• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مصنّف: ڈاکٹر مختار احمد ظفر

صفحات: 140، قیمت: 500 روپے

ناشر: فِکشن ہاؤس، نوشین سینٹر،فرسٹ فلور، دکان نمبر 5، اردو بازار، کراچی

ڈاکٹر مختار احمد ظفر کا تعلق ملتان سے ہے۔ اُن کی شخصیت کئی دائروں میں بٹی ہوئی ہے۔ نقّاد، محقّق ہیں اور معلّم بھی۔ 50برس سے علم و ادب کی آب یاری میں مصروف ہیں۔ ان کی زیرِ نظر کتاب دو حصّوں پر مشتمل ہے۔ پہلے حصّے میں نگارشاتِ شعر و ادب کا جائزہ پیش کیا گیا ہے اور دوسرا حصّہ تجزیے اور محاکمے پر مبنی ہے۔ 

کلامِ رسول اللہ ﷺ کا امتیاز و اعجاز، فراق گورکھپوری کا تغزل، نوجوانوں کا کردار…ادب، رواداری اور بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ میں، فروغِ امن میں ادب اور کلچر کا کردار، کلچر کے تخلیقی اثرات…ملتان کی تہذیب و ثقافت پر، مرثیہ نگاری… فن اور جدید تقاضے، ملبہ اُٹھا تو ملبے کے نیچے گلاب تھے (زمینی ارتعاش اور دل گداز شعری نسخے)، سرائیکی زبان و ادب کی طویل ترین قدامت… تحقیق و تجزیہ۔ یہ وہ عنوانات ہیں، جن پر مصنّف نے قلم آرائی کی ہے۔ یہ مختار احمد ظفر کی 16ویں کتاب ہے۔ 

بقول ڈاکٹر اسد اریب ’’ مختار احمد ظفر نے اپنی کتاب کے لیے جن موضوعات کا انتخاب کیا، اُن میں تنوّع بھی ہے اور علمی بصیرت بھی۔ یہ ایک اہم قلم کار کی اہم کتاب ہے، جسے یقیناً علمی، ادبی اور فکری حلقوں میں پسند کیا جائے گا۔‘‘ اُنہوں نے کتاب کا انتساب، حضور سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کیا ہے، اس سے بھی اُن کی فہم و فراست کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

سنڈے میگزین سے مزید