مومنہ حنیف
سلطان صلاح الدّین یوسف بن ایّوب، ایّوبی سلطنت کے بانی تھے۔ وہ دُنیا کے مشہور فاتحین اور حُکم رانوں میں سے ایک ہیں۔ صلاح الدّین ایّوبی 1138ء میں عراق کے شہر، تکریت میں پیدا ہوئے اور اُن کی سلطنت مصر، شام، یمن، عراق، حجاز اور دیار باکر تک پھیلی ہوئی تھی۔ صلاح الدّین ایّوبی کو اُن کی بہادری، فیّاضی، حُسنِ خلق، سخاوت، عدل اور بُردباری کے باعث نہ صرف مسلمان بلکہ مسیحی بھی عزّت کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ انہوں نے 1187ء میں یورپ کی متّحدہ افواج کو عبرت ناک شکست دے کر بیت المقدس کو غیر مسلموں کے قبضے سے آزاد کروایا، جس کی وجہ سے انہیں ’’فاتح بیت المقدس ‘‘بھی کہا جاتا ہے۔
صلاح الدّین ایّوبی نے جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی فوج میں شمولیت اختیار کی اوراپنی قابلیت و جنگی صلاحیتوں کی بہ دولت جلد ہی سلطان نور الدّین زنگی کی فوج کے ایک افسر بن گئے۔ 564ہجری میں جب سلطان نور الدّین زنگی نے مصر پر حملے کا حکم دیا، تو صلاح الدّین ایّوبی کے چچا فوج کے سپہ سالار تھے۔ مصر کی فتح کے بعد نور الدّین زنگی نے صلاح الدّین ایّوبی کو مصر کا حاکم مقرّر کردیا۔ ’’النوادر السلطانیہ‘‘ میں مذکور ہے کہ سلطان صلاح الدّین ایّوبی مصر کا حاکم بننے پر آمادہ نہیں تھے، مگر انہوں نے سلطان نور الدّین زنگی کے اصرار پر یہ منصب قبول کیا اور اقتدار سنبھالنے کے بعد وہ مزید متّقی و پرہیز گارہو گئے۔
اس ضمن میں بہاء الدّین ابنِ شداد لکھتے ہیں کہ ”مصر کی امارت سنبھالنے کے بعد سلطان نے دُنیا کو ترک کر کے اپنی زندگی مزید سختی سے اسلام کے اصولوں کے مطابق گزارنا شروع کردی ۔‘‘صلاح الدین ایّوبی نے اپنی تمام تر کوششیں ایک ایسی سلطنت قائم کرنے میں صَرف کر دیں کہ جس میں دشمنانِ دین کو بے دخل کرنے کی پوری طاقت ہو۔ اسی لیے سلطان صلاح الدّین ایوبی نے ایک مرتبہ فرمایا کہ’’ جب اللہ تعالیٰ نے مُجھے مصر کی حاکمیت عطا کی، تو مَیں سمجھ گیا کہ فلسطین بھی مُجھے دینا اللہ کو منظور ہے۔‘‘
سلطان صلاح الدّین ایّوبی نے اپنی پوری زندگی دلیری و بہادری سے گزاری اور ہمیشہ ملّت کے دفاع اور اسلام کی سر بلندی کے لیے اپنی شمشیر کو بے نیام رکھتے ہوئے میدانِ جنگ میں دادِ شجاعت پائی۔ سلطان صلاح الدین ایّوبی نے اپنی زندگی کے آخری چھے سال بیت المقدس کی عزت و آبرو کی حفاظت کے لیے عیسائیوں کے خلاف جنگ و جدل میں گزارے ، لیکن مختلف معرکوں میں مسیحیوں کے ساتھ اتنا عمدہ سلوک کیا کہ مسیحی آج بھی ان کی عزّت کرتے ہیں۔ انہیں جہاد کا اس قدر شوق تھا کہ ایک مرتبہ اُن کے نچلے دھڑ میں پھوڑے ہوگئے، جس کی وجہ سے وہ بیٹھ کر کھانا نہیں کھا سکتے تھے، لیکن اس حالت میں بھی اُن کی جہاد کی سرگرمیوں میں کوئی فرق نہ آیا۔
وہ فجر سے ظہر اور عصر سے مغرب تک گھوڑے کی پیٹھ پر رہتے۔ اُن کا کہنا تھا کہ ’’جب تک مَیں گھوڑے کی پیٹھ پر رہتا ہوں، ساری تکلیف جاتی رہتی ہے اور اس سے اُترنے پر پھر سے تکلیف شروع ہوجاتی ہے۔‘‘ مسیحیوں سے صلح ہو جانے کے بعد صلاح الدّین نے انہیں بیت المقدس کی زیارت کی اجازت دے دی۔ اجازت ملنے پر یورپ کے عیسائی زائرین، جو برسوں سے زیارت کے منتظر تھے، اس کثرت سے بیت المقدس آئے کہ شاہ رچرڈ کے لیے انتظامات برقرار رکھنا مشکل ہو گیا اور اس نے سلطان سے کہا کہ وہ اس کی اجازت کے بغیر کسی کو بیت المقدس میں داخل نہ ہونے دے، جس پر سلطان نے جواب دیا کہ ”زائرین طویل مسافت طے کر کے زیارت کے شوق میں آتے ہیں، لہٰذا ان کو روکنا مناسب نہیں۔‘‘
سلطان صلاح الدین ایّوبی نے بیت المقدس آنے والے عیسائی زائرین کو نہ صرف ہر قسم کی آزادی دی بلکہ اپنی جانب سے لاکھوں زائرین کی خاطر مدارت کا بھی انتظام کیا۔ صلاح الدّین کا غیر مسلموں سے سلوک عین اسلامی تعلیمات کے مطابق تھا اور یہ اس بات کا بیّن ثبوت ہے کہ کسی اسلامی ریاست میں غیر مسلموں کے حقوق بھی مسلمانوں کے حقوق کی طرح محفوظ ہوتے ہیں۔
نور الدّین زنگی کی طرح صلاح الدّین ایّوبی نے بھی نہایت سادہ زندگی گزاری۔ کبھی ریشمی لباس نہیں پہنا اور محل کی بہ جائے ایک معمولی سے مکان میں رہایش اختیار کی۔ صلاح الدّین ایّوبی نے اپنے دَور میں رفاہِ عامّہ کے غیر معمولی کام کروائے۔ قاہرہ پر قبضے کے بعد جب انہوں نے فاطمی حُکم رانوں کے محلات کا جائزہ لیا، تو وہاں بے شمار جواہرات اور سونے چاندی کے ظروف موجود تھے۔ انہوں نے یہ مال و متاع اپنے قبضے میں لینے کی بہ جائے بیت المال میں جمع کروا دیا۔ محلات کو عام استعمال میں لایا گیا اور ایک محل میں عظیم الشّان خانقاہ قائم کی گئی۔
فاطمیوں کے زمانے میں مصر میں مدرسے قائم نہیں کیے گئے تھے، لہٰذا صلاح الدّین نے یہاں کثرت سے مدرسے اور شفاخانے تعمیر کروائے۔ ان مدارس میں سرکار کی طرف سے طلبا ءکے قیام و طعام کا انتظام ہوتا تھا۔ قاہرہ میں صلاح الدّین کے قائم کردہ شفا خانے کے بارے میں ایک سیاح، ابنِ جبیر لکھتا ہے کہ ’’یہ شفاخانہ ایک محل کی طرح دکھائی دیتا ہے، جس میں ادویہ کا بہت بڑا ذخیرہ موجود ہے۔‘‘ صلاح الدین ایّوبی سلطنتِ غوریہ کے حُکم ران، شہاب الدّین غوری اور مراکشی حُکم ران، یعقوب المنصور کے ہم عصر تھے اور بلاشُبہ یہ تینوں حُکم ران ہی اپنے وقت میں دُنیا کے عظیم ترین حُکم رانوں میں شامل تھے۔
27 صفر المظفّر 589ھ کو 57برس کی عُمر میں فاتح بیت المقدس، سلطان صلاح الدّین ایّوبی اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ انہیں شام کے دارالحکومت، دمشق کی مسجدِ اُمیہّ کے نواح میں سپردِ خاک کیا گیا۔ صلاح الدّین ایّوبی نے کُل 20سال حکومت کی۔ مؤرخ ابن خلکان کے مطابق، اُن کی موت کا دن اتنا تکلیف دہ تھا کہ ایسا تکلیف دہ دن اسلام اور مسلمانوں پر خلفائے راشدینؓ کی موت کے بعد کبھی نہیں آیا۔ انگریز مؤرخ، لین پول نے اپنی کتاب میں صلاح الدین ایّوبی کے بارے میں لکھا ہے کہ ’’سلطان صلاح الدّین ایّوبی اور ہم عصر بادشاہوں میں ایک عجیب فرق تھا۔
بادشاہوں نے اپنے جاہ وجلال کے سبب عزّت پائی اور اس نے عوام سے محبّت اور ان کے معاملات میں دل چسپی لے کر ہر دل عزیزی کی دولت کمائی۔‘‘ صلاح الدّین ایّوبی کی قائم کردہ سلطنت ان کے والد، نجم الدین ایّوب کے نام کی وجہ سے ’’ایّوبی‘‘ کہلاتی تھی۔ سلطان صلاح الدّین ایّوبی کے بعد ایّوبی خاندان کے چند لائق حُکم رانوں نے، جن میں صلاح الدّین کا بھائی، ملک عادل اور اس کا بیٹا، ملک کامل قابلِ ذکر ہیں، مصر، شام، حجاز اور یمن کو تقریباً 60سال تک بڑی حد تک متّحد کیے رکھا۔ تاہم، 648ھ میں ایّوبی خاندان کی حکومت ختم ہو گئی اور ان کی جگہ تُرکوں کی حکومت قائم ہوئی، جو مملوک کہلاتے تھے۔