• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

السّلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ

شکیل عادل زادہ کا انٹرویو

ایک گزارش کی تھی کہ ’’شہدائے مشہد‘‘ سے متعلق بھی ایک جامع مضمون لکھوائیں۔ شکیل عادل زادہ کا ایک تفصیلی انٹرویو بھی ہونا چاہیے۔ اور ہاں، ’’حالات و واقعات‘‘ سلسلے والے منور مرزا سے متعلق مجھے گُمان گزرتا ہے کہ وہ 1960ء کے کئی سال گورنمنٹ ڈگری کالج، میانوالی کے طالبِ علم رہے ہیں۔ (نیاز مند، کوئٹہ)

ج: نیازمند صاحب! خط کے ساتھ نام لکھنے کی تو زحمت فرماتے۔ دستخط ضرور کر رکھے ہیں آپ نے، لیکن وہ بھی ایسے گنجلک ہیں کہ اُن میں سے بمشکل یہ ’’کوئٹہ‘‘ ہی دریافت ہو پایا۔ ویسے ’’آپ کا صفحہ‘‘ کے خطوط پڑھتے پڑھتے ہمیں ایک خیال ضرور آتا ہےکہ اِس مُلک کی اکثریت سے بچپن میں تختی لکھوانی چاہیے۔ 

اللہ نظرِ بد سے بچائے، ایک سے بڑھ کر ایک بد خط موجود ہے یہاں۔ آپ کے ’’شہدائے مشہد‘‘ کو سمجھتے سمجھتے تو ہم خُود شہید ہونے کو تھے۔ رہا منور مرزا صاحب سے متعلق آپ کا انکشاف، تو اِس کا جواب تو وہ خُود ہی دے سکتے ہیں۔ ہاں،عادل زادہ صاحب سے دریافت کر دیکھتے ہیں، اگر وہ انٹرویو دینے میں انٹرسٹڈ ہوئے، تو ضرور کروالیں گے۔

جہاز اُڑتے ہی دیکھا ہے

ربِ دوجہاں سے دل کی گہرائیوں سے دُعا ہے کہ 2025ء میں سب کی زندگیوں کا گلشن مہکتا، مُسکراتا رہے۔ قدم قدم پھول کھلیں، خوشبوئیں، خوشیاں ملیں۔ امن ومحبت، انسان دوستی کے ترانے گونجیں۔ آغاز ’’آپ کا صفحہ‘‘ سے کرتے ہیں کہ ہمیں بہت بہت مبارک ہو، اِس بار ’’اِس ہفتے کی چٹھی‘‘ کا تاج ہمارے سر پرسجا۔ 

برقی نامہ نگار، قرأت نقوی نے پوچھا تھا کہ ’’یہ آسٹریلیا گھوم آنے والے ضیاءالحق تو نہیں؟‘‘ ’’بہن! نہیں، بالکل نہیں۔ ہم نےآج تک بس جہاز کوکبھی کبھار اُڑتے ہی دیکھا ہے‘‘۔ ’’سرچشمۂ ہدایت‘‘ میں کھتری عصمت علی پٹیل ’’لعابِ مصطفیٰﷺ کی برکات و خواص‘‘ کے موضوع پر شان دار مضمون زیرِ قلم لائے۔ 

محمد عارف قریشی کا قلمی نسخہ ’’ایسے تھے ہمارے قائدِاعظم‘‘ بہترین تھا۔ اور’’قائدِاعظم محمّد علی جناح، ایک عہد ساز شخصیت‘‘ کے قلم کار حافظ بلال بشیر کے طرزِ نگارش کا بھی جواب نہیں۔ ’’رپورٹ‘‘ میں  عبدالستار ترین ’’بلوچستان کے نہری نظام‘‘ کا نوحہ سُنارہے تھے۔ ’’شامِ میں سحر…‘‘ کے عنوان سے ’’حالات و واقعات‘‘ پر کڑی نظر رکھنے والے نام وَر لکھاری منور مرزا کا کہنا بالکل بجا کہ ’’اب شام کو اپنے ارد گرد اور دنیا کے حقائق سامنے رکھ کے وطن کو کام یابی و خوش حالی کے رستے پر گام زن کرنا ہوگا۔‘‘

’’سینٹراسپریڈ‘‘میں غالباً پہلی مرتبہ کسی ڈاکٹر کوماڈلنگ کرتے دیکھا۔ ’ڈاکٹر عائشہ راؤ‘‘ کا کالاچشمہ اور اُس پر نرجس ملک کا رائٹ اَپ، بات خوب ہی بن گئی۔ ’’خُود نوشت‘‘ کے ذریعے بھی کیا کیا انکشافات سامنے آرہے ہیں۔’’دسمبر: سال بھر کے آڈٹ کا مہینہ‘‘ ڈاکٹر عزیزہ انجم کا شاہ کار مضمون بہت پسند آیا، تو صائمہ مسلم، مرغ مسلم کے ساتھ موسمِ سرما کے چٹ پٹے کھانے لیے آئیں۔ پیرزادہ شریف الحسن عثمانی اور عارف چانڈیو کے افسانے تو جھنجھوڑ سے گئے۔ (ضیاءالحق قائم خانی، جھڈو، میرپورخاص)

سب قلم زد فرمادیا

قبل ازیں لکھےگئے خط میں،آپ سے درخواست کی تھی کہ اگر آپ کا سامیہ خان سے کوئی ذاتی تعلق یا رابطہ ہے، تو یا تو اُن کا، یا میرا ایڈریس، فون نمبر ایک دوسرے سے شیئر کردیں کہ مجھے اسیرانِ  سینٹرل جیل، کراچی کی کسی وَیلفیئر سے رابطہ مقصود ہے۔ لیکن آپ نے سب کچھ قلم زد فرمادیا۔ اور آپ کو بَھجوائی جانے والی کتاب کی تفصیل کچھ یوں ہے کہ ایک مہربان رفیق نے لاہور سے اشاعت فرمائی، مجھے اچھی لگی، تو سوچا ایک جِلد آپ کو بھی بھجوادی جائے۔ 

باقی، ست بسم اللہ، خوش آمدید، جی آیاں نوں، بھلی کرآیاں نوں ڈاکٹرصاحبہ (ماڈل عائشہ راؤ)!! ہمارے پیارے میگزین کو رونق بخشنے کا بہت شکریہ کہ آپ کی آمد سے جاڑے و بہار کو آپس میں گڈمڈ ہوتے محسوس کیا۔ جی چاہتا ہے، آپ کو سُچّے گلابوں  کے پھول پیش کیے جائیں۔ 

ہم نے بھجوا بھی دینے تھے، لیکن اندیشہ یہ ہے کہ آپ تک پہنچتے پہنچتے مُرجھا جاتے بلکہ جب تک ایڈیٹر صاحبہ ہمارا خط کھولتیں، تب تک تو وہ پُرانی کتابوں میں رکھے پھولوں کی خُشک پتیاں ہی ہوجاتے۔ گرچہ جریدے میں میرا خط شامل کیا گیا، لیکن کافی لمبی چوڑی ایڈیٹنگ کے مرحلے سے گزار کر اور اہم جواب طلب باتیں ہی گول کردی گئیں۔ خیر،’’سرچشمۂ ہدایت‘‘کےصفحے پر کھتری عصمت علی پٹیل کی تحریر تھی۔ 

’’اشاعتِ خصوصی‘‘ کے مضامین بھی پسند آئے۔ ’’رپورٹ‘‘ میں عبدالستار ترین بلوچستان کے مسائل اجاگر کررہے تھے۔’’نئی کتابیں‘‘ اِس بار پورے صفحے پر محیط تھا، دیکھ کے بہت خوشی ہوئی کہ اگر اس الیکٹرانک دَور میں اتنی کتابیں لکھی جارہی ہیں، تو پڑھی بھی ضرور جاتی ہوں گی۔ ’’اسٹائل‘‘ میں آپ کی دسمبر، جاڑے کے حوالے سے تحریر بہترین بلکہ انتہائی بہترین تحریر تھی۔ اب آتے ہیں، آپ کا صفحہ کی جانب، تو یہاں کچھ نئے دوستوں کی آمدخوش آئند ہے۔ (محمّد صفدر خان ساغر، نزد مکی مسجد، شریف فارم، راہوالی، گوجرانوالہ)

ج: سامیہ خان ایک لکھاری ہیں اور اگر انہوں نے سینٹرل جیل، کراچی کا دورہ کر کے کوئی تحریر لکھ ہی ڈالی، تو اِس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ہم آپ سے اُن کا رابطہ استوار کروا دیں۔ اصولاً تو اِس مرتبہ بھی کئی غیر ضروری باتیں قلم زد ہی ہونی چاہیے تھیں، لیکن محض اِس لیے شایع کی جارہی ہیں کہ قارئین کو بھی اندازہ ہوجائے کہ ہم جو خطوط کے جوابات دیتے اس قدر ’’سڑے بلے‘‘ رہتے ہیں، وہ بے سبب نہیں۔

خوش قسمت باپ تھے

دسمبر کے تیسرے شمارے کا سرِورق، دسمبر ہی کی مناسبت سے تھا۔ منیر احمد خلیلی ایک بےحدمعلوماتی تحریر’’یہودی تخریب کی کہانی، تاریخ کی زبانی‘‘کے ساتھ موجود تھے۔ صدیوں سے یہودیوں کی فتنہ پرور، فساد انگیزروش جاری ہے۔ محمد ریحان ایک انتہائی خُوب صُورت مقام ’’بابو سرٹاپ‘‘ کی سیر کروا رہے تھے۔ سقوطِ ڈھاکا پہ شمیم اختر نے بہت منفرد مضمون لکھا۔ پاک فوج کے خلاف پراپیگنڈے کو غالباً پہلی بار اِس طرح سامنے لایا گیا۔ 

حافظ بلال بشیر بھی عربی زبان کی فصاحت و بلاغت پرعُمدہ تحریر لائے۔ ذوالفقار چیمہ کی ’’خُودنوشت‘‘ کی یہ قسط بھی انتہائی دل چسپ تھی۔ اور’’دسمبرکی شام سی لڑکی…‘‘ میں ماڈل مختلف رنگوں کے دل کش پیراہن میں ملبوس تھی، تو تحریر کو بھی حسبِ حال اشعار نے خُوب دل کشی عطا کررکھی تھی۔ ’’درد کا درماں‘‘ عُمدہ افسانہ ثابت ہوا اور’’آپ کا صفحہ‘‘ میں عشرت جہاں کی اس ہفتے کی سیدھی سادی چٹھی نپے تلے الفاظ، بہترین اشعار سے گندھی ملی۔ 

سال کا آخری شمارہ سخت سرد موسم میں آیا اور سردی کی یہ شدت میگزین کے سرِورق کی ماڈل اور اُس کا پس منظر دیکھ کر بھی محسوس ہورہی تھی۔ منور مرزا حالاتِ حاضرہ پر بُہت اچھا لکھتے ہیں۔ اس ہفتے’’دنیا بھر میں  اسلحے کی ریکارڈ فروخت‘‘ جیسے اہم موضوع پر تحریر لائے اور ڈاکٹر قمر عباس نے ایک ایسی شخصیت پر قلم اٹھایا، جنہیں دیکھ اور سُن کر ہم بچپن سے جوانی کی حدود میں داخل ہوئے اور وہ شخصیت ہمارے گھر کے ایک فرد کی حیثیت اختیار کرگئی۔ 

جی ہاں…طارق عزیز اور نیلام گھر، گویا لازم وملزم ٹھہرے۔ پی ٹی وی کا ڈراما مِس ہوجاتا، مگر نیلام گھرنہیں چھوڑا جاتا تھا۔ قاضی حسین احمد ایک خوش قسمت باپ تھے کہ جن کی بیٹی ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی ہر سال اُن کی برسی پر اُنہیں بہت ہی خوب صورت انداز میں خراجِ عقیدت پیش کرتی ہیں۔ ویسے قاضی صاحب کی شخصیت آج بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ ہے۔

فرّخ شہزاد ملک بلوچستان کےتاریخی ریلوے سیکشنز کی اہمیت پر معلوماتی تحریر لائے۔ جب اور جہاں ریلوے کا ذکر آئے، تو بچپن اور ابو کی یاد آجاتی ہے کہ ابو ریلوے میں ملازم تھے اور ہمارا پورا بچپن ریلوے کوارٹرز میں گزرا۔ اور ؎ میری آنکھوں میں آٹھہرا دسمبر… درمیانی صفحات پرآپ کی تحریر ہمیشہ کی طرح لاجواب تھی۔ (رانا محمد شاہد، گلستان کالونی، بورے والا)

ج: ہمارے خیال میں تو ڈاکٹر سمیحہ راحیل صاحبہ، خُوش قسمت بیٹی ہیں کہ اُنھیں قاضی صاحب جیسے باپ کی اولاد ہونے کی سعادت حاصل ہے۔بےشک، عظیم والدین کی اعلیٰ تعلیم و تربیت، اولاد کے عکس وآہنگ، طرزِعمل سے جھلکتی ہے۔ ایسی اولاد صدقۂ جاریہ ہوتی ہے اوراس ضمن میں ڈاکٹر صاحبہ ایک روشن مثال ہیں۔

کئی قیمتی جواہر

گزشتہ سال کیا کھویا، کیا پایا، سب قصّۂ پارینہ ہوا۔ بس، ایک خوشی ہے کہ ہمارا ہفتہ وار جریدہ، ہمیں باقاعدگی سے ملتا رہا اور ہم اس کی تہہ سے کئی قیمتی جواہر چُننے میں کام یاب رہے۔ (شری مُرلی چند جی گو پی چند گھوکلیہ، شکارپور)

سڑک مرمت کروادیں

’’حالات و واقعات‘‘ میں منور مرزا کا بےلاگ تبصرہ پڑھا۔ ’’اشاعتِ خصوصی‘‘ میں ڈاکٹر ناظر محمود انسانی حقوق کی بابت قلم آراء تھے، تو حافظ بلال بشیر بھی یہی موضوع احاطۂ تحریر میں لائے۔ شاذیہ ناہید ’’عدم برداشت کے بڑھتے رجحان‘‘ کی طرف توجّہ دلا رہی تھیں۔ ’’خود نوشت‘‘ سلسلے کے دل چسپ واقعات پڑھنے میں بہت لُطف آرہا ہے۔ ’’ہیلتھ اینڈ فٹنس‘‘ میں پروفیسر ڈاکٹر غلام علی مندرہ والا نے ایک نئی بیماری کا ذکر کیا، جس سے متعلق کم ازکم ہم تو لاعلم ہی تھے، شکریہ ڈاکٹر صاحب۔ ڈاکٹر فیاض عالم نے بھی زیتون سے متعلق شان دار معلومات فراہم کیں۔

’’ڈائجسٹ‘‘ میں نظیر فاطمہ کا افسانہ اور شبینہ گل انصاری، حامد علی سیّد اور سیّد سخاوت علی جوہر کی غزلیں پسند آئیں۔ خادم ملک کا جگمگاتا خط دیکھ کر خوشی ہوئی۔ اب ہم بھی آپ سے گزارش کریں گے کہ شہباز شریف سے کہہ کر سڑک مرمت کروا ہی دیں۔ اگلے شمارے کے ’’سنڈے اسپیشل‘‘ میں  منیر احمد خلیلی نے یہودی تخریب کی کہانی مفصّل انداز میں  بہت عُمدگی سے بیان کی۔ 

’’اشاعتِ خصوصی‘‘ میں شمیم اختر نے سقوطِ ڈھاکا کے ضمن میں بعض اہم حقائق سے پردہ اُٹھایا۔ منور مرزا کا تجزیہ،’’خود نوشت‘‘ سلسلہ حسبِ روایت شان دار رہے۔ ’’امریکا یاترا‘‘ میں کوئی خاص بات نہیں تھی۔ اچھا کیا، دو قسطوں میں نمٹا دیا۔ اور ہاں، حسین ترین سیّاحتی مقام بابوسرٹاپ کی سیر نے بہت لُطف دیا۔ (سیّد زاہد علی، شاہ فیصل کالونی، کراچی)

ج: سندھ حکومت تو سُنتی نہیں، جن کی ہم باضابطہ رعیّت ہیں، شبہاز شریف ضرور سُنیں گے، جو پورے دورِحکومت میں بمشکل دو پھیرے ہی کراچی کے لگاتے ہیں، وہ بھی ہوا کے گھوڑے پرسوار۔ ہمارے خیال میں تو کراچی کی سڑکوں کی مرمّت تب ہی ممکن ہے، جب ایک بار عوام کی صحیح سے مرمّت ہوگی اور وہ بالآخر ایسے نمائندے چُننے کا فیصلہ کر لیں گے، جو اُن کے دیرینہ مسائل حل کرنے کی طرف بھی کچھ توجّہ دیں۔

                           فی امان اللہ

اس ہفتے کی چٹھی

ہواؤں میں خنکی، گلابی دھوپ میں ہلکی ہلکی حدّت ہے اور سرِورق پر پروین شاکر رقم طراز ہیں ؎ کچھ تو ہوا بھی سرد تھی، کچھ تھا تِرا خیال بھی… ویسے اُردو شاعری اور دسمبر کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔ ’’سرچشمۂ ہدایت‘‘ میں عصمت علی پٹیل سرورِ کونینؐ،رحمت اللعالمین، آقائے دوجہاں حضرت محمّد مصطفیٰﷺ کے لعابِ مبارک کی برکات و خصوصیات بیان کر رہےتھے۔ ’’اشاعتِ خصوصی‘‘ میں محمّد عارف قریشی نے مشاہیر کی بانٔی پاکستان سے متعلق یادداشتیں رقم کیں۔ 

حافظ بلال بشیر کا مضمون بھی خُوب تھا۔ ’’رپورٹ‘‘ میں عبدالستار ترین بلوچستان میں آبی قلّت کا رونا روتے دکھائی دیئے۔ بلوچستان کا مسئلہ واقعی گمبھیر شکل اختیار کرتا جارہا ہے۔ لیکن اربابِ اقتدار خوابِ خرگوش ہی کے مزے لُوٹ رہے ہیں۔ ’’حالات و واقعات‘‘ میں منور مرزا شام کے حالیہ انقلاب پر رقم طراز تھے۔ ایک طویل جدوجہد کے بعد شام کی تاریخی سرزمین کو بشارالاسد کے خونی پنجے سے نجات ملی ہے۔ اللہ کرے، یہ امن و انقلاب پائیدار ثابت ہو۔ ’’اسٹائل‘‘ میں آپ نے موسمِ سرما کی کیا خُوب صُورت تصویر کشی کی کہ بخدا موسم مزید سہانا لگنے لگا۔ ’’خُود نوشت‘‘ کی چودھویں قسط بھی کمال تھی۔ 

خاص طور پر جوئےکےخاتمے کے لیے چیمہ صاحب کے دلیرانہ اقدامات بہت متاثر کُن تھے۔ اندازہ ہوا کہ اُن کو انتہائی کٹھن حالات سے گزرنے کے بعد ہی یہ مقام حاصل ہوا ہے کہ خام کو کندن اور پتّھر کو پارس ہونے میں بےشمار کٹھنائیاں سہنی ہی پڑتی ہیں۔ ’’یادداشتیں‘‘ میں ڈاکٹر ناظر محمود نے ترقی پسند ادیبہ سعیدہ گزدر کے قلمی کارناموں کو بڑی عُمدگی سے بیان کیا۔ مَیں، کئی ترقی پسند لکھاریوں سے نظریاتی اختلافات کے باوجود اُن کےادبی فن کی قدردان، قد کاٹھ کی معترف ہوں۔ ’’پیارا گھر‘‘ میں ڈاکٹر عزیزہ انجم عُمدہ نصیحت کر رہی تھیں۔ 

واقعی اگر دسمبر کے مہینے میں  پورے سال کے محاسبے کی عادت اپنالیں، تو آئندہ سال کہیں بہتر ہوسکتا ہے۔ صائمہ مسلم لذیذ مرغّن غذاؤں کی تراکیب بتارہی تھیں۔ جب کہ ’’ڈائجسٹ‘‘ کے افسانہ ’’تقابل‘‘نے ازدواجی زندگی کی باریکیوں کو واضح کیا۔ حضرات کے لیے اس میں خاص نصیحت موجود تھی۔ ’’لائبلٹی‘‘ بھی بڑا دل سوز’’افسانچہ‘‘ تھا۔ 

ڈاکٹر عزیزہ انجم کی نظم ’’سرد موسم میں سلگتی چاندنی‘‘ نے گویا دل کے تاروں کو چُھولیا۔ اس بار تو ڈاکٹر صاحبہ ماشاءاللہ نظم و نثر دونوں اصناف میں  چھائی ہوئی تھیں۔ ’’نئی کتابیں‘‘ کے تحت اختر سعیدی اپنے مخصوص انداز میں کتب پر تبصرہ کر رہے تھے، جب کہ ’’آپ کا صفحہ‘‘ کے مراسلات بھی ہمیشہ کی طرح خُوب ہی تھے۔ (عائشہ ناصر، دہلی کالونی، کراچی)

ج: اور تمہاری یہ چٹھی بھی ہمیشہ ہی کی طرح خُوب ہے۔

گوشہ برقی خطوط

* شمارہ ملا، پتا نہیں کیوں، لیکن اس بارآپ کی تحریر نےکچھ مایوس کیا۔ مانا کہ دھرتی ماں پر بہت کڑا وقت ہے، مگر اِس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ بالکل ہی نااُمیدی، مایوسی کی بات کی جائے۔

آپ لوگ تو الفاظ کے جادوگر کہلاتے ہیں۔ خزاں کو بہار کرسکتے ہیں، تو آپ لوگوں کے قلم سے چھلکتی مایوسی اچھی نہیں لگتی، جیسا کہ آخر میں آپ نے کیا خُوب لکھا کہ ؎ چاند پرچم فضاؤں میں سجتے رہیں۔ (نام نہیں لکھا)

ج: الفاظ کی جادو گری، سحرکاری ہی نے تو ہمیں حقیقتِ حال سے بےخبر رکھ کے آج دنیا کے سامنے ایک بھکاری بنا کے کھڑا کر دیا ہے۔ قوم کو جب تک ’’تحریکِ انصاف کا چونا‘‘ نہیں لگا تھا، پھر بھی کوئی اُمید زندہ تھی۔ اب تو بھائی کو بھائی سے لڑوا دیاگیا ہے، صوبوں، شہروں میں نہیں، گھروں گھرانوں میں پھوٹ ڈلوا دی گئی ہے، اب ہم خزاں کو بہار کرنا بھی چاہیں، تو نہیں کرسکتے۔

* آج کے دَور میں تقریباً ہر معاشرے میں تارکینِ وطن کو (خواہ وہ قانونی ہی کیوں نہ ہوں) نفرت ہی کی نگاہ سے دیکھا جارہا ہے اور اِس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ اکثر تارکینِ وطن کم اجرت پر کام پہ تیار ہوجاتے ہیں، تو مقامی افراد اُنھیں اپنے روزگار کا دشمن سمجھتے ہیں۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ عموماً تارکین پہلے مظلوم بن کر کسی مُلک میں پناہ حاصل کرتے ہیں اور پھر اُسی مُلک کے باشندوں اور حکومت کے لیے دردِ سر بن جاتے ہیں۔

جیسا کہ پاکستانی تارکینِ وطن کی ایک بڑی تعداد بیرونِ مُلک احتجاجی مظاہروں اور کچھ جرائم وغیرہ میں ملوث پائی گئی۔ سعودی عرب، کویت، متحدہ عرب امارات، عراق اور ترکیہ وغیرہ جیسے اسلامی ممالک نے بھی اِنھیں جرائم پیشہ، بھکاری، فراڈیوں کے درجے میں ڈال دیا اور تحریکِ انصاف کے فالورز تو مسجدِ نبویﷺ اور خانہ کعبہ میں بھی توہین آمیز حرکات سے باز نہیں آئے۔ سعودی حکومت آئے دن پاکستانی گداگروں کو بےدخل کررہی ہے،توہمیں ڈرنا ہی چاہیے،اُس وقت سے کہ جب تنگ آکرپاکستانیوں کوحج وعُمرے کی سعادت حاصل کرنےسےبھی روک دیا جائے۔ (محمد کاشف، نیو کراچی، کراچی)

ج: اللہ نہ کرے، کبھی ایسا ہو۔ ہم تو اپنی ذمّے داری پوری کرتے ہوئے اِس حوالے سے وقتاً فوقتاً آواز اُٹھاتے ہی رہتے ہیں، لیکن اِس ضمن میں جب تک حکومتِ پاکستان کوئی بہت سخت ایکشن نہیں لیتی، صورتِ حال ٹھیک ہوتی نظر نہیں آتی کہ وہ کیا ہے کہ لاتوں کے بھوت، ہاتھوں سے نہیں مانتے۔

قارئینِ کرام کے نام !

ہمارے ہر صفحے ، ہر سلسلے پر کھل کر اپنی رائے کا اظہار کیجیے۔ اس صفحے کو، جو آپ ہی کے خطوط سے مرصّع ہے، ’’ہائیڈ پارک‘‘ سمجھیے۔ جو دل میں آئے، جو کہنا چاہیں، جو سمجھ میں آئے۔ کسی جھجک، لاگ لپیٹ کے بغیر، ہمیں لکھ بھیجیے۔ ہم آپ کے تمام خیالات، تجاویز اور آراء کو بہت مقدّم ، بے حد اہم، جانتے ہوئے، ان کا بھرپور احترام کریں گے اور اُن ہی کی روشنی میں ’’سنڈے میگزین‘‘ کے بہتر سے بہتر معیار کے لیے مسلسل کوشاں رہیں گے۔ہمارا پتا یہ ہے۔

نرجس ملک

ایڈیٹر ’’ سنڈے میگزین‘‘

روزنامہ جنگ ، آئی آئی چندریگر روڈ، کراچی

sundaymagazine@janggroup.com.pk