِ صادق 4؍بج کر 20؍منٹ پر ہوا۔ یہ ظہورِ پُرنور پوری کائنات کے لیے ایک عظیم تر انقلاب کا آغاز تھا۔ 

یہی وہ مقدّس ظہور تھا کہ جس کے باعث فارس کا ہزاروں سال سے جلنے والا آتشِ کدہ سرد پڑگیا۔ یہی ظہورِ مکرّم تھا، جس سے دریائے ساوہ خشک ہوگیا۔ یہی ظہورِ عظیم تھا، جس نے مکّہ کی فضائوں کو مشک و عنبر کی مدہوش کن خوشبوئوں سے مہکادیا۔ یہی وہ ظہورِ قدسیؐ تھا، جس کے بارے میں حضرت آمنہؓ نے فرمایا کہ ’’رسول اللہؐ کے پیدا ہوتے ہی مجھ سے ایک ایسا نور نکلا کہ جس سے ملکِ شام کے قصر و ایوان روشن ہوگئے۔

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دادا، حضرت عبدالمطّلب نے ’’محمدؐ‘‘ نام رکھا، جو عرب میں ایک نیا اور غیر معروف نام تھا۔ سہیلی، بقی بن مخلد الحافظ کی تفسیر کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ ابلیس چار بار بلند آواز سے رویا ہے۔ پہلی بار جب اللہ تعالیٰ نے اسے لعین ٹھہرا کر اس پر لعنت کی، دوسری بار جب اسے آسمان سے زمین پر پھینکا گیا، تیسری بار جب حضور رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں تشریف لائے اور چوتھی بار جب سورئہ فاتحہ نازل ہوئی۔ (تاریخ ابنِ کثیر، جلد2 صفحہ166)۔

مکّہ مکرّمہ میں آنحضرتﷺکے شب و روز

آنحضرتؐ بنو سعد میں:آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی والدہ کے بعدچند دن تک چچا، ابوالہب کی کنیز ثوبیہ کا دودھ پیا، پھر عرب کے دستور کے مطابق آپؐ کو قبیلہ بنی سعد بن بکر کی ایک خاتون حلیمہ بنتِ ابی زویب کی آغوش میں دے دیا گیا، تاکہ بہترین تربیت ہوسکے۔ قبیلہ بنی سعد مکّہ سے 170؍کلومیٹر کے فاصلے پر تھا۔ 

بنو سعد میں آپؐ پانچ یا چار سال کی عُمر تک رہے۔ حضرت حلیمہؓ کے چار بچّے تھے، جو آپؐ کے رضاعی بہن، بھائی تھے۔ جن کے نام عبداللہ، انیسہ، حذیفہ اور حذافہ تھے۔ حذافہ، حضرت شَیمَاء کے نام سے مشہور ہوئیں اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی ان بہن سے بڑی انسیت تھی۔ وہ بچپن میں آپؐ کو ہر وقت گود میں لیے رہتی تھیں۔ بنو سعد میں آپؐ کے قیام کے دوران خیر و برکت کے بہت سے واقعات سیرت کی کتب میں درج ہیں، لیکن شقِ صدر کا واقعہ نہایت منفرد ہے۔

واقعہ ٔ شقِ صدر: حضرت انسؓ سے مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رضاعی بہن، بھائیوں کے ساتھ گھر کے قریب کھیل رہے تھے کہ اچانک حضرت جبرائیل علیہ السلام تشریف لے آئے اور انھیں زمین پر لِٹا کر سینہ چاک کرکے دل باہر نکالا، پھر دل میں سے ایک لوتھڑا نکالا، دل کو سونے کے طشت میں زم زم کے پانی سے دھویا اور پھر اسے دوبارہ اپنی جگہ رکھ کر سینہ بند کردیا۔ اس واقعے نے حضرت حلیمہ سعدیہؓ کو بہت خوف زدہ کردیا تھا، چناں چہ انہوں نے آپؐ کو ان کی والدہ کے حوالے کردیا۔ اُس وقت آپؐ کی عُمرِ مبارک چار یا پانچ سال تھی۔ (سیرت ابنِ ہشام، صفحہ166)۔

پہلے والدہ اور پھر دادا کی جدائی:ابھی آپؐ کی عُمر ِمبارک چھے سال ہی ہوئی تھی کہ والدہ محترمہ کے ساتھ یثرب کے سفر پر نکلے۔ مقصد والد مرحوم کی قبر کی زیارت اور عزیز رشتے داروں سے ملاقات تھا۔ واپسی پر مدینے سے کچھ فاصلے پر ابواء کے پہاڑی مقام پر والدہ ماجدہ اللہ کو پیاری ہوگئیں۔ معصوم دُرّیتیم نے ماں کے بغیر کنیز کے ساتھ مکّے تک کا طویل سفر کیسے طے کیا ہوگا؟ راوی کہتا ہے کہ ماں کی تڑپ میں آپ کافی دُور تک پیچھے مُڑمُڑ کر دیکھتے رہے اور اشکوں کا سیلاب جاری رہا۔ مکّہ مکرّمہ پہنچنے پر دادا نے جب احوال سُنا تو تڑپ اٹھے۔ 

یتیم پوتے کو والہانہ انداز میں گلے لگایا۔ آنکھوں سے بہتے آنسوئوں کے ساتھ محبّت کا دریا اُبل پڑا۔ بے اختیار پوتے کو بانہوں میں بَھر کر گویا ہوئے۔ ’’اے ابنِ عبداللہ! تیرا چوڑا ماتھا اور نورانی چہرہ اس بات کا گواہ ہے کہ تُو اللہ کی نظر میں بڑی شان والا ہے۔ فکر نہ کر تیرا دادا ابھی زندہ ہے۔‘‘ پھر اہلِ مکّہ نے دیکھا کہ قبیلۂ قریش کے سردارحضرت عبدالمطّلب کی تمام محبّتیں، شفقتیں، پیار جان سے زیادہ عزیز پوتے محمدؐ ابنِ عبداللہ کے لیے وقف تھا۔ دادا کی شفقت بھری آغوش میں ابھی دو سال ہی گزرے تھے کہ ایک دن اچانک دادا بھی داعئ اجل کو لبّیک کہہ گئے۔ امِّ ایمن سے مروی ہے کہ ’’انتقال سے قبل مَیں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے سرہانے کھڑے رو رہے تھے۔‘‘ بعد کے زمانے میں جب آپؐ سے دریافت کیا گیا کہ ’’آپؐ کو اپنے دادا کی وفات یاد ہے؟‘‘ تو آپؐ نے فرمایا۔ ’’ہاں! مَیں اُس وقت آٹھ برس کا تھا۔‘‘ (سیرت سرورِ عالم، جلد2 صفحہ101)۔

شفیق چچا کی آغوشِ تربیت میں:چچا جناب ابو طالب آپؐ کے والد حضرت عبداللہ کے سگے بھائی تھے۔ ویسے بھی حضرت عبدالمطّلب نے وفات سے پہلے وصیّت کی تھی کہ حضرت عبداللہ کے بیٹے کی کفالت و حفاظت کی ذمّے داری ابو طالب پر ہوگی۔ ابو طالب زیادہ امیر تو نہیں تھے، لیکن بھتیجے کا خیال اپنی اولاد سے زیادہ رکھتے۔ ابو طالب تو خیر سگے چچا تھے، لیکن ان کی اہلیہ حضرت فاطمہؓ بنتِ اسد نے بھی معصوم و یتیم بھتیجے پر ممتا کے جو پھول نچھاور کیے، وہ رشتوں کی تاریخ میں سنہرے حروف سے تحریر ہیں۔ 

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم بچپن کے اُس دَور کو یاد کرتے ہوئے فرمایا کرتے تھے کہ ’’ابو طالب کے بعد چچی فاطمہؓ بنتِ اسد سے زیادہ مجھ پر کوئی مہربان نہ تھا۔‘‘جناب ِابو طالب سائے کی طرح آپؐ کے ساتھ ساتھ رہتے تھے۔ ابھی عُمر مبارک بارہ سال تھی تو اپنے چچا کے ساتھ مُلکِ شام کے سفر پر نکلے۔ قافلے والوں کے ساتھ بصریٰ شہر میں پڑائو ڈالا۔ قریب ہی گرجے میں برجیس نامی ایک راہب رہا کرتے تھے۔ اُنھوں نے آپؐ کو دیکھا تو پُکار اٹھے ’’یہ تو سیّدالمرسلینؐ اور رحمۃ للعالمینؐ ہیں۔‘‘ 

جناب ابو طالب نے دریافت کیا کہ ’’آپ کو کیوں کر معلوم ہوا؟‘‘ انھوں نے جواب دیا ’’جب یہ نیچے اُتر رہے تھے، تو میں نے دیکھا کہ تمام درخت سجدے میں تھے، جب کہ درخت سوائے نبی کے کسی اور کو سجدہ نہیں کرتے۔ پھر اُن کی پشت پر مُہرِ نبّوت بھی ہے اور یہ نشانیاں ہماری آسمانی کتاب میں درج ہیں۔ مجھے ڈر ہے کہ میری قوم کے لوگ انہیں نقصان نہ پہنچائیں۔‘‘ چناں چہ راہب کے مشورے پر جناب ابو طالب نے تیزی سے خرید و فروخت مکمل کی اور فوراً عازمِ مکّہ ہوئے۔ (سیرت ابنِ اسحاق، صفحہ151-152)۔ (جاری ہے)

سنڈے میگزین سے مزید