• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ہر سال حج کا مہینہ اپنی تمام ترعظیم الشّان روحانی نشانیوں کے ساتھ جلوہ گر ہوتا ہے اور پوری دنیا کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے مثالی گھرانے کی یاد دلاتا ہے۔ ایک باپ ،جس کی زندگی کا مقصد اللہ کے دین کی دعوت تمام دنیا تک پہنچانا تھا، ایک بیٹا، جو باپ کے خواب کی تعمیل میں سرِ تسلیم خم کر دیتا ہے، ایک بیوی جو صحرا بیابان میں تنِ تنہا ایک شِیر خوار بچّے کو لے کر اللہ توکّل بیٹھ جاتی ہے …پھر اللہ کو ان سب کی اطاعت و فرماں برداری اس قدر پسند آئی کہ رہتی دنیا تک ان کا نام سربلند کر دیا۔

فریضۂ حج، اسلامی سال کے بارہویں مہینے میں ادا کیا جاتا ہے ۔اللہ ربّ العزّت نے ماہِ حج اور اسی سے وابستہ ماہِ ذی القعدکو بھی محترم قرار دیا ہےکہ جس میں حجاجِ کرام سفرِ حج پر روانہ ہوتے ہیں۔ یہ امن و امان کا مہینہ ہے، کہ اس ماہ دنیا کے ہر گوشے، کونے کونے سے دینِ اسلام کے ماننے والے خوشی و مسرّت اور محبّت و الفت کے جذبات لیےمکّہ مکرمّہ کا قصد کرتے ہیں۔ اللہ پاک نے ہر صاحبِ استطاعت مسلمان پر زندگی میں ایک بار حج فرض قرار دیا ہے اور حج اور قربانی یہ دونوں عظیم فرائض حضرت ابراہیم علیہ السلام اور اُن کے جگر گوشے، حضرت اسماعیل علیہ السلام کی نسبت سے ہیں۔ 

حضرت ابراہیم علیہ السلام اللہ کے بہت ہی برگزیدہ بندے تھے۔ انہوں نے اللہ کی وحدانیت اور کبریائی کے لیے شرک سے جُڑی ہر نشانی سے انکار کیا کہ نہ چاند ربّ ہے،نہ تارااورنہ ہی سورج۔ ربّ تو صرف اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی ذات ہے، جو وحدہُ لا شریک ہے۔توحید کے اس اعلان اور باطل خداؤں کی خدائی سے انکار ہی پر حضرت ابراہیم علیہ السلام کو دہکتی آگ میں ڈالا گیا ،مگر ربّ کے حکم سے وہ آگ ،گل زار بن گئی۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے عراق، فلسطین اور عرب کےسارے خطّے میں دین کی دعوت پہنچانے، اسلامی تعلیمات عام کرنے کے لیےطویل سفر کیے اور اپنی بیوی حضرت حاجرہؓ اور شِیر خوار حضرت اسماعیلؑ کو اللہ کے حکم پر مکّہ مکرمہ کی بے آب و گیاہ وادی میں تنِ تنہا چھوڑ دیا۔شِیرخوار اسماعیل علیہ السلام کی پیاس بجھانے اور پانی ڈھونڈنے کے لیے امّاں حاجرہؓ نے صفا و مروہ پر سات چکّر لگائے، تواللہ تعالی کو ان کی یہ بےقراری اس قدر پسند آئی کہ اِسے حج کا لازمی جزو بنادیا۔ اسی طرح حضرت اسماعیل علیہ السلام نے خواب میں اپنے والدِ محترم کو دکھائے جانے والےحکم کی تعمیل میں اپنی گردن جُھکادی۔باپ نے بیٹے کی گردن پر چُھری رکھی ہی تھی کہ آسمان سے مینڈھا اُتارا گیا اور حضرت اسماعیلؑ کی سعادت مندی اور حضرت ابراہیمؑ کی قربانی کو قبولیت کی سند عطا کردی گئی۔

ویسے تو حج اور قربانی دونوں ہی اللہ سے تعلق کی نشانیاں ہیں، لیکن ساتھ ہی ان کے ذریعے ایک آئیڈیل مسلمان گھرانے کی نشان دہی بھی کی گئی ہے کہ کس طرح خاندان کے تمام افراد کو اللہ کی اطاعت و فرماں برداری میں یک سُو ہونا چاہیے۔اُن کی تربیت کیسے مثالی انداز میں کی جائے کہ اُن کے درمیان ایک مضبوط تعلق ہو اور وہ ایک دوسرے کی بات سمجھنے، ساتھ دینے کے لیے ہمہ وقت تیار رہتے ہوں۔

گھر کی مضبوطی و استحکام اور خوش گوار ماحول کے لیے ایک طرف دین کے تقاضوں پر عمل ضروری ہے،تو دوسری جانب آپس میں محبت و موَدّت (بے غرض، پُرخلوص دوستی) بھی لازم ہے۔جیسا کہ حج میں کی جانے والی سعی ایک ماں کی اولاد کے لیے محبّت، تڑپ کی طرف اشارہ کرتی ہے، بتاتی ہے کہ وہ بے تابی اللہ کو کس قدر پسند آئی کہ اُسے رکنِ حج ہی بنادیا۔

ان واقعات میں والدین کے لیے ایک اہم سبق بھی پوشیدہ ہے کہ آئیڈیل ماں، باپ وہی ہوتے ہیں، جو خود بھی اللہ کی فرماں برداری میں زندگی گزاریں اور اپنے بچّوں کی زندگی میں بھی اللہ سے محبت کے رنگ شامل کریں۔ یہی حج اور قربانی کا پیغام ہے، جسے سمجھنا آج کے والدین اور وقت کی اہم ضرورت ہے۔

سنڈے میگزین سے مزید