آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ18؍رمضان المبارک1440 ھ24؍مئی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
اپنی کم علمی کا اعتراف کرنے میں کوئی ہرج نہیں ہوتا۔ ایک ایسا ملک جہاں ہر شخص اپنی جیب میں دنیا بھر کے مسائل کا حل لئے پھرتا ہو، جہاں ہر رکشے کے پیچھے ’’دل کے مرض میں بائی پاس نہ کروائیں، ہمیں آزمائیں ‘‘ کا اشتہار لٹک رہا ہو، جہاں ہر استاد افلاطون ہو، ہر صحافی بادشاہ گر ہو، ہر جنرل نپولین ہو، ذات قبیلے کے نام پر ووٹ مانگنے والا ہر سیاست دان ڈیگال ہو،وہاں کوئی ایسا شہری بھی ہونا چاہئے جو سرعام اپنی ذہنی پراگندگی ، فکری الجھن اور تذبذب کا اعتراف کر سکے۔ انتظار حسین کے ناول ’بستی‘ میں ایک کردار 1971ء کی لڑائی کے بعد شکست کا بوجھ اٹھانے کا اعلان کرتا ہے۔ دوسرا کردار جواب میں طنز کرتا ہے کہ ’’شکست کا بوجھ اٹھانے والے کو کم از کم جمال عبدالناصر ہونا چاہیے‘‘۔ یہاں ایسا کوئی مسئلہ درپیش نہیں ۔ یہ جنگ اور امن کا رزمیہ نہیں۔ ایک سادہ سا اعتراف ہے کہ جس ملک میں دو مختلف طرح کے کرداروں کو بیک وقت اچھا کہا جاتا ہو اور احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہو ، جہاں لوگوں کا خواب انقلاب ہو اور منزل جعلی کاغذات پہ یورپ میں سیاسی پناہ لینا، وہاں میرے لئے فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ مہذب کسے سمجھا جائے۔ نیکی کی تو ہمارے ملک میں کوئی کمی نہیں ہے۔ ہمارے ہاں ہر مرد نیکی کا مجسمہ ہے اور ہر عورت نیک پروین ہے۔ نیکی کے اس افراط زر سے مجھے

اس لئے دلچسپی نہیں کہ بچپن میں اساتذہ نے سمجھایا تھا کہ تہذیب کا کوئی تعلق لباس، اکل و شرب اور منصب یا دولت سے نہیں۔ ایک مہذب انسان وہ ہوتا ہے جسے اس کی عدم موجودگی میں ایک ذمہ دار شہری سمجھا جائے۔ مہذب انسان وہ ہے جس کا ذکر آنے پر دلوں میں خوشی پیدا ہوتی ہو اور جس شخص سے ملاقات کے امکان پر آنکھیں چمک اٹھیں۔ اس میں الجھن یہ ہے کہ پاکستان میں تہذیب کے پیمانے گڈمڈ ہوگئے ہیں اور میرے جیسا سادہ ذہن یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ مہذب کسے سمجھا جائے۔ سو میں کچھ سوالات پڑھنے والوں کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔
مہذب وہ شہری ہے جو ٹریفک کا اشارہ سرخ ہونے پر گاڑی روک لے اور پیچھے کھڑی ہونے والی گاڑیوں کے کان پھاڑ دینے والے ہارن اور ڈرائیوروں کی گالیاں سنے یا وہ نوجوان مہذب ہے جو پرہجوم سڑک پر ایک پہیے پر موٹر سائیکل چلاکر اپنی مہارت اور زندہ دلی کی داد چاہتا ہے ، موٹر سائیکل کو دائیں بائیں اس انداز میں لہراتا ہے کہ دیکھنے والوں کے دل حلق میں آن اٹکتے ہیں۔ مہذب وہ استاد ہے جو بلاامتیاز نسل ، ثقافت ، صنف اور عقیدہ طالب علموں کو تعلیم دیتا ہے یا وہ شخص مہذب ہے جو ایک کم عمر بچے کی ذہنی تطہیر کر کے اسے استاد پر گولی چلانے کا مشن سونپتا ہے۔ مہذب وہ شخص ہے جو اپنی بہن اور بیٹی کو تعلیم دلاتا ہے ، ان کے ساتھ عزت و احترام سے پیش آتا ہے اور انہیں وراثت میں حصہ دیتا ہے یا وہ دلاور شخص مہذب ہے جو اپنی بہن کو مرضی کی شادی کرنے پر گولی مار کر تھانے میں پہنچتا ہے اور سینہ تان کر اپنی غیرت کا اعلان کرتا ہے۔ مہذب وہ شخص ہے جو بچوں پر شفقت کرتا ہے اور ان کی دنیا میں آنے والے مہمانوں کی طرح تواضع کرتا ہے یا وہ شخص مہذب ہے جو گھر ، اسکول اور مدرسے میں بچوں کے دلوں میں اپنی جلاد صفت وحشت سے خوف پیدا کرتا ہے۔ وہ شہری مہذب ہے جو ٹیکس ادا کرتا ہے ، گیس ، بجلی اورپانی کا بل دیتا ہے یا وہ شہری مہذب ہے جو ٹیکس چوری کر کے اپنی عبادات کا ڈھنڈورا پیٹتا ہے۔ وہ سرکاری افسر مہذب ہے جو فائلوں پر اعتراض لگانے کی شہرت رکھتا ہے اور ہر حکومت میں منافع بخش عہدوں پر جا بیٹھتا ہے یا سیکرٹریٹ کا وہ افسر تہذیب یافتہ کہلائے گا جو قواعد و ضوابط کی پاسداری کرنے پر کھڈے لائن لگا دیا جاتا ہے۔ وہ شہری مہذب ہے جو اپنے عقیدے کے مطابق عبادت کرتا ہے اور دوسرے عقائد کے پیروکاروں کا احترام کرتا ہے یا وہ شخص مہذب ہے جو مخالف فرقے کی عبادت گاہوں کو بارود سے اڑانے کی کامیاب منصوبہ بندی کرتا ہے۔ وہ شخص مہذب ہے جو دو بچے پیدا کرکے انہیں تعلیم دلاتا ہے اور معاشرے کا مفید شہری بنانے میں ساری زندگی صرف کرتا ہے یا وہ شخص جو آدھے درجن بچوں کی بٹالین پیدا کر کے توکل اور قناعت کی تلقین کرتا ہوا تبلیغی دورے پر نکل جاتا ہے۔
صحافت کو معاشرے میں بڑا رسوخ حاصل ہے اور اب تو ہم صحافت کے روکھے پھیکے لفظ کی بجائے میڈیا کی چکاچوند اصطلاح استعمال کرنا پسند کرتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ وہ صحافی مہذب ہے جو خبر کی صداقت اور تصدیق پر زور دیتا ہے یا وہ صحافی جو ڈیسک پر نت نئی کہانیاں گھڑ کر فخر سے قصے سناتا ہے کہ اس کے ایک اشارے پر حکومتیں بنتی اور بگڑتی ہیں۔ وہ صحافی مہذب ہے جو ہر آمریت کی شان میں نئے رنگ کا قصیدہ پیش کرتا ہے اور پرانے چیف کا وقت پورا ہونے کے بعد کسی نئے چیف کے پیچھے کھڑے ہو کے کسی تیسرے چیف کے حق میں ’’بے شمار ، بے شمار‘‘ کے نعرے بلند کرتا ہے یا وہ صحافی مہذب ہے جو خبر ڈھونڈنے کی دھن میں یہ بھی بھول جاتا ہے کہ اسے کتنے مہینوں سے تنخواہ نہیں ملی۔ وہ ادیب مہذب ہے جو برسوں کی عرق ریزی سے ایک کتاب لکھتا ہے یا وہ ادیب جو کتابو ں پر پابندی کے حق میں مضمون گھسیٹتا ہے۔ وہ شخص علم دوست ہے جو اپنی ذاتی کتابوں کا عطیہ دے کر یونیورسٹی لائبریری کا گوشہ سجاتا ہے یا وہ خدائی فوجدار مہذب ہے جو ناپسندیدہ کتابوں کو الائو کی نذر کرنا چاہتا ہے۔ وہ سائنس دان مہذب ہے جو بیماریوں کے علاج میں دن رات ایک کرتا ہے یا وہ جانباز مہذب ہے جو صحت عامہ کے کارکنوں پر گولیاں چلاتا ہے۔ وہ مغنی مہذب ہے جو دکھی دلوں پر سروں کا مرہم رکھتا ہے یا وہ مصور مہذب ہے جو روشنی اور لکیروں کے تال میل سے روز مرہ کے سادہ مناظر کا حسن واضح کرتا ہے یا وہ شخص مہذب ہے جو نئے سال کی رات ڈنڈے اٹھا کر نکلتا ہے اور جہاں سُر سنائی دے، وہاں ہلہ بول دیتا ہے۔ اقبال حسین اور ڈیوڈ کولن کی تصویروں کی مفروضہ فحاشی کی مذمت میں کاغذ سیاہ کرتا ہے ۔وہ سیاست دان مہذب ہے جو لوگوں کے حقوق کے لئے پھانسی پر جھول جاتا ہے، قاتلوں کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر جمہور کی آواز بلند کرتا ہے ، اٹک اور لاہور کے قلعوں کی رونق بڑھاتا ہے یا وہ سیاست دان مہذب ہے جو ہر ڈکٹیٹر کا پہلو گرم کرتا ہے ،ذات برادری کے نام پر ووٹ مانگنے والا مہذب ہے یا کسی امتیاز کے بغیر انسانوں کی خدمت کرنے والا عبدالستار ایدھی مہذب ہے۔ اپنی محل سرا کے باہر آٹا تقسیم کر کے محتاجوں کے ہجوم سے اپنی طہارت کی تسکین پانے والا مہذب ہے یا ڈاکٹر امجد ثاقب جو ایک ادارہ قائم کر کے ہزاروں گھروں کو روزگار فراہم کرتا ہے۔ لوگوں کے حقوق کی بات کرکے دشنام سہنے والا سوبھوگیان چندانی مہذب ہے یا جرگے میں بیٹھ کر مونچھوں پر تائو دیتے ہوئے پیوستہ مفادات کی رکھوالی کرنے والا مہذب ہے۔ غریب ہندو بچیوں کے زبردستی مذہب تبدیل کرنے کے خلاف احتجاج کرنے والا مہذب شہری ہے یا ان مجبور بچیوں کے نکاح پڑھانے کی شہرت رکھنے والا مہذب ہے۔ بم دھماکوں میں معذور ہو جانے والوں کے لئے مصنوعی اعضا بنانے والا شہری مہذب ہے یا پریشر ککر ، واشنگ مشین اور موبائل فون کی مدد سے بم بنانے والا ذہن مہذب ہے۔ سوالات ہی سوالات ہیں ۔ ممکن ہے آپ کے لئے ان کے جوابات سادہ ہوں لیکن میرے لئے فیصلہ کرنا مشکل ہے۔ مجھے اپنی کم علمی اور ذہنی پراگندگی کا اعتراف ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں