انٹرویو / عکّاسی: محمّد سعید بلوچ
پنجاب کے علاقےاوکاڑہ سے تعلق رکھنے والے نوجوان، عثمان ارشد اِن دنوں پیدل فریضۂ حج کی ادائی کے لیے روانہ ہونےکے سبب خبروں میں ہیں، بالخصوص سوشل میڈیا پر تو اُن کے اِس مبارک سفر سے متعلق بہت بات ہو رہی ہے۔ پنجاب کے مختلف علاقوں سے ہوتے ہوئے جب وہ پیدل بلوچستان پہنچے، تو یہاں کے عوام نے ان کا بھرپور استقبال کیا، بلکہ صوبائی حکومت نے تو باقاعدہ سیکیوریٹی بھی فراہم کی۔ مگر جہاں لوگ اس 26 سالہ نوجوان کے جذبے کو بہت سراہ رہے ہیں، وہیں کچھ لوگ اسے محض شہرت کے حصول کا ذریعہ بھی قرار دے رہے ہیں۔ عثمان ارشد جب نوشکی، بلوچستان پہنچے، تو ہم نے اُن سے سفرِ حج سے متعلق کچھ بات چیت کی، جو نذرِ قارئین ہے۔
٭…٭…٭
س: اپنے متعلق کچھ بتائیں؟
ج : میرے والد صاحب پاک فضائیہ سے ریٹائر ہوئے ہیں اور آج کل زمین داری کر رہے ہیں۔ چھے بہن، بھائیوں میں میرا چوتھا نمبر ہے۔ ابتدائی تعلیم پونجا جناح پبلک اسکول، اوکاڑہ سے حاصل کی اور یونی وَرسٹی آف اوکاڑہ سے ابلاغِ عامّہ میں بی ایس کر رہا ہوں۔ اب تک چھے سیمسٹرز مکمل ہو چُکے ہیں اور فریضۂ حج کے لیےدو سیمسٹر فریز کروا کے نکلا ہوں۔ نیز، مَیں تعلیم کے ساتھ ڈیجیٹل مارکیٹنگ کا کاروبار بھی کرتا ہوں۔
س: تعلیمی مدارج طے کرنے کے بعد صحافت سے وابستہ ہونے کا ارادہ ہے یا ابلاغ کا کوئی دوسرا شعبہ اپنائیں گے؟
ج: مجھے شروع ہی سے صحافت میں آنے کا شوق تھا، اِسی لیے ماس کمیونی کیشن کا انتخاب کیا، لیکن دورانِ تعلیم معلوم ہوا کہ ابلاغِ عامّہ صرف صحافت ہی تک محدود نہیں کہ یہ ایک وسیع شعبہ ہے، جو دیگر کئی شعبوں جیسے ایڈورٹائزنگ، ایونٹ مینجمنٹ، فلم میکنگ، پروڈکشن وغیرہ میں جانے کی راہیں ہم وار کرتا ہے۔ ویسے مَیں ’’ٹریول وی لاگنگ‘‘ میں اپنا مستقبل بنانا چاہتا ہوں۔
س: جدید سفری سہولتوں کے دَور میں آپ نے پیدل سفرِحج کا ارادہ کیوں کیا، کہیں یہ صرف شہرت کے لیے تو نہیں کہ آپ ویسے بھی ٹریول وی لاگنگ سے وابستہ ہونا چاہتے ہیں؟
ج : مجھے سیاحت کا بہت شوق ہے۔ اس سے قبل جب مَیں نے اوکاڑہ سے خنجراب بائی پاس تک کا پیدل سفر کیا تھا، تو وہ فاصلہ تقریباً 1,270 کلومیٹر تھا۔ اور وہ سفر مَیں نے 2021ء میں نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کا دَورہ منسوخ کرنے کے بعد کیا تھا تاکہ دنیا کو یہ پیغام دے سکوں کہ پاکستان ایک پُرامن اور محفوظ مُلک ہے۔ کیوں کہ اُس وقت مجھے احساس ہوا کہ دنیا کے سامنے پاکستان کا جو نقشہ پیش کیا جا رہا ہے، وہ غلط ہے، تو مجھے کوئی ایسا طریقہ اختیار کرنا چاہیے کہ جس سے اپنے وطن کا حقیقی امیج دنیا کے سامنے لاسکوں۔ یوں مَیں سفر کے آغاز سے ساری رُوداد سوشل میڈیا پر شیئر کرتا رہا جسے لاکھوں کی تعداد میں لوگ نے دیکھااور پسند کیا۔
پھر اِسی دوران میرے ذہن میں خیال آیا کہ جب مَیں اپنی ذاتی خواہش اور سیاحت کے شوق کی تسکین کے لیےاتنا لمبا سفر کر سکتا ہوں، تو کیوں نہ اپنے اس شوق کےذریعے اپنے اللہ کو بھی راضی کروں اور اپنےخالق کی خوش نودی حاصل کرنے کےلیے پیدل سفرحج اختیار کروں۔ جہاں تک بات ہےتنقید کی، تو بہت سے لوگ مجھ پر تنقید کرتے ہوئےکہہ رہے ہیں کہ مَیں نے بھارت کی ریاست، کیرالہ سے تعلق رکھنے والے30سالہ شہاب کو دیکھ کر پیدل سفر شروع کیا ہے، لیکن انہوں نے اپنے سفر کا آغاز جون 2022ء سے کیا تھا، جب کہ میراٹوئٹر اکائونٹ چیک کرلیں، جہاں مَیں نے 2021ء میں پیدل حج کے سفر کا ارادہ ظاہر کیا اور حکومت سے اپیل کی کہ ویزوں کےحصول میں میرے ساتھ تعاون کیا جائے۔
س: اوکاڑہ سے کوئٹہ، پھر نوشکی تک کے پیدل سفر کا تجربہ کیسا رہا؟
ج : مَیں یکم اکتوبر 2022 ء کو اوکاڑہ سے نکلا ہوں۔ میرے ساتھ اس سفر میں میرا بھائی رضوان اور بھانجا بھی ہے، جو تفتان بارڈر تک میرے ساتھ رہیں گےاور پھر واپس چلےجائیں گے۔ بلوچستان پہنچنے پر نہ صرف یہاں کے عوام نے میرا پُرتپاک استقبال کیا، بلکہ بلوچستان حکومت کی جانب سے سیکیوریٹی بھی دی گئی، پولیس ایریا میں پولیس اہل کار اور لیویز ایریا میں لیویز افسران، اہل کار ساتھ رہے۔ یقین کریں، اب تک مجھے پورے سفر کے دوران کہیں بھی عدم تحفّظ کا احساس نہیں ہوا۔
س: آپ اس سے قبل کن کن ممالک جا چُکے ہیں اور دنیا میں کون سا مُلک زیادہ پسند ہے؟
ج: فروری2022ء میں دبئی گیا تھا، جب کہ پوری دنیا میں مجھے پاکستان ہی سب سےاچھا لگتا ہے، کیوں کہ پاکستان قدرتی وسائل سے مالا مال ہے۔ یہاں چاروں موسم، برف پوش پہاڑ، ہریالی، چشمے، دل فریب جنگلات اور پُرکشش صحرا ہیں۔ پھر موہن جو دڑو، ہڑپا جیسے کئی تاریخی مقامات بھی یہاں کی خُوب صُورتی میں اضافہ کرتے ہیں۔ یقین جانیں، روڈ ٹرپ کے دوران ہی پاکستان کا اصل حُسن دیکھنے کا موقع ملتا ہے۔ یورپی ممالک تو مصنوعی ماحول سے دیدہ زیب بنائے گئےہیں، جب کہ ہمارا مُلک قدرتی طور پر حسین ہے، جس کا کوئی نعم البدل ہی نہیں۔
س: روزانہ کتنے کلومیٹر سفر کرتے ہیں اور قیام و طعام کہاں ہوتا ہے؟
ج: ہم روزانہ35 سے 40 کلومیٹر تک سفر کرتے ہیں۔ ویسے تو ہوٹلز وغیرہ ہی میں ٹھہرتے ہیں، لیکن جن علاقوں میں ہوٹل کی سہولت میسّر نہ ہو، وہاں پولیس، لیویز اسٹیشنز، چوکیوں یا مساجد، مدارس وغیرہ میں رات بسر کر لیتے ہیں۔ ویسے ایک بات تو ہے کہ بلوچستان پہنچ کر معلوم ہوا کہ یہ انتہائی وسیع و عریض رقبے پر تو پھیلا ہوا ہے، مگر یہاں سہولتوں کا شدید فقدان ہے۔ کوئٹہ تا نوشکی کئی ایسے علاقے آئے، جو تا حدِ نگاہ ویران وسنسان تھے، جہاں بنیادی ضروریاتِ زندگی کا بھی نام و نشان تک نہیں تھا۔
س: حج کے طویل سفر کے اخراجات کا تخمینہ کیا لگایا ہے؟
ج: میرا سفر قریباً آٹھ ماہ پرمحیط ہے،جب کہ اس دوران پندرہ لاکھ روپے کےاخرجات آئیں گے۔ تفتان بارڈر عبور کر کے ایران جائوں گا، پھر وہاں سے عراق اور کویت سے ہوتا ہوا سعودی عرب داخل ہوجائوں گا۔
س: اوکاڑہ سے مکّہ مکرمّہ تک کتنے کلومیٹرکا سفر ہے، زادِ راہ سے متعلق بھی کچھ بتائیں۔
ج: اوکاڑہ سے مکّہ مکرمّہ تک5,400 کلومیٹر سے زائد کا سفر بنتا ہے۔ آٹھ ماہ سے زائدکے سفر کے لیے میرے سامان میں ایک کوٹ، چار شرٹس، ٹرائوزرز، موبائل فون، چارجر اور ڈرائی فروٹس شامل ہیں۔ نیز، مَیں نے ایک خاص قسم کا پائوڈر بھی ساتھ رکھا ہے، جوچھالوں پر لگانے سے راحت ملتی ہے۔فی الحال یہ سفر انتہائی آسانی سے طے ہو رہاہے، دُعا ہےکہ باقی سفر بھی بخیر ہو۔
اب تک بس ایک ناخوش گوار واقعے کاسامناکرنا پڑا کہ پنچپائی اور کردگاپ کےدرمیان میرا والٹ گر گیا، جس میں نقدی، پاسپورٹ، ویزا اور شناختی کارڈز تھے۔ مَیں نے سوشل میڈیا اور اخبارات میں اس حوالے سے تشہیر بھی کی ہے اور اُمید ہے کہ تفتان پہنچنے سے قبل میرا والٹ مل جائے گا۔ ہاں، اگر والٹ نہ ملا تو دوبارہ اوکاڑہ جاکر پاس پورٹ بنوائوں گا اور پھر دیگر دستاویزات لےکر ایران سے دوبارہ اپنے سفر کا آغاز کروں گا۔
س: پیدل سفرِحج کے لیے کن حکومتی شخصیات نے آپ سے تعاون کیا؟
ج: ویزوں کےحصول میں وفاقی وزیرِخارجہ بلاول بھٹو زرداری نے بہت تعاون کیا۔ مَیں نے اسلام آباد جا کر اُن سے ملاقات کی، تو انہوں نے میری بات غور سے سُنی اور ایمبیسیز کوخصوصی خط جاری کرتے ہوئے میرے لیے نیک خواہشات کا بھی اظہار کیا۔
س: فریضۂ حج کی ادائی کے بعد واپسی کیسے ہوگی؟
ج: اللہ تعالی کے گھر کادیدار کرکے بائی ایئر آنے کا ارادہ ہے۔
س: بلوچستان کے پیدل سفر کے دوران آپ کو یہاں کا ماحول اور لوگ کیسے لگے؟
ج: بلوچستان قدرتی وسائل سے مالامال خطّہ ہے، لیکن یہاں پس ماندگی کے آثار نمایاں ہیں۔ عوام21 ویں صدی میں بھی بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں۔ مجھے سفر کے دوران بلوچستان میں کوئی معیاری سڑک اور ہائی وے نظر نہیں آیا۔ کوئٹہ، نوشکی شاہ راہیں بھی زبوں حالی کا شکار ہیں، جب کہ یہ بین الاقوامی شاہ راہیں، پاکستان کو ایران اور یورپ سے ملاتی ہیں۔
ہاں، بلوچستان میں بسنے والے لوگ انتہائی مہمان نواز اور پُرامن ہیں، سفر کے دوران ملنے والے ہر شخص نے میرا بھرپور استقبال کیا، جو مَیں تاحیات نہیں بُھلا سکتا۔ مَیں پاکستان کے دیگر صوبوں میں بسنے والے لوگوں کو پیغام دیتا ہوں کہ وہ بلوچستان آکر یہاں سے متعلق منفی تاثر کا خاتمہ کریں اور بھائی چارے کو فروغ دیں، جب کہ حُکم رانوں کو بھی بلوچستان کی پس ماندگی کے ازالے کے لیے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کرنے چاہئیں۔