انصار عباسی
اسلام آباد :…حکومت نے جمعہ کو ایندھن کی بچت کے متعدد اقدامات پر غور کیا، جن میں 50؍ فیصد تک گھروں سے کام (ورک فرام ہوم) کرنے کی اجازت دینا، رمضان المبارک کے دوران جمعہ کو اضافی ہفتہ وار تعطیل قرار دینا اور بازاروں کو شام کے اوقات میں جلد بند کرنا شامل ہے۔ یہ اقدامات عالمی سطح پر تیل کی بڑھتی قیمتوں کے تناظر میں پٹرولیم کے استعمال میں کمی کی حکمت عملی کے طور پر زیر غور آئے۔ یہ تجاویز ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس میں زیر غور آئیں جس کی صدارت وزیرِ اعظم نے کی، جبکہ حکام نے ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حالیہ حملے کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کے ممکنہ معاشی اثرات کا جائزہ لیا۔ سرکاری ذرائع کے مطابق، جمعہ کے اجلاس میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا اور مزید مشاورت جاری ہے۔ آج بروز ہفتہ ایک مرتبہ پھر اجلاس بلایا گیا ہے جس میں ان تجاویز کا مزید جائزہ لے کر اقدامات کو حتمی شکل دی جائے گی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت کو بنیادی طور پر پٹرولیم درآمدی بل میں اضافے اور اس کے پاکستان کے پہلے ہی دباؤ کا شکار زرِ مبادلہ کے ذخائر پر ممکنہ اثرات کے حوالے سے تشویش ہے، اس کی خصوصی وجہ ممکنہ طور پر مشرق وسطیٰ کا تنازع جاری رہنا اور نتیجتاً تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ بتایا گیا ہے۔عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں پہلے ہی تقریباً 84؍ ڈالر فی بیرل تک پہنچ چکی ہیں اور حکام کو تشویش ہے کہ خطے میں کشیدگی کے طویل ہونے کی صورت میں آئندہ ہفتوں میں قیمتیں نمایاں طور پر مزید بڑھ سکتی ہیں۔ جن اقدامات پر غور کیا گیا ان میں سرکاری اور نجی دفاتر کے پچاس فیصد تک ملازمین کو گھروں سے کام کرنے کی اجازت دینا، آمد و رفت کم کرنے کیلئے رمضان کے دوران جمعہ کے دن اضافی ہفتہ وار تعطیل متعارف کرانا، اور بازاروں و تجارتی مراکز کو رات کے وقت جلد بند کرنے کی ہدایت دینا شامل ہے تاکہ ایندھن اور بجلی بچائی جا سکے۔ حکام نے اس بات پر زور دیا کہ مسئلہ پٹرولیم مصنوعات کی فوری قلت کا نہیں بلکہ مہنگے تیل کی درآمد سے پیدا ہونے والے مالی بوجھ کا ہے۔ پاکستان بڑی حد تک درآمدی ایندھن پر انحصار کرتا ہے، جس کے باعث ملکی معیشت عالمی قیمتوںمیں رد و بدل کی وجہ سے حساس ہے۔ سرکاری حکام کے مطابق تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافے سے جاری کھاتے کے خسارے میں اضافہ ‘روپے کی قدر میں کمی اور نقل وحمل وتوانائی کے زیادہ اخراجات سے مہنگائی کے دباؤ میں اضافہ ہو سکتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ حکام ایسے طریقوں کا جائزہ لے رہے ہیں جن کے ذریعے ایندھن کے مجموعی استعمال میں کمی لائی جا سکے، جبکہ معاشی سرگرمیوں میں نمایاں خلل بھی پیدا نہ ہو۔ حتمی فیصلوں کی توقع ہفتہ کے روز ہونے والے آئندہ اجلاس کے بعد کی جا رہی ہے، جہاں حکومت عالمی توانائی منڈی میں ممکنہ طویل عدم استحکام کے پیشِ نظر معاشی ضرورت اور عوامی سہولت کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کرے گی۔