اگر 2025 ء پر نظر ڈالی جائے، تو یہ استحکام و عدم استحکام کا سال نظر آتا ہے۔ بہت سے تنازعات، جو عالمی امن اور استحکام کے لیے سال ہا سال سے خطرے کا سگنل بنے ہوئے تھے، زیادہ واضح اور نمایاں شکل میں سامنے آئے، لیکن کئی امن معاہدے بھی ہوئے، جن سے کم ازکم عارضی ٹھہراؤ کے حالات تو پیدا ہوئے۔
سال بَھر کبھی جنگیں زور پکڑتیں، تو کہیں امن معاہدے ہوتے، لیکن بین الاقوامی سیاست میں حوصلہ افزا بات یہ رہی کہ کسی بھی جنگ یا سیاسی تصادم نے علاقائی یا عالمی جنگ کی صُورت اختیار نہیں کی۔
پاک، بھارت جنگ، ایران، اسرائیل ٹکراؤ، روس، یوکرین تصادم اور غزہ کے الم ناک المیے کے مطالعے سے کہا جاسکتا ہے کہ نئے میلینئم کے پہلے کوارٹر تک پہنچتے پہنچتے انسانوں کو اِتنی عقل تو آگئی کہ تنازعات کی حدود کیا ہیں اور مکمل تباہی کہاں سے شروع ہوتی ہے۔ دنیا میں خواہ کتنے ہی ایٹمی ہتھیار کیوں نہ ہوں، دنیا سمجھ چُکی کہ اِن کا استعمال اب ممکن نہیں۔ چرچل کے الفاظ میں’’بیلنس آف ٹیرر‘‘ قائم ہوچُکا۔
نہ صرف لیڈر شپ یہ بات سمجھتی ہے، بلکہ عوام کو بھی بخوبی علم ہوگیا کہ تباہی کا مطلب کیا ہے۔ دنیا میں نہ چنگیز وہلاکو کی تاریخ ہے اور نہ ہی عالمی جنگوں کی تباہ کاری کی داستان، بلکہ یہ انسانی جسموں سے رستے ناسور اور قحط سے بے حال انسانی ڈھانچوں کا دوسرا نام ہے، جس پر ہم روز سڑکوں پر احتجاج اور جنگیں بند کرنے کی اپیلز کرتے ہیں۔ پاکستان اور بھارت جیسے ایٹمی ہم سایوں کے تنازعات، قیادتوں کے کنٹرول میں ہیں۔ مقبوضہ خطّوں کی لڑائیاں ہزاروں جانیں لے کر رُک سکتی ہیں۔
اِس میں یوکرین جنگ کو استثنا حاصل ہے، جہاں روس کے صدر کسی طور رُکنے کو تیار نہیں۔ روس کی حالیہ اور ماضی کی جنگیں بتاتی ہیں کہ ان کی طوالت، مُلکی جغرافیائی رقبے کی طرح بہت لمبی ہوتی ہے۔ ایک اہم تبدیلی یہ سامنے آئی کہ نان اسٹیٹ ایکٹرز، یعنی ملیشیاز کا کردار محدود ہونا شروع ہوگیا، جس سے انتہا پسندی کو لگام ملے گی۔ افغانستان میں خطرہ بڑھا اور ضروری ہے کہ اُسے مزید بڑھنے سے پہلے قابو کرلیا جائے۔
طالبان عبوری حکومت کو اب عوامی رائے کے تحت مستقل سیاسی حکومت کو راستہ دینا چاہیے۔ دوسری طرف، ترقّی یافتہ ممالک میں قوم پرستی خوف ناک شکل اختیار کر چُکی ہے۔ برداشت جواب دے رہی ہے، خاص طور پر تارکینِ وطن سے متعلق عدم برداشت کے رویّے عام ہیں۔ عالمی جنگ کے بعد جس تعاون اور ترقّی کے خواب قوموں نے دیکھے، وہ اِس قوم پرستی سے خوف زدہ ہیں۔ شاید وہ نسلیں ختم ہوگئیں، جو عالمی جنگ کی تباہ کاریوں سے گزریں۔ روس، چین، جاپان، مغرب، امریکا اور برطانیہ، غرض کہ ہر طرف قوم پرستی عروج پر ہے۔
لبرل اور معتدل قوّتیں اس مہم کے آگے ڈھیر ہورہی ہے۔ پھر یہ کہ کسی خوف یا حساسیت کے سبب اِس ایشو پر کُھل کر بات بھی نہیں ہو رہی، حالاں کہ اِس کے نتائج بہت بھیانک ہوں گے۔ علاوہ ازیں، موسمیاتی تبدیلیوں سے پیدا ہونے والے بحران یک ساں طور پر اُن ممالک کے لیے بربادی کی داستانیں رقم کر رہے ہیں، جن کا یہ سب کچھ کیا دھرا ہے ہے اور اُن ممالک میں بھی تباہی مچی ہوئی ہے، جن کا ماحولیاتی مسائل میں حصّہ نہ ہونے کے برابر ہے، جیسے پاکستان۔
غزہ میں سیز فائر کا اعلان بلاشبہ اُن لاکھوں افراد کے لیے’’زندگی‘‘ سے کم نہ تھا، جو دو سال سے ہلاکتوں، زخموں، قحط اور گھر بار کی بربادی سے گزر رہے تھے۔ دُکھ کی بات یہ رہی کہ یہ تباہی و بربادی ایک اور مسلم خطّے میں ہوئی۔ شام، عراق، لیبیا، سوڈان اور یمن بھی اِس طرح کی بربادی دیکھ چُکے یا اب بھی دیکھ رہے ہیں۔ بہرحال امریکی صدر، ڈونلڈ ٹرمپ کا غزہ جنگ بندی میں مرکزی اور اہم ترین کردار رہا۔ اُنہوں نے عرب اور اسلامی دنیا کے ساتھ، جس میں پاکستان بھی شامل ہے، مل کر یہ ممکن بنایا۔
تاہم، غزہ کب تک پُرامن رہے گا، یہ سوال اب بھی برقرار ہے۔ اسرائیلی فوج کی واپسی، حماس کا غیر فوجی کردار، عبوری حکومت کا قیام، امن فوج کی تشکیل، غزہ کی بحالی اور سب سے بڑھ کر فلسطینیوں کا ایک قوم کے طور پر ترقّی کی طرف بڑھنا، اِن سب امور کا فیصلہ اگلے چند ماہ کریں گے۔ یہاں مسلم دنیا کے عوام اور اہلِ دانش کو اچھی طرح سمجھنا ہوگا کہ تنازعات اُن کی تعمیر وترقّی کے لیے تباہی ہیں۔ اگر تنازعات کا حل تلاش نہیں کیا گیا، تو وہ اپنے سات سو سالہ زوال سے کبھی باہر نہیں نکل سکیں گے۔
ایران، اسرائیل بارہ روزہ جنگ میں امریکا نے دنیا کے سب سے طاقت وَر غیر ایٹمی بم گرا کر ایرانی نیوکلیئر تنصیبات تباہ کرنے کا دعویٰ کیا، جسے ایران نہیں مانتا۔ تاہم، اس جنگ سے ایران کی فوجی و معاشی قوّت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا۔اس کی حمایت یافتہ ملیشیاز حزب اللہ، حماس اور حوثی غیر مؤثر ہوگئے۔
پراکسی وارز نے ممالک میں براہِ راست فوجی تصادم کی شکل اختیار کی۔ نتیجتاً شام، لبنان اور مشرقِ وسطی کے دوسرے علاقوں میں ایرانی کردار بہت گھٹ گیا۔ ساتھ ہی خطّے میں روس کو بھی پسپائی کا سامنا کرنا پڑا۔شام جیسا اہم مُلک اُس کے ہاتھ سے نکل گیا۔ سعودی عرب، قطر، مصر اور یو اے ای اہم ہوگئے، جب کہ تُرکیہ کا کردار بھی بڑھا۔
دیکھنا یہ ہے کہ اپنے اقتدار کے اختتام تک ٹرمپ اِن سب ممالک کو کس طرح لے کر چلتے ہیں۔فی الحال تو مشرقِ وسطیٰ میں امریکا مرکزی کردار ادا کر رہا ہے، جب کہ باقی بڑی طاقتیں سائیڈ لائن پر ہیں۔ یہ غزہ سے متعلق اُس قرار داد سے بھی ظاہر ہوا، جو نومبر میں سلامتی کاؤنسل سے بھاری اکثریت سے منظور ہوئی۔
مئی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان فوجی تصادم ہوا۔ اس جنگ کی شروعات بھارت نے پاکستان پر کئی میزائل داغ کر کی، جس کا پاکستان نے بھرپور جواب دیا۔بھارت کے رافیل جیسے سات جدید طیارے مار گرائے گئے، جن کا ذکر خود امریکی صدر ٹرمپ نے بار بار کیا۔
پاکستان کے وزیرِ اعظم نے کہا کہ’’ بھارت کو واضح شکست دی اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں بہادری کی داستان رقم ہوئی۔‘‘10 مئی کو امریکا کی ثالثی میں جنگ بندی کا معاہدہ ہوا، لیکن اس چار روزہ جنگ سے پیدا ہونے والی بداعتمادی نے ایک مرتبہ پھر جنوبی ایشیا کو ہلا ڈالا۔
بھارت نے سندھ طاس معاہدہ معطّل کرنے کی دھمکی دی، تو پاکستان نے جواب میں کہا کہ یہ ریڈ لائن ہے، جسے پار کرنے کو جنگ تصوّر کیا جائے گا۔اِس جنگ نے پاکستان کی عالمی اہمیت بڑھائی اور ڈپلومیسی کی دنیا میں اسے اہم ممالک کی صف میں لاکھڑا کیا۔ دیکھنا یہ ہے کہ جنگ بندی کا معاہدہ آئندہ سالوں میں امن کی نوید لاتا ہے یا نہیں، جیسا کہ صدر ٹرمپ نے بار بار امن کی خواہش کا اظہار کیا۔ اہم بات یہ ہے کہ پاکستان اِس صُورتِ حال سے کیسے فائدہ اُٹھا کر اقتصادی مضبوطی حاصل کرتا ہے۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں۔اس کی وجہ طالبان حکومت کا اپنی سرزمین پر کنٹرول اور گورنینس کا فقدان ہے۔ وہ دوحا معاہدے کی، جس میں افغان طالبان نے وعدہ کیا تھا کہ اپنی سرزمین دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دیں گے، قطعاً پاس داری نہیں کر پائے۔ اُنہوں نے دہشت گردوں کے لیے افغان سرزمین محفوظ پناہ گاہ بنادی۔ خاص طور پر اُن دہشت گرد تنظیموں کے لیے، جو پاکستان میں ہلاکت اور خون ریزی کا سبب ہیں۔پاکستان کا مطالبہ ہے کہ اُنہیں لگام دیں۔
ان جھڑپوں میں پاکستان نے افغانستان میں گُھس کر دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ قطر اور تُرکیہ کی ثالثی میں سیز فائر معاہدہ ہوا، لیکن طالبان حکومت اِس پر عمل درآمد میں ناکام رہی اور اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ عبوری حکومت کے پاس کوئی نظام ہے اور نہ ہی طاقت۔ دنیا کو اندازہ ہو رہا ہے کہ اگر افغان عبوری حکومت جَلد کسی مستحکم سیاسی نظام میں نہ ڈھلی، تو خطّے میں دہشت گردی واپس لَوٹ آئے گی۔
روس، یوکرین جنگ چوتھے سال میں داخل ہو رہی ہے۔ روس کے صدر پیوٹن نے تین سال قبل فروری میں یوکرین پر حملہ کیا تھا، جس کا جواز اُنہوں نے روسی بولنے والی شمالی یوکرینی آبادی کا تحفّظ کرنا بتایا تھا۔ وہ جدید الیکٹرانک جنگ کے تقریباً تمام ہتھیار، فوجی قوّت، تیل اور گیس کی یورپی ممالک پر پابندی کے حربے آزما چُکے ہیں، لیکن یوکرین کو جُھکایا نہیں جاسکا۔ اس کی ایک بڑی وجہ امریکا اور یورپ کی جانب سے یوکرین کی پُشت پناہی بھی ہے۔ٹرمپ کے پیس مشن میں یوکرین جنگ بند کروانا سرِفہرست ہے، لیکن وہ سال کے آخر تک اِس کوشش میں کام یاب نہیں ہوسکے۔
الاسکا میں ٹرمپ اور پیوٹن کے مابین براہِ راست ملاقات ہوئی، جو ناکام رہی۔علاوہ ازیں، کئی گھنٹوں پر مشتمل طویل ٹیلی فون کالز میں بھی دونوں رہنما کسی نتیجے پر نہیں پہنچ پائے۔ مشرقِ وسطیٰ میں شام میں ناکامی کے بعد پیوٹن ایک اور پسپائی برداشت کرنے کو تیار نہیں۔ امریکا اور یورپ نے روس پر شدید نوعیت کی اقتصادی پابندیاں عائد کیں، لیکن روس پھر بھی جنگ جاری رکھنے میں کام یاب رہا۔
گزشتہ برس سماجی، معاشرتی اور عوامی بھلائی کے ضمن میں عالمی اداروں کا کردار قابلِ تعریف رہا۔ موسمیاتی تبدیلیوں اور تارکینِ وطن کے معاملے میں اقوامِ متحدہ نے آواز بلند کی، تاہم باقی فورمز جیسے ایس سی او، او آئی سی اور آسیان وغیرہ خاص ایجنڈے سے باہر نہیں نکلے، حالاں کہ ان فورمز میں شامل آبادیاں دنیا کی کُل آبادی کے بڑے حصّے پر مشتمل ہیں۔
غالباً عالمی معاملات صرف اقوامِ متحدہ، آئی ایم ایف، عالمی بینک اور عالمی ادارۂ صحت وغیرہ کو سونپ دیئے گئے ہیں۔ سلامتی کاؤنسل سب سے طاقت وَر ادارہ مانا جاتا ہے، لیکن یہ عالمی ادارہ غزہ، یوکرین، پاک، بھارت اور ایران، اسرائیل جنگ بند نہیں کروا سکا۔ امریکا کے صدر ٹرمپ کی ذاتی دل چسپی فیصلہ کُن رہی۔ حوصلہ افزا بات یہ رہی کہ سالِ رفتہ امریکا نے سات امن معاہدے کروائے۔
کبھی کبھی خیال آتا ہے کہ دنیا آج بھی مذاکرات کی بجائے طاقت اور دھمکیوں ہی کی زبان سمجھتی ہے، حالاں کہ تعلیم وترقّی، تہذیب و تمدّن اور انسانی حقوق کا ذکر بھی ہر فورم پر ہوتا ہے۔ ٹرمپ کی حکمتِ عملی کے پیچھے امریکا کی معاشی، فوجی اور ٹیکنالوجی کے میدان میں برتری واضح رہی۔باقی عالمی طاقتیں بیانات تو دیتی رہیں، لیکن عملاً کچھ نہیں کر پائیں۔
قوم پرستی، عالمی سطح پر ایک بڑا چیلنج بنتی جارہی ہے۔ نئی صدی کے دس سال بعد ہی قوم پرستی نے دوبارہ زور پکڑنا شروع کردیا اور آج یورپ اور مغربی دنیا کا کوئی مُلک اس کے اثرات سے محفوظ نہیں۔ ماضی میں یورپی قوم پرستی نے ہٹلر اور جاپان کی توسیع پسندانہ پالیسی سے جنم لیا، جس میں نسلی برتری اور مذہبی تعصّب جیسے معاملات بھی شامل ہوگئے۔اِس مرتبہ قوم پرستی کی بنیاد تارکینِ وطن سے نفرت ہے۔
اِس ضمن میں جس عُنصر نے سب سے زیادہ آگ لگائی، وہ تارکینِ وطن اور اصل آبادی کے درمیان بڑھتی معاشرتی خلیج ہے۔اگر ایک طرف میزبان حکومتیں اِس امر کو یقینی نہ بنا سکیں کہ آنے والے، نئے معاشرے میں بتدریج ضم ہوجاتے اور اپنی مذہبی شناخت، کلچر کے باوجود، اُسی قوم کا حصّہ بن جاتے، جس میں آکر بسے تھے، تو دوسری طرف تارکینِ وطن نے بھی نئے ممالک کی سہولتوں کو تو اپنی منزل جان لیا، لیکن جس مُلک میں جاکر آباد ہوئے، اُس کے معاشرے، تاریخ، ثقافت، تعلیمی نظام اور مذہبی معاملات، جاننے سمجھنے کی کوئی کوشش نہیں کی۔
نیز، مسلم ممالک سے آئے تارکینِ وطن نے اِن ممالک کو احتجاج کا بین الاقوامی پلیٹ فارم سمجھ لیا، جسے کچھ عرصے تک تو یہاں کے عوام نے لبرل ازم اور آزادیٔ رائے کے نام پر برداشت کیا، لیکن پھر اُنہیں یقین ہونے لگا کہ اس سے اُن کے قومی تشخّص کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ رہا ہے، تو یکے بعد دیگرے قوم پرست رہنما ان ممالک کے سربراہ بننے لگے، جو نفرت کی سیاست کو فروغ دے رہے ہیں۔اب بھی وقت ہے کہ فریقین صُورتِ حال سنبھال لیں، وگرنہ زیادہ نقصان تارکینِ وطن ہی کا ہوگا۔
موسمیاتی تبدیلیاں اب ایک مستقل عذاب کی شکل اختیار کرچُکی ہیں اور اِس ضمن میں سب سے بڑی مصیبت یہ ہے کہ کم وسائل رکھنے والے ممالک، جن کا اس معاملے میں نہ ہونے کے برابر حصّہ ہے، سب سے زیادہ نقصانات برداشت کر رہے ہیں۔ ایک طرف غربت ہے، تو دوسری طرف آفات سے نمٹنے کی صلاحیت کا فقدان۔گزشتہ برس بھی پاکستان بدترین بارشوں اور سیلاب کی زَد میں رہا۔ پھر یہ کہ عوام میں موسمیاتی تبدیلیوں سے متعلق شعور بھی اجاگر نہیں کیا جاسکا۔
یہی وجہ ہے کہ وہ سیلاب کی تباہ کاریوں پر تو سراپا احتجاج رہے، لیکن اِس کے اسباب سے متعلق حکومتوں سے سوال کرتے نظر نہیں آئے۔2025ء میں ایک دل چسپ سوال یہ بھی زیرِ بحث رہا کہ’’ کیا یہ ٹرمپ کا سال تھا؟‘‘اس کا جواب ہاں اور کچھ پلس، مائنس میں ہے۔ہاں، اِس لیے کہ پورے سال ٹرمپ ہیڈ لائنز میں رہے۔ اُن کے’’مین آف دی پیس‘‘ہونے کے چرچے رہے۔
جیسے کبھی مارگرٹ تھیچر’’آئرن لیڈی‘‘ کہلائی تھیں۔بلاشبہ، ٹرمپ نے خون ریز اور خوف ناک جنگیں بند کروانے میں مرکزی کردار ادا کیا، جیسے غزہ/ اسرائیل، پاک/ بھارت، ایران/ اسرائیل، کمبوڈیا اور تھائی لینڈ کے مابین جنگیں۔ گو، یوکرین/ روس جنگ رُکوانے میں کام یاب نہ ہوسکے، لیکن اِس سمت اُن کی پیش رفت کو سب نے سراہا۔پھر اُن کی ٹیرف پالیسی نے عالمی معیشت میں بھونچال مچائے رکھا۔ امریکا کو اقتصادی فائدہ پہنچانے کے لیے اُنہوں نے ایک سو فی صد تک ٹیرف لگائے، گو بعد میں زیادہ تر سیٹل ہوگئے۔
اِسی طرح اُن کی ڈی پورٹیشن، یعنی غیر قانونی تارکینِ وطن کو امریکا سے نکالنے کی پالیسی نے رنگ دِکھائے، جس نے ہارورڈ یونی ورسٹی جیسے نمبر وَن عالمی ادارے تک کو عدالت میں گھسیٹ لیا۔پہلی بار دنیا بَھر میں تارکینِ وطن خوف زدہ ہوئے کہ اُن کا مستقبل کیا ہوگا۔ نیز، صدر ٹرمپ کے طوفانی دَورے بھی موضوعِ گفتگو رہے۔ اُنھوں نے گزشتہ برس مشرقِ وسطیٰ سے لے کر انڈوپیسیفک تک کے دَورے کیے۔
اِن دَوروں سے نایاب معدنیات کی، ترقّی یافتہ معیشتوں میں اہمیت پہلی بار زور شور سے فوکس میں آئی۔ یہ درست کہ ٹرمپ کو نوبیل امن ایوارڈ مختلف وجوہ کی بنا پر نہیں دیا گیا، لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ مسلآم ہے کہ اُن کا شدید ترین مخالف میڈیا بھی اُن کی یومیہ سرگرمیوں کو ہیڈ لائنز بنانے پر مجبور رہا اور کسی بھی سیاست دان کے لیے، جو بڑی طاقت کا حُکم ران بھی ہو، اِس سے زیادہ خوشی کی بات اور کیا ہوسکتی ہے۔