• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وفاقی حکومت کا ججز کے خط کے معاملے پرانکوائری کروانے کا اعلان


وفاقی حکومت نے ججز کے خط کے معاملے پر انکوائری کروانے کا اعلان کردیا۔

وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم نے کہا ہے کہ عدلیہ کی آزادی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، معاملے کی اچھی ساکھ والے ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں انکوائری کروائی جائے گی۔

اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ جو خط آیا اس کی میڈیا اور سوشل میڈیا پر دھوم تھی۔ حکومت کا فرض ہے کہ اس معاملے کی چھان بین ہونی چاہیے، وزیراعظم کل کابینہ میں یہ معاملہ رکھیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کمیشن آف انکوائری ایکٹ کے تحت کمیشن بنایا جائے گا، سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ ججز کے ناموں پر غور کیا جائے گا، وزیراعظم نے کہا اگلے دو چار روز میں اس کو نوٹی فائی کر دیا جائے گا۔

وزیر قانون نے بتایا کہ وزیراعظم نے کہا تھا کہ وہ تمام مصروفیات کے باوجود چیف جسٹس سے ملاقات کے لیے جائیں گے۔ چیف جسٹس اور وزیراعظم کی ملاقات ڈیڑھ گھنٹے جاری رہی، ملاقات میں چیف جسٹس اور سینئر ترین جج جسٹس منصور علی شاہ موجود تھے۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ وزیراعظم نے کہا چیف جسٹس سے جو بات چیت ضروری ہے وہ میں خود کروں گا، وزیراعظم نے ملاقات میں اہم مسائل کی نشاندہی کی، ملاقات میں بعض اہم قومی امور بشمول ٹیکس معاملات پر بات چیت ہوئی۔

اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ ہم عدلیہ پر چھوڑتے ہیں کہ ججز کا خط مس کنڈکٹ ہے یا نہیں ہے، ٹی او آرز میں اس خط اور ماضی کے معاملات بھی شامل ہوں گے، میں سمجھتا ہوں جب ایسے معاملات آئیں تو ان کو دبایا نہ جائے، ہم نے جو بھی کمیشن بنائےہیں وہ ساری چیزیں سامنے لاتے رہے ہیں، تاریخ فیصلہ کرتی ہے کون غلط ہے کون نہیں۔

وزیر قانون نے مزید کہا کہ سینئر ترین ریٹائرڈ ججز میں سے کسی کو کمیشن کی سربراہی کرنے کی درخواست کی جائے گی، وزیراعظم کا عزم ہے کہ ملک آئین کے مطابق چلنا چاہیے۔

قومی خبریں سے مزید