جاننے میں واقعی یہ مشکل ہے کہ عشق نے روہی میں پہلے بسیرا کیا یا خواجہ غلام فرید کے دل میں؟ کہتے ہیں کہ اس بسیرا سے قبل بہرحال عشق سرخ لباس زیب تن کئے قلندری دھمال میں چاکِ گریباں تھا۔ بلاشبہ اس زمین پر خواجہ صاحب کے قدم جمانے کے بعد مفہوم یہ ملا کہ عشق زمان و مکان کی حدود سے ماورا ہوتا چلا گیا۔ خواجہ فرید نے سرائیکی شاعری کو معراج تک پہنچایا اور کافی کی صنف میں ان کا کوئی ثانی نہیں!
وہ ایکو سسٹم کہ جس میں معاشرتی رعنائی،جذبوں کی شہنائی اور جمہوریت کی سچائی، اس کیلئے بہت حد تک یہ صاحبان معرفت بھی ضروری ہیں کیونکہ معرفت کا تعلق اخلاص سے ہے اور اخلاص ہی جو معاشرتی و معاشی بناؤ فراہم کرتا ہے اس کا کوئی ثانی نہیں۔ ایک ترتیب ہے جو انفرادیت سے شروع ہو کر اجتماعیت کو چار چاند لگاتی ہے وہ : قول ، عمل، علم اور اخلاص ہے۔ عموماً کہا جاتا ہے کہ قول و فعل میں تضاد نہ ہو ، لیکن فعل بھی علمیت کے بغیر سو فیصد نتیجہ خیز نہیں ہو سکتا، اور پھر جب تک اخلاص کا تڑکا نہ لگے سیاسی قیادت ہو یا روحانی طاقت یہ اپنی مقصدیت سے دور پائے جاتے ہیں۔ جہاں تک راجن پور اور اس کے گرد و نواح کا تعلق ہے ، اس کی فضا میں ایک نغمگی، موسیقیت اور شگفتگی پوری دلیل سے یہ بات کرتی سنائی دیتی ہے کہ شریعت میں انسان مرید بنتا ہے اور طریقت میں مراد ...یوں خواجہ فرید کا صاحب مراد ہونا عشق کی مسافت کی منزل ہے۔ معروف ہے کہ’’فرید‘‘ تنہا کو کہتے ہیں۔ وہ’’تنہائی‘‘کہ جو صرف رب تعالیٰ کو زیب دیتی ہے تاہم باریک نکتہ یہ ہے کہ خواجہ غلام فریدہوں یا بابا فرید الدین گنج شکر، یا پھر خواجہ فرید الدین عطار نیشا پوری ہوں۔ محقق کے مطابق یہ تینوں فرید اپنی ذات میں ذات الہٰی کو بھرپور سموئے ہوئے ہیں.... کلیات فرید پر غور کر لیجئے یا غنیہ الطالبين (حضرت عبدالقادر جیلانی) یا کشف المحجوب (حضرت علی ہجویری) کا مطالعہ ، ایک توحید ہی کا صریر خامہ اور بازگشت ہی تو ہیں۔ حافظ شیرازی بھی تو کہتے میرے دل کے اندر ’’الف‘‘کی مہر کے سوا کچھ بھی نہیں۔ سلطان باہو کے ہاں بھی الف اللہ چنبے دی بوٹی مرشد من وچ لائی ہُو‘ کا معاملہ ہے۔ بلھے شاہ کا کہنا کہ : علم پڑھیاں اشراف نہ ہوون جیہڑے ہوون اصل کمینے / پِِتّل کدی نئیں سونا ہوندا بھاویں جڑئیے لعل نگینے /شوم تھیں کوئی نئیں صدقہ ہوندا بھاویں ہوون لکھ خزینے / بلھیا باجھ توحید نئیں جنت ملدی بھاویں مریئے وچ مدینے۔ بقول محمد علی جوہر : توحید تو یہ ہے کہ خدا حشر میں کہہ دے / یہ بندہ زمانےسے خفا میرے لئے ہے ۔
ترے عشق کی انتہا چاہتا ہوں
مری سادگی دیکھ کیا چاہتا ہوں
تین روز، راجن پور اور کوٹ مٹھن میں پہلی عالمی ثقافتی ورثہ کانفرنس کے تناظر میں رہنے کے بعد یوں لگنے لگا تمام زبانوں کو گوندھ کر اگر ایک دل بنایا جائے تو سرائیکی اس دل کی دھڑکن ہوگی۔ گویا دھڑکن کی گر کوئی زبان ہوئی تو سرائیکی ہوگی ! مکتب کی کرامت ہے یا نہ جانے کیا ڈی سی راجن پور شفقت اللہ مشتاق اور ڈی پی او امجد فاروق بٹر کے ساتھ گزرے ان تین دنوں میں انتظامی صلاحیتوں کے علاوہ ان کی ادب دوستی ، تصوف کے کنسپٹ اور انسان دوستی کا لیول کمال پایا جو بیوروکریسی کیلئے قابلِ تقلید ہے۔ جس طرح شفقت اللہ مشتاق راجن پور کو اون کئے ہوئے اور وزیر اعلیٰ پنجاب کے دھی رانی پروگرام، ستھرا پروگرام، ڈائیلسز پروگرام اور انٹرن شپ پروگرام وغیرہ پر توجہ دئیے ہوئے ہیں، اس سے یہی لگا کہ انہوں نے ڈی سی آفس کو کمیونٹی سنٹر بنا دیا ہے۔ وزیرِ اعلیٰ کو چاہئے کہ جتنی جلدی ہو اس ضلع کا دورہ کریں ، موٹروے (M5) سے بیس منٹ کی مسافت پر کوٹ مٹھن اور تیس منٹ کی مسافت پر ڈسٹرکٹ راجن پور ہے جو وزیرِ اعلیٰ سے راجن پور یونیورسٹی آف آرٹ، آرٹییکلچر ، ڈیزائن اینڈ ہیریٹیج کے قیام کا منتظر ہے۔ لیکن دکھ تو یہ ہے کہ اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کی خواجہ فریدچیئر 22 سال غیر فعال رہی مگر 2020 میں بہرحال فعال ہوگئی تاہم خواجہ فرید یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی جو بنی خواجہ فرید کے نام پر مگر اب تک خواجہ فرید چیئر کو فارمل رنگ نہیں دیا گیا ، یہ چیئر کا انتظام کوئی راکٹ سائنس نہیں محض سنڈیکیٹ کی اجازت چاہئے۔ وہاں محققین سے ان کی کافیوں کا انگریزی، فارسی، اردو، پشتو ، بلوچی، سندھی اور ہندی میں نثر یا منظوم ترجمہ کا اہتمام کرے، دیگر جامعات سے بھی استفادہ کیا جاسکتا ہے تاہم ہائر ایجوکیشن منسٹری اور وزارت ثقافت و کلچر کو بھی ہر صوبے میں کوارڈنیشن سے مختلف ماہرین و عمائدین کی تعلیمات کو معاشرتی علوم کے طور پر لانا ہوگا کہ سوشل انجینئرز اور سوشل سائنٹسٹ دنیوی توازن کے لئے ناگزیر ہیں!
ذہن نشین رہے کہ ثقافت کو احترام دینے والی سیاسی لیڈرشپ سدا بہار ہو جایا کرتی ہے، لیکن یہ بھی پیش نظر رہنا چاہئے کہ مضبوط ثقافت کو خارجی عوامل سے کبھی خطرہ نہیں ہوتا ، پھر یہ بھی کہ جس ثقافت کے پیچھے ادب اور صوفی ہو جو جدتوں اور دوسروں کو اپنا بھی لے تو ڈائیورسٹی عناصر اسے کچھ دیتے ہی ہیں چھینتے کچھ نہیں۔ متذکرہ علاقہ کی تو پھر کلیاتِ فرید آبیاری کرتا ہے۔ خود خواجہ غلام فرید ہی کی شاعری کو دیکھ لیجئے کہ محققین کے مطابق یہ پانچ سے زائد زبانوں میں ہے لیکن دوام اور راج سرائیکی لب و لہجے ہی کو ہے ! وزارتِ ثقافت ، وزارتِ تعلیم ، ٹورزم ڈیپارٹمنٹ اور آرکیالوجی والے اس خطے کی ثقافت کو قومی دھارے کا حصہ بنائیں تو یہ ایک معاشرتی بناؤ کو تقویت ہوگی۔ اس علاقے کی بےجان چیزوں ہی کو نہیں جانداروں کو توانائی کا فراہم کرنا ضروری ہے کہ پائیداری رہے، میوزک ، میوزیکل آلات اور مقامی ورثہ سے جڑی دیگر چیزوں کو محفوط کرنا، پھر نیشنلائزیشن اور انٹرنیشنلائزیشن کرنا بھی وقت کا تقاضا ہے علاوہ بریں کانفرنس کے انعقاد کا مقصد کلچرل بیٹری کو چارج کرنا ہی تھا !