عیدین کا تعین کرتے ہوئے ہمیں بتایا گیا تھا کہ ہر قوم کی اپنی عید ہوتی ہے۔ تین ہزار سال قبل مسیح سے مغربی ایشیا میں دو عیدوں کا رواج تھا۔ عید آفرینش اور عید رستا خیز۔ عید آفرینش ،خزاں کے آغاز میں منائی جاتی تھی اور عید رستا خیز آغاز بہار میں، بعد کے زمانے میں یہ دونوں عیدیں ایک عید میں ڈھل گئیں جس نے عید نوروز نام پایا۔ آج کے ایران میں بھی عید نوروز پورے اہتمام سے منائی جاتی ہے اور اسے جشن نو روز سے موسوم کیا جاتا ہے، اس جشن کا آغاز چہار شنبہ سوری سے ہو جاتا ہے۔ آج کل سارا ایران اسی جشن کی کیفیت میں ہے۔
چہار شنبہ سوری (آخری بدھ) تو ایک دن کی بات تھی لیکن نو روز کی گہما گہمی بارہ دن تک جاری رہتی ہے۔ تیرھویں دن لوگ گھروں سے نکل آتے ہیں۔ اسے سیزدہ بدر کہا جاتا ہے اور فطرت سے رجوع کیا جاتا ہے اس مناسبت سے اس کا نام روز طبیعت یعنی یوم فطرت بھی ہے۔ دید و باز دید، صلہ رحم، اہل خاندان سے ملاقاتیں، عیدی دینا، تحائف کا تبادلہ، پارکوں میں جانا، تازہ ہوا سے مستفید ہونا، تلاوت وعبادت، شادی، تفریح، ورزش اور ہفت سین جشن نو روز کے نمایاں خدوخال ہیں۔نوروزکی آمد سے کچھ پہلے ہی شہرداری کی جانب سے تمام شہر میں تازہ پھولوں کے تختے سجا دیے گئے جسے سینیرہ گل کہا جاتا ہے۔ اس میں گلوریا، نیلوفر، اقاقیا، مریم، شبو، نرگس اور شقایق اپنی اپنی بہار دکھا رہے ہیں۔ یہاں جو پھول سب سے زیادہ خوشبو دیتا ہے اس کا نام گل محمدی ہے۔ گل محمدی صرف آرائش اور خوشبو ہی کیلئے استعمال نہیں ہوتا اگر آپ کو پرتکلف چائے پیش کی جائے تو اس میں بھی گل محمدی تیرتا دکھائی دیتا ہے۔ شام میں یہی پھول گل دمشقی ہے۔ مشہور ہے کہ اس کا عرق دمشق سے یورپ پہنچا تھا، اس لیے یورپ والوں نے اسے گل دمشقی کا نام دیا۔ یہ ایران کا قومی پھول ہے، یہ وہی پھول ہے جسے ہمارے ہاں گلاب کہا جاتا ہے، جبکہ یہاں گلاب سے آب ِگل مراد لیا جاتا ہے جو الٹ کر گلاب ہو گیا ہے۔ ایرانی گھرانوں میں نو روز کے موقع پر جو میز سجائی جاتی ہے اسے سفرئہ ہفت سین کہا جاتا ہے۔ ہفت سین کا مطلب سات ایسی چیزیں ہیں جن کے نام کا پہلا حرف سین ہے۔ یہ سات اشیا سبزی، سامانو، سیر، سیب، سرکہ، سماق اور سنجد ہیں۔ کہیں کہیں ان میں کچھ تفاوت بھی دیکھنے میں آیا لیکن ڈاکٹر وفا یزدان منش نے ہمیں جو ہفت سین کھلائے ان میں یہی سات اشیا شامل تھیں۔
سبزی سے تازگی اور نشو و نما، سامانو (گندم کی کھیر) سے صبر اور قوت، سیر (لہسن) سے صحت اور برائی سے تحفظ، سیب سے حسن اور اچھی صحت، سرکہ سے عمر میں اضافہ، سماق (ایک گیاہ وحشی) سے طلوع آفتاب اور تاریکی پر روشنی کی فتح اور سنجد Russian Oliveسے باہمی روابط میں اضافہ، محبت ودانائی مراد لیے جاتے ہیں۔ حرف سین سے شروع ہونے والی ان سات اشیا کو نہایت خوبصورتی سے سجایا جاتا ہے اور ان کے ساتھ دیوان حافظ کا خوب صورت نسخہ رکھا جاتا ہے جس سے فال نکالی جاتی ہے۔ آقای شاہ رخ یزدانی کے ہاں دعوت ِہفت سین کے موقع پر جب آقای شاہ رخ یزدانی، خانم شیرین شہامت، ڈاکٹر طراوتی، خانم فہیمہ کی موجودگی میں راقم نے دیوان حافظ سے فال نکالی تو لسان الغیب کی جانب سے ’’مستی بہ آب یک دوعنب وضع بندہ نیست‘‘ کا نعرئہ مستانہ بلند ہوا یعنی ایک دو انگوروں کی شراب پی کر مست ہو جانا میرا طریقہ نہیں ہے۔ جب دیوان حافظ کے شارحین سے رجوع کیا گیا تو انھوں نے اس غزل کی توضیح کرتے ہوئے بتایا کہ خوشی کے دنوں میں خدا کو فراموش نہ کرو اور اس نے جو نعمتیں عطا کی ہیں ان پر اس کا شکر ادا کرتے رہو، اپنے وعدوں کی پاسداری کرو اور دوستی کا حق ادا کرو۔
سفرئہ ہفت سین پر قرآن کریم کا کوئی منقش نسخہ بھی ہوتا ہے اور عیدی کے نوٹ اس کے اوراق میں رکھے جاتے ہیں۔ بچے، قرآن کے اوراق کھولتے ہیں اور ان میں سے اپنی عیدی وصول کرتے ہیں۔ راقم نے عید نوروز کے موقع پر بہت ایرانیوں سے گفتگوئیں کیں۔ ان کے مراسم اور مسائل سے آگاہی حاصل کرتا رہا، صرف دانش وروں اور اساتذہ ہی سے نہیں، نوجوان نسل کے نمائندوں، عام دکانداروں، ٹیکسی ڈرائیوروں اور کم تواں افراد سے ملاقاتوں اور باتوں میں ایرانی معاشرے کے اسرار و رموز سے آگاہی ہوتی رہی۔ اس موقع پر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بہت اہم بات کی طرف توجہ مبذول کروائی انھوں نے کہا کہ ’’یک طرفہ پالیسیوں، غیرمنصفانہ دبائو اور جابرانہ پابندیوں کا موزوں متبادل سفارت کاری ہے، ایسی سفارت کاری جو برابری کی بنا پر استوار ہو‘‘۔ ہمیں اس پیغام سے سابق پاکستانی صدر ایوب خان کی خود نوشت یادآئی جس کا نام Friends Not Mastersتھا اور مشہور افسانہ نگار غلام عباس نے ’’جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی‘‘ کے نام سے جس کا اردو ترجمہ کیا تھا۔ ہم نے یہ کتاب اپنے بچپن میں پڑھی تھی، اس کتاب کے آغاز کا یہ جملہ آج بھی یاد ہے کہ ’’ترقی پذیر ممالک کے باشندے دوستوں کی اعانت کے ضرور متمنی ہیں لیکن ایسی اعانت جو باہمی عز و وقار کی بنیاد پر استوار ہو، وہ دوستی چاہتے ہیں کسی کی بالادستی تسلیم کرنا نہیں چاہتے‘‘… تیسری دنیا کے ملکوں کی کہانیاں کتنی ملتی جلتی ہیں۔
رہبر انقلاب اسلامی ایران جناب آیت اللہ علی خامنہ ای نے عید نوروز کی مناسبت سے جو خصوصی پیغام جاری کیا وہ بھی قابل توجہ ہے۔ جناب خامنہ ای نے گزشتہ سال کے واقعات پرنگاہ بازپسیں ڈالتے ہوئے اسے آزمائشوں بھرا سال قرار دیا لیکن آزمائش کے اس وقت میں ایرانی قوم نے جس جذبے اور عزم کا اظہار کیا اس کی تعریف کی اور کہا کہ ملک کی موجودہ معاشی صورت حال میں اس آنے والے سال کو ’’سرمایہ گزاری برای تولید‘‘ یعنی پیداوار کیلئے سرمایہ کاری کا سال قرار دیا جا رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ حکومت کا کام پیداوار کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنا ہے۔ لوگوں کا کام یہ ہے کہ وہ اپنے چھوٹے بڑے سرمائے کو پیداواری مقاصد کیلئے استعمال کریں۔ لوگوں کی زندگی کو بہتر بنانے کیلئے منصوبہ بندی کی ضرورت ہوتی ہے یہ منصوبہ بندی سرمایہ کاری چاہتی ہے، اس لیے حکومت اور عوام دونوں کو پیداوار میں سرمایہ کاری کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔