1967ء میں پاکستان میں ایک ایسی سیاسی تحریک نے جنم لیا جس کی طاقت اس کے نام رکھنے سے بہت پہلے عوامی سطح پر محسوس کی جا چکی تھی۔ 1965ء کی جنگ اور تاشقند معاہدے کے بعد ملک کی فضا میں بے یقینی، سوال اور بے چینی نمایاں ہو چکی تھی۔ عوام بہتر نمائندگی، وقار اور راست سمت کے طلبگار تھے۔ اس ماحول میں ذوالفقار علی بھٹو نے لاہور میں پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی اور ملک کے محنت کشوں، طلبہ اور متوسط طبقے میں ابھرنے والی عوامی بے چینی کو ایک منظم سیاسی سمت دی۔
پیپلز پارٹی کا پیغام ابتدا سے واضح تھا۔ ایک ایسا پاکستان جہاں جمہوری شمولیت، معاشی انصاف اور قومی وقار بنیادی ستون ہوں۔ ذوالفقار علی بھٹو نے اپنے دور کی زبان میں یہ نظریہ بیان کیا کہ اسلام ہمارا دین ہے، جمہوریت ہماری سیاست ہے، سوشل ازم ہماری معیشت ہے اور ساری طاقت عوام کے پاس ہے۔ یہی وہ تصور تھا جس نے ملک کی سمت بدل دی۔ 1973ءکا متفقہ آئین پاکستان کے جمہوری ڈھانچے کی بنیاد بنا۔ ایٹمی پروگرام نے قومی سلامتی کو مضبوط کیا۔ زمین اور مزدور اصلاحات نے لاکھوں محروم طبقات کو معاشی و سیاسی قوت دی۔ آنے والے برسوں میں پیپلز پارٹی نے ملک کو منتخب صدر، منتخب وزرائے اعظم اور پاکستان کا سب سے کم عمر وزیر خارجہ بھی دیا۔یہ سفر قربانیوں سے عبارت ہے۔ 1979ءمیں ذوالفقار علی بھٹو کی عدالتی پھانسی کا مقصد اس سیاسی تحریک کو خاموش کرنا تھا، مگر اس نے اسے مزید مضبوط کیا۔ بینظیر بھٹو نے اسی مشن کو بے مثال ہمت کے ساتھ آگے بڑھایا۔ انہوں نے آمریت کا مقابلہ کیا، قید و جلاوطنی برداشت کی اور جمہوریت کی بحالی کی جدوجہد کو’’ جمہوریت بہترین انتقام ‘‘کے پیغام کے ساتھ نئی قوت دی۔ 2007 ءمیں ان کی شہادت پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ایک گہرا زخم ہے۔ لیکن یہ قربانی صرف قیادت تک محدود نہیں رہی۔ جیالے اور جیالیاں کوڑے، جیلیں اور گولیاں سہتے رہے مگر اپنی آواز دبنے نہ دی۔ یہی عوامی مزاحمت پیپلز پارٹی کی مضبوط بنیاد ہے۔
2008 ءمیں جب پاکستان پھر ایک نازک موڑ پر کھڑا تھا، آصف علی زرداری نے پاکستان کھپے کے پیغام سے قوم کو سنبھالا دیا۔ ان کی قیادت میں اٹھارویں آئینی ترمیم منظور ہوئی، پارلیمانی بالادستی بحال ہوئی اور ساتواں این ایف سی ایوارڈ صوبوں کے اقتصادی حقوق کا مضبوط ضامن بنا۔ یہ اصلاحات پاکستان کے وفاق کو نئے توازن کے ساتھ مستحکم کرنے میں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں۔
2022 کے تباہ کن سیلاب کے بعد پیپلز پارٹی نے ملکی تاریخ کے سب سے بڑے تعمیر نو پروگرام کی قیادت کی۔ سندھ میں بائیس لاکھ سے زائد ماحولیاتی طور پر محفوظ گھروں کی تعمیر جاری ہے۔ یہ عمل صرف بحالی نہیں بلکہ موسمیاتی انصاف کی عملی مثال ہے۔ اسی کے ساتھ پیپلز ہیلتھ پروگرام، سماجی تحفظ کے اقدامات اور صوبائی خودمختاری کے تحفظ کی جدوجہد اس بات کی علامت ہیں کہ پیپلز پارٹی کیلئے یہ محض آئینی بحثیں نہیں بلکہ عوامی خدمت کے بنیادی ستون ہیں۔
ایک نئی نسل اب اس روایت کو آگے بڑھا رہی ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے بطور وزیر خارجہ پاکستان کی عالمی سفارت کاری میں سنجیدگی اور توازن کی نئی مثال قائم کی۔ ان کا کہنا کہ ہم تاریخ کو پاکستان کو ناکام ریاست نہیں لکھنے دیں گے، اس نسل کے جمہوری عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ آصفہ بھٹو زرداری، بطور خاتون اول، صحت، حفاظتی ٹیکہ کاری اور خواتین کے حقوق کیلئے نمایاں کردار ادا کر رہی ہیں۔ ان کی ترجیحات کمزور طبقات کی آواز بننے اور انہیں قومی دھارے میں شامل کرنے پر قائم ہیں۔
پیپلز پارٹی کی ذمہ داری صرف ماضی کی حفاظت نہیں، بلکہ اس وراثت کو آج کے تقاضوں سے جوڑنے کی ہے۔ پاکستان اس وقت معاشی دباؤ، موسمیاتی خطرات اور عالمی تغیرات کا سامنا کر رہا ہے۔ ایسے ماحول میں ملک کو ایسی سیاسی قیادت کی ضرورت ہے جو بحران میں استحکام اور ادارہ جاتی بے یقینی میں آئینی وضاحت فراہم کر سکے۔ پیپلز پارٹی کی طاقت یہی ہے کہ وہ تجربے کو بصیرت میں اور عوامی مطالبات کو جمہوری راستے میں بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔1967ءمیں جنم لینے والی یہ تحریک جامد رہنے کیلئے نہیں تھی۔ یہ ملک کے ساتھ بدلنے کیلئے تھی۔ اور یہی سفر آج بھی جاری ہے۔ صوبائی حقوق کی قانون سازی ہو، موسمیاتی تباہی کے بعد بحالی کا عمل یا عوام کے وقار اور شرکت پر مبنی مستقبل کی تشکیل، پیپلز پارٹی کا کردار ایک مسلسل جدوجہد کی صورت میں نمایاں ہے۔
(مصنفہ رکن قومی اسمبلی پاکستان ہیں)