بلقیس متین، ایف بی ایریا، کراچی
رمضان المبارک کا ہر لمحہ اور ساعت اپنے دامن میں فیوض وبرکات کا خزانہ سمیٹے ہوئے ہے، کیوں کہ اِس ماہ کی جانے والی ہر چھوٹی سے چھوٹی نیکی کا اجر کئی گُنا بڑھا دیا جاتا ہے اور اب یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم اِن قیمتی لمحات سے فیض یاب ہوں یا اِنہیں فضول، لغو کاموں میں گزار کر نامۂ اعمال میں کچھ اور گناہوں کا اضافہ کر لیں۔
ہمارے یہاں تو خواتین کے لیے ماہِ رمضان کا چاند دکھائی دینے سے قبل ہی رمضان شروع ہوچُکا ہوتا ہے کہ گھر بالخصوص کچن کی صفائی، پہلی سحری کا انتظام کرنے سے لے کر گھر کے بقیہ کام نمٹانا وغیرہ اور پھر سحر و افطار کی تیاری کا سلسلہ پورا مہینہ ہی چلتا رہتا ہے، جب کہ خواتین کو پھرعید کے دِنوں میں بھی دعوتوں وغیرہ کا انتظام کرنا پڑتا ہے۔
بدقسمتی سے ہم نے رمضان اور پکوان کو لازم و ملزوم قرار دے دیا ہے۔ البتہ یہ الگ بات ہے کہ مختلف طبقات کی خواتین یہ امور مختلف طریقوں سے انجام دیتی ہیں۔ ویسے ہم ان خواتین کو تین گروپس میں تقسیم کرسکتے ہیں اور ان تین اقسام کی خواتین کا رمضان المبارک میں رات، دن گزارنے کا طریقہ ایک دوسرے سے یک سَر مختلف ہوتا ہے۔
پہلی قسم کی خواتین خواہ وہ ہاؤس واؤز ہوں یا ورکنگ ویمن، اُن کے لیے اِس ماہ کام کا بوجھ کافی بڑھ جاتا ہے۔ اُنہیں گھر کے روزے داروں کے ساتھ بچّوں اور اُن بزرگوں کے کھانے پینے کا بھی اہتمام کرنا ہوتا ہے کہ جو کسی شرعی عُذر کی بِنا پر روزے نہیں رکھ سکتے۔ اور پھر عجیب ہی سی بات ہے کہ ہمارے یہاں ماہِ صیام کے ساتھ پکوڑوں، سموسوں، چاٹ، دہی بھلوں، کھجلہ، پھینی اوراِن جیسے دیگر کئی لوازمات کی طویل فہرست کو بلاوجہ ہی نتھی کردیا گیا ہےکہ ان کے بغیر سحروافطار کو نامکمل سمجھا جانے لگا ہے۔ اُس پرستم یہ کہ پکوڑوں کی بھی دس اقسام ہیں۔
پیاز پکوڑا، آلو پکوڑا، پالک پکوڑا، مِرچ پکوڑا اور چکن پکوڑا وغیرہ۔ گھر کے دو افراد آلو کے پکوڑے کھاتے ہیں، تو دو کو پالک کے پکوڑے پسند ہیں، جب کہ کسی کو پیاز اور چکن کے پکوڑے اچھے لگتےہیں۔ یعنی ہرطرح ہی کے پکوڑے بنیں گے۔
اِسی طرح مشروبات کو لے لیں، تو کسی کو اسکنجبین یا لسّی چاہیے، تو کسی کو لال شربت اورکسی کو فریش جوس پسند ہے۔ سحری میں کوئی روٹی سالن، کوئی انڈا پراٹھا، کوئی قیمہ پراٹھا، کوئی بریڈ سلائس اور ہاف فرائی یا آملیٹ کھانا چاہتا ہے، توکوئی صرف دہی کو ترجیح دیتا ہے، جب کہ کوئی کھجلہ پھینی کی فرمائش کرتا ہے اور خاتونِ خانہ کو سب کی پسند کا خیال رکھنا ہوتا ہے۔
سونے پہ سہاگا یہ کہ گھر میں رہنے والے ہر فرد کی سحری کی ٹائمنگ بھی اپنی ہوتی ہے۔ کسی نے وقت ختم ہونے سے آدھا گھنٹا پہلے سحری کرنی ہے، تو کوئی سحری سے صرف دس منٹ پہلے اُٹھتا ہے اور اُسے اٹھانے کی ذمّے داری بھی گھر کی کسی خاتون کی ہوتی ہے۔ قصّہ مختصر، خواتین کی یہ قسم، انتہائی قیمتی بلکہ اَن مول لمحات، جو عبادت میں گزارنے چاہئیں، محض سحروافطار کی تیاری میں کچن کی نذر کردیتی ہیں۔ نیز، آج کل گیس لوڈ شیڈنگ نے اِن کی مشکلات میں مزید اضافہ کردیا ہے۔
دوسری قسم اُن خوش حال خواتین کی ہے کہ جن کے گھر میں ملازمین کی ایک قطار موجود ہے اور وہ محض اپنے ملازمین کو سحری، افطاری کے تمام کاموں کی ہدایات دیتی ہیں اور پھر خُود سکون سے اپنی نیند پوری کرتی ہیں یا پھر موبائل فون پر غیبت گوئی یا ٹی وی شوز دیکھ کر پورادن گزاردیتی ہیں۔ زیلدہ سے زیادہ سحرو افطار سے پہلے کچن میں تیار لوازمات کی کسی کمی بیشی کا جائزہ لےلیتی ہیں۔
ہاں، تیسری قسم اُن خواتین کی ہے کہ جنہیں بہرحال دین دار کہنا درست ہوگا کہ وہ روزے کی حالت میں اپنی دن، رات کی مصروفیات، عبادات اور آرام کے اوقات کو تین حصّوں میں تقسیم کرتی ہیں۔ ایک بڑا حصّہ اور دو چھوٹے حصّے۔ بڑا حصّہ عبادت اور چھوٹے دو حصے آرام اور گھریلوامور کے لیےوقف رکھتی ہیں۔
یہ خواتین عبادت کا وقت تلاوتِ قرآن، ترجمۂ قرآن، حدیث اور مذہبی کُتب کے مطالعے، درودِ پاک اور تسبیحات میں گزارتی ہیں، تو اس طرح روزہ بھی اچھا گزر جاتا ہے اور ثواب بھی کئی گُنا بڑھ کر ملنے کی صُورت پیدا ہوتی ہے۔ گھر کے کاموں میں آسانی کے لیے وہ رمضان سے قبل ہی اچھی خاصی تیاری کر رکھتی ہیں۔ مثلاً چنےاُبال کرپیکٹ بنا کے اور رول، سموسے، شامی کباب وغیرہ بنا کر فریز کر لیتی ہیں۔ ادرک، لہسن، ٹماٹر کا پیسٹ بنا کر رکھ لیتی ہیں۔ شربت کےلیے چینی پیس کر رکھ لی جاتی ہے۔
لیموں کا رس کیوبز کی شکل میں محفوظ ہوتا ہے، تو گوشت، قیمہ اور چکن سب دھو کر روز کے حساب سے پیکٹ بنا کر فریز کیے ہوتے ہیں۔ اِسی طرح پکوڑوں کا مسالا بنا کر جار میں ڈال کے محفوظ کر لیتی ہیں، تو ان تمام امور میں ضایع ہونے والے وقت کی بچت ہوجاتی ہے۔ جب کہ سحری، افطاری کی تیاری کے دوران بھی اُن کی زبان پر تسبیحات و اذکار جاری رہتے ہیں۔
ضروری نہیں کہ تمام ہی خواتین، سو فی صد ہماری مذکورہ اقسام ہی کی ذیل میں آئیں، مستثنیات تو بہرحال ہو ہی سکتی ہیں۔ لیکن بہرکیف، خواتین کو چاہیے کہ وہ اپنے اہلِ خانہ کو اس بات کا احساس ضرور دلائیں کہ ماہِ رمضان المبارک محض لذّتِ کام و دہن کا نہیں بلکہ جسم و جاں، رُوح کی پاکیزگی کےانتظام کا مہینہ ہے۔
اس ماہ اگر دو وقت کے کھانے میں تین وقت کی غذا اور وہ بھی مرغّن ہو، تو روزے اور تراویح میں سُستی چھائی رہے گی، عبادات کا حق ادا نہیں ہوسکے گا، چناں چہ غذائیت سے بھرپور، لیکن سادہ غذا کا استعمال ہی افضل ہے۔ یوں عبادت میں یک سوئی اور توجّہ ہوگی، تو روحانی سکون و اطمینان بھی حاصل رہے گا۔ اور کیا ضروری ہے کہ افطار میں انواع و اقسام کے کھانوں سے میز بَھری ہو؟ کھجور، شربت سے روزہ کھول کر رات کو سادہ کھانا بھی تو کھایا جا سکتا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ سادگی ایمان کاحصّہ ہے اور سادہ کھانا صحت کے لیے بہترین نعمت۔ اور پھر ماہِ صیام کا تو درس ہی یہی ہے۔