آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ9؍ربیع الثانی1441ھ 7؍دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز
پرانے لاہوریوں کویاد ہوگا کہ کسی زمانے میں ایم اے او کالج کے چاروں طرف بے حدوحساب کھلی زمین پڑی تھی۔ بائیں طرف ریواز گارڈن واقعی خوش نما باغ ہوا کرتا تھا اور ابھی بدوضع سی بستی میں تبدیل نہیں ہواتھا۔ کرشن نگر اور راج گڑھ سے ذرا آگے تاحد نگاہ کھیت ہی کھیت تھے۔ یہیں کہیں بعد میں بوچڑخانہ اور فلم اسٹار فردوس کے نام سے موسوم فردوس سینما بھی بناتھا۔ پاکستان بننے سے پہلے انہی کھیتوںکےدرمیان ہندوؤں اور مسلمانوں کے چند گھر آباد تھے ، جنھیں بستی کے نام سے موسوم کیاجاتا تھا ۔ مرنجاں مرنج قسم کا ایک ہندو رام داس اپنی پتنی کو شلیا کے ساتھ اسی بستی میں رہتا تھا۔ اولاد کی نعمت سے محروم اس جوڑے نے وقت گزاری کیلئے بھینس پال رکھی تھی، جوانکی روٹی روزی کا ذریعہ بھی تھی۔پھر کرنا خدا کا یہ ہوا کہ اپنے ایک کاروباری دوست کے ہمراہ رام داس کا بمبئی جانا ہوگیا۔ جہاں اس کی ملاقات اپنے وقت کے مشہورسلک فروش چیٹر جی سے ہوئی۔ جو دوگھوڑے کی بوسکی کے امپورٹر تھے اور ان کا مال پورے برصغیر میں جاتا تھا رام داس نے بھی کاروبار میں دلچسپی کا اظہار کیا، مگر جیب خالی تھی۔ چیٹر جی نے نہ جانے کیا سوچ کر لاہور کے واپسی ٹکٹ کے ساتھ دوتھان بوسکی کے بھی ہمراہ کردیئے کہ بیچ کر پیسے بھجوادینا۔ مال تو آگیا،مگر اس سیدھے سادے گوالے کوکچھ اندازہ

نہیں تھا کہ اس کا کیا کرنا ہے اور کیسے بیچنا ہے؟ بستی میں ادھر ادھر لوگوں کو دکھایا مگر وہ چکنا سا کپڑا کسی کے کام کا نہ تھا اور اتنا مول بھی کون دیتا؟
یکایک اسے کرشن نگر کے گوپی چند کا خیال آیا۔ جس کے گھر وہ دودھ سپلائی کرتا تھا اور جس کی انار کلی میں اون کی دکان تھی۔ طے یہ پایا کہ دکان کے بند رہنے والے شٹر کے سامنے رام داس بھی بوریا بچھا کر بیٹھ جائے ۔ ہفتہ بھر توکسی نے اس کی طرف آنکھ اٹھا کربھی نہیں دیکھا پہلا گاہک نواب آف بہاولپور کے دربار سے وابستہ ایک اہم عہدیدار تھا، جو نظر پڑتے ہی ٹھٹھک ساگیا۔ زمین پر بیٹھ کر کپڑے کی کوالٹی اور مہریں چیک کیں۔ اتفاق سے اس وقت بھی وہ دو گھوڑے کی بوسکی کے کرتے میں ہی ملبوس تھا۔ کپڑے کواپنے پیرہن سے ملایا۔ جب پوری تسلی ہوگئی تو دونوں تھان خرید لئے، قیمت کے علاوہ دس روپے انعام بھی دیا کہ اصل مال نصیب سے ملتا ہے۔ رام داس نے پہلی فرصت میں قرض کامنی آرڈر بمبئی روانہ کیا اور ریلوے پارسل کے ذریعے دوتھان اور منگوابھیجے۔ یوں کاروبار چل نکلا، شوقین حضرات کو سینہ بسینہ خبر ہوتی گئی کہ دوگھوڑے کی اصل بوسکی کہاں سے ملتی ہے۔ سرگودھا، جھنگ، میانوالی،اور سرائیکی بیلٹ کے کئی زمیندار رام داس کے مستقل گاہکوں میں شامل تھے۔ جن میں سے بعض تو پاکستان بننے کے بعد وزیر مشیر اور گورنر بھی رہے۔ رستم ہند امام بخش پہلوان بھی کبھی کبھار چکر لگالیا کرتے تھے۔ اسی دوران رام داس کے ساتھ ایک ہلکی سی انہونی بھی ہوگئی۔ لوہاری گیٹ کے سکھ تھانیدار نے بوسکی کا ایک تھان مفت میں منگوا بھیجا، جس کی رام داس میں سکت نہیں تھی ۔ مشکل کی اس گھڑی میں امام بخش پہلوان کام آئے اور تھانیدار کوسمجھایا کہ غریب ماری نہ کرے۔
پاکستان بنا تو رام داس اور اسکی بیوی کوشلیا یکایک غائب ہوگئے۔ لوگوں نے سمجھ لیا کہ باقی بھائی بندوں کے ساتھ ہندوستان چلے گئے ہوں گے ۔ مگر دسمبر 1947میں وہ دوبارہ منظر عام پر آگئے ۔ اللہ دتہ اور سکینہ کے نام سے ، کیونکہ اس دوران داتا دربار مسجد کے خطیب کے ہاتھوں مشرف بہ اسلام ہوچکے تھے ۔ ملک تقسیم ہونے سے بوسکی کاکاروبار ختم ہوگیا تو نومسلم جوڑے نے پھر سے دودھ کادھندا شروع کردیا۔ خوشحالی آئی تو جانوروں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوگیا اور اب اس کے باڑے میں بندھی بھینسوں کی تعداد چھ ہوچکی تھی۔ ایک کرم اللہ نے اور کیا کہ اوپر تلے دوبیٹے بھی عطا کردیئے ۔ عارف اور اختر۔ علاقہ گنجان ہونے لگا تو اللہ دتہ کنبے اور مال مویشی سمیت شہر سے باہر کوٹ لکھپت منتقل ہوگیا۔ وقت گزرتا گیا اور اسی اللہ دتہ کابڑا بیٹا عارف1985میں کسی حوالے سے نوکری کیلئے راقم کے پاس اسلام آباد آیا تھا۔ واجبی سی تعلیم تھی سونائب قاصد بھرتی ہوگیا۔ میرے اسٹاف میں بھی رہا نہایت محنتی، مخلص اور تابعدار، مگر بے پناہ کرب کا شکار ہر وقت ایسی کیفیت کہ گویا کوئی روگ اندر ہی اندر کھائے جارہا ہے۔ کسی نے پوچھا بھی توٹال دیا 8اپریل1988کی صبح جب اوجھڑی کیمپ کے اسلحہ خانہ میں آگ لگی تھی اور میزائل جڑواں شہروں پر برس رہے تھے تو وہ ہفتہ بھر کی چھٹی لیکر لاہور چلاگیا واپس آیا اور میں نے خیریت پوچھی تو بلک بلک کر رودیا ۔ بالاسرجی، اللہ نے اختر( چھوٹا بھائی) کی مشکل آسان کردی۔ اس کی خطائیں بخش دیں۔برسوں کی اذیت بالآخر ختم ہوگئی، اور زاروقطار رونے لگا۔ اس کی گول مول سی باتیں میری سمجھ میں نہ آئیں توسامنے کرسی پر بٹھا لیا، دلاسہ دیا، پانی کا گلاس پیش کیا اور کھل کر بات کرنے کوکہا، کیونکہ ڈیڑھ، دوبرس کی رفاقت کے دوران مجھے بھی اندازہ ہوگیا تھا کہ اللہ کا یہ بندہ کسی شدید قسم کے داخلی روگ کاشکار ہے۔
بالآخروہ بول پڑا کہنے لگا کہ باپ کی موت کے بعد دونوں بھائیوں میں جائیداد کا بٹوارہ ہوا، تو چھوٹے نے تین ایکڑ کے عین بیچ لکیر اس طور کھینچی کہ مکان اور حویلی اس کی طرف چلے گئے اور خالی زمین کا ٹکڑا میری جھولی میں ڈال دیا جس پر میں چپکا رہا کوئی شکایت نہیں کی، کوئی احتجاج نہیں کیا اور صبر وشکر سے وہیں جھگی ڈال لی پاکستان میں پولٹری کا کاروبار ان دنوں نیا نیا آیا تھا سو ادھر ادھر مانگ تانگ کر ہزار پرندوں سے کام شروع کردیا۔ محنت کو بھاگ ضرور لگتا ہے اور شبانہ روز محنت کا نتیجہ تھا کہ چند ہی برسوں میں میرے پولٹری فارم کا علاقے میں نام تھا ۔ پکے شیڈ کھڑے ہوگئے مکان بھی بن گیا اور بچے بھی اچھے اسکول میں جانے لگے۔ ادھر چھوٹا پرلے درجہ کا نکما اور عیاش۔ کوئی کاروبار اور باقاعدہ ذریعہ معاش نہ ہونے کی وجہ سے سخت دباؤ میں آگیا۔ مگر میں نے ہر ممکن طریقے سے دستگیری کی اور کوشش کی کہ اسکی عزت نفس کو ٹھیس بھی نہ پہنچے اور گھر گرہستی بھی باعزت طور پر چلتی رہے۔ مگر ادھر تو معاملہ ہی دوسرا تھا۔ حسد کا الاؤ سب حدیں پار کرچکا تھا۔پولٹری فارم پر ایک شب کچھ اس قسم کے زہر کا اسپرے کردیا کہ دس ہزار پرندے آن واحد میں اس طور ہلاک ہوگئے کہ انکے جسم پھٹے ہوئے تھے۔ اور پھر مجرم نے غم واندوہ کا ایسا سوانگ بھرا کہ لوگ واقعی شک میں پڑ گئے کہ واردات کوئی باہر کابندہ تونہیں کرگیا؟ مگر میں سب جانتا تھا اور اس سانحہ سے اس قدر دلبرداشتہ ہوا کہ سب چھوڑ چھاڑ کر آپ کے پاس اسلام آبادچلا آیا۔
مگر جناب،جوقیامت ادھر چھوٹے پر گزری، اس کے تصور سے ہی رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ اس واقعہ کے ٹھیک ایک ہفتہ بعد اس کے سارے جسم پر اخروٹ کے سائز کے چھالے نمودار ہوگئے،جو صبح کوبھرجاتے اور شام کو پھٹ جاتے تھے اور بدبو کا وہ عالم کہ کسی کو اسکے پاس پھٹکنے کا بھی یارا نہ تھا۔ بہت علاج کروایا، کوئی حکیم، ڈاکٹر ،سیانا نہ چھوڑا۔ سب زمین پراپرٹی بک گئی۔ میں نے بھی اپنا حصہ بیچ بانٹ کر علاج پر لگادیا۔ مگر افاقہ ہونا تھا نہ ہوا ، بیوی بچے بھی ساتھ چھوڑ گئے۔ جب اذیت کی انتہا ہوگئی تواسی8۔اپریل کوایک پارچہ فروش کہیں سے نمودار ہوا جس نے کمبل کی بکل اس طور ماری ہوئی تھی کہ چہرہ بھی ڈھکا ہواتھا۔ کندھے پر دوگھوڑے کی بوسکی کا ایک تھان اور ہاتھ میںگز کوئی ہوکا نہیںدیا، کوئی آواز نہیں لگائی۔سیدھا چھوٹے کی چارپائی کے پاس پہنچا ۔تھان کھولا،سات گز بوسکی علیحدہ کی اور تہہ کرکے مریض پر ڈال دی۔ اسکے ساتھ ہی اجنبی کچھ اس طور غائب ہوا کہ جانے آسمان نے اچک لیا یا زمین کھا گئی۔ بستی والے دور سے یہ منظر دیکھ رہے تھے، چھوٹے کی طرف متوجہ ہوئے تواسکی روح قفس عنصری سے پرواز کرچکی تھی۔ شام ڈھلے بوسکی کے کفن میں لپٹی میت تیار ہوئی تو چہرے کا سکون وتبسم حیران کن تھا گویا کہ بیماری چھوکر بھی نہ گزری ہو رہا وہ اجنبی ، تو نہ جانے وہ کون تھا، کہاں سے آیا اور کدھر چلا گیا۔ مگر سرجی لوگ کہتے ہیں وہ ہمارا باپ تھا ، جسے گزرے ہوئے بھی ٹھیک بیس برس ہوچکے۔ سرجی کیا یہ ممکن ہے ، کیا یہ ہوسکتا ہے؟ سرجی بیچارہ کیاجواب دیتا ۔ واقعہ کو ربع صدی بیت چکی۔ مجھے تو ابھی تک اس سوال کاجواب نہیں مل سکا شاید آپ کے پاس ہو !!!