• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

عدالتی حکم پر دوبارہ ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ، 38 ہزار سے زائد امیدواروں کی شرکت


کراچی سمیت سندھ بھر میں آئی بی اے سکھر کے تحت ایم ڈی کیٹ 2024 کا دوبارہ انعقاد کیا گیا، جس میں 38 ہزار سے زائد امیدوار شریک ہوئے۔

سندھ کے 6 شہروں میں میڈیکل اور ڈینٹل کالجز و جامعات کے داخلہ ٹیسٹ آئی بی اے سکھر کے زیر اہتمام لیے گئے۔

عدالت حکم پر دوبارہ لیا جانے والا ٹیسٹ کراچی، حیدرآباد، جامشورو، شہید بینظیر آباد، لاڑکانہ اور سکھر کے امتحانی مراکز میں بیک وقت منعقد ہوا۔

طلبا کو صبح ساڑھے 8 بجے تک امتحانی مراکز پہنچنا تھا، تاہم صبح 10 بجے شروع ہونے والا ٹیسٹ 2 گھنٹے تاخیر سے 12 بجے شروع ہوا۔

امیدوار کو 200 کثیر الانتخابی سوالات پر مشتمل پرچے کےلیے ساڑے 3 گھنٹے کا وقت دیا گیا تھا۔

کراچی میں این ای ڈی یونیورسٹی اور جامعہ کراچی میں امتحانی مراکز قائم کیے گئے ہیں، جہاں اطراف میں دفعہ 144 نافذ کی گئی تاکہ نقل اور غیر قانونی سرگرمیوں کو روکا جا سکے۔

تمام امیدواروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اصل ایڈمٹ سلپ، شناختی کارڈ، پاسپورٹ اور مارک شیٹس کے بغیر امتحان کےلیے نہ آئیں، ورنہ امتحان میں شرکت کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

والدین نے بھی پرچہ تاخیر سے شروع ہونے پر برہمی کا اظہار کیا، ٹیسٹ کے دوران گاڑیاں امتحانی مراکز کے سامنے ہونے سے ٹریفک کی روانی متاثر رہی، ٹریفک پولیس اہلکار صورتحال بہتر بنانے کی کوشش کرتے رہے۔

دوسری طرف سکھر آئی بی اے کا موقف ہے کہ ٹیسٹ کا مقررہ وقت دس بجے تھا، جو دو گھنٹے تاخیر سے 12 بجے شروع اور ساڑھے 3 گھنٹے کے دورانیے کے بعد ساڑھے 3 بجے ختم ہوگیا۔

سکھر آئی بی اے کے مطابق امیدواروں کو صبح ساڑھے 8 بجے امتحانی مرکز پہنچنے کےلیے کہا گیا تھا لیکن وہ صبح 7 بجے سے ہی آنا شروع ہوگئے تھے، ٹیسٹ ختم ہونے پر طلبہ کو باہر جانے کی اجازت 3 بج کر 45 منٹ پر دی گئی۔

قومی خبریں سے مزید