برطانیہ کے 57 سالہ سابق پیرا ٹروپر کارل بشبی 1998ء میں چلی سے اپنے آبائی شہر ہَل تک پیدل سفر پر روانہ ہوئے تھے، اپنے 27 سالہ عالمی سفر کے آخری مرحلے میں نئی رکاوٹ کا سامنا کر رہے ہیں۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق کارل بشبی نے اپنی مہم کے دوران کسی بھی قسم کی سواری استعمال نہ کرنے کا اصول اپنایا تھا، اسی لیے وہ کشتی، فیری یا گاڑی استعمال نہیں کر سکتے۔
اب تک وہ تقریباً 36,000 میل کا سفر طے کر کے بیلجیئم پہنچ چکے ہیں جبکہ انگلش چینل (سمندر) ان کی آخری بڑی رکاوٹ ہے۔
انہوں نے برطانیہ پہنچنے کے لیے یورو ٹنل کی سروس سرنگ سے پیدل گزرنے کی اجازت مانگی تھی تاہم جون میں انتظامیہ نے حفاظتی اور آپریشنل وجوہات کی وجہ سے درخواست مسترد کر دی۔
اس کے بعد انگلش چینل تیر کر عبور کرنا ان کے لیے واحد راستہ دکھائی دے رہا ہے لیکن فرانسیسی حکام کے مطابق 2018ء کے ایک حکم نامے کے تحت تیراکی کی مہمات اجازت کے بغیر ناممکن ہیں، فرانس سے برطانیہ کی جانب تیراکی کی اجازت نہیں۔
کارل بشبی نے بتایا ہے کہ میں اس معاملے پر فرانسیسی ساحلی محافظ ادارے سے بات چیت کر رہا ہوں، میں اکتوبر میں تیراکی کی کوشش کرنا چاہتا ہوں اور اس مقصد کے لیے ایک معاون کشتی کا انتظام بھی کر چکا ہوں، یہ سفر 2 سے 3 دن میں مکمل ہو سکتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق کارل بشب اس وقت میکسیکو میں موجود ہیں جہاں سفر کے مختلف مراحل کے درمیان آرام اور ویزے سے متعلق امور نمٹا رہے ہیں جبکہ ان کے ستمبر کے آخر تک فرانس پہنچنے کی توقع ہے۔
کارل بشبی کا کہنا ہے کہ میں صورتِ حال پر ناراض نہیں بلکہ مایوس ہوں اور اب بھی امید رکھتا ہوں کہ یورو ٹنل انتظامیہ اپنا فیصلہ تبدیل کر سکتی ہے کیونکہ سرنگ کے ذریعے پیدل گزرنا میری پہلی ترجیح ہے۔
واضح رہے کہ کارل بشبی اس سے قبل بھی غیر معمولی آبی مہمات انجام دے چکے ہیں۔
2006ء میں وہ منجمد آبنائے بیرنگ کو پیدل عبور کرنے والے پہلے برطانوی شہری بنے تھے جبکہ 2024ء میں انہوں نے روس اور ایران سے گزرنے سے بچنے کے لیے بحیرۂ کیسپیئن میں 186 میل تیراکی کی تھی۔