• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایران امریکا معاہدہ، جنیوا میں دستخط متوقع، ’’اسلام آباد معاہدہ‘‘ کہلائے گا

کراچی (رفیق مانگٹ) ایران امریکا مجوزہ معاہدہ، جنیوا میں دستخط متوقع، قطر اور پاکستان کی مشترکہ ثالثی، ʼاسلام آباد معاہدہʼ کہلائے گا۔ آبنائے ہرمز فوری کھولنے اور امریکی ناکہ بندی ختم کرنے پر اتفاق، ایران کو مشروط پابندیوں میں نرمی، تیل فروخت کی اجازت متوقع، 60 روزہ جنگ بندی میں توسیع، لبنان بھی معاہدے میں شامل، نائب صدر جے ڈی وینس کی جنیوا میں ممکنہ شرکت کی تیاریاں، حالیہ دنوں میں نیتن یاہو اس پیش رفت سے لاعلم رہے، معلومات حاصل کرنے کے لیے ٹرمپ انتظامیہ کے قریبی حلقوں سے رابطے کرتے رہے۔ عرب میڈیا کا کہنا ہے اسحاق ڈار جنیوا جائیں گے۔ جبکہ وائٹ ہاؤس اہلکار نے دعویٰ کیا ایران نے مشروط معاہدے پر آمادگی ظاہر کر دی۔ امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے جلد دستخط کیے جانے والے امریکا ایران مفاہمتی یادداشت کے مطابق آبنائے ہرمز کو فوری طور پر بغیر کسی ٹول ٹیکس کے کھول دیا جائے گا، جبکہ ایران کو معاہدے کی پاسداری کے بدلے مرحلہ وار پابندیوں میں نرمی دی جائے گی۔ امریکی میڈیا کے مطابق اس مفاہمتی یادداشت کے تحت جنگ بندی میں 60 دن کی توسیع ہوگی، جس میں لبنان بھی شامل ہوگا، اور اس دوران ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات کیے جائیں گے۔ متن میں ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخیرے سے نمٹنے کے لیے ایک فریم ورک شامل ہے، تاہم جوہری پروگرام پر عملی اقدامات ایک دوسرے، زیادہ تفصیلی معاہدے سے مشروط ہوں گے۔ رپورٹ کے مطابق امریکا اور ایران معاہدے کے متن پر متفق ہو چکے ہیں، تاہم حتمی منظوری ابھی باقی ہے۔ رپورٹ کے مطابق جمعرات کی شام تک ایران میں اعلیٰ سطح پر اس معاہدے کی منظوری دی جا چکی تھی، تاہم امکان ہے کہ سپریم لیڈر نے ابھی تک اس کی توثیق نہیں کی۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ ہفتہ وار تعطیلات کے دوران دستخط کی تقریب کی توقع رکھتے ہیں، جبکہ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ تہران نے ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا۔ گزشتہ دو ماہ کے دوران وائٹ ہاؤس کئی بار یہ سمجھ چکا تھا کہ معاہدہ قریب ہے، لیکن مذاکرات ناکام ہو جاتے تھے۔ تاہم اس بار سفارتکار نے امید ظاہر کی کہ یہ مسودہ برقرار رہے گا۔ جمعرات کو امریکی فضائیہ کے چار C-17 طیارے یورپ روانہ ہوئے تاکہ ممکنہ طور پر نائب صدر جے ڈی وینس کے جنیوا میں دستخطی تقریب میں شرکت کے لیے سامان منتقل کیا جا سکے۔ دو ثالثی ممالک کے سفارتکاروں اور دو امریکی حکام کے مطابق بدھ کی شب کئی گھنٹوں کے مذاکرات کے بعد یہ ابتدائی معاہدہ طے پایا۔ ٹرمپ کے معاہدہ حتمی ہونے کے اعلان نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو حیران کر دیا۔ امریکی ذرائع کے مطابق حالیہ دنوں میں نیتن یاہو اس پیش رفت سے لاعلم رہے اور معلومات حاصل کرنے کے لیے ٹرمپ انتظامیہ کے قریبی حلقوں سے رابطے کرتے رہے۔ مفاہمتی یادداشت کے تحت ایران اپنے جوہری پروگرام پر چند اہم وعدے کرے گا، جن میں سب سے اہم یہ ہے کہ وہ کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا اور افزودہ یورینیم کے تنازع کو حل کرے گا۔ ایک سینئر امریکی عہدیدار کے مطابق اس مسئلے کے حل کے لیے ایک آپشن یہ بھی ہے کہ ایران اپنے انتہائی افزودہ یورینیم کو اقوام متحدہ کے انسپکٹرز کی نگرانی میں ملک کے اندر ہی کم افزودہ سطح پر تبدیل کرے۔ تاہم جوہری پروگرام سے متعلق عملی اقدامات اسی صورت ہوں گے جب دوسرا، زیادہ تفصیلی معاہدہ طے پائےجو کہ ایک غیر یقینی مرحلہ ہے کیونکہ ابتدائی معاہدے پر ہی مذاکرات مشکل رہے ہیں۔ سفارتکار کے مطابق یہ مفاہمتی یادداشت تمام جوہری معاملات کی تفصیل بیان کرتی ہے اور امریکا کی تمام شرائط پوری کرتی ہے۔

اہم خبریں سے مزید