(گزشتہ سے پیوستہ)
ہمارے تیسرے خلیفۂ راشد سیدنا عثمان غنی ذوالنورینؓ کے دورِ خلافت (644ء تا 656ء) کو دو ادوار میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ پہلے چھ برس فتوحات و ترقی کے جب کہ پچھلے چھ برس اندرونی خلفشار کے۔خلیفۂ دوم سیدنا عمر فاروقؓ نے ملکی نظم و نسق کا جو دستور العمل مرتب کیا تھا سیدنا عثمانؓ نے اسےبعینہ قائم و دائم رکھا اور جس قدر شعبہ جاتی محکمے قائم ہوگئے تھے انہیں مضبوط کرتے ہوئے مزید ترقی دی، علاوہ ازیں مسلمانوں کی بحری طاقت کا پھیلاؤ جو سیدنا امیر معاویہؓ کی نگرانی میں اس قدر طاقتور ہو گیا کہ جس نے رومیوں کی بحری طاقت کا بھرپور مقابلہ کرتے ہوئے کئی ایسے خطوں میں فتوحات کے جھنڈے گاڑ دیے جو بحری طاقت کے بغیر ناممکن تھے، بالخصوص قبرص یاسائیپرس کی فتح۔ یوں عرب بحری طاقت قسطنطنیہ (آبنائے باسفورس) تک جا ٹکرائی۔ سیدنا عمر فاروقؓ کے عہد میں جو فتوحات ہوئی تھیں ان میں سے کئی رومیوں اور ایرانیوں کی شہہ پر آمادۂ بغاوت ہوئیں تو عثمانی فورسز نے انہیں دوبارہ اطاعت پر مجبور کر دیا، مثال کے طور پر 25ھ میں سکندریہ کی بغاوت کو خوش اسلوبی سے کچل دیا گیا یہی معاملہ آذر بائیجان اور آرمینامیں ہوا علاوہ ازیں عبداللہ بن سعد بنی ابی سرحؓ کی قیادت میں مراکو سے لے کر طرابلس تک کے نئے خطےمفتوح ہوتے چلے گئے اور اس اسلامی عرب سلطنت کی سرحدیں خراسان سے افریقہ تک پھیل گئیں۔
سیدنا عمر فاروقؓ کے دور میں سلطنتِ اسلامیہ اگر ساڑھے بائیس لاکھ مربع میل پر محیط تھی تو عثمانی دور میں اس کا پھیلاؤ چوالیس لاکھ مربع میل تک پہنچ گیا، بیسیوں زمینی جنگوں کے علاوہ عہد عثمانی میں مسلمانوں نے تقریباً پچاس بحری لڑائیاں بھی لڑیں، عثمانی عہد میں لڑی گئی ان جنگوں اور فتوحات کے ذریعے مالِ غنیمت اور مفتوحہ علاقوں سے خراج کی آمدن اس قدر بڑھی کہ سابقہ تمام ریکارڈ ٹوٹ گئے۔ مثال کے طور پر سیدنا عمر فاروقؓ کے عہد میں مصر کا خراج 20لاکھ دینار تھا لیکن عہد عثمانی میں اس کی آمدن 40لاکھ دینار سے تجاوز کرگئی جس کے متعلق اس وقت کے گورنر نے کہا تھا کہ یہ اونٹنی اتنا ہی دودھ دے سکتی ہے تب سیدنا عثمانؓ نے انہیں یاد دلایا کہ اونٹنی کا دودھ اتنا بڑھ بھی سکتا ہے۔
یوں سلطنت اسلامیہ میں دولت و خوشحالی اور فارغ البالی کا دور دورہ ہو گیا مسلم عمائدین نے مدینہ منورہ اور قرب و جوار میں عالی شان عمارات تعمیر کروائیں اس عہدزریں میں قدیم بازاروں کے علاوہ نئے تجارتی مراکز و بازار قائم کیے گئے اور عمائدین قریش حجاز سے نکل کر دور دراز خطوں میں پہنچے جہاں مزید خوشحالی نے ان کے قدم چومے لیکن اس کے ساتھ ہی سیدنا ابوذر غفاریؓ جیسی سوچ رکھنے والے صحابہ کرامؓ میں ایک نوع کی تشویش بھی ملاحظہ کی جا سکتی ہے کہ اتنی خوشحالی عہدِ نبوی کی سادگی و جفا کشی سے ٹکڑا کر ہمیں دنیا کی رغبت میں مبتلا نہ کر دے۔ علاوہ ازیں ہم دیکھتے ہیں کہ کچھ اقوامِ دیگر اور مختلف خطوں کے سلطنتِ اسلامیہ میں شامل ہونے سے کئی نئے مسائل بھی داخل ہونے لگے کئی نئی الجھنیں سر اٹھانے لگیں عرب قبائل کی باہمی چپقلش بھی نیارنگ روپ دکھانے لگی۔
سیدنا عثمان ذوالنورینؓ کے مزاج میں فطری نرم دلی و بردباری نے کئی سازشی عناصر کو مزید دلیر بنادیا۔ سیدنا عبداللہ ابن عمرؓ نے ایک مرتبہ فرمایا کہ ”عثمانؓ کے خلاف جن چیزوں پر اظہارِ ناراضی کیا گیا، اگر وہ میرے والد عمر فاروقؓ نے کی ہوتیں تو لوگ خفا نہ ہوتے۔“ اپنے خلاف ابھرنے والی افواہوں کی حقیقت جاننے کے لیے سیدنا طلحہٰ بن عبیداللہؓ کی تجویز پر ایک تحقیقاتی کمیٹی قائم کی گئی اور مختلف صحابہ کرامؓ کو مختلف مقامات پر جانکاری کے لیے بھیجا گیا تاکہ وہ صورتحال کا درست جائزہ لے سکیں پوری سلطنت میں یہ اعلان کروایا گیا کہ جس شخص کو خلیفۃ المسلمین کے عمال سے شکایت ہو وہ حج کے موقع پر بیان کرے، میں ظالم سے مظلوم کا حق دلواؤں گا۔
یہ تھا وہ پس منظر جس میں 35ھ کے آخر میں مصر سے آئے لوگوں نے مدینۃ الرسول پر یلغار کر دی بلکہ سچ تو یہ ہے کہ انہوں نے اس سلطنتِ اسلامیہ کے کیپٹل کو ایک طرح سے یرغمال بنا لیا جس میں امیر المومنینؓ کے لیے مسجد نبوی جانا بھی دشوار بنا دیا گیا اس دوران سیدنا عثمانؓ نے بارہا ایوانِ خلافت کی چھت سے گھیراؤ کرنے والوں سے خطاب فرمایا، انہیں بہترین اسلوب میں سمجھایا، اپنی خدمات کو گنوایا پیغمبرِ اسلامؐ سے اپنی قربتوں کے حوالے دیے۔ یہاں تک فرمایا کہ اگر تم لوگوں نے مجھے قتل کردیا تو پھر تاقیامت اس امت میں ایکتا نہ ہو سکے گی، تم لوگ ایک ساتھ نماز پڑھ سکو گے، نہ جہاد کر سکو گے۔ مگر ان سنگدل نادانوں پر کلام نرم و نازک بے اثر رہا۔ سیدنا عبداللہ ابن زبیرؓ اور عبداللہ ابن عمرؓ نے ان باغیوں کے خلاف تلوار اٹھانے کی اجازت مانگی تو خلیفتہ المسلمین نے فرمایا کہ میں مدینۃ الرسولؐ میں مسلمانوں کے ہاتھوں مسلمانوں کا خون بہانے کی اجازت نہیں دے سکتا۔ بلوائی یا باغی یہ دیکھ کر کہ حج کا موسم چند ایام میں ختم ہونے والا ہے اس کے ختم ہوتے ہی حج کے لیے گئے لوگ واپس مدینہ کا رخ کریں گے اور موقع ہاتھ سے نکل جائے گا آپ کو شہید کرنے کے مشورے کرنے لگے۔ (جاری ہے)