• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

قازقستان: وسط ایشا میں سیاحوں، کاروباری افراد کی جنت

وسطی ایشیا میں واقع جمہوریہ قازقستان بہ لحاظ رقبہ دنیا کا نواں سب سے بڑا مُلک ہے۔ اس کا رقبہ مغربی یورپ کے کُل رقبے سے بھی زیادہ ہے۔ یہ دنیا کا سب سے بڑا خشکی پر مشتمل مُلک ہے، جہاں کوئی سمندر نہیں۔ اس کے شمال میں روس، مشرق میں چین، جنوب مشرق میں کرغیزستان، جنوب میں ازبکستان اور ترکمانستان اور جنوب مغرب میں بحیرئہ قزوین واقع ہیں۔

قازقستان میں لگ بھگ 131 نسلوں کے لوگ رہتے ہیں، جن میں کُل آبادی کا 63 فی صد قازق کے علاوہ روسی، ازبک، یوکرینی، جرمن، تاتاری اور اویغور سمیت دیگر باشندے شامل ہیں۔ یہاں مسلمانوں کی تعداد 70فی صد، جب کہ مسیحی 26 فی صد ہیں۔ قازق اور روسی زبانیں انتظامی اور دفتری سطح پر استعمال کی جاتی ہیں۔ قازقستان اقوامِ متحدہ، عالمی تجارتی ادارے، دولتِ مشترکہ اور شنگھائی تعاون تنظیم کا بھی رکن ہے۔

قازقستان نے 16 دسمبر 1991ء کو سوویت اتحاد سے علیحدگی کے بعد اپنی آزادی کا اعلان کیااور یہ سوویت اتحاد سے الگ ہونے والی آخری ریاست تھی۔ سوویت دَور کے رہنما نورسلطان نذربایف ملک کے نئے صدر بنے۔ آزادی کے بعد سے قازقستان ایک متوازن خارجہ پالیسی پر گام زن ہے اور اپنی معیشت خصوصاً معدنی تیل اور اس سے متعلقہ صنعتوں کی ترقی پر توجّہ دے رہا ہے۔ تاریخی طور پر یہ خانہ بدوشوں کا مُلک رہا ہے۔ سولہویں صدی تک یہاں کے لوگ تین واضح قبیلوں کی صورت منظّم ہوچکے تھے۔ 

ان قبیلوں کو مقامی زبان میں ’’جُز‘‘ کہتے ہیں۔ اٹھارہویں صدی میں روسیوں نے قازقستان پر حملوں کا سلسلہ شروع کیا، جس کے نتیجے میں انیسویں صدی کے وسط تک پورا قازقستان روس کا حصّہ بن گیا۔ ملک کے سب سے بڑے شہر الماتے کو 1997ء تک دارالحکومت کی حیثیت حاصل رہی، تاہم اب مُلک کا دارالحکومت جدید و قدیم حیثیت کا حامل شہر ’’آستانہ‘‘ ہے۔ قازقستان کی وسیع و عریض سرزمین بڑی متنوّع ہے، جہاں گھاس کے وسیع میدان، قطبی جنگلات، برف پوش پہاڑ، دریائی میدان اور صحرا سب ہی کچھ موجود ہے۔ 

قازق باشندے ترک نسلی گروہ سے تعلق رکھتے ہیں، اور عوامی جمہوریہ چین میں سرکاری طور پر تسلیم شدہ 56 نسلی گروہوں میں شامل ہیں۔ ہزارہا رنگوں پر مشتمل جمہوریہ قازقستان نے 16 دسمبر 1991ء کو روس سےآزادی کے بعد دنیا کو اپنا گرویدہ کرلیا اور اس کے رنگ گزشتہ تین دہائیوں سے پوری دنیا میں پھیلتے جارہے ہیں۔ متعدد قدرتی وسائل سے مالا مال ملک قازقستان میں جنگلات، پہاڑ، خوب صورت جھیلوں اور صحرائوں سمیت لاتعداد سیّاحتی و تفریحی مقامات دیکھنے، نیز قازق خوشبو اور اس کے ہزار ہا رنگوں کا راز جاننے کے لیے دنیا کے کونے کونے سے سیّاح یہاں کا رُخ کرتے ہیں۔

قازقستان کے معروف نیوز میڈیا میں سے ایک دی آستانہ ٹائمز نے 22 دسمبر 2021 ءکو ایک رپورٹ شایع کی، جس کے مطابق قازقستان میں سیّاحوں کو رہائش کی سہولتیں اور خدمات فراہم کرنے والوں کی آمدنی میں181 ملین ڈالر کا اضافہ ہوا ہے۔ کورونا وبا کے خاتمے کے بعد ہزاروں کاروباری افراد اور سیّاح یہاں کا رخ کررہے ہیں اورہر سہ ماہی میں زائرین کی آمد میں اضافہ ہوتاجا رہا ہے۔ اگرچہ یہ ملک چاروں طرف سے خشکی میں گِھرا ہوا ہے، اس کی کوئی بندرگاہ بھی نہیں ہے، لیکن پھر بھی اِسے کاروباراور سیّاحت کے حوالے انتہائی اہمیت حاصل ہے۔ 

قازقستان کی سیّاحت کی قومی کمپنی کے چیئرمین، تلگت امان بائیوف مُلک میں سیّاحت کو فروغ دینے اور سیّاحوں کو فراہم کی جانے والی سہولتوں میں بہتری لانےکے لیے اہم اقدامات کررہے ہیں۔ ایک بیان میں ان کا کہنا تھا کہ’’ کووِڈ19- کے خاتمے کے بعد قازقستان میں سیّاحت کے نت نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔ رواں سال کے صرف پہلے چار مہینوں میں اس صنعت نے 173.7 کی آمدن حاصل کی۔ فروری میں، قازقستان نے 74 ممالک کے ساتھ ویزا فری نظام دوبارہ شروع کیا ہے،جسے بتدریج 100 ممالک تک بڑھایا جائے گا۔‘‘

یوں تو قازقستان میں بے شمار تاریخی و خوب صورت مقامات ہیں، تاہم یہاں کے 12 اہم مقامات سیّاحتی جنّت کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ملک کی نرم ویزا پالیسی، نسبتاً مستحکم قیمتیں، دوستانہ مہمان نوازی، معیاری خوراک اورکم قیمت میں آرام دہ ہائشی سہولتیں کاروباری افراد اور سیّاحوں کو اپنی جانب راغب کرتی ہیں۔ یہاں جدید شہروں کے علاوہ متعدد قدیم شہر بھی ہیں۔ قازقستان کے دارالحکومت ’’آستانہ‘‘ شہر کو وسطی ایشیا کا بدلتا چہرہ بھی کہا جاتا ہے۔ 

یہ شہر جدید قوم کی زندہ مثال کے طور پر کھڑا ہے۔ یہاں بہت سے مشہور سیّاحتی مقامات کے علاوہ کاروباری مراکزاور فنِ تعمیر کی شاہ کار کثیر المنزلہ عمارتیں موجود ہیں۔ مثلاً بلند و بالا عمارتBayterek Tower کی چوٹی سے پورے شہر کا نظارہ کیا جاسکتا ہے۔ Duman Recreational Complex آرٹ کے شائقین کے لیے، جب کہ میوزیم آف مینی ایچرز اینڈ سی ایکیوریم فطرت کے شائقین کے لیے پُرکشش مقام کی حیثیت رکھتے ہیں۔ میوزیم میں دنیا کے مختلف حصّوں سے لائے گئے سمندری جانوروں کی 2000 سے زائد اقسام رکھی گئی ہیں۔ 

دیگر جگہوں میں صدارتی محل، ارینا اسٹیڈیم، قومی عجائب گھر، نورآستانہ مسجد، سٹی پارک، آزادی اسکوائروغیرہ دیکھنے سے تعلق رکھتے ہیں۔ سابق دارالحکومت الماتے یہاں کا سب سے بڑا ثقافتی مرکز ہے۔ بحیرئہ کیسپین کے کنارے آباد، اکتائو شہر بھی خُوب صُورتی میں اپنی مثال آپ ہے۔ جب کہ جنوبی قازقستان میں واقع تراز شہر اپنے اندر صدیوں کی تاریخ رکھتا ہے۔

قازقستان میں واقع جھیل بلخاش دنیا کی 15ویں سب سے بڑی جھیل ہے۔ بحیرئہ ارال کے مشرق میں 600 میل کے فاصلے پر واقع یہ جھیل ملک میں ہائیڈرو الیکٹرک پراجیکٹس کا ایک بڑا ذریعہ بھی ہے۔ بائیکونور، اسپیس پورٹ، راکٹوں اور خلائی جہازوں کا شہر کہلاتا ہے۔ ٹورگن گورج بھی ایک حیرت انگیز تاریخی شہر ہے، جہاں کینڈی جھیل، قدرتی ڈیم اور مقدّس پناہ گاہ واقع ہیں۔

پہاڑوں کے دامن میں واقع الماتے شہر میں خُوب صُورت ترتیب سے تعمیر شدہ مکانات ایک دل کش منظر پیش کرتے ہیں، تو چہار اطراف برف سے ڈھکے پہاڑ شہر کی حفاظت کرتے معلوم ہوتے ہیں۔ الماتے میں سیّاحوں کی توجّہ کا اہم مرکز بیٹلز کا مجسّمہ، چرین کی وادی، جنگلی سیب کے جنگلات، سحرانگیز الماتے جھیل، کوک ٹوبی کی پہاڑی، کولسائی کی جھیلیں، الماتے سینٹرل پارک، جھیل اسیک، سینٹرل اسٹیٹ میوزیم، پانفیلوف پارک اور اراسان حمام وغیرہ ہیں۔ اکتاؤ، بحیرہ کیسپین کے کنارے آباد ایک خُوب صُورت پُرسکون شہر ہے۔ یہاں بھی قدیم فنِ تعمیر کے متعدد شاہ کار دکھائی دیتے ہیں۔ 

مثلاً ثقافتی مراکز، موسیقی ہال، سنیما گھر اور لائبریریز کے علاوہ پپٹ تھیٹر، دوسری جنگِ عظیم کی یادگار، بوٹینیکل گارڈن، علاقائی عجائب گھر، کوسٹا کیفے، سمندری ساحل، تاراس شیوچینکو کے مجسّمے کے علاوہ مختلف رنگوں کے خُوب صُورت پہاڑ بھی موجود ہیں۔ جنوبی قازقستان کا قدیم ترین شہر تراز میں بھی سیّاحوں کا من پسند مقام ہے کہ یہاں کے پُراسرار مقامات اور کھنڈرات میں پچھلی صدی کے بہت سے راز پوشیدہ ہیں۔

اس تاریخی شہر میں بابا جی خاتون کا مزار، دریائے تالاس کے علاوہ دیگر پُرکشش مقامات میں اکیرتاس، اسٹون ہینج، مزار شاہ منصور، عائشہ بی بی کا مزار، عائشہ بی بی گاؤں، تراز علاقائی میوزیم اور شکرستان مارکیٹ شامل ہیں۔ الغرض، قازقستان کے قدیم و جدید شہروں میں لاتعداد سیّاحتی مقامات کے علاوہ دنیا بھر کے تاجروں اور کاروباری افراد کے لیے بے شمار مواقع موجود ہیں۔

سنڈے میگزین سے مزید