• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ڈیجیٹل دنیا کے اُفق پر چمکتے دمکتے ستارے

پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی کے مطابق جون 2022ءتک مُلک میں مجموعی طور پرانٹرنیٹ صارفین کی تعداد 115ملین تھی، جن میں سے 113 ملین (گیارہ کروڑ 30لاکھ) صارفین ،موبائل انٹرنیٹ استعمال کرتےہیں۔ جب کہ بین الاقوامی ویب سائٹ ڈیٹا ری پورٹل کے رواں سال فروری میں جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق جنوری 2022ء تک پاکستان میں انٹرنیٹ صارفین کی تعداد آبادی کا 36.5فی صد ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2021ء تا 2022ء انٹرنیٹ صارفین کی تعداد میں 22 ملین کا اضافہ ہوا۔ 

یاد رہے، ڈیجیٹل میڈیا/سوشل میڈیا صارفین کی تعدادمیں اضافے کے بعد سے پاکستان میں لوگوں کے طرزِ زندگی سے لے کر آمدنی تک میں نمایاں تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے۔ سوشل میڈیا کی طاقت کا اندازہ اس بات سے بھی لگا یا جا سکتاہے کہ اب اہم احکامات، تبادلوں وغیرہ کے پریس ریلیزز تک سوشل میڈیا پر شیئر کیے جاتے ہیں۔ حکومتِ پاکستان سے افواجِ پاکستان تک ہر ادارے کا ڈیجیٹل میڈیا وِنگ ، ہر لمحہ فعال رہتا ہے۔ پھر اس بات میں بھی کوئی دو رائے نہیں کہ سوشل میڈیا کے آنے سے روایتی یا مین اسٹریم میڈیا کی طاقت و اہمیت بہت حد تک متاثر ہوئی ہے۔ 

مضامین، سفر نامے لکھنے کا شوق ہو، موسیقی یا فلم سازی کا، آج صارف اپنا ہر شوق ڈیجیٹل میڈیا کے ذریعے پورا کر رہا ہے۔ یہی نہیں، کئی افراد تو اس پلیٹ فارم سے لاکھوں، کروڑوں روپے بھی کما رہے ہیں۔ اسی طرح پچھلے سات، آٹھ سال سے پاکستان میں بلاگنگ(Web Logging) کو بھی کافی مقبولیت حاصل ہوئی، تو وی لاگنگ(Video Logging) کا بھی دور دورہ ہے کہ آج جہاں دیکھیں، ہر بچّہ، بوڑھا، جوان گھر وں، پارکس، ریسٹورنٹس تک میں ویڈیوز بناتا نظر آتا ہے۔ 

ڈیجیٹل میڈیا کی اسی طاقت کو دیکھتے ہوئے کئی جانے مانے صحافیوں نے بھی روایتی صحافت چھوڑ کر اپنے یوٹیوب چینلز بنا لیے ہیں کہ اس طرح ایک تو زیادہ سے زیادہ افراد تک ان کی رسائی ممکن ہوگئی ہے، دوم،کمائی بھی اچھی خاصی ہو رہی ہے۔ بہرحال، اس ساری تمہید کا لبّ ِ لباب یہ ہے کہ ڈیجیٹل دنیا ایک ایسی طلسماتی نگری ہے، جو انسان کو لمحوں میں عرش سے فرش اور فرش سے عرش تک پہنچا سکتی ہے۔ 

جب کہ ’’یو ٹیوب‘‘ اس طلسماتی دنیا کا انتہائی اہم ’’شہر‘‘ ہے۔ تو…چلیں، آج آپ کو پاکستان کے چند معروف یوٹیوبرز سے متعلق کچھ معلومات فراہم کرتے ہیں، جو ہماری، آپ ہی کی طرح مڈل کلاس فیملیز سے تعلق رکھتے تھے، لیکن اپنی محنت، لگن، مستقل مزاجی اور اس سے بھی بڑھ کر سبسکرائبرز، واچ ٹائم اور ویوز کی بدولت آج لکھ پتی اور کچھ کروڑ پتی بھی بن چُکے ہیں۔یاد رہے، ویسے تو پاکستان میں سوشل میڈیا (ٹِک ٹاک، وائرل ویڈیوز، یوٹیوب، انسٹاگرام وغیرہ) کے ذریعے کئی افراد مقبولیت کی انتہاؤں کو پہنچے، لیکن زیرِ نظر مضمون میں صرف معیاری اور کسی حد تک معقول کانٹینٹ پیش کرنے والے یوٹیوبرز ہی کا تعارف پیش کیا جا رہا ہے۔

عرفان جونیجو

پاکستان میں وی لاگنگ کو اس قدر مقبولِ عام کرنے کا سہرا عرفان جونیجو کے سر ہے۔ کراچی سے تعلق رکھنے والے عرفان جونیجو نے یکم جنوری 2017ء کو اپنے یوٹیوب چینل کا آغاز کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے نسلِ نو میں بے انتہا مقبول ہوتے چلے گئے۔ بعدازاں، عرفان جونیجو ہی سے متاثر ہو کر کئی نوجوانوں نے وی لاگنگ کا آغاز کیا۔ دراصل عرفان جونیجو اپنی چُلبلی طبیعت،خوش مزاجی، تحقیقی کام، فلم بینی کے ذوق اور سیر و سیاحت کے شوق کی وجہ سے ایسی ویڈیوز بناتے ہیں، جو دیکھنے والوں کو بےحد متاثر کرتی ہیں۔ 

یاد رہے، عرفان نہ صرف پاکستان، بلکہ بھارت میں بھی خاصے مقبول ہیں اور تادمِ تحریر اُن کے سبسکرائبرز کی تعداد 1.27 ملین ہے، جب کہ وہ اب تک 255 ویڈیوز اَپ لوڈ کر چُکے ہیں۔ کیا آپ کو پتاہے کہ آج کل ہر نوجوان ’’سینز(Scenes) کچھ ایسے ہیں‘‘ اور ’’Not Coming Slow‘‘ کہتا کیوں نظر آتا ہے، تو اس کا جواب ہے ’’عرفان جونیجو‘‘۔ کیوں کہ یہ دونوں انہی کی ٹیگ لائنز ہیں، جنہیں سُن سُن کر نوجوان نسل بات بات پر ’’سینز‘‘ کا ذکر کرتی نظر آتی ہے۔ 

عرفان جونیجو نے بی بی اے کررکھا ہے، جب کہ وی لاگنگ کے حوالے سے اُن کاکہنا ہے کہ ’’مَیں یوٹیووب پہ ایک امریکی وِلاگر، کیسی نائیسٹیٹ (Casy Neistat ) کی ویڈیوز دیکھتا تھا، جو شروع میں تو مجھے پسند نہیں آتی تھیں، کیوں کہ اپنی زندگی کیمرے میں ریکارڈ کرکے لوگوں کو دکھانا مجھے کچھ خاص پسند نہیں آیا، لیکن پھر مَیں نے سوچا کہ اس میڈیم کو ٹیلی ویژن پروگرامز کی طرز پر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے، یعنی ضروری نہیں کہ اپنی زندگی کا ہر پہلو ہی دکھائیں، پرائیویسی کا خیال رکھتے ہوئے کچھ خاص واقعات، مواقع بھی تو فلم بند کیے جا سکتے ہیں۔ پھر ایک روز مَیں نے تیمور صلاح الدّین(مورو) کا امریکا کا وی لاگ دیکھا تو سوچا یہ پاکستان میں بھی تو ہوسکتا ہے۔ اور بس، کام شروع ہوگیا۔‘‘ عرفان کے مطابق یہ دَور ڈیجیٹل میڈیا کا ہے اور ہمیں اسے ترقّی دینے، معیاری کانٹینٹ بنانے پر فوکس کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

جنید اکرم

جنید اکرم/ گنجی سویگ کا نام کم از کم پاکستان میں تو کسی تعارف کا محتاج نہیں کہ ان کی ویڈیوز میں نہ صرف طنز و مزاح کا عنصر نمایاں ہوتا ہے، بلکہ انہوں نے شہرت کو ذمّے داری سمجھتے ہوئے نوجوانوں کی کیریئر کاؤنسلنگ میں بھی کوئی کسر اُٹھا نہیں رکھی۔ پاکستان میں عربی الفاظ ’’خلّی ولّی‘‘ زبانِ زدِ عام کرنے اور یوٹیوب پر مزاحیہ ویڈیوز بناکر کیریئر کا آغاز کرنے والے جنید اکرم کی زندگی ہمیشہ سے اس قدر خوش حال نہیں تھی، جیسی آج نظر آتی ہے۔ وہ آج جس مقام پر پہنچے ہیں اور مسلسل آگے بڑھ رہے ہیں، تو اس کے پسِ پردہ ان کی بے پناہ محنتیں، کوششیں اور مستقل مزاجی کا بڑا عمل دخل ہے۔ 

بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ جنید اکرم بچپن میں ایک ہوٹل میں کام کرتے تھے اور جس عمارت میں وہ ہوٹل قائم تھا،وہاں ایک کمپیوٹر انسٹی ٹیوٹ بھی تھا۔ جہاں وہ اپنے ہم عُمر بچّوں کو ہنستے کھیلتےاور زندگی کو پوری طرح انجوائے کرتےدیکھتے، تو انہیں سخت ڈیپریشن ہوتا کہ خاصا ذہین اور پڑھائی میں اچھا ہونے کے با وجود وہ کبھی آلو کی بوری، تو کبھی تیل کا کنستر اُٹھا رہے ہوتے۔ لیکن بقول جنید ’’اُس وقت میرے پاس کچھ نہیں تھا، سوائے اس اُمّید کے کہ یہ وقت بدل جائے گا، یہ صرف میری زندگی کی کتاب کا ایک باب ہے، پوری کتاب نہیں۔

آج لوگ مجھ سے ملنے، میرے ساتھ تصویر کھنچوانے کے لیے بے تاب رہتے ہیں، میری ویڈیوز کے ہزاروں فالورز ہیں، لیکن ایک وقت وہ بھی تھا، جب مَیں اپنے دوستوں کی گاڑی میں اپنے پیسوں سے سی این جی ڈلواتا تھا کہ ’’یار! میرا شو دیکھنے آجاؤ‘‘۔ اور وہ پھر بھی نخرے کرتے تھے۔‘‘ بہر کیف، آج اسی جنید اکرم کا شمار پاکستان کے صفِ اوّل کے یوٹیوبرز، کانٹینٹ کری ایٹرز اور انفلوینسرز میں ہوتا ہے۔یاد رہے، جنید اب تک 582ویڈیوز اَپ لوڈ کر چُکے ہیں اور ان کے سبسکرائبرز کی تعداد 8,52,000 (852k) ہے۔

نادر علی

معروف پاکستانی یوٹیوب چینل ’’پی فار پکاؤ‘‘ کے بانی، پرینکر آرٹسٹ ،نادر علی کا نام بھی کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ ان کی یوٹیوب پر موجود مختلف ویڈیوز کو دنیا بھر کے لاتعداد افراد دیکھتے اور پسند کرتے ہیں۔ ایک موقعے پر نادر علی کا کہنا تھا کہ اُن کی کام یابی کے پیچھے مشکل وقت میں بھرپور محنت کا ہاتھ ہے، وہ شروع ہی سے مزاحیہ اداکاری کرنا چاہتے تھے اور اس شوق کی تکمیل کے لیے وہ کئی چینلز کے پاس بھی پروپوزل لے کر گئے، لیکن کام نہیں ملا۔ 

بعدازاں، انہوں نے ان ہی مسترد آئیڈیاز پر خود ویڈیوز بناکر خُوب پذیرائی حاصل کی اور اب ان کے چینل پر سبسکرائبرز کی تعداد 3.91ملین ہے، جب کہ 746 ویڈیوز اَپ لوڈ کی جا چُکی ہیں، لیکن اس مقام تک پہنچنے، اپنے خوابوں کی تکمیل کے لیے انہوں نے انتہائی مشکل حالات کا سامنا کیا۔ ایک انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ’’ایک بار مَیں ایک چینل سے واپس آرہا تھا کہ موٹر سائیکل کا پیٹرول ختم ہوگیا اور بدقسمتی سے پیسے بھی نہیں تھے، جب مدد کے لیے فون کرنے لگا، تو پتا چلا کہ بیلنس بھی ختم ہو چُکا ہے۔ وہ بڑے مشکل دن تھے، لیکن مَیں نے ان مشکلات کو اکیلے برداشت کیا اور آج اُن کا پھل بھی کھا رہا ہوں۔‘‘ یاد رہے، نادر علی اپنے پرینکس اور نِت نئے آئیڈیاز کے سبب نہ صرف پاکستان، بلکہ دنیا بھر میں شہرت رکھتے ہیں۔

ارسلان نصیر

ارسلان نصیر بھی کسی تعارف کے محتاج نہیں، ویسے تو وہ اب شوبز کی دنیا میں بھی قدم رکھ چُکے ہیں، لیکن ارسلان کی بنیادی شناخت ایک یوٹیوبر ہی کی ہے۔ اُن کا شمار پاکستان کے اُن چند یوٹیوبرز میں ہوتا ہے، جو طنزومزاح پر مبنی ویڈیوز تو بناتے ہیں، لیکن اپنی ویڈیوز میں لوگوں کی روسٹنگ (کھنچائی) بھی کرتے ہیں اور عموماً ویڈیوز میں نازیبا، معیوب یا غیر اخلاقی الفاظ کے استعمال سے احتراز ہی کرتے ہیں۔ 

چاہے کرکٹ پر تجزیہ ہو، کسی مووی،ڈرامے،اشتہار کا ری ویو یا پھر حالاتِ حاضرہ پر تبصرے، ارسلان ہر موضوع پر انتہائی شائستہ انداز میں اس مہارت سے طنز و مزاح پر مبنی کانٹینٹ تخلیق کرتے ہیں کہ دیکھنے والا ہنس ہنس کے لوٹ پوٹ ہوجاتا ہے۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ ارسلان کے سبسکرائبرز اور فینز کی ایک بڑی تعداد بھارتیوں پر بھی مشتمل ہے۔ ارسلان نصیر نے 2011ء میں یوٹیوب پر اکاؤنٹ بنایا تھا۔ یعنی وہ گزشتہ نو برسوں سے یوٹیوب پر ویڈیوز اَپ لوڈ کر رہے ہیں اور اس وقت ان کے سبسکرائبرز کی تعداد 1.35 ملین ہے۔

مورو

تیمور صلاح الدّین عرف مورو پاکستان کے بہترین یوٹیوبرز میں سے ایک ہیں۔ وہ اپنی ویڈیوگرافی اور خاص طور پر ڈرون شاٹس کے ساتھ ساتھ شمالی علاقوں کے سفر ناموں کی وجہ سے بھی خاصی شہرت رکھتے ہیں۔ انہوں نے 2006 ء میں یوٹیوب جوائن کیا اور اب اُن کے سبسکرائبرز کی تعداد 1.09 ملین ہے۔ 

مورو ایک انتہائی باصلاحیت اور قابل نوجوان ہیں، جو اپنی ویڈیوز کے ذریعے نوجوانوں کو بہت کچھ سکھاتے بھی ہیں۔ ان کی باتوں میں خاصی گہرائی اور کانٹینٹ عموماً بےہودگی، لغویات سے پاک ہوتا ہے۔ اسی لیے اُن کے سبسکرائبرز کی بڑی تعداد بھی پڑھے لکھے، سُلجھے لوگوں پر مشتمل نظر آتی ہے۔

تابش ہاشمی

تابش ہاشمی نے اپنے کیرئیر کا آغاز اسٹینڈ اَپ کامیڈی شو ’’دی لافنگ اسٹاک ‘‘ سے کیا تھا، بعد ازاںایک آن لائن ٹاک شوکی میزبانی کی،جو سو شل میڈیا پر بے حد مقبول ہوااور اب جیو ٹی وی نیٹ ورک کے پروگرام ’’ہنسنا منع ہے‘‘اور جشنِ کرکٹ کی میزبانی کر رہے ہیں۔

کنول احمد

کنول احمد، خواتین کے معروف فیس بُک گروپ ’’سول سِسٹرز‘‘ کی بانی ہیں۔ اس گروپ کو اگر خواتین کا ’’ہائیڈ پارک‘‘ کہا جائے، تو بے جا نہ ہوگا کہ خواتین کی ایک بڑی تعداد اس گروپ کا نہ صرف حصّہ ہے بلکہ اس فورم پر اپنا ہر قسم کا مسئلہ، معاملہ ڈسکس کرتی بھی نظر آتی ہے۔ کنول نے گروپ کا آغاز 2013 ء میں کیا، جو اب تین لاکھ سے زائد خواتین پر مشتمل ایک کمیونٹی کی شکل اختیار کر چُکا ہے۔ 

کنول احمد کا تعلق کراچی سے ہے، مگر وہ کینیڈا میں رہائش پذیر ہیں۔ ویسے تو ان کی بنیادی شناخت سول سِسٹرز کی بانی ہونا ہی ہے، لیکن ان کا ایک یوٹیوب ٹاک شو’’Coversations With Kanwal‘‘ بھی دنیا بھر میں دیکھا جاتا ہے۔ جس میں وہ کچھ اچھوتے، منفرد اور بعض اوقات معاشرے میں ممنوع سمجھے جانے والے موضوعات پر مختلف خواتین کے انٹرویوز کرتی ہیں۔ یاد رہے، کنول کے یوٹیوب چینل پر اب تک 45 ویڈیوز اَپ لوڈ کی جا چُکی ہیں، جب کہ سبسبکرائبرز کی تعداد ایک لاکھ دس ہزار ہے۔

مریم پرویز

مریم پرویز نے 26جون 2018 ء کو انسٹاگرام پر ایک اکاؤنٹ بنایا، جس کا آغاز میک اَپ ٹیوٹوریلز پوسٹ کرنے اور اسکن کیئر روٹین شیئر کرنے سے کیا۔ اُن کے جینوئن، سیدھے سادے اور خاصے عوامی سے اسٹائل کے سبب اُنہیں مقبولیت حاصل ہونا شروع ہوئی اور پھر جلد ہی وہ لوگوں میں اپنی شناخت بنانے میں کام یاب ہو گئیں۔ 

بعدازاں، انہوں نے ایک یوٹیوب چینل بنایا، جہاں وہ اپنے وی لاگز، کھانا پکانے کی تراکیب اور میک اَپ ٹیوٹوریلز وغیرہ شیئر کرتی ہیں۔ مریم پرویز کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا سکتا ہے کہ صرف 62 ویڈیوز ہی پر اُن کے سبسکرائبرز کی تعداد ایک ملین تک جا پہنچی تھی اور تا دمِ تحریر 2.32 ملین افراد اُن کا چینل سبسکرائب کر چُکے ہیں، جب کہ چینل پر ویڈیوز کی تعداد 219 ہے۔

شاہ ویر جعفری

پاکستانی نژاد کینیڈین یوٹیوبر، شاہ ویر جعفری کا شمار بھی مقبول ترین یوٹیوبرز میں ہوتا ہے۔ شاہ ویر جعفری نے 2016ء میں یوٹیوب جوائن کیا تھا اور تب سے تاحال اُن کا کانٹینٹ بہت شوق سے دیکھا جاتا ہے۔ شاہ ویر اب تک 468ویڈیوز اَپ لوڈ کر چُکے ہیں اور ان کے سبسکرائبرز کی تعداد 3.26 ملین ہے۔ ویسے تو شاہ ویر جعفری بھی شوبز انڈسٹری میں قدم رکھ چُکے ہیں، جب کہ ان کی بنیادی شناخت بہرحال ایک یوٹیوبر ہی کی ہے۔

شام ادریس

شام ادریس پاکستانی نژاد کینیڈین ہیں، جو یوٹیوب پر مزاحیہ ویڈیوز اَپ لوڈ کرکے ایک طویل عرصے سے لوگوں کو تفریح فراہم کررہے ہیں۔ اگر اُنہیں سوشل میڈیا سینسیشن کہا جائے توغلط نہ ہوگا کہ جنوبی ایشیائی کمیونٹیز میں ان کے مداحوں کی تعداد لاکھوں میں ہے۔ شام ادریس یوٹیوبر ہونے کے ساتھ ڈائریکٹر، موسیقار اور وی لاگر بھی ہیں۔ اُن کے چینل پر اب تک ایک لاکھ دو ہزار ویڈیوز اَپ لوڈ کی جا چُکی ہیں، جب کہ سبسکرائبرز کی تعداد 2.22 ملین ہے۔

زید علی

زید علی ایک پاکستانی نژاد کینیڈین یوٹیوبر ہیں، جن کے چینل کا نام ’’زید علی ٹی وی لاگز (ZaidAliT Vlogs)‘‘ ہے۔ انہوں نے اپنے چینل کا آغاز 2012ء میں کیا اورجنوری 2019ء تک ان کے چینل کے سبسکرائبرز کی تعداد 1,170,940 تک پہنچ چُکی تھی، جب کہ آج یہ تعداد 3.53ملین سبسکرائبرز پر مشتمل ہے۔ اور ان کا چینل دنیا بھر میں بسنے والے ایشیائی باشندوں میں بےحد مقبول ہے۔ ان کی اَپ لوڈڈ ویڈیوز منٹوں میں وائرل ہوجاتی ہیں، جب کہ واچ ٹائم کا تو کوئی شمار ہی نہیں۔

ڈاکٹر تمکنت منصور

ڈاکٹر تمکنت منصور کا تعارف انتہائی دل چسپ ہے کہ وہ ایم بی بی ایس ڈاکٹر ہونے کے ساتھ اداکارہ ،کامیڈین اور سوشل میڈیا انفلو ینسر بھی ہیں۔ گجرات، پاکستان میں پیدا ہونے والی تمکنت بطور جنرل فزیشن’’ Aesthetics Consultant ‘‘کے نام سے ایک کلینک بھی چلاتی ہیں۔ لیکن ان کی وجہِ شہرت طنزو مزاح، کھٹے میٹھے جملوںسے بھرپور معاشرتی حقائق بیان کرتی ویڈیوز ہیں۔ ڈاکٹر تمکنت کے یوٹیوب چینل’’نو فلٹرز‘‘ پر اب تک 272 ویڈیوز اَپ لوڈ کی جا چُکی ہیں، جب کہ سبسکرائبرز کی تعداد 8 لاکھ سے زائد ہے۔

فائزہ سلیم

فائزہ سلیم کا تعارف کسی قدر دل چسپ ہے کہ وہ پیشے کے اعتبار سے تو ایک وکیل ہیں، لیکن اُن کی حسِ مزاح لاجواب ہے۔ فائزہ وہ پہلی خاتون سوشل میڈیا اینٹرٹینر ہیں، جنہوں نے پاکستان میں اسٹینڈ اَپ کامیڈی کی اور برّصغیر کے خواتین کے پہلے کامیڈی گروپ ’’دی خواتونز‘‘کی رہنمائی اور تربیت بھی کی۔ فائزہ ٹیلی ویژن پر سرگرم رہیں اور انہوں نے ایک مزاحیہ فلم پرچی سے فلم کی دنیا میں قدم رکھا، مگر انہیں حقیقی شہرت سوشل میڈیا ہی کے ذریعے ملی کہ ان کی ’’سوڈو برگر ڈائری‘‘ کو بے پناہ مقبولیت حاصل ہوئی۔ فائزہ سلیم کے چینل پر اب تک 308 ویڈیوز اَپ لوڈ کی جا چُکی ہیں، جب کہ سبسکرائبرز کی تعداد ایک لاکھ 47 ہزار ہے۔

مبین الحق (بےکار فلمز)

دنیا میں غالباً سب سے مشکل کام اُداس چہروں پر خوشیاں بکھیرنا ہے اور خوش قسمتی سے ہمارے یہاں ایسے افراد کی کمی نہیں، جو اس فن میں طاق ہیں۔ پہلے تو عموماً اسٹیج ڈراموں، ٹی وی شوز وغیرہ ہی کے ذریعے طنزومزاح کا رواج عام تھا، لیکن آج اس فن کا بہترین مظاہرہ یوٹیوب کے ذریعے کیا جا رہا ہے۔ ’’بے کار فلمز‘‘ کا شمار پاکستان کے چند معیاری یوٹیوب چینلز میں ہوتا ہے، جس میں ہلکے پُھلکے انداز میں، مزاح کا بگھار لگا کر معاشرتی مسائل پر روشنی ڈالی جاتی ہے۔ 

اس چینل کے شریک بانی، تخلیق کار، مبین الحق کی کامیڈی کا جواب نہیں۔ وہ عوامی موضوعات پر کام کرتے ہیں اور ان موضوعات سے لوگ بآسانی ری لیٹ کر جاتے ہیں۔مبین کا کہنا ہے کہ ’’مَیں ویڈیوز میں بولڈ زبان استعمال کرنے کے خلاف نہیں ہوں، لیکن ہم اپنی ویڈیوز میں زیادہ تر فیملی کانٹینٹ ہی کو ترجیح دیتے ہیں۔ یاد رہے، ’’بےکار فلمز‘‘ گزشتہ دس برس سے لوگوں کی تفریحِ طبع کا سامان کر رہے ہیں اور اُن کے سبسکرائبرز کی تعداد 1.28 ملین ہے۔

مسٹر اینڈ مسز فوڈ فیوژن(اسد میمن، صائمہ اسد)

ایک وقت تھا، جب لڑکیوں کو کھانا پکانا ایک مشکل یا بورنگ کام لگتا تھا، لیکن ہمیں یہ کہنے میں ہرگز کوئی عار نہیں کہ پاکستانی خواتین کے ہر دل عزیز، پسندیدہ ترین یوٹیوب چینل ’’فوڈ فیوژن‘‘ نے اس کام کو بےحد سہل اور دل چسپ بنا دیا ہے۔ شاید ہی کوئی خاتون ایسی ہو، جسے اس چینل کا نہ پتا ہو یا جس نے اس سے استفادہ نہ کیا ہو، بالخصوص نوجوان لڑکیاں، نو بیاہتا خواتین تو اس کی بڑی فینز ہیں۔ 

فوڈ فیوژن کے بانی اسد میمن اور ان کی اہلیہ صائمہ اسدہیں۔ اسد میمن اس سے قبل ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں بہت اچھی ملازمت کر رہے تھے، لیکن اُنہیں کچھ انوکھا، دل چسپ کرنے کی خواہش تھی، تو ایک روز انہوں نے ملازمت کو خیرباد کہا اور اپنے چینل کا آغاز کردیا۔آج اسد اور صائمہ کا شمار پاکستان کے معروف یوٹیوبرز میں ہوتا ہے۔ 

اس حوالے سے اسد کا کہنا ہے کہ ’’آج کیا بنے گا، ہر گھر کا مسئلہ ہے اور یہی آئیڈیا ’’فوڈ فیوژن‘‘ کے آغازکا سبب بنا، کیوں کہ ہم اس سوال کا جواب دینا چاہ رہے تھے۔ دراصل مَیں مختلف طرح کی ڈشز کے تجربات کرتا رہتا تھا اور صائمہ بھی کچھ نہ کچھ نیا بنانے کی کوشش کرتی تھیں۔لیکن مسئلہ یہ تھا کہ ’’ایک پکوڑا بنانے کے لیے بھی آدھے گھنٹے کا شو دیکھنا پڑتا، کیوں کہ ساتھ تین، تین ڈشز بن رہی ہوتیں۔تو بس اسی مسئلے کا حل ہم نے یوٹیوب کوکنگ چینل کی صُورت نکالا۔‘‘ واضح رہے، فوڈ فیوژن کے سبسکرائبرز کی تعداد 4.11 ملین سے زائد ہے۔

روبی کا کچن

کہتے ہیں، کھانا پکانے سے زیادہ مشکل کام یہ فیصلہ کرناہے کہ ’’آج کیا پکایا جائے‘‘ تو اس مشکل کو ہنستی مُسکراتی، زندگی سے بھرپور ’’رُوبی کا کچن ‘‘ کی ’’روبی آنٹی‘‘ نے آسان کردیا ہے کہ وہ مشکل سے مشکل پکوان بھی اس قدر سہل انداز میں بنانا سکھاتی ہیں کہ خود پکانے والا بھی حیران رہ جاتا ہے۔

دل چسپ بات یہ ہے کہ ’’روبی کا کچن ‘‘صرف پاکستان ہی میں نہیں، بھارت میں بھی بےحد مقبول ہے۔ اس چینل پر اب تک ایک لاکھ سے زائد پکوانوں کی تراکیب اَپ لوڈ کی جا چُکی ہیں، جب کہ سبسکرائبرز کی تعداد پانچ ملین سے زائد ہے۔

کچن وِد آمنہ

لاہور سے تعلق رکھنے والی مقبول پاکستانی یوٹیوبر، آمنہ ریاض ’’کچن وِد آمنہ‘‘ کے نام سے کوکنگ چینل چلاتی ہیں۔ اُن کی ریسیپیز، ٹوٹکے اور وی لاگز پاکستانی اور بھارتی عوام میں بےحد مقبول ہیں۔ آمنہ کا شمار اُن یوٹیوبرز میں ہوتا ہے، جن کے فالووَرز کی تعداد لاکھوں میں ہے اور انہیں یوٹیوب کی جانب سے گولڈن بٹن سے بھی نوازا جا چُکا ہے۔ 

ایک انٹرویو میں آمنہ کا کہنا تھا کہ ’’کوکنگ چینل میرے شوق کے علاوہ روزگار کا بھی ذریعہ ہے۔ مَیں نے اس چینل کا آغاز اپنے چھوٹے بھائی، بلال کے ساتھ مل کر کیا، جسے لوگوں کی طرف سے بےحد پذیرائی ملی۔ اور سچ تو یہ ہے کہ پاکستانی خواتین کسی سے کم نہیں، وہ اگر چاہیں تو ہر میدان میں فتح کے جھنڈے گاڑ سکتی ہیں۔‘‘

سارہ شکیل

سارہ شکیل پاکستانی فن کارہ ہیں، جو فوٹو گرافی اور تِھری ڈی اشیاء سے ڈیجیٹل اور جسمانی کولاژ تخلیق کرنے کے لیے چمکنے اور سوارو وسکی کرسٹل (Swarovski crystals)کے استعمال کے لیے مشہور ہیں۔ واضح رہے، سارہ کے پاس آرٹ کی کوئی باقاعدہ ڈگری نہیں ہے۔ انہوں نے خود ہی فوٹو شاپ کا استعمال سیکھا اور پھر اپنے فن پاروں کو، اپنے جذبات کی تخلیق کے طور پر استعمال کیا۔ اور آج ان کے صرف انسٹا فالووَرز کی تعداد دس لاکھ سے زیادہ ہے۔

سیّد قاسم علی شاہ

ضلع گجرات کے ایک قصبے میں پیدا ہونے والے قاسم علی شاہ بچپن ہی میں والد کے ساتھ لاہور منتقل ہو گئے تھے۔ تعلیمی مدارج طے کرنے کے بعد درس و تدریس سے وابستہ ہو گئے اور آج ایک معروف موٹی ویشنل اسپیکر کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ گوکہ ان کا بنیادی تعارف یوٹیوبر کے طور پر نہیں، لیکن جب سے انہوں نے سوشل میڈیا میں قدم رکھا ہے اور یوٹیوب پر اپنا چینل بنایا ہے، تب سے ان کی مقبولیت میں بےپناہ اضافہ ہوا ہے۔

اُن کی آنے والی تمام ویڈیوز لمحوں میں وائرل ہوجاتی ہیں، تب ہی اُن کے سبسکرائبرز کی تعداد 3.49 ملین ہے، جب کہ ان کے چینل پر اب تک دوہزار سے زائد ویڈیوز اَپ لوڈ کی جا چُکی ہیں۔ قاسم علی شاہ نے ’’قاسم علی شاہ اکیڈمی‘‘ کے نام سے ایک تعلیمی ادارہ بھی قائم کر رکھا ہے، جہاں تعلیم کے ساتھ اخلاقی تربیت بھی دی جاتی ہے۔ 

عوام النّاس، خاص طور پر نوجوانوں کی اخلاقی و روحانی تربیت پر بہت زور دیتے ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ تعلیم کا اصل مقصد تربیت ہے اور وہ خود کو نئی نسل کی تربیت کے لیے وقف کرچُکے ہیں۔ اس ضمن میں لیڈرشِپ، ٹائم مینجمنٹ، غصّے پر کنٹرول اور اخلاقی اقدار جیسے موضوعات پر گاہے گاہے لیکچرز بھی دیتے رہتے ہیں۔

ریحان اللہ والا

’’ایک صاحب نے کہا کہ ’’مجھے گاڑیوں کا شوق ہے۔‘‘ آپ تصوّر کریں کہ پاکستان میں کتنے لوگوں کو گاڑیوں کا شوق ہوگا، ایک ملین؟ تو چلیں، ہم ایک ملین فالووَرز تو بنا ہی سکتے ہیں۔ تو ذرا سوچیں کہ جب ایک ملین لوگ ہمارے ساتھ ہوں اور ہم گاڑیوں کے کسی برانڈ کے پاس جاکر کہیں کہ ’’مَیں آپ سے ایک ٹوئیٹ کرنے کے ایک لاکھ روپے لوں گا، جس سے آپ کا پیغام ایک ملین لوگوں کے پاس چلا جائے گا۔‘‘ تو کیا وہ برانڈ دے گا؟100فی صد دے گا۔ یعنی صرف ایک ٹوئیٹ سے ایک لاکھ روپے کمائے جا سکتے ہیں۔‘‘ 

یہ خیالات ہیں، ریحان اللہ والا کے، جنہیں اگر ای کامرس کا بےتاج بادشاہ، بزنس اسٹریٹیجیز کا ماہر کہا جائے تو بےجا نہ ہوگا۔ پاکستان میں ویسے تو بہت سے لوگ یوٹیوب کے ذریعے پیسا کما رہے ہیں، لیکن ریحان اللہ والا کا شمار ان چند افراد میں ہوتا ہے، جو پاکستانیوں، بالخصوص نسلِ نو کو انٹرنیٹ کا درست استعمال، اس سے پیسا کمانا سکھاتے ہیں۔ریحان اللہ والا کسی روایتی تعلیمی ادارے کے استاد نہیں، مگر ان کی ویڈیوز سے لاتعداد پاکستانی فری لانسنگ، ای کامرس، کانٹینٹ کری ایٹنگ اور کاروبار کرنا سیکھ رہے ہیں۔

ہشام سرور

ہشام سرور اُن چندپاکستانیوں میں سے ایک ہیں ،جنہوں نے فری لانسنگ سے ایک ملین ڈالرز سے زیادہ کمائی کی۔ہشام نے اپنے کیرئیر کا آغاز ایک امریکی کمپنی سے کیا، مگرجلد ہی انہیں اندازہ ہوگیا کہ اپنی تخلیقی صلاحیتوں کے لیے انہیں جس آزادی کی ضرورت ہے، وہ 9سے 5بجے تک کام کرنے والی ملازمت کرکے ممکن نہیں۔

اسی لیے انہوں نے 2007ء میں فِری لانسنگ شروع کی اور جلد ہی دنیا کی معروف ویب سائٹس پر ویب ڈیزائن اور ڈویلپمنٹ کی سروسز فراہم کرنے لگے۔ہشام سرور کا خیال ہے کہ اپنے شوق کو پیسے کمانے کا ذریعہ بنانا، کسی کے لیے فُل ٹائم ملازمت کرنے سے بہت بہترہے۔ ہشام پاکستان کی پہلی فِری لانس مارکیٹ، ’’روزگارپاکستان‘‘ بھی چلا رہے ہیں۔ اگر ہشام کو ای کامرس یا فری لانسنگ کا گُرو کہا جائے تو یقیناً غلط نہ ہوگا۔

مفتی طارق مسعود

نوجوان نسل میں انتہائی مقبول، مفتی طارق مسعود کا منفرد اندازِ بیان ہی اُن کی پہچان ہے۔ وہ دیوبندی مکتبۂ فکر سے تعلق رکھنے والے عالمِ دین ہیں۔ وہ دیگر علمائے دین کے برعکس عام فہم زبان میں اور معاشرتی مسائل پر بات کرتے ہیں۔ پھر ان کے طرزِ زندگی، فِٹنس کا شوق، باقاعدگی سے کسرت کرنا، سوشل میڈیا کے ذریعے تعلیمات عام کرنا وغیرہ بھی انہیں دیگر علما سے منفرد بناتا ہے، یہی وجہ ہے کہ نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد ان کی مدّاح ہے۔ مفتی صاحب کے یوٹیوب چینل پر اب تک تین ہزار ویڈیوز اَپ لوڈ کی جا چُکی ہیں ، جب کہ سبسکرائبرز کی تعداد 3.27 ملین ہے۔

انجینئر محمّد علی مرزا

مفتی طارق مسعود ہی کی طرح انجینئر محمّد علی مرزا بھی عالمِ دین اور بالخصوص نوجوانوں میں بےحد مقبول ہیں۔ محمّد علی مرزا یوٹیوب کے ذریعے درس دیتے ہیں۔ویسے تو وہ پیشے کے اعتبار سے میکینیکل انجینئر ہیں، لیکن ان کی وجۂ شہرت مذہبی تعلیمات پر مبنی بیانات ہیں۔ 

انجینئر محمّد علی مرزا پنجاب کے شہر جہلم میں پیدا ہوئے اور ایک سرکاری محکمے میں گریڈ انیس کے افسر ہیں، لیکن اُن کی مقبولیت کی بنیادی وجہ آن لائن درس و تدریس اور حسّاس موضوعات پر کُھل کر بات کرنا ہے، جن کی وجہ سے وہ اکثر شدید تنقید کا نشانہ بھی بنتے ہیں، جب کہ اُن پر قاتلانہ حملے بھی ہو چُکے ہیں۔ انجینئر محمّد علی مرزا کے چینل پر 1.9ہزار ویڈیوز شیئر کی جاچُکی ہیں، جب کہ سبسکرائبرز کی تعداد 2.07 ملین ہے۔

یوتھ کلب

یوتھ کلب (YC) ایک غیر منافع بخش، غیر فرقہ وارانہ، غیر سیاسی تنظیم ہے، جو نوجوانوں کو ایک منفرد پلیٹ فارم مہیا کرتی اور انہیں اسلامی اقدار کے مطابق اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے راستے فراہم کرتی ہے۔اس کا قیام 2011 ء میں عمل میں آیا اور تب سے یہ نوجوانوں کی تربیت میں مصروف ہے۔ اس کا مقصد معاشرے میں ایسے افراد پیدا کرنا ہے، جو نہ صرف اپنے متعلقہ شعبوں میں ہنر مند، ماہر ہوں، بلکہ مذہبی ذمّے داریوں کو بھی پہچانیں اور اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہوں۔

کہنے کو تو یہ ادارہ گیارہ سال قبل قائم ہوا تھا، لیکن بالخصوص گزشتہ دو، تین برس میں یوٹیوب چینل کی وجہ سے بالخصوص بچّوں اور نوجوانوں کی دینی و دنیاوی تربیت کرنا ہے۔ چینل کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس وقت اس کے سبسکرائبرز کی تعداد 9 لاکھ 63 ہزار (963k) ہے، جب کہ 981 ویڈیوز اَپ لوڈ کی جا چُکی ہیں۔

سنڈے میگزین سے مزید