(گزشتہ سے پیوستہ)
سیدنا عثمانؓ نے جب یہ سناکہ انہیں شہید کرنے کے منصوبے بن رہے ہیں تو آپ نے ان ظالموں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:اے لوگو! آخر کس جرم پر تم میرے خون کے پیاسے ہو؟ اسلامی شریعت میں کسی کے قتل کی صرف تین ہی صورتیں ہیں یا تو اس نے بدکاری کی ہو، تو سنگسار کیا جائے گا یا اس نے کسی کو قتل کیا ہو تو قصاص میں مارا جائے گا یا وہ مرتد ہو گیا ہو تو وہ قتل کیا جائے گا۔ میں نے تو نہ زمانہ جاہلیت میں اور نہ اسلام میں آنے کے بعد ایسی کوئی حرکت کی ہے نہ کسی کو قتل کیا نہ مرتد ہوا تو پھرتم لوگ میرے خون سے اپنا دامن کیوں آلودہ کرنا چاہتے ہو؟ اس سب کے باوجود امیر المومنین خلیفتہ المسلمین نے ایک لمحے کیلئے بھی یہ نہ چاہا کہ مدینۃ الرسولؐ میں خونریزی ہو حالانکہ ان پر پتھر پھینکے گئے ان کے گھر کو آگ لگانے کی کوشش کی گئی چالیس روز تک ان کے گھر کا پانی بند رکھا گیا۔ ایسے بھیانک حالات میں بھی یہ فرمایا کہ اس وقت میرا سب سے بڑا مددگار وہ ہے جو میری مدافعت میں تلوار نہ اٹھائے اس سلسلے میں سیدنا ابوہریرہؓ نے اجازت مانگی تو فرمایا اے ابوہریرہ! کیا تمہیں پسند آئے گا کہ تم تمام دنیا کو اور ساتھ ہی مجھے بھی قتل کر دو؟ عرض کیا ہرگز نہیں تو فرمایا کہ اگر تم نے ایک شخص کو بھی قتل کیا تو گویا سبھی قتل ہو گئے۔ سیدنا علی ابن ابی طالبؓ مسجد نبوی سے نکل کر سیدنا عثمانؓ کے گھر تشریف لارہے تھے، راستے میں سیدنا عثمانؓ کے شہید ہو جانے کی اطلاع ملی تو دونوں ہاتھ فضا میں اُٹھاتے ہوئے فرمایا ”اے اللہ میں عثمانؓ کے خون سے بری ہوں۔“ اس سے قبل سیدنا حسنؓ اپنے والد محترم کی خدمت میں یہ التماس فرما چکے تھے کہ آپ مدینہ چھوڑ کر کسی دور کے شہر تشریف لے جائیں تاکہ کل کلاں اس کا الزام آپ پر نہ دھر دیا جائے مگر فرمایا کہ میں ایسے حالات میں کوئی ایسی چیز نہیں کرنا چاہتا جو غلط فہمیوں کا باعث بنے۔ سیدنا عثمان غنیؓ کی دردناک شہادت اس امت کیلئے ایسا اندوہناک سانحہ تھا جس کے بعد اتحادِ امہ پارہ پارہ ہوکر رہ گیا۔
شرم و حیا کی پیکر بیاسی سالہ بزرگ ہستی کا قتل کس قدر مظلومانہ تھا! اپنی ریش مبارک پکڑنے والے سے فرماتے ہیں بھتیجے تیرا باپ اگر یہ منظر دیکھ لیتا تو کتنا رنجیدہ ہوتا۔ سیدہ نائلہؓ اپنی شریکِ حیات ہستی کو بچانے کیلئے آگے بڑھتی ہیں تو تلوار کے وار سے ان کی انگلیاں کٹ جاتی ہیں۔ خلیفۃ المسلمین کا جسد خاکی تین دن تک بے کفن پڑا رہتا ہے پھر رات کے اندھیرے میں یہود کے قبرستان سے ملحق ”حش کوکب“ میں دیوار توڑ کر سپردِ خاک کیاجاتا ہے جسے برسوں بعد سیدنا امیر معاویہؓ نے جنتِ البقیع میں شامل کروایا۔ سیدنا عثمان غنیؓ کی دردناک شہادت اس امت کیلئے ایسا اندوہناک سانحہ تھا جسکے بعد اتحادِ امہ کبھی نہ پنپ سکا۔ درویش نے ساری زندگی اسلام اور تاریخِ اسلام کی جس انہماک سے اسٹڈی کی ہے اس میں وہ ہمیشہ شہادتِ عثمانؓ کے المناک سانحے پر اٹک جاتا ہے یہ سوچتے ہوئے کہ کاش یہ سانحہ نہ ہوا ہوتا۔ اس وقت تک کتنے جلیل القدر صحابہ کرامؓ بنفسِ نفیس موجود تھے۔ بشمول سیدنا علی ابن ابی طالبؓ کتنے عشرہ مبشرہ اصحابِ رسولؐ موجود تھے، امت کی ماں سیدہ عائشہ صدیقہؓ جیسی عظیم ہستی موجود تھیں، کوئی شک نہیں کہ خلیفہ دوئم سیدنا عمر فاروقؓ کی شہادت بھی کوئی معمولی سانحہ نہیں تھا مگر اس سے مسلمانوں میں اندرونی طور پر کوئی خلفشار نہیں ابھرا، سیدنا عمر فاروقؓ نے کمال فراست سے جلیل القدر اصحابؓ کی جو چھ رکنی کمیٹی بنائی اس نے پورے تدبر و حکمت اور سیدنا عبدالرحمن بن عوفؓ کی فراست سے سیدنا عثمان ابن عفانؓ کو اپنا تیسرا خلیفۂ راشد تسلیم کرلیا، اس عہد کے ساتھ کہ میں کتاب و سنہ کے علاوہ حضراتِ شیخین کے اسوہ کا پابند رہوں گا۔
اس کے بالمقامل ہم دیکھتے ہیں کہ سیدنا عثمان ذوالنورینؓ کی مظلومانہ شہادت نے ایسا گہرا زخم دیا جس کا گھاؤ تاقیامت نہیں بھرا جا سکے گا۔ پیغمبر اسلامؐ نے اپنے حسنِ اَخلاق، دلبری اور بڑے پن سے بنو ہاشم اور بنو امیہ کی قدیم رقابت و دشمنی کو بڑی شان سے قربت و دوستی میں بدلا تھا اس عظیم مقصد کی خاطر آپؐ نےفتح مکہ کے موقع پر سیدنا ابوسفیانؓ کے گھر کو دارالامن قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ ”جس نے سردارِ مکہ ابوسفیانؓ کے گھر میں پناہ لی اس کو بھی امان ہے‘‘ اتنا بڑا اعلان پیغمبرانہ حوصلے کا ہی کام ہے، افسوس شہادتِ عثمانؓ کے ساتھ ہی قاتلین عثمانؓ نے اس تمامتر جدوجہد پر پانی پھیردیا۔ شہادتِ عثمانؓ کے بعد بنو ہاشم اور بنوامیہ کی روایتی رقابت نہ صرف ازسرِنو بھڑک اٹھی بلکہ صفین میں تلواروں سے تلواریں ٹکرائیں، سیدنا حسنؓ کی صلح جوئی کے باوجود معاملات بگڑتے ہوئے سانحۂ کربلا اور شہادت سیدنا حسینؓ تک چلے گئے جسے روکنے کیلئے سیدنا عبداللہ ابن عباسؓ نے سیدنا حسین ابن علیؓ کے سامنے شہادتِ عثمانؓ کی مثال رکھی اور فرمایا حسینؓ آپ کوفہ ہرگز نہ جائیں، میں دیکھ رہا ہوں کہ وہاںآپ کے ساتھ وہی ہو گا جو سیدنا عثمانؓ بن عفان کے ساتھ ہوا، جس طرح سیدنا عثمان اپنے گھر والوں کے سامنے شہید کر دیے گئے اسی طرح آپ بھی اپنے اہل بیت کے سامنے شہید کر دیے جائیں گے۔ شہادت عثمان پر سیدنا علی مرتضیٰؓ کے یہ الفاظ ریکارڈ پر ہیں”جاؤ مسلمانو اب ہمیشہ کیلئے تمہارے واسطے ہلاکت و بربادی ہے“ سیدنا عبداللہ ابن اسلامؓ نے فرمایا ”قتلِ عثمانؓ سے فتنوں کا جوباب کھل گیا ہے یہ اب تاقیامت بند نہ ہو گا“ یہی تاثرات دیگر تمام جلیل القدر صحابہ کرامؓ کے تھے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ اس دردناک سانحے کے بعد امتِ مسلمہ پھر کبھی یکجا نہ ہو سکی۔